گراونڈ زیرو بلوچستان


تحریر: میرمحمد علی ٹالپر
ترجمہ: لطیف بلیدی

(نوٹ: یہ ان چار مضامین کی تیسری قسط ہے جو بیک وقت شائع ہوئی تھیں)

Mir Muhammad Ali Talpurفیصد کے حساب سے اضلاع کی محرومی کی اعلیٰ ترین سطح کی درجہ بندی مندرجہ ذیل ہے: پنجاب میں 29 فیصد، سندھ میں 50 فیصد، خیبر پختونخواہ میں 62 فیصد، اور بلوچستان میں 92 فیصد۔

معاشی محرومی اور جابرانہ سیاسی حالات کی سطح جو بلوچستان کو آج حاصل ہیں ان کی وجہ بار بار کیے جانیوالے فوجی آپریشن اور 1947 کے بعد سے معاشی استحصال جو عام طور پر عوام اور خاص طور پر لاپتہ افراد اور داخلی طورپر بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) کیلئے بے پناہ مصائب پر منتج ہوئی ہے۔ وہاں کی ’سیاسی شورش‘ وفاق کی بے حسی اور طاقت کے بے لگام استعمال کی ایک طویل تاریخ کا براہ راست نتیجہ ہے۔

معاشی محرومی اور غربت کی سنگین نوعیت کو پیش کرنے کیلئے میں ان ماہرین کا حوالہ دونگا جو وہاں کے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ ”بلوچستان میں ترقیاتی منظر کا ایک جائزہ لیا جائے تو یہ بہت تکلیف دہ ہے اور صوبے میں محرومی دیگر کی نسبت انتہائی حد تک خراب ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ بنیادی ڈھانچے سے محروم 20 اضلاع میں سے اٹھارہ بلوچستان میں ہیں۔ فیصد کے حساب سے اضلاع کی محرومی کی اعلیٰ ترین سطح کی درجہ بندی مندرجہ ذیل ہے: پنجاب میں 29 فیصد، سندھ میں 50 فیصد، خیبر پختونخواہ میں 62 فیصد، اور بلوچستان میں 92 فیصد۔ اگر کوئٹہ اور زیارت کو خارج کردیا جائے تو پورا بلوچستان شدید محرومی کے زمرے میں آتا ہے۔ اور کوئٹہ کی سطح گر جائیگی اگر اس تجزیے میں سے کنٹونمنٹ کے علاقے کو خارج کر دیا جائے۔ وہ آبادی جو شدید محرومی کی اعلیٰ ترین سطح میں رہ رہی ہے فیصد کے حساب سے کچھ یوں ہے: پنجاب میں 25 فیصد، شہری سندھ میں 23 فیصد، دیہی سندھ میں 49 فیصد، خیبر پختونخواہ میں 51 فیصد، اور بلوچستان میں 88 فیصد۔اگر اسے غربت کے لحاظ سے ناپا جائے تو غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والی آبادی فیصد کے تناسب سے اسطرح ہے: پنجاب میں 26 فیصد، دیہی سندھ میں 38 فیصد، شہری سندھ میں 27 فیصد، صوبہ سرحد میں 29 فیصد، اور بلوچستان میں یہ 48 فیصد کی سطح پر کھڑی ہے۔“

ایک اور قابل احترام تجزیہ کار سید فضل حیدر کا کہنا ہے کہ، ’غربت سادہ آمدنی (تفویط صرف) اور محرومی کے بجائے ایک کثیرالجہتی تصور ہے۔ غربت کا کوئی ایک پیمانہ، جیساکہ فی کس ’غربت کی لکیر‘ کے مخصوص پیمانے پر مبنی تناسب غربت کی تمام جہتوں کا احاطہ نہیں کرتا اور نہ ہی وسیع تر انسانی دکھوں کی اصل وجوہات کی مکمل طور پر عکاسی کرتا ہے۔ ’غربت کی موزونیت‘ انڈیکس جو کہ محرومی کے عناصر کی تین اہم ترین جہتوں کا مجموعہ ہے جس میں صحت، تعلیم اور آمدنی آتے ہیں، اس سلسلے میں بہت مفید ہے۔ بلوچستان کی صورت میں، کوئی بھی پیمانہ یہی دکھائے گا کہ یہ سب سے غریب ترین صوبہ ہے۔

پاکستان کے باقی حصوں میں 86 فیصد کے مقابلے میں اس کے لوگوں کی صرف 20 فیصد آبادی کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل ہے۔ ملک کے باقی حصوں میں 75 فیصد کے مقابلے میں یہاں کے دیہاتوں میں سے بجلی صرف 25 فیصد کو میسر ہے۔ بچوں کی شرح اموات 1000 میں سے 100 کی قومی شرح کے مقابلے میں یہاں 108 ہے۔ بنیادی سہولیات اور تعلیم تک رسائی کی صورتحال بھی دوسرے صوبوں کے نسبت یہاں نہایت کم ہے۔ ‘

وہ اس غفلت پر مزید روشنی ڈالتے ہیں، ’مرکز میں فیصلہ سازی کے عمل میں بلوچستان تقریباً بے نوا ہی رہتا ہے اور اسکی کوئی نہیں سنتا۔ اس کی آبادی کا 50 فیصد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ آمدنی کی بنیاد پر انسانی ترقی میں عدم مساوات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مالی سال 2000-2001 کے دوران، دیگر کے مقابلے میں صوبے کیلئے خوشحال پاکستان پروگرام کے کل بجٹ کا صرف 9.2 فیصد مختص کیا گیا تھا جبکہ صوبہ سرحد کیلئے 16.2 فیصد، سندھ کیلئے 19.7 فیصد، اور پنجاب 48 فیصد۔ پروگرام کے پہلے سال کے دوران مختص کردہ بجٹ کی رقم کا استعمال صوبے کیلئے 2.8 فیصد پر سب سے کم تھا جبکہ اسکے مقابلے میں صوبہ سرحد میں 7.7 فیصد، سندھ میں 8.2 فیصد، اور پنجاب میں 19 فیصد رہی۔

مالی سال 2004 میں صوبائی ترقیاتی پروگراموں کیلئے وفاقی امداد صوبہ سرحد کیلئے 56 فیصد، پنجاب کیلئے 28 فیصد، سندھ کیلئے 19 فیصد اور بلوچستان کیلئے صرف آٹھ فیصد تھی۔ پنجاب میں فارن پراجیکٹ اسسٹنس (ایف پی اے) یا غیر ملکی امدادی منصوبے میں مختص حصہ پنجاب کیلئے 53 فیصد، صوبہ سرحد 29 فیصد، سندھ 12 فیصد اور بلوچستان کیلئے ایک بار پھر صرف چھ فیصد تھا۔‘

اگر کوئی ماوں کی شرح اموات کا سروے کرے تو ایک ہولناک تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے جوکہ بلوچستان میں فی ایک لاکھ بچوں کی پیدائش میں 650 ہے جبکہ کراچی میں یہ 281 ہے۔ یہ قومی اوسط کا دگنا ہے۔ بلوچستان میں بچوں کی شرح اموات فی 1000 زندہ پیدائشوں میں 158 ہے، حتیٰ کہ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کی اوسط 126 ہے جو کہ اس سے بھی کم ہے جبکہ پاکستان کی قومی اوسط 70 اسکے نصف سے بھی کم ہے۔ تعلیم کے میدان میں بھی اعداد و شمار یکساں طور پر مایوس کن ہیں، خواتین کی تین چوتھائی اور دس سال کی عمر سے زیادہ کی آبادی کا دو تہائی ناخواندہ ہے۔ متاثرہ مری بگٹی علاقوں میں اور داخلی طور پر بے گھر افراد کے درمیان حالات اس سے بھی زیادہ خراب ہیں۔

یہ اعداد و شمار اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ بلوچستان کو نہ صرف کامل غفلت کے سبب بلکہ اسے محرومی کی حالت میں رکھنے کی دیدہ دانستہ کوششوں کی وجہ سے بھی تکلیفیں جھیلنی پڑی ہیں جہاں وہ سرداروں کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے مورد الزام ٹھہراتے ہیں کیونکہ حتیٰ کہ حکومت کی عملداری کے تحت علاقوں میں بھی کوئی خوشحالی نہیں آئی ہے۔

بگٹی کے علاقے کی مثال لے لیں، اگرچہ گیس 1951 میں سوئی میں دریافت ہوئی اور یہ ملک کی کل گیس کی پیداوار کا تقریباً 45 فیصد پورا کرتی ہے اور اسکی مالیت 85 ارب روپے سالانہ بنتی ہے اور ڈیرہ بگٹی یہ دولت پیدا کرنے کے بدلے میں جو حاصل کرتا ہے وہ یو این ڈی پی کی 2003 کی انسانی ترقی کی رپورٹ سے واضح ہے جس نے ڈیرہ بگٹی کی رینکنگ کو ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس (ایچ ڈی آئی) پر ملک کے 91 اضلاع میں سب سے آخر میں رکھا ہے۔ اس چونکا دینے والی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ایچ ڈی آئی پر سب سے اوپر کے 31 اضلاع میں سے صرف تین بلوچستان سے تعلق رکھتے تھے جبکہ ایچ ڈی آئی پر سب سے کم ترقی یافتہ 30 اضلاع میں سے 12 کا تعلق اس صوبے سے ہے۔

بلوچستان 347641 مربع کلومیٹر (134000 مربع میل) رقبے اور گنجانیء آبادی محض 18.9 مربع میٹر فی مربع کلومیٹر کیساتھ مغرب میں ایران، شمال مغرب میں افغانستان، بحیرہءعرب کیساتھ تقریباً 750 میل طویل ساحل جوکہ تقریباً اسٹراٹیجک حوالے سے اہم آبنائے ہرمز کے شمالی ساحلوں تک پھیلا ہوا ہے جو اسٹراٹیجک حوالے سے علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کے بروکرز اور بڑی طاقتوں کیلئے اہمیت کی حامل ہونے کے باعث اور اپنی وسیع زمین اور غیردریافت شدہ وسائل کی وجہ سے بھی زیرنگینی اور استعماریت کیلئے ایک اہم نشانہ ہے۔

آئیں ان دستیاب وسائل کا مختصر طور پر جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہاں کے لوگ جن دلسوز حالات میں زندگی گزار رہے ہیں آیا وہ جائز اور درست ہے اور اسی اثناء میں قوم پرستوں کے اس دعوے اور اصرار کی بھی جانچ کرتے ہیں کہ بلوچستان کے پاس ایک آزاد ہستی کے طور پر زندہ رہنے کیلئے کافی دولت موجود ہے؛ انہیں لگتا ہے کہ وہ یہ کر سکتے ہیں۔ بلوچ قوم پرستوں کی طرف سے وسائل کی تلاش اور استحصال کی مسلسل مخالفت اور مزاحمت کی گئی ہے۔

اندازے کے مطابق 12.3 ملین ٹن تانبے اور 20.9 ملین اونس سونے کی قیاس شدہ اور ظاہراً وسائل کیساتھ ریکوڈک چاغی میں تانبے/سونے کا ایک بہت بڑا پروجیکٹ ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ وہاں موجود ذخائر ایران میں سرچشمہ اور چلی میں اسکوندیدو سے بھی بڑے ہیں۔ وہاں سے دو لاکھ ٹن تانبے اور چار لاکھ اونس سونے کی سالانہ پیداوار ہونے کی امید ہے۔ اسکا لیز بدنام زمانہ بیرک گولڈ کارپوریشن کے پاس ہے۔ سیندک تانبے اور سونے کی کانیں چینیوں کی طرف سے چلائے جا رہے ہیں۔ پاکستان کو اس سے 2004 تا 2008 کے دوران سونے کے 7.746 ٹن کی پیداوار ملی ہے۔ نہ تو چاغی اور نہ ہی بلوچستان کو اس دولت سے کوئی فائدہ پہنچا ہے۔

کرومائٹ 1901 میں مسلم باغ میں دریافت کیا گیا تھا جہاں اسوقت اسکی پیداوار 300 سے 500 ٹن یومیہ ہے جسکی مقامی مارکیٹ میں قیمت 30000 روپے سے لیکر 45000 روپے کے درمیان ہے۔ کرومائٹ کے ذخائر مغربی بلوچستان میں راسکوہ رینج اور ضلع خضدار کے علاقے وڈھ میں بھی دریافت کیے گئے ہیں۔

بلوچستان میں تصدیق شدہ خام لوہے کے بڑے ذخائر کی مقدار 278 ملین ٹن سے بھی زیادہ ہے اور ان میں سب سے بڑا ذخیرہ مستونگ کے قریب دلبند میں واقع ہے۔ یہ کچ دھات اب تک پاکستان میں دریافت شدہ باقی کچ دھات کے ذخائر کے مقابلے میں سب سے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ نومبر 2005 میں بولان مائننگ انٹرپرائز کی تنصیبات پر حملہ کیا گیا اور لاکھوں کی مشینری کو تباہ کر دیا گیا۔

سب سے اہم خزانوں میں سے ایک، قدرتی گیس کے ذخائر جس نے ملک کی تقدیر بدل دی، اس سے بلوچستان کے علاوہ سب کو فائدہ ہوا ہے۔ سید فضل حیدر کا کہنا ہے کہ ”سوئی گیس فیلڈ ملک کی کل گیس کی پیداوار کا تقریبا 45 فیصد پورا کرتا ہے۔“ پی پی ایل وہاں اپنے 80 سے زائد کنووں سے 720 سے لیکر 750 ملین کیوبک فٹ گیس روزانہ پیدا کررہا ہے۔ صوبہ 85 ارب روپے مالیت کی قدرتی گیس سالانہ پیدا کرتی ہے لیکن وفاقی حکومت کی طرف سے رائلٹی کے طور پر اسے صرف 7 ارب روپے دیے جاتے ہیں۔ گیس فیلڈ سے نکالی جانیوالی گیس سے 12.5 فیصد مقرر کردہ رائلٹی ”منبع کی قیمت“ پر مبنی ہے جوکہ دیگر صوبوں میں دیگر گیس فیلڈز کی نسبت مارکیٹ کی قیمت سے کم ہے۔

چھ دہائیاں گزر چکی ہیں، مگر حتیٰ کہ آج بھی بلوچستان میں گیس صارفین 3.4 فیصد ہیں جبکہ اسکے مقابلے میں اکیلے پنجاب کے صارفین 51 فیصد ہیں جوکہ محض 4.75 فیصد گیس پیدا کرتا ہے۔ اس بات پر زور دینے کی ضرورت ہے کہ بلوچ اسے جلا نے کے حق کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ کس طرح استعمال کیا جانا چاہئے اسکا فیصلہ کرنے کا حق چاہتے ہیں۔

جے سی وان ویگنر، امریکی آئل کمپنی ایموکو کے پاکستان میں آپریشنز کے ایک سابق ڈائریکٹر، نے سیلگ ہیریسن کو بتایا کہ ماضی میں ایموکو کی طرف سے تدڑی جاندران بمبور میں کیے گئے فضائی سروے میں خیال کیا گیا ہے کہ گیس کے ذخائر کے علاوہ ’ایک شاندار، بہت بڑے ڈھانچے‘ میں کئی ملین بیرل تیل کے ذخائر دیکھے گئے ہیں۔ او جی ڈی سی کی ایک رپورٹ میں بمبور، پیرکوہ اور ڈھوڈک سے منسلک ایک وسیع علاقے کی طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ ’یہ ایک طلائی تثلیث کی تشکیل کرتے ہیں اور مستقبل میں پٹرولیم کے متوقع ذخائر کی تلاش کی کوششوں میں اس علاقے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہئے۔‘ اس میں کوئی تعجب نہیں کہ مری علاقے محکومی اور شورش کو دبانے کیلئے اسٹابلشمنٹ کی ترجیحات میں سرفہرست ہیں۔

سید فضل حیدر کا کہنا ہے کہ، ”صوبہ ہرنائی، ڈگاری، مچھ، زیارت، چمالنگ اور آب گم میں کوئلے کے وسیع ذخائر کا حامل ہے، اندازے کیمطابق 217 ملین ٹن۔ 60 کلومیٹر طویل چمالنگ کے کوئلے کی کانوں میں کل چھ ملین ٹن کے ذخائر ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ، ”اس سے پیدا شدہ نوکریوں کی تعداد 10000 سے لیکر 50000 تک ہو سکتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق چمالنگ کی کانوں سے کوئلے کی فراہمی سے سالانہ 30 ارب روپے کا منافع ہوگا۔“ حال ہی میں وہاں کان کنی میں ملوث ٹرانسپورٹ اور لوگوں پر حملے ہو چکے ہیں جس سے یہ یقینی نہیں ہے ان ذخائر سے ان کی آمدنی کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔

اسکا 750 میل طویل ساحل واقعتاً اسے سمندری خوراک کے وسائل کی ایک محفوظ افزائش گاہ بناتا ہے اور ساحل کے ساتھ بسنے والے لوگ ایک طویل عرصے سے ذریعہ معاش کے ذرائع کے طور پر اسی پر گزر بسر کرتے آئے ہیں۔ پسنی، اورماڑہ، اور گوادر وغیرہ میں ساحل کے ساتھ تعمیر کیے گئے متعدد بحری اڈے مقامی لوگوں کی ماہی گیری کی ان پانیوں تک آسان رسائی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ سیکورٹی خدشات کے سبب عوام کا ان علاقوں میں جانا ممنوع ہے اور انہیں یہاں سے گزرنے بھی نہیں دیا جاتا۔

بلوچ قوم پرستوں کیلئے زمین ایک بہت بڑا متنازعہ مسئلہ ہے جیسا کہ انہیں ڈر ہے کہ باہر کے لوگوں کو زمین کی فروخت نہ صرف زمین پر ان کے تاریخی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ عمل انہیں ایک اقلیت میں تبدیل کردیگا۔ زمینوں پر قبضہ اس حد تک غیر قانونی ہے کہ سپریم کورٹ کوئٹہ کے دو رکنی بنچ کے جسٹس جاوید اقبال اور جسٹس راجہ فیاض احمد نے اکتوبر 2006 میں گوادر میں رہائشی اور صنعتی پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی منسوخی کا حکم دیا اور کہا کہ ’ہر الاٹمنٹ، فروخت، اور زمین کی منتقلی سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں انتہائی مبہم اور مشکوک انداز میں کیا گیا ہے۔ ہنگول پارک اور سونمیانی بھی ہڑپ لیے گئے۔

بلوچ کے مسائل کی جانب غفلت اور بے حسی جمہوری حکومت کیساتھ تبدیل نہیں ہوئی ہے۔ اس نے بھی منصوبوں کے حوالے سے بنائی گئی پالیسیاں جاری رکھی ہوئی ہیں کہ انہوں نے عام لوگوں کی زندگی کو چھوا تک نہیں ہے۔ مارچ میں اعلان کیے گئے صدارتی پیکج کے پیسے کا بڑا حصہ ڈیموں کے تصرف میں چلا جائے گا۔ ان ڈیموں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ابتدائی طور پر ایک ملین ایکڑ زمین خلیجی ریاستوں کو فروخت یا لیز پر دی جائے گی۔ خبر کیمطابق متحدہ عرب امارات نے بلوچستان میں ڈیڑھ لاکھ ہیکٹر یا 370658.0722 ایکڑ سے زائد زمین میرانی ڈیم کے قریب حاصل کر لی ہے اور بعض نجی کمپنیوں نے اس کے توسط سے پاکستان میں 800000 ایکڑ زمین خریدی ہے۔

اوپر بیان کیے گئے حقائق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بلوچستان نہ صرف پاکستان کا سب سے بڑا اور مادی طور پر امیر ترین صوبہ ہے بلکہ دراصل سب سے کم فی کس آمدنی کیساتھ غریب ترین صوبہ بھی ہے۔ اس کی آبادی صرف 6 فیصد ہے جسکا مطلب درحقیقت یہ ہے کہ کسی بھی دوسرے صوبے کی فی کس آمدنی اگر بلوچستان سے کم ہوتی تو تب بھی یہ کافی حد تک امیر صوبہ ہوتا۔ بلوچستان اس سے بہت زیادہ غریب ہے جتنا کہ اعداد و شمار بتاتے ہیں۔ انہی حالات نے مجھے بلوچستان کو گراونڈ زیرو کہنے پر اکسایا ہے۔

