زبان کیخلاف جنگ


تحریر : نزیحہ سید علی
ترجمہ لطیف بلیدی
Naziha Syed Ali
بلوچستان کا دورہ کرتے وقت کوئی بہ آسانی دیکھ سکتا ہے کہ یہ صوبہ پاکستان کے مرکزی دھارے سے کتنا الگ تھلگ ہے۔
اور یہ محض ظاہری چیزیں نہیں ہے، جیساکہ ترقی کی کمی، جبر کا فضاء یا جبری گمشدگیوں کی کہانیاں اور لاشوں کا پھینکا جانا۔ وہاں زبان کا ایک نازک مسئلہ بھی موجود ہے۔

بنیادی حقوق کے باب میں آرٹیکل 28 کے مطابق آئین کہتا ہے کہ: ” شہریوں کے کسی بھی حصے کو جو ایک الگ زبان، رسم الخط یا ثقافت رکھتے ہوں، انہیں اسے محفوظ کرنے، فروغ دینے اور قانون کے تابع رہتے ہوئے اس مقصد کیلئے ادارے قائم کرنے کا حق حاصل رہے گا۔“ اس معاملے پر قومی گفتگو اس امر پر مرکوز ہے کہ زیادہ تر نجی اسکول، کم از کم شہری علاقوں میں، لاگو شدہ صوبائی قوانین کے برخلاف متعلقہ صوبائی زبانوں میں تعلیم نہیں دیتے۔کچھ ہفتے قبل تربت میں، میں نے دیکھا کہ بلوچستان میں صورتحال اسکے بالکل برعکس ہے۔ یہ واحد صوبہ ہے جہاں سرکاری اسکولوں میں نہ بلوچی پڑھائی جاتی ہے او نہ ہی براہوی جوکہ صوبے کے شمال میں واقع پختون اکثریتی علاقوں کے باہر سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر بولی جانیوالی دو مقامی زبانیں ہیں۔ بلوچی یہاں صرف چند نجی اسکولوں میں پڑھائی جاتی ہے۔کسی ریاست کی جانب سے جبر کے طور پر استعمال کیا جانیوالا سب سے زیادہ تباہ کن ہتھیاروں میں سے ایک مقامی زبان کو دبانا ہے۔تاریخ اس انداز میں کسی قوم کی بالجبر انجذاب کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ کسی مقامی زبان کی تعلیم کو خارج کرکے اس کے بولنے والوں پر غالب نظامِ سیاست کی زبان کو نافذ کرنا خالصتاً ایک ثقافتی جنگی عمل ہے۔ زبان کسی قوم کی شناخت کا ایک فطری حصہ ہے؛ اس کی تاریخ اور ثقافت کا مخزن؛ رزمیہ جنگوں اور بہادرانہ کارناموں کا ایک ریکارڈ ہے تاکہ آنیوالی نسلیں اسکی تقلید کریں۔

یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ تعلیم ایک صوبائی معاملہ ہے، اگر وہ ایسا کرنا چاہیں تو، نیشنل پارٹی کی قیادت والی حکومت اس مسئلے کے حل کیلئے اقدامات اٹھا سکتی ہے، لیکن بلوچستان کی صورت میں یہ اسٹابلشمنٹ ہی ہے جسکی بات وہاں پر حتمی ہوتی ہے جوکہ ہر کام اپنی ’سیکورٹی ضروریات‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتی ہے۔

تو پھر کیا یہ کوئی حیرت کی بات ہے کہ تربت یونیورسٹی میں سب سے زیادہ مقبول شعبہ بلوچی جوکہ اس مرحلے تک، اس دور میں بھی ایک اختیاری مضمون ہے؟ گو کہ اساتذہ اور طلباء کہتے ہیں کہ کلاس روم میں سیاسی گفتگو ہوتی رہتی ہے، گوکہ اس سے بڑھ کر اور کوئی بڑا سیاسی بیانیہ نہیں ہو سکتا۔ اکثر بلوچ نوجوان جب کالج جانے کی عمر تک پہنچتے ہیں تو وہ اسٹابلشمنٹ کی طرف سے اپنے صوبے کے جانب ’خصوصی‘ رویے سے اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ بلوچی بذات خود غیرمعمولی طور پر متموّل اور زرخیز ہے، خاص طور پر اپنی شاعرانہ روایت میں۔ یونیورسٹی کے ایک سینئر فیکلٹی ممبر نے مجھے بتایا کہ اکیلے انہوں نے صوبے کے مغربی حصے (لہجے) سے ماخوذ 1000 بلوچی ضرب الامثال پر مشتمل ایک کتاب مرتب کی ہے۔

بلوچستان اکیڈمی، یہ بھی تربت میں واقع ہے، میں مجھے اس کمرے پر ایک نظر دوڑانے کیلئے مدعو کیا گیا بے ہنگم طور سے ذخیرہ کی گئی کتابوں کی لڑکھڑاتی ہوئی الماری کیساتھ دھول سے اٹے ہوