سیاسی بیداری


تحریر : میر محمد علی ٹالپر
ترجمہ: لطیف بلیدی

(نوٹ: یہ ان چار مضامین کی دوسری قسط ہے جو بیک وقت شائع ہوئی تھیں)


مورخہ 26 مارچ 1948 کو پاکستانی فوج کو بلوچ ساحلی علاقے پسنی، جیونی اور تربت جانے کا حکم دیا گیا۔ یہ پاکستانی فوج کے خصوصی مہمی دستے کی طرف سے یکم اپریل 1948 کو دارالحکومت کلات پر چڑھائی سے قبل جارحیت کا پہلا واقعہ تھا

Mir Muhammad Ali Talpur

برصغیر میں دیگر تمام جگہوں کی طرح بلوچستان میں بھی سیاسی بیداری بتدریج آئی تھی اور یہ پہلی جنگ عظیم کے بعد سوویت یونین اور اینٹی نوآبادیاتی تحریکوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے رفتار پکڑتی گئی۔ میر عبدالعزیز کرد نے 1920 میں ”ینگ بلوچ“ نامی ایک خفیہ سیاسی تحریک کا آغاز کیا اور 1929ء میں انہوں نے انجمن اتحاد بلوچستان میں شمولیت اختیار کی جو یوسف علی خان مگسی کے جیل جانے کے بعد قائم کی گئی تھی، انہیں اپنے مضمون ”فریاد بلوچستان“ میں کیے گئے آئینی اصلاحات کے مطالبے پرپابند سلاسل کیا گیا تھا جس میں انہوں نے برطانوی حکومت اور ریاست کلات کے وزیر اعظم سر شمس شاہ، جو کہ گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک پنجابی تھے، کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انجمن کا مقصد بلوچستان کی آزادی تھی اور اس نے آئینی اصلاحات کا مطالبہ کیا اور برطانوی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ وزیراعظم کی مخالفت کی جنہیں بالآخر انکی مخالفت کے سبب برخاست کردیا گیا۔

شہزادہ محمد اعظم جان کو دسمبر 1931 میں انجمن کی حمایت سے خان مقرر کیا گیا اور انہوں نے وزیراعظم کو برخاست کر دیا۔ حالانکہ انجمن نے خان کی مدد کی تھی لیکن وہ اس کے مقاصد کا حامی نہیں تھا۔ انجمن کی طرف سے بلوچستان کی آزادی کے مقصد کا واضح الفاظ میں اظہار جنرل سیکرٹری عزیز کرد کی طرف سے کیا گیا جنہیں ہندوستانی اخبارات میں بھارت کی مختلف جماعتوں کے رہنماوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔احمد یار خان، جو 1933 میں اعظم جان کی وفات کے بعد خان بنے، نے میر یوسف علی مگسی کو اپنے ذاتی نمائندے کے طور پر خانیت کی خودمختاری پر بات چیت کیلئے برطانیہ بھیجا لیکن ان کا جواب حوصلہ شکن تھا۔ 1935 میں کوئٹہ کے بڑے زلزلے میں یوسف علی مگسی وفات پاگئے اور اس سے ان کی انقلابی قیادت بے وقت اپنے اختتام کو پہنچی۔ فروری 1937 میں انجمن کا سبی میں اجلاس منعقد ہوا اور قلات نیشنل پارٹی باضابطہ طور پر قائم کی گئی اور اسے بلوچ معاشرے کے مختلف طبقوں میں کافی پذیرائی حاصل ہوئی۔ برطانوی حکومت کے ساتھ ساتھ سرداروں نے بعض وجوہات اور اپنے مفادات کیلئے مختلف توجیہات اور بنیادوں پر پارٹی کی مخالفت کی لیکن مشترکہ بنیاد انکی اپنی مراعات اور اختیارات تھے۔

مورخہ 6 جولائی 1939 کو منعقدہ پارٹی کے سالانہ اجلاس کو کچھ سرداروں کے پیروکاروں کی طرف سے تہ و بالا کیا گیا جنہوں نے خان سے مطالبہ کیا کہ پارٹی پر پابندی لگائی جائے۔ 20 جولائی کو کلات کے وزیر اعظم نے کلات نیشنل پارٹی کو کلات ریاست کی حدود کے اندر غیر قانونی قرار دے دیا۔ اس کے رہنماوں، ملک عبد الرحیم خواجہ خیل، میر غوث بخش بزنجو، عبدالکریم شورش، میر گل خان نصیر، اور دیگر سرگرم کارکنوں کو جلاوطن کردیا گیا۔ پارٹی نے اپنا ہیڈکوارٹر کوئٹہ میں قائم کیا لیکن دوسری جنگ عظیم کے باعث سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد تھی مگر پھر بھی پارٹی نے اپنی سرگرمیاں زیرزمین جاری رکھیں۔

