پاکستانی قالبوں کی شکست و ریخت


kareema Baloch

تحریر : کارلوس زوروتوزا
ترجمہ: لطیف بلیدی

(نوٹ: وائس نیوز کی طرف سے کیا گیا یہ انٹرویو اور فری لانس صحافی کارلوس زوروتوزا کا بانک کریمہ بلوچ پر لکھا گیا یہ مضمون وائس نیوز کے ہسپانوی صفحے پر شائع ہونے کے ساتھ ساتھ ہسپانوی زبان کے ’باسک‘ میگزین ’گارا‘ کے صفحہ اول پر بھی چھپ چکی ہے)

ایک بلوچ خاتون جو کہ ایک ایسی طلباء تحریک کی قیادت کررہی ہیں جو خود کو ”سیکولر اور آزادی پسند“ کے طور پرپیش کرتا ہے۔ پاکستانی حکومت اسے ”دہشتگرد“ قرار دیتی ہے۔

کریمہ بلوچ کہتی ہیں کہ وہ 29 سال قبل دبئی میں پیدا ہوئیں، اور یہ کہ وہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ”ایک گہری سیاسی ایقان رکھنے والے خاندان میں“ پلی بڑھی ہیں۔ اگرچہ عوامی اجتماعات میں صرف ان کی سبز آنکھیں ہی نظر آتی ہیں، تاہم وائس نیوز کیساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے انہوں نے اپنا چہرہ ڈھکے بغیر بات کی۔

” کریمہ بلوچ میرا اصلی نام ہے لیکن مظاہروں اور دیگر عوامی اجتماعات میں مجھے اپنا چہرہ محض اپنے تحفظ کی خاطر ڈھکنا پڑتا ہے“، اس کارکن نے پاکستان کے جنوب مغربی خطے کے دارالحکومت کوئٹہ سے بات کرتے ہوئے وضاحت کی۔ کارکن نے مزید کہا کہ ”میں مسلسل اور شدید خطرے کے تحت زندگی گزار رہی ہوں لیکن اگر لوگ مجھے کسی گلی میں پہچان لیں تو میں ان کیلئے ایک آسان ہدف بن سکتی ہوں جو مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہوں۔“ انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں یاد نہیں کہ انہوں نے آخری بار کب پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کیا تھا۔بلوچ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ علم نفسیات میں ڈگری حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ لیکن اس وقت ان کی ترجیحات بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) آزاد، ایک گروہ جسے بلوچ باغی کمانڈر اللہ نذر بلوچ نے 2002 میں قائم کیا تھا جب وہ میڈیکل کے ایک طالب علم تھے، کے رہنما کے حیثیت سے اپنی سیاسی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

ایران، پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں سے منقسم بلوچ، فرانس جتنے ایک علاقے میں رہتے ہیں جہاں سونے، گیس اور یورینیم کی بہت بڑے ذخائر چھپے ہوئے ہیں۔ 1947ء میں اس خطے سے برطانوی انخلاء کے بعد بلوچ، جوکہ آج پاکستان کے کنٹرول میں ہیں، نے اپنی آزادی حاصل کی لیکن اسلام آباد نے مارچ 1948ء میں ان کے علاقے پر قبضہ کر لیا جس سے ایک شورش برپا ہوئی جوکہ وقفے وقفے سے آج تک جاری ہے۔

حکومت کی طرف سے بی ایس او آزاد کو ہمسایہ سندھ کے علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک آزادی پسند تنظیم جسمم (جئے سندھ متحدہ محاذ) کے ساتھ اپریل 2013ء میں غیر قانونی قرار دیدیا گیا۔ تاہم، نوجوان بلوچ کارکن کا اصرار ہے کہ وہ ایک ایسی تحریک کی قیادت کررہی ہیں جو کہ ”مکمل طور پر“ پرامن ذرائع سے جدوجہد کررہی ہے:

