”محبت خریدی نہیں جاسکتی“


تحریر : میر محمد علی ٹالپر
ترجمہ: لطیف بلیدی

وہ لوگ جو اس غلیظ پیسے کو قبول کریں گے یقینا یہ وہ لوگ نہیں ہیں جنہیں بلوچستان سے کوئی محبت ہے اور بیشک انہیں پاکستان سے بھی کوئی محبت نہیں ہوگی؛ ان کی وفاداری پیسے سے ہے

Mir Muhammad Ali Talpurحال ہی میں، بلوچستان حکومت نے ان بلوچوں کو، جو اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں، اپنے مادر وطن کے مقدس مقصد کو ترک کرنے کیلئے عام معافی کی پیشکش کی ہے۔ اس نے مجھے مشہور زمانہ بیٹل کےمدتوں قبل مشہور گانے کی یاد دلا دی، ”مجھے محبت خرید کر نہیں دے سکتے“، کیونکہ پیسہ محبت اور وفاداری نہیں خرید سکتے۔ اسکے اشعار کچھ یوں ہیں:

” مجھے محبت خرید کر نہیں دے سکتے، میری جان
مجھے محبت خرید کر نہیں دے سکتے
اے میرے دوست میں تمہارے لئے ہیرے کی ایک انگوٹھی خریدوں گا اگر اس سے تم اچھا محسوس کرو
اے میرے دوست میں تمہیں ہر چیز لاکر دونگا اگر اس سے تم اچھا محسوس کرو
کیونکہ مجھے پیسے کی زیادہ پرواہ نہیں ہے، اور پیسہ مجھے محبت خرید کر نہیں دے سکتا

میں تمہیں وہ سب کچھ دونگا جو میرے پاس دینے کو ہے اگر تم کہو کہ تم بھی مجھ سے پیار کروگی
میرے پاس شاید دینے کو بہت کچھ نہ ہو لیکن میرے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سب میں تمہیں دونگا
مجھے پیسے کی زیادہ پرواہ نہیں ہے، پیسہ مجھے محبت خرید کر نہیں دے سکتا
مجھے محبت خرید کر نہیں دے سکتے، ہرکوئی مجھے یہی بتاتا ہے
مجھے محبت خرید کر نہیں دے سکتے، نہ، نہ، نہ، نہ
کہو کہ تمہیں کسی ہیرے کی انگوٹھی کی ضرورت نہیں اور میں مطمئن ہوجاوں گا
مجھے بتاو کہ تمہیں وہ چیز چاہیے جسے پیسہ بالکل خرید نہیں سکتا
مجھے پیسے کی زیادہ پرواہ نہیں ہے، پیسہ مجھے محبت خرید کر نہیں دے سکتا
آوووو
مجھے محبت خرید کر نہیں دے سکتے، ہرکوئی مجھے یہی بتاتا ہے
مجھے محبت خرید کر نہیں دے سکتے، نہ، نہ، نہ، نہ۔“ مورخہ 26 جون کو بلوچستان کی نام نہاد ایپکس کمیٹی نے ان تمام مقامی بلوچ عسکریت پسندوں کیلئے عام معافی کے منصوبے کا اعلان کیا جو تشدد ترک کرنے اور ہتھیار ڈالنے کیلئے تیار ہوں۔ اس اسکیم کے تحت، قلیل مدتی جنگجووں کو پانچ لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے، درمیانے درجے کے کمانڈروں کو دس لاکھ روپے ملیں گے جبکہ اعلی کمانڈروں کو 15 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ متموّل نقد انعامات اس بات کو یقینی بنانے کیلئے پیش کی جارہی ہیں تاکہ ہتھیار ڈالنے والے جنگجو دوبارہ باغی گروہوں میں شامل نہ ہوں۔ وہ یہ امید کر رہے ہیں کہ لوگ اپنے آدرشوں کو کوڑیوں کے عوض بیچ دیں گے۔ 2012 میں نواب ذوالفقار مگسی نے بلوچستان میں تمام جنگجووں کو اپنے ہتھیار ڈال دینے کیلئے عام طور پر 10,000 روپے دینے کا اعلان کیا۔ یہ ڈرامہ اسلئے رچایا جارہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ہجوم برائے کرایہ پر لے کر ہتھیار ڈلوانے کی تقریبوں کا بندوبست کیا جائے جو حال ہی میں وقوع پذید ہوئی تھیں۔ضمیر اور حب الوطنی پیسے سے نہیں خریدے جاتے؛ پیسہ صرف کرایے کے سپاہی خرید سکتا ہے اور انہیں ان دی گئی بخشیشوں سے محض یہی ملے گا۔ اسٹابلشمنٹ کیساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ کبھی نہیں سیکھتا اور یہ پیسے کو ہر مرض کی دوا سمجھتا ہے، لیکن اس پر کسی کو کوئی حیرت نہیں ہونی چاہئے کیونکہ وہ لوگ جو لکشمی دیوی کی پوجا کرتے ہیں انہیں لگتا ہے کہ سب لوگ انکے ہم مذہب ہیں۔ یہ پیشکش بھی اسی سوچ کا نتیجہ ہے کیونکہ جو لوگ یہ پیشکش کررہے ہیں پیسے کیلئے جیتے اور مرتے ہیں؛ انکا ماننا ہے کہ سب اسی بیماری میں مبتلا ہیں اور وہ پیسے کی پیشکش کرنا جاری رکھتے ہیں، ان کا اپنا پیسہ نہیں، حتیٰ کہ ان لوگوں کو بھی جو اعلیٰ آدرشوں کیلئے جیتے ہیں۔

یہ پیشکش، جیسا کہ کاملاً مضحکہ خیز ہے، صرف بلوچستان میں اس سفاکانہ کریک ڈاون کے ان کے حقیقی نیت کو چھپانے کیلئے ہے جو کہ پہلے سے ہی اپنی پوری آب و تاب کیساتھ جاری ہے۔ 30 جون کو آواران کے علاقے مشکے میں کیے گئے ایک فوجی کارروائی میں ڈاکٹر اللہ نذر کے گھر پر حملہ کیا گیا جس میں انکے بھائی سفر خان، ان کے بھتیجے سلیمان اور ذاکر بلوچ چند دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ ہلاک ہوئے تھے۔ کسی کو مارنا اور انہیں عسکریت پسند کا لیبل لگانا، صرف یہی جواز پیش کیا جاتا ہے جب کبھی بھی مرنے والے بلوچ ہوں۔ فورسز، خواہ وہ اسٹابلشمنٹ ہو یا اس کے پراکسی، جو کہ بلوچستان میں کام کر رہے ہیں، سزا سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہیں اور 27 مارچ 1948 کے بعد سے وہ قانون سے بالاتر رہے ہیں۔

ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن بلوچ جدوجہد ماند نہیں پڑی ہے۔ نواب اکبر بگٹی کا قتل، بالاچ مری کا قتل، دیگر ہزاروں لوگوں کا قتل اور ان گنت بلوچوں کے اغواء نے بلوچ کی اور بھی زیادہ جوش و ولولے کیساتھ مزاحمت کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے؛ ان ہلاکتوں سے بھی ایسا ہی ہوگا۔ لوگ موت کے ڈر سے اپنے آدرش ترک نہیں کرتے۔ اس کے برعکس، یہ انہیں اوربھی پرعزم بنا دیتے ہیں۔ اسی سے لوہے میں پختگی آتی ہے اور تاریخ رقم ہوتی ہے۔

بوستان میں سعدی کی حکایت میں، ایک بادشاہ جو اپنے شہر میں درویشوں کی فلاح و بہبود کے بارے میں فکر مند ہوتا ہے، اپنے وزیر کو سونے کے سکوں کا ایک تھیلا دیتا ہے اور اسے درویشوں میں تقسیم کرنے کیلئے کہتا ہے۔ اگلے روز وزیر نے سونے کے سکوں کا تھیلا اسی طرح واپس لوٹا دیا۔ بادشاہ نے وضاحت طلب کی۔ وزیر نے کہا: ”اے بادشاہ، مجھے ایک بھی درویش نہیں ملا۔“ طیش میں آئے بادشاہ نے کہا، ”بلاشک میں جانتا ہوں کہ یہاں درجنوں رہتے ہیں۔“ وزیر نے کہا: ”اے بادشاہ، وہ جو درویش تھے پیسہ نہیں چاہتے اور وہ جو پیسہ چاہتے تھے وہ درویش نہیں تھے تو میں نے انہیں کچھ نہیں دیا۔“ لہٰذا وہ لوگ جو اس غلیظ پیسے کو قبول کریں گے یقینا یہ وہ لوگ نہیں ہیں جنہیں بلوچستان سے کوئی محبت ہے اور بیشک انہیں پاکستان سے بھی کوئی محبت نہیں ہوگی؛ ان کی وفاداری پیسے سے ہے۔ جہاں تک اصلی درویشوں کی بات ہے تو وہ ان پیسوں پر نظر تک نہیں ڈالیں گے۔

حکومت خان کلات میر سلیمان داود جان کی طرف سے اسکے وفد کیساتھ مذاکرات پر اتفاق کرنے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے اور انہیں بلوچستان کے نمائندے کے طور پر پیش کررہی ہے کہ گویا وہ ان لوگوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں جو 27 مارچ 1948 کے بعد سے ناانصافیوں کیخلاف مزاحمت کررہے ہیں، اپنی جدوجہد ترک کردیں گے۔ وہ دونوں لحاظ سے غلط ہیں؛ خان کلات ان ہی کی نمائندگی کرتے ہیں اور انکے اثرو رسوخ کے دائرے میں انکا اپنا خاندان تک شامل نہیں ہے۔ لوگ سوچ رہے ہیں کہ ان کو عام معافی کے کس زمرے میں شامل کیا جائے گا؛ 15 لاکھ روپے والے میں یا 10 لاکھ روپے والے میں۔

مذاق ایک طرف، کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ وہاں بات کرنے اور مسائل کو حل کرنے کیلئے کون موجود ہے؟ جی ہاں، نواب خیر بخش مری نہیں رہے لیکن وہ کبھی بھی مذاکرات نہ کرتے۔ خان کلات کو بلوچ کے ترجمان اور مصالحت کے چہرے کے طور پر پیش کرنا بلوچ کو ان ناانصافیوں کو قبول کرانے، جو انہوں نے بھگتی ہیں اور بھگتیں گے، کی ایک لنگڑی لولی پاکستانی کوشش ہے۔ بلوچ اپنی بے پناہ قربانیاں کسی بھی خان یا سردار کی سودے بازی کیلئے استعمال نہیں ہونے دینگے۔

سعدی شیرازی کہتے ہیں:
اگر از جہان، ہما شود معدوم”
کس نہ رود زیرِ سایہء بوم
گر دنیا سے معدوم ہما ہوجاوے
تو کوئی الو کے زیر سایہ نہ جاوے”

وہ دور اب نہیں رہا جب سردار اور خان سیاسی اور سماجی تعلقات کا تعین کیا کرتے تھے۔ اس سلسلے میں کوئی خوددار بلوچ نہ پیسہ قبول کرے گا اور نہ ہی کسی ایسے شخص کو قبول کرے گا جو ذاتی مفادات کی خاطر اپنے آپ کو رہن کرنے کیلئے تیار ہو، ان بے پناہ قربانیوں کے بدلے جو انہوں نے اپنے مادر وطن کیلئے دی ہیں۔

میر محمد علی ٹالپر کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کی دہائی کے ابتداءسے ایک تعلق ہے

وہ @mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں
اور mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے
بشکریہ : ڈیلی ٹائمز، اتوار، 5 جولائی 2015

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s