نیشنل پارٹی انڈیا اسٹیٹس پیپلز کانگریس (کانگریس نواز) کیساتھ مل گئی اور محمد حسین عنقاء اور بزنجو جیسے رہنماوں نے کلات کا بھارت کیساتھ الحاق کی حمایت کی اور خان کے آزاد بلوچستان کے مطالبے کی مخالفت کی۔ اس تبدیلی نے پارٹی کو تقسیم کردیا جیسا کہ عزیز کرد اور دیگر نے اس نئی پالیسی کی مخالفت کی اور اس سے نفاق پیدا ہوا۔ تاہم 1947ء میں نیشنل پارٹی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اپنی اس پالیسی پر نظرثانی کی اور ایک بار پھر بلوچستان کی آزادی کا مطالبہ کیا۔

بلوچستان میں دیگر دو اہم جماعتیں کام کررہی تھیں؛ ایک انجمن وطن پارٹی تھی جسے عبدالصمد اچکزئی نےتشکیل دیا اور اسکی قیادت کر رہے تھے اور اس نے برطانوی افغانستان میں آئینی اصلاحات کی حمایت کی اور یہ انڈین کانگریس پارٹی سے وابستہ تھی۔ اس نے پشتونوں کی نمائندگی کی اور ان کیلئے حقوق کا مطالبہ کیا۔ دوسری مسلم لیگ تھی جسے قاضی ایم عیسی نے 1938 میں قائم کیا اور اسکی قیادت کی۔ اس پر بھی پشتونوں کا غلبہ تھا اور ان کے حقوق کا مطالبہ کرتی تھی۔

جون 1947ء میں برطانوی حکومت نے بھارت کی تقسیم کیلئے منصوبوں کا اعلان کیا۔ برطانوی افغانستان اور بلوچ قبائلی علاقوں، جن میں مری بگٹی، کھیتران اور ڈیرہ غازی خان کے بلوچ قبائلی علاقے شامل تھے، کے مقدر کا فیصلہ ایک ریفرنڈم کے ذریعے کیا جانا تھا۔ ریفرنڈم میں ووٹ دینے کے معاملے پر وہاں اختلاف رائے موجود تھا چونکہ برطانوی حکومت نے حق رائے دہی کو موروثی شاہی جرگہ تک محدود کر رکھا تھا، جناح نے ووٹنگ کے حقوق میں توسیع کی تجویز دی، نہرو نے شاہی جرگہ کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ہر ممکن بڑی سے بڑی تعداد کیساتھ مشاورت کی تجویز پیش کی۔

برطانوی حکومت نے دونوں کے ساتھ اتفاق نہیں کیا۔ اگرچہ ماﺅنٹ بیٹن نے منتخب جرگہ کے ذریعے ریفرنڈم کی حمایت کی مگر اس کیلئے وقت نہیں تھا۔ 29 جون کو پشتون جرگہ نے برطانوی افغانستان کا پاکستان کیساتھ الحاق کرنے کی حمایت کی۔ بلوچ اس ریفرنڈم کو جعلی قرار دیتے ہیں کیونکہ جرگے کیلئے ابتدائی اجلاس 21 جولائی 1947 کو منعقد ہوا اور اس سے شور شرابہ تھم گیا اور 30 جون کو جرگہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن پھر پرفریب انداز میں تمام اراکین کو بتائے بغیر 29 جون کو اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس ریفرنڈم کیساتھ اور اسی کی بنیاد پر برٹش بلوچستان بشمول لیز پر دیے گئے اور قبائلی علاقوں سمیت، جوکہ آئینی طور پر خانیت کا حصہ تھے، 15 اگست 1947 کو غیر قانونی طور پر پاکستان میں شامل کردیے گئے۔

مری بگٹی علاقوں کے بلوچ سرداروں، سردار دودا خان مری، جوکہ سردار خیر بخش مری اور سردار محمد اکبر خان کے بااختیار نائب تھے، نے برطانوی حکومت سے خانیت میں شامل ہونے کیلئے اپنے فیصلے کا تحریری طور پر اظہار کیا باوجود اسکے کہ وہ ابھی تک خانیت کے وفاق میں شامل نہیں تھے۔ اسی عمل کیلئے ڈیرہ جات کے کئی بلوچ سرداروں کی درخواستوں کو بھی برطانیہ کی طرف سے نظر انداز کردیا گیا۔

یہ امر دلچسپی کی حامل ہے کہ تقسیم کے بعد ڈیرہ جات کے سرداروں کو یہ انتخاب کرنے کا استحقاق دیا گیا تھا کہ یا تو وہ اپنے مراعات سے دستبردار ہوکر بلوچستان میں شامل ہو جائیں یا پنجاب میں شامل ہوکر انہیں برقرار رکھیں۔ اس برطانوی زیرانتظام بلوچستان کے علاقے ڈیرہ غازی خان کو 1950 میں پنجاب نے خیانت کرتے ہوئے ہڑپ لیا۔ تمنداروں نے اس تخویف کے تحت معاہدے پر دستخط کئے کہ اگر وہ پنجاب میں شامل نہیں ہوئے تو انہیں اپنی بڑی زمینیں اور جائیدادیں ترک کرنی پڑیں گی۔ اس ناانصافی کی ایک یادگار سطح سمندر سے 6470 فٹ کی بلندی پر فورٹ منرو پر کھڑی ہے۔ برطانوی حکومت نے برطانوی زیر انتظام بلوچستان کے لوگوں کو وہ حقوق نہیں دیے جو انہوں نے برطانوی زیر انتظام افغانستان کو دیے تھے۔

بھارت میں برطانوی حکام نے بلوچستان کو ہمیشہ بطور ایک آزاد اور خود مختار ہستی سمجھا اور اسے کبھی ہندوستانی برصغیر کا حصہ نہیں سمجھا۔ برطانوی حکومت اور خان کلات کے درمیان 1854 اور 1876 میں کیے گئے معاہدوں میں بلوچستان کو بھارت کے باہر ایک خود مختار ملک کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔ 3 جون 1947 کے تقسیم کے منصوبے میں پاکستان اور برطانیہ دونوں نے ریاست کلات کے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کیا تھا۔

مورخہ 4 اگست 1947 کو پاکستان، برطانوی حکومت اور بلوچستان کے درمیان ایک سہ فریقی معاہدے پر دستخط کیے گئے، جو اسٹینڈ اسٹل ایگریمنٹ کہلاتا ہے، جس میں بلوچستان کی خود مختار حیثیت کو تسلیم کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کی پہلی شق میں کہا گیا ہے کہ: پاکستان کی حکومت کلات کی بطور ایک آزاد اور خود مختار ریاست کی حیثیت کو تسلیم کرتا ہے جسکے برطانوی حکومت کیساتھ دوطرفہ تعلقات ہیں اور جسکا درجہ اور مقام دیگر بھارتی ریاستوں سے مختلف ہے۔ مئی 1946 میں کابینہ مشن میں کلات کی یادداشت (کلات میمورنڈم)، جسے جناح نے پیش کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ کلات ایک غیر ہندوستانی ریاست ہے اور اس کی آزادی کی حمایت کی گئی تھی۔ جناح جون 1947 تک اسی بات پر قائم رہے۔ برطانوی نوآبادیاتی حکومت کے دوران صرف بھارت، نیپال اور کلات وہ ریاستیں تھیں جنہیں سفیر کی تقرری کا اختیار حاصل تھا۔

خان نے پاکستان کی آزادی سے دو روز قبل 12 اگست 1947 کو بلوچستان کی آزادی کا اعلان کردیا۔ خان نے بلوچستان کی ایک خوشحال خود مختار ملک کے طور پر تعمیر کرنے، جہاں بلوچ اپنی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اور اپنی روایات کے مطابق رہتے ہوئے، اپنے پڑوسی ممالک پاکستان، ایران اور افغانستان کے ساتھ ساتھ بھارت اور بیرونی دنیا کیساتھ دوستی کے معاہدوں کے ذریعے تعلقات قائم کر نے کے اپنے ارادے کا اعادہ کیا۔

آزادی کے فوراً بعد دیوان کے انتخابات منعقد کیے گئے، اس میں بلوچستان کے دو حصوں پر مبنی مقننہ اور ملک میں امن و آشتی کے دور کو یقینی بنایا گیا تھا۔ دیوان دارلامراء، قبائلی سرداروں کا ایوان یا ایوان بالا اور دارالعوام (یا ایوان زیریں) پر مشتمل تھا۔ دارالامراء جھالاوان اور سراوان صوبوں کے موروثی قبائلی سرداروں پر مشتمل تھا، جنکی تعداد 35 تھی۔ دارالعوام کے 52 ارکان تھے، 47 منتخب ہوتے اور 5 خان کی طرف سے نامزد کیے جاتے تھے۔

اسمبلی نے ستمبر اور دسمبر 1947 میں اجلاس منعقد کیے اور اکثریت نے اتحاد کی حمایت کی اور پاکستان کیساتھ الحاق کی مخالفت۔ 14 دسمبر 1947 کو غوث بخش بزنجو نے ایک تاریخی تقریر کی اور اسے آزادی کیلئے ایک درست دلیل تصور کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ”ہم ایران اور افغانستان کی طرح ایک الگ تہذیب اور ایک الگ ثقافت رکھتے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ مسلمان کے ہونے کے باعث ہمیں اپنی آزادی گنوادینی چاہئے اور دوسروں کے ساتھ ضم ہوجانا چاہیے۔ اگر محض یہی بات، کہ ہم مسلمان ہیں، ہم سے پاکستان کیساتھ شامل ہونے کا تقاضا کرے تو پھر افغانستان اور ایران، دونوں مسلم ممالک، کو بھی پاکستان میں شامل ہوجانا چاہئے۔

ہم برطانوی حکومت سے پہلے کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہے۔ پاکستان کی مکروہ اور گھناونی خواہش، کہ ہمارے قومی وطن بلوچستان کو اس کیساتھ ضم ہوجانا چاہئے، پر غور کرنا ناممکن ہے۔ ہم خودمختاری اور برابری کی بنیاد پر اس ملک سے دوستی کرنے کو تیار ہیں لیکن کسی طرح سے بھی پاکستان کیساتھ ضم ہونے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ہم پاکستان کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے بغیر پاکستان کا کیا ہوگا؟

میں دفاع اور بیرونی مواصلات کے معاملات میں نو تخلیق شدہ پاکستان کیلئے رکاوٹیں پیدا کرنے کی تجویز نہیں دے رہا ہوں۔ لیکن ہم عزت مندانہ تعلقات چاہتے ہیں نہ کہ ذلت آمیز۔ اگر پاکستان ہم سے ایک خود مختار قوم کے طور پر برتاو برتنا چاہتا ہے تو ہم دوستی اور تعاون کا ہاتھ بڑھانے کیلئے تیار ہیں۔ اگر پاکستان ایسا کرنے پر اتفاق نہیں کرتا اور جمہوری اصولوں کو روندتا ہے تو اس طرح کا رویہ ہمارے لئے مکمل طور پر ناقابل قبول ہوگا، اور اگر ہمیں یہ مقدر قبول کرنے پر مجبور کیا گیا تو پھر ہر بلوچ فرزند اپنی قومی آزادی کے دفاع میں اپنی زندگی کی قربانی کر دے گا۔“

اسی اثناء میں پاکستان نے نوآزاد ریاست کلات پر پاکستان میں شامل ہونے کا دباو ڈالنا شروع کر دیا اور کلات اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں ایک مضطرب خاموشی چھاگئی۔ پاکستان اور کلات کے درمیان مذاکرات کھنچتی چلی گئیں۔ پاکستان نے خان اور بلوچ ریاستی مشینری کو مختلف حیلوں سے ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور خان کو پاکستان میں شامل ہونے پرمجبور کرنے کیلئے سازشوں اور مکارانہ ہتھکنڈوں میں مصروف تھا۔

جب پاکستان کو یہ یقین ہوگیا تھا کہ خان الحاق قبول نہیں کریں گے تو اس نے لسبیلہ اور خاران، جوکہ کلات سے وفاداری کی پابند ریاستیں تھیں، اور مکران جوکہ ریاست کلات کے ایک ضلع سے زیادہ کچھ بھی نہیں تھا، کیساتھ الحاق کے علیحدہ دستاویز کے ذریعے 18 مارچ کو شامل ہونے کا اعلان کیا گیا۔ مکران، خاران اور لسبیلہ کے الحاق کیساتھ کلات اپنے آدھے سے زیادہ علاقے اور سمندر تک اپنی رسائی سے محروم ہوگیا۔

اگلے روز خان کلات نے ایک بیان جاری کیا اور اس بات پر یقین کرنے سے انکار کردیا کہ پاکستان دنیا میں مسلم حقوق کے چیمپئن کے طور پر اپنے چھوٹے مسلمان ہمسایوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرسکتا ہے اور نشاندہی کی کہ مکران کی، بطور قلات کے ایک ضلع کے، کوئی جداگانہ حیثیت نہیں ہے اور یہ کہ لسبیلہ اور خاران کی خارجہ پالیسی اسٹینڈ اسٹل ایگریمنٹ (امتناعی معاہدے) کیمطابق کلات کے ما تحت رکھی گئی تھیں۔

مورخہ 26 مارچ 1948 کو پاکستانی فوج کو بلوچ ساحلی علاقے پسنی، جیونی اور تربت جانے کا حکم دیا گیا۔ یہ پاکستانی فوج کے خصوصی مہمی دستے کی طرف سے یکم اپریل 1948 کو دارالحکومت کلات پر چڑھائی سے قبل جارحیت کا پہلا واقعہ تھا۔ فوج کے ساحلی علاقے میں منتقلی کے بعد 27 مارچ 1948 کو خان ان کے آگے جھک گئے اور کراچی میں اس کا اعلان کیا گیا کہ خان کلات نے اپنی ریاست کو پاکستان کیساتھ الحاق کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ کلات کے آئین کے تحت خان کے پاس ایسا بنیادی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ بلوچستان اسمبلی نے پہلے ہی سے کسی بھی بہانے بلوچستان کی آزادی کو خیرباد کہنے کی کسی بھی تجویز کو ٹھکرا دیا تھا۔ بھارت سے برطانوی انخلاء کے بعد خود مختار بلوچ ریاست صرف 227 دن قائم رہی۔

سن 1948ء میں خانیت کا پاکستان میں ضم ہونے کا نتیجہ بلوچستان بھر میں بدامنی اور پاکستان مخالف ریلیوں کی صورت میں نکلا۔ نیشنل پارٹی، جوکہ ایک ”گریٹر بلوچستان“ کے نصب العین کی وکالت کرتی تھی، نے الحاق کو مسترد کر دیا اور بیشتر شورشی مظاہروں کے پیچھے اسی کا ہاتھ تھا۔ اس کے قائدین، میر غوث بخش بزنجو، میر عبدالعزیز کرد اور دیگر کو گرفتار کر لیا گیا۔ خان کے چھوٹے بھائی کی طرف سے ایک مختصر دورانیے کی بغاوت کو پاکستان فوج نے بے رحمی سے کچل دیا اور بغاوت کے رہنما شہزادہ عبدالکریم کو قید کردیا۔ بلوچ اور ریاست پاکستان کی افواج کے درمیان یہ پہلی مڈبھیڑ ایک نئے نوآبادیاتی طاقت کے ہاتھوں قوم پرستانہ عدم تحفظ اور جبر کے خوف کی تشکیل میں ایک اہم عنصر تھی۔

ریاست کلات کا پاکستان کیساتھ جبری الحاق، جس سے خود مختار اور نیم خود مختار بلوچ ریاست کے تین سو سالہ دور کا خاتمہ ہوا، بلوچوں کی تاریخ کے عہد ساز واقعات میں سے ایک تھا۔ نوآبادیاتی نظام، خواہ وہ ایران کی ہو، افغانستان، برطانیہ یا پاکستان کی، نے قوم پرستی کے شعور کی سانچہ سازی میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے جو کہ اپنی ابتدائی شکل ان کی پوری تاریخ میں موجود رہی ہے لیکن خوابیدہ رہی ہے، اسی لئے وہ اپنی جدوجہد کو اس انداز میں آگے بڑھانے کے قابل نہیں رہے تھے جیسا کہ وہ اسوقت کررہے ہیں۔ یہ شعور جو انہوں نے ایک انتہائی تلخ قیمت پر حاصل کی ہے اب اپنی تقدیر کا مالک خود بننے کیلئے انکی جدوجہد میں ایک فیصلہ کن عنصر بنتی جا رہی ہے۔

مضامین کی پہلی قسط

میر محمد علی ٹالپر کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کی دہائی کے ابتداء سے ایک تعلق ہے

وہ @mmatalpur پر ٹویٹس کرتے ہیں
اور mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے

بشکریہ : ویو پوائنٹ آن لائن، جمعرات، 10 اکتوبر2013

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s