”بلوچ طالب علموں کے حقوق کا دفاع کرنے کے علاوہ، ہم مظاہرے اور پرامن مارچ بھی منظم کرتے ہیں؛ ہم ہڑتالوں اور شٹرڈاون کی کال دیتے ہیں اور ہم اپنے لوگوں کی حالات اجاگر کرنے کیلئے سیاسی شعور کی مہم چلاتے ہیں،“ کریمہ بلوچ نے خلاصہ کرتے ہوئے بتایا۔ بہرحال، یہ سرگرم کارکن نا انصافی کیخلاف کسی بھی طرح کی جدوجہد کو جائز قرار دیتی ہیں، ”خواہ وہ پرامن ہو یا کہ مسلح ۔“

لاپتہ افراد

ہیومن رائٹس واچ جیسی بین الاقوامی تنظیمیں پاکستانی حکومت پر اغواء اور جبری گمشدگیوں کی ایک مہم چلانے کا الزام عائد کرتی ہیں۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز 2000ء کے بعد سے لاپتہ ہونے والے بلوچوں کی تعداد 20000 کے قریب بتاتا ہے۔

کریمہ بلوچ کا دعویٰ ہے کہ متاثرین میں بی ایس او آزاد کے کئی ارکان بھی شامل ہیں کہ جیسا کہ رسول جان بلوچ، جنکی لاش مارچ 2014 میں اغواء ہونے کے بعد 13 اپریل کو ملی۔ مزید آگے بڑھے بغیر، کریمہ بلوچ بی ایس او آزاد کے سابق چیئرمین زاہد بلوچ کی مارچ 2014ء میں اغوا ہونے کے بعد سے طلباء تنظیم کی قیادت کررہی ہیں۔

”زاہد کے اغواء ہونے کے بعد ہم نے بڑے پیمانے پر عوام کو متحرک کرنے کی ایک مہم شروع کر دی اور ہر دروازے پر دستک دی لیکن ہمیں ابھی تک ان کے ٹھکانے کا کچھ بھی پتہ نہیں ہے ،“ کارکن نے افسردگی سے کہا۔ تنظیم کے ایک ساتھی کارکن لطیف جوہر اس سے بھی آگے بڑھے اور تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔

انسانی حقوق کے کارکن میر محمد علی ٹالپر ان لوگوں میں سے ایک تھے جنہوں نے 46 دنوں تک بھوکا رہنے کے بعد جوہر کو ان کی ہڑتال ختم کرنے پر قائل کیا۔ ٹالپر، جنہیں اس طرح کے مسائل کے بارے میں لکھنے پر بارہا چیلنج کیا گیا اور تواتر کیساتھ ان پر اعتراض کیا جاتا ہے، بھی حکومت کے ہاتھوں بلوچستان میں تعلیم کی ”منظم غفلت“ کے بارے میں بات کرتے ہیں:

کتابوں کی دکانوں کو سیل کر دیا گیا ہے اور ریاست کی معاونت سے کام کرنے والی مذہبی تنظیموں نے اسکولوں کو جلا دیا ہے، اساتذہ اور طلباء کو تعلیم کے حصول سے روکنے کیلئے دھمکیاں دی گئی ہیں،“ انسانی حقوق کے سرگرم آزمودہ کار کارکن نے زاہد آسکانی، جو ایک نجی اسکول کے ڈائریکٹر تھے جنہیں گزشتہ دسمبر میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا، کے بارے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات وائس نیوز کو بتائی۔

کریمہ بلوچ کا کہنا ہے کہ انہیں اس حملے کے ذمہ داروں کے حوالے سے کوئی شک و شبہ نہیں ہے :
”آسکانی کو پاکستان کے پروردہ مذہبی انتہا پسندوں کی طرف سے قتل کیا گیا جنکا اپنا ایک تعلیمی پروگرام ہے: اسلامی مدارس کا جال جو لوگوں کے ذہنوں کو آلودہ کرتے ہیں،“ نوجوان لیڈر نے زور دیکر کہا۔