استحصال محض اقتصادی اور سیاسی نہیں ہے بلکہ اسٹابلشمنٹ کی طرف سے وہاں تعلیم کے ذریعے سماجی و ثقافتی اقدار میں تبدیلی لانے کا ایک اور منحوس پہلو بھی موجود ہے جسکے بارے میں فوج زیادہ فکر مند لگتی ہے۔ فوج نے بلوچ سماجی و ثقافتی اقدار، وہ اقدار جو آزادی میں غربت کو کھاتی پیتی غلامی سے بہتر سمجھتے ہیں، کی شکل بگاڑنے کا بیڑہ بنیادی طور پر اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوا ہے۔ ملٹری کالج سوئی (ایم سی ایس) میں اپنی تقریر میں جنرل کیانی نے کہا کہ 20000 سے زائد بلوچ طلباء کو پاکستان آرمی اور ایف سی کے زیر انتظام چلنے والے تعلیمی اداروں میں داخلہ دیا گیا ہے بشمول کیڈٹ اسکولوں، میڈیکل کالجوں، کان کنی کی تربیت گاہوں اور دیگر اداروں کے۔ یہ عموماً ویسا ہی ہے جیسا کہ آسٹریلوی گورے وہاں کے ایبوریجنیز کو مہذب بنانے کی کوشش کررہے ہوں؛ پاکستانی ریاست تعلیم یافتہ نوجوانوں کو قتل کرنے میں مصروف ہے تو لہٰذا یہ ان کیلئے تعلیم نہیں چاہتی بلکہ چاہتی ہے کہ یہ لوگ اسکی خدمت گزاری کریں۔

تعلیم کے میدان میں بھی بلوچ کیخلاف امتیازی سلوک برتا جاتا ہے اور اس کیلئے وہاں پر ایک منظم کوشش جاری ہے جسے فاروق سلہریہ تعلیمی رنگبھید کا نام دیتے ہیں اور جس پر عملدرامد کیا جارہا ہے۔ بلوچستان میں تعلیم کو فروغ دینے کے تمام دعووں کو فاروق سلہریہ نے زورنامہ دی نیوز میں شائع ہوئے اپنے بہترین تحقیقاتی ادارتی مضمون ”تعلیمی رنگبھید“ میں بھرپور انداز میں بے نقاب کیا ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ بلوچستان کیخلاف امتیازی سلوک پر کس طریقے سے عمل کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ”پنجاب اور پنجاب کے زیر غلبہ مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ میں بلوچ شکایات کو اکثر معروف حیلوں بہانوں سے مسترد کردیا جاتا ہے۔ ایک گھسا پٹا عذر یہ ہے کہ بلوچ سردار صوبے میں ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ تاہم، ہر بار جب کوئی اس منظم امتیازی سلوک، جسکا بلوچستان کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کو دیکھتا ہے تو اسے یہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ یہ ترقی مخالف بلوچ سردار نہیں ہیں بلکہ یہ ’وفاق‘ ہے جو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ رہا ہے۔“

وہ کہتے ہیں کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی طرف سے بلوچستان پر عائد تعلیمی رنگبھید بالکل واضح ہے، ابتداء سے لیکر اب تک، مالی سال 2002-3 تا 2012-13 تک اس نے 157102 ملین روپے مالیت کے کل 737 منصوبے مختص کیے ہیں۔ ان میں سے محض 9433 ملین مالیت کے 48 منصوبے بلوچستان کی سات جامعات کو تفویض کیے گئے۔ وہ بتاتے ہیں کہ بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (بی یو ای ٹی) خضدار کو 10 سال میں 284 ملین روپے کے (آٹھ منصوبے) حاصل ہوئے لیکن لاہور کے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کو 8361 ملین روپے (23 منصوبے) عطا کیے گئے۔ اسی طرح سے لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز (ایل یو اے ڈبلیو ایم ایس) کو 1943 ملین روپے (پانچ منصوبے) دیے گئے جبکہ یونیورسٹی آف ایرڈ ایگریکلچر راولپنڈی اور یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کو بالترتیب 1815 ملین روپے (21 منصوبے) اور 2647 ملین روپے (25 منصوبے) عطا کیے گئے۔ اسی طرح سے بلوچستان کے اکلوتے ویمن یونیورسٹی کو 965 ملین روپے موصول ہوئے جبکہ ایف جے ویمنز یونیورسٹی راولپنڈی، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی لاہور اور ویمن یونیورسٹی ملتان کو دل کھول کر 879 ملین روپے (10 منصوبے)، 847 ملین روپے (13 منصوبے) اور 1144 ملین روپے (ایک منصوبہ) بالترتیب مختص کیے گئے۔

سلہریہ مزید کہتے ہیں کہ تعلیمی میدان میں بلوچستان جس امتیازی سلوک سے دوچار ہے وہ اس بات سے مزید واضح ہوجاتا ہے جب اسلام آباد کیلئے مختص کی گئی رقم اور منصوبوں کا موازنہ کیا جائے کیونکہ یہ موازنہ آبادی کے تناسب میں فرق کی دلیل کی بھی نفی کردیتا ہے۔ وہاں ایچ ای سی کی دریادلی سے دو سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (این یو ایس ٹی) اور کامسیٹ انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی (سی آئی آئی ٹی) کو بالترتیب 15205 ملین روپے (22 منصوبے) اور 7337 ملین روپے (28 منصوبے) عطا کیے گئے جو اتفاق سے بلوچستان کو الاٹ کی گئی کل رقم سے 13145 ملین روپے زیادہ ہے۔ بلوچستان کو مختص کی گئی کل رقم این یو ایس ٹی اورسی آئی آئی ٹی کو مختص کی گئی کل رقم کے نصف سے بھی کم ہے۔

سلہریہ کہتے ہیں کہ اس امتیازی سلوک کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ایچ ای سی کی بیوروکریسی اسے پنجاب کے حق میں کرنے کیلئے جان بوجھ کر اور بدنیتی سے طریقہ کار میں توڑ مروڑکرتا ہے، 60 فیصد پنجابی اپنے 50 فیصد مختص کوٹہ پر بیرون ملک گئے جبکہ بلوچ کی نمائندگی اس کے چھ فیصد کوٹہ سے بھی نیچے رہی ہے۔

تو پھر اس میں کسی تعجب کی بات نہیں کہ وہاں ایک شدید اور مسلسل نفرت اور تلخی موجود ہے جنکی تلافی عارضی تدابیر اور نیم بریاں تخفیفی اقدامات سے ممکن نہیں ہے جنکا وفاقی حکومت آزادی کیلئے روز بروز بڑھتی ہوئی مانگ اور ’سیاسی شورش‘ کی غالب صورتحال کو ٹھنڈا کرنے کیلئے اعلان کرتی رہتی ہے۔ مسئلہ صرف معاشی نہیں ہے بلکہ درحقیقت بنیادی طور پر یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے نہ طاقت کے ذریعے اور نہ ہی میگا پراجیکٹس کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ قوم پرست محض وسائل پر حقوق کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ سیاسی اور سماجی معاملات کے بارے میں اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کے حق کا مطالبہ کر رہے ہیں جو کہ بجا طور پر سمجھتے ہیں کہ یہ صرف آزادی کے ساتھ ممکن ہوگی۔

میر محمد علی ٹالپر کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کی دہائی کے ابتداءسے ایک تعلق ہے
وہ @mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں
اور mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے
بشکریہ : ویو پوائنٹ آن لائن، جمعرات، 10 اکتوبر2013

Original texts and Urdu translations:

Part 1 – Loving the dream:
https://app.box.com/s/ni21dvrva3kyqf0weusp40uw3ktux9g3
پہلی قسط : اس خواب سے محبت
https://app.box.com/s/uy8h7f9tpubju8orsxyla01j9k05wgdq

Prat 2 – Political awakening
https://app.box.com/s/qk433xqyd4mf4veo9ar486lhec2lvndj
دوسری قسط: سیاسی بیداری
https://app.box.com/s/813kvvzeho2h03njdsqtd1vzokezvvdg

Part 3 – Ground zero: Balochistan
https://app.box.com/s/8kh36gg5uc2xz1oqvicoqikbm6prujms

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s