Monthly Archives: May 2015

There Will Be Blood : Sabeen Mahmud and Pakistan’s War on Activists

Sabeen Mahmud BHRO

The only people with the right to free speech in Pakistan belong to the military or its militant clients. Everybody else must get in line.

By

Last week, unknown assailants shot and killed human rights activist Sabeen Mahmud in Karachi, Pakistan’s largest city and commercial hub, where she ran T2F (short for the Second Floor), a small café-cum-cultural center. Since its opening in 2007, T2F has provided budding poets, writers, and activists a safe space for critical expression in a country where the military and militants linked to it have created an environment of doubt, fear, and uncertainty. She was targeted immediately after hosting a discussion in the center called, “Unsilencing Balochistan Take 2” on human rights violations in the resource rich southwestern province, where the military and its intelligence services have waged a long “dirty war” against Baluch separatists.

Continue reading

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

May 03: World Press Freedom Day

Leave a comment

May 2, 2015 · 3:00 pm

سیاسی بیداری

تحریر : میر محمد علی ٹالپر
ترجمہ: لطیف بلیدی

(نوٹ: یہ ان چار مضامین کی دوسری قسط ہے جو بیک وقت شائع ہوئی تھیں)


مورخہ 26 مارچ 1948 کو پاکستانی فوج کو بلوچ ساحلی علاقے پسنی، جیونی اور تربت جانے کا حکم دیا گیا۔ یہ پاکستانی فوج کے خصوصی مہمی دستے کی طرف سے یکم اپریل 1948 کو دارالحکومت کلات پر چڑھائی سے قبل جارحیت کا پہلا واقعہ تھا

Mir Muhammad Ali Talpur

برصغیر میں دیگر تمام جگہوں کی طرح بلوچستان میں بھی سیاسی بیداری بتدریج آئی تھی اور یہ پہلی جنگ عظیم کے بعد سوویت یونین اور اینٹی نوآبادیاتی تحریکوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے رفتار پکڑتی گئی۔ میر عبدالعزیز کرد نے 1920 میں ”ینگ بلوچ“ نامی ایک خفیہ سیاسی تحریک کا آغاز کیا اور 1929ء میں انہوں نے انجمن اتحاد بلوچستان میں شمولیت اختیار کی جو یوسف علی خان مگسی کے جیل جانے کے بعد قائم کی گئی تھی، انہیں اپنے مضمون ”فریاد بلوچستان“ میں کیے گئے آئینی اصلاحات کے مطالبے پرپابند سلاسل کیا گیا تھا جس میں انہوں نے برطانوی حکومت اور ریاست کلات کے وزیر اعظم سر شمس شاہ، جو کہ گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک پنجابی تھے، کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انجمن کا مقصد بلوچستان کی آزادی تھی اور اس نے آئینی اصلاحات کا مطالبہ کیا اور برطانوی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ وزیراعظم کی مخالفت کی جنہیں بالآخر انکی مخالفت کے سبب برخاست کردیا گیا۔

Continue reading

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur