ہیرالڈ خصوصی: ماما قدیر – لاپتہ افراد کی آواز


Mama Qadeer

تحریر : بشارت پیر
ماما قدیر – خاکہ : ثناءناصر
ترجمہ : لطیف بلیدی

یہ تصویر کبھی بھی خالص نہیں رہی مگر یہ تصویر مختلف خصوصیات کی حامل ہے۔ یہ اکثر کسی فٹ پاتھ پر، کسی دروازے کے باہر، کسی سڑک پر کسی مرد یا عورت کی اخباری تصویر ہے۔ اس تصویر میں مرد یا عورت کا چہرہ اکثر مسرت و غم سے بے نیاز مگر دکھی ہے۔ یہ ایک اکتایا ہوا چہرہ ہے، ایک ایسا چہرہ جو امید کا دامن تھامے ہوئے ہے، ایک ایسا چہرہ جسکی پلکیں تناو بھری ہیں، جو بے ضبط آنسووں کو پیچھے دھکیلنے کی جدوجہد میں لگی ہوئی ہیں۔

اور اس تصویر میں جو چیز سب سے نمایاں خصوصیت کی حامل ہیں وہ ہمیشہ اس مرد یا عورت کے ہاتھ ہے۔ ہونٹوں کی نسبت اکثر ہاتھ ہمیں کچھ زیادہ بتاتے ہیں۔ تصویر میں موجود ہاتھ جو میرے ذہن پر آسیب کی طرح سوار رہتے ہیں کسی امیر اور طاقتور کے نرم، گداز یا صاف ستھرے ہاتھ کبھی نہیں ہوتے۔ اس تصویر میں ہاتھ اکثر کسی کسان یا لوہار کے ہاتھوں کی طرح سخت اور کھردرے ہوتے ہیں؛ وہ ہاتھ جن پر سالوں تک ان دروازوں پر دیے گئے دستکوں کے نشانات ثبت ہیں جو کبھی نہیں کھلے۔

اس تصویر میں جو چیز میرے ذہن پر سوار ہے، وہ ہاتھ ہیں کہ جو مضبوطی مگر احتیاط سے ایک دوسری تصویر تھامے ہوئے ہیں؛ کسی بیٹے، شوہر یا والد کی فریم کی ہوئی تصویر۔ یہ اس تصویر کے اندر فریم میں لگی چھوٹی سی تصویر ہے جوکہ اس شخص کو کسی سڑک پر، کسی دروازے کے باہر یا کسی فٹ پاتھ پر لائی ہے۔ جس لمحے اخباری فوٹوگرافر اپنے کیمروں کو تصویر کھینچنے کیلئے اٹھاتے ہیں تو وہ آدمی یا عورت اپنے بیٹے، شوہر یا والد کی فریم شدہ تصویر کو یہ امید لیے ایک مخصوص ترچھے زاویے کیساتھ تھامتے ہیں تاکہ اخبار میں انہیں زیادہ سے زیادہ تشہیر مل سکے؛ گویا وہ یہ کہہ رہے ہوں کہ انہیں مجھے نہیں بلکہ اس فریم میں لگی تصویر کو زیادہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اس فریم میں لگی ہوئی تصویر جو میں نے تھامی ہوئی ہے اس شخص کی ہے جو میرا بیٹا، میرا والد، میرا شوہر ہے جسے آپ کی سیکورٹی فورسز اٹھاکر لے گئے ہیں۔ انہی کیلئے میں ہر طلوع صبح، ہر غروب آفتاب انتظار کر رہا ہوں۔ یہ فریم والی تصویر جو میں نے تھامی ہوئی ہے اسکی جگہ میرے ہاتھوں میں کسی سڑک پر، کسی دروازے کے باہر، کسی فٹ پاتھ پر نہیں ہے۔ اسے عموماً ہمارے گھر میں کسی کھڑکی کے طاق پر، کسی میز پر، کتابوں کی الماری پر رکھا جانا چاہیے تھا۔ اور اس تصویر میں موجود شخص کو آپ کی طرح گھر کے اندر اور باہر آنا جانا چاہیے تھا، اپنے کالج جانا چاہیے تھا، اپنے کسی بورنگ، دلچسپ، منافع بخش یا بری تنخواہ والی ملازمت پر جانا چاہیے تھا۔ فریم میں لگی تصویر والے شخص کو اپنے گھر میں ہونا چاہیے تھا، نہ کہ کسی نامعلوم دنیا میں، نہ کہ زندہ اور مردہ لوگوں کے درمیان عالم برزخ میں جہاں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں اٹھائے گئے لوگ رہتے ہیں۔

میں نے یہ تصویر سب سے پہلے ارجنٹائن میں گمشدگیوں کے بارے میں لکھے گئے ایک مضمون میں دیکھی تھی۔ سر پہ سکارف پہنے جھریوں بھرے چہرے والی ایک بوڑھی عورت جسکے بالوں کے چند گچھوں کو ہوا نے درہم برہم کر رکھا تھا، تصویر کے اندر دوسری فریم شدہ تصویر تھامے ہوئے تھی۔ اور وہاں وہ الفاظ تھے جن کے بوجھ کو ان کا ملک برداشت نہیں کر سکتا تھا: وہ بچہ جو گمشدہ ہے۔ میں نے یہ تصویر 1990 کی دہائی کے وسط میں اپنے گھر کشمیر میں ظاہر ہوتے ہوئے دیکھی، جب بھارتی فوجی تشدد زدہ تاریک راتوں میں کشمیری لڑکوں کو اٹھا کر لے جاتے جو کہ پھر کبھی نہ لوٹتے۔ میں نے وہ تصویر ہو بہو ایک ماں کے ہاتھوں میں دیکھی۔ پروینہ آہنگر کے ہاتھوں میں جن کے 17 سالہ بیٹے جاوید آہنگر کو، جو گویائی سے معذور تھا، جنوری 1990 کی ایک سرد رات کو بھارتی فوجی اٹھا کر لے گئے۔ آنے والے سالوں میں 8000 لڑکے اور مرد غائب ہوئے۔ پروینہ آہنگر یکے بعد دیگرے تصویروں میں دکھائی دینے لگی، ہمیشہ اپنے لاپتہ بیٹے کی فریم والی تصویر کیساتھ، ہمیشہ ایک جواب کی تلاش میں۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جسے بھارت اپنی بڑی فوج، بڑی معیشت اور سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے باوجود برداشت نہیں کر سکتا۔ اس دوسری تصویر کا اخلاقی بوجھ کسی بھی قوم پرستی، اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کے بارے میں اپنے آپ کو سنائی گئی کسی بھی داستان سے زیادہ بھاری ہے۔

کوئی معاشرہ پر امن نہیں رہ سکتا، اپنے آپ کیساتھ نہیں رہ سکتا، جو اپنے ماما قدیروں سے منہ پھیرلے جنہوں نے ابھی تک وہ تصاویر تھامی ہوئی ہیں۔

میں نے وہ دوسری فریم والی تصویر سال کے اوائل میں دوبارہ پاکستان کے اخبارات میں دیکھی۔ یہ ماما قدیر کی تصویر تھی جو اپنے لاپتہ بیٹے کی فریم والی تصویر تھامے ہوئے تھا۔ قدیر، ایک چھوٹا سا آدمی، موسم کے مارے چہرے کیساتھ، اپنے سخت کھردرے ہاتھوں میں بڑی بردباری سے اپنے لاپتہ بیٹے کی فریم میں لگی تصویر تھامے ہوئے تھا۔ میں ان کے بیٹے کی فریم میں لگی تصویر کو بہت دیر تکتا رہا۔ لاپتہ افراد کی تصاویر ہمیشہ ایک چھوٹے سے شہر کے مقامی فوٹو گرافر کے اسٹوڈیو میں کھینچی گئی عجیب سی رسمی تصویریں لگتی ہیں۔ قدیر کے بیٹے کا چہرہ گورا، تنومند مونچھیں اور گھنی پلکیں ہیں۔ اس نے ایک سیاہ سوٹ، قمیض اور گلے میں ٹائی پہنی ہوئی ہے۔ اس کا مطمئن، سانولا چہرہ کسی پاسپورٹ کی تصویر کے اظہار میں مستعد ہے۔

قدیر کے بیٹے جلیل ریکی کی مسخ شدہ لاش 2011 میں بلوچستان میں ملی تھی۔ قدیر کی جدوجہد اور اصرار کو ایک عظیم تر اخلاقی قوت مل گئی جیساکہ اب وہ اپنے خاندان کے علاوہ لاپتہ بلوچ نوجوانوں اور مردوں کا اتا پتہ ڈھونڈنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ فریم کی تصویروں میں رہنے والے لاپتہ بلوچوں کو گھر واپس لوٹنا چاہیے۔ کوئی معاشرہ پر امن نہیں رہ سکتا، اپنے آپ کیساتھ نہیں رہ سکتا، جو اپنے ماما قدیروں سے منہ پھیرلے جنہوں نے ابھی تک وہ تصاویر تھام رکھی ہیں۔

نو سال قبل نئی دہلی میں کسی سماجی سائنس کے ایک ادارے کے باہر کشمیر میں گمشدگیوں پر ایک سیمینار کا اہتمام کیا جا رہا تھا جہاں کپواڑہ کے ایک گاوں سے آئی ہوئی ایک ماں نے مجھے بتایا کہ ”حتیٰ کہ چاند بھی میرا چہرہ نہ دیکھ پاتا لیکن اپنے لاپتہ بیٹے کی تلاش مجھے اس شہر کے دروازے اور سڑکوں پر لے آئی ہے۔“ انہوں نے بھی فریم میں لگی تصویر تھامی ہوئی تھی۔ اور یہی وجہ ہے کہ 72 سالہ قدیر بلوچستان کے لاپتہ افراد کے خاندان والوں کیساتھ اپنے گھروں سے سینکڑوں میل چل کر اسلام آباد آئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے خاندان کے گمشدہ اراکین کی فریم میں لگی تصویریں کراچی پریس کلب میں، اسلام آباد میں سڑک پر اپنے ہاتھوں میں تھامی ہوئی ہیں۔ صرف کوئی والدین، کوئی بچہ، کوئی شریک حیات ہی یہ تصویر اٹھا سکتے ہیں۔ نہ آپ، نہ آپکی فوج، نہ سیاستدان، نہ ہی آپکے جج فریم میں لگے اس دوسری تصویر کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔ اور اسکا بوجھ آپ کے ضمیر پر لدا ہوا ہے، پشاور کے قتل عام میں مارے گئے پیارے بچوں کے چھوٹے تابوتوں کی طرح۔

یہ کہانی اصل میں ہیرالڈ میگزین کی 2015 کے سالانہ شمارے میں شائع کی گئی تھی
بشکریہ : روزنامہ ڈان ، 16 اپریل 2015

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s