خواتین بول پڑیں

بلوچستان میں خواتین کو پاکستان کے سب کم ترقی یافتہ صوبہ میں رہنے کے مسائل سے نمٹنا پڑتا ہے جہاں زچگی کے دوران اموات کی شرح ایشیا میں سب سے زیادہ ہے اور خواتین میں شرح خواندگی درجہ بندی کے لحاظ سے ملک میں سب سے کم ہے۔

کریمہ بلوچ بی ایس او کی صفوں میں 3000 ارکان کی اعداد و شمار فراہم کرتی ہیں جن میں سے بہت سی خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ کارکن موخر الذ کے حوالے سے ”بہت فخر“ محسوس کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں۔

”عوامی زندگی میں حصہ لینے کی قیمت قتل کیے جانے اور تیزاب حملوں سے شکل بگاڑے جانے تک ادا کرنی پڑسکتی ہیں۔ اگر بلوچ خواتین اس مسلسل خطرے کے خوف سے متحرک نہ ہوں تو آنیوالی پوری نسلوں کو غلامی میں رہنا پڑے گا،“ بلوچ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، اس سے پہلے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں بہتر طورپر پہچانے جانے والی خواتین کی معروف تحریک کی طرف اشارہ کرتیں:

”ہماری نظریں خبروں پر رہتی ہیں اور ہم اپنی کرد بہنوں کے دلدادہ ہیں (کردوں اور بلوچوں کا ماخذ مشترک ہے)۔ وہاں کی خواتین نے پوری دنیا کو دکھا دیا ہے کہ وہ بھی مردوں کے شانہ بشانہ اپنے حقوق کیلئے لڑ سکتی ہیں،“ کارکن نے زور دیتے ہوئے کہا۔

پاکستانی حکام نے بلوچستان کی صورتحال پر وائس نیوز کیساتھ بات کرنے سے انکار کر دیا۔

ملک سراج اکبر، ایک سیاسی تجزیہ نگار جوکہ ہارورڈ یونیورسٹی کے جان ایف کینیڈی اسکول آف گورنمنٹ میں ایڈورڈ میسن فیلو کے طور پر مقیم ہیں اور وائس نیوز کیساتھ بات کرتے ہوئے اس متنازع بلوچ طلباء تنظیم کے سیاسی اور سماجی کردار پرتبصرہ کیا۔ سراج اکبر اس تحریک کو ” ایک نہایت ہی منفرد تنظیم جسکا پاکستان میں کوئی بھی ہم پلہ نہیں ہے“ کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

”بی ایس او آزاد اصل بی ایس او (1967 میں قائم کی گئی) کی ایک شاخ تھی جوکہ بدلتے ہوئے سیاسی اور سیکورٹی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ابھری جب پاکستانی حکومت بلوچ عوام کیخلاف نئی جارحیت کی سازش کررہی تھی،“ سراج اکبر نے وضاحت کی۔ انہوں نے اس بات کی اہمیت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں دیگر پاکستانی سیاسی جماعتوں میں خواتین ونگ موجود ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی ”بی ایس او آزاد کی طرح کا پرخطر کام نہیں کرتیں۔“

سبین محمود دراصل آخری خاتون ہیں جنہیں بلوچ عوام کیلئے مہم چلانے کی پاداش میں قتل کیا گیا۔ 39 سالہ انسانی حقوق کی کارکن کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اپنے آرٹس سینٹر میں گزشتہ جمعہ کو بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایک کانفرنس کی میزبانی کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

”سبین بلوچ نہیں تھیں لیکن انہوں نے اسے ہمارے لوگوں کی صورتحال پر بات کر نے کے لئے مار ڈالا،“ کریمہ بلوچ نے کوئٹہ سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا۔ سرگرم کارکن نے نئے احتجاجی مظاہروں کا اعلان تو کیا لیکن ”واضح سیکورٹی وجوہات“ کی بناء پر یہ ظاہر نہیں کیا کہ اگلی بار وہ کب اور کہاں کسی عوامی اجتماع میں دکھائی دیں گی۔

بشکریہ: وائس نیوز ڈاٹ کام
تاریخ اشاعت : 27 اپریل 2015
کارلوس زوروتوزا ٹوئٹر پر: @karloszurutuza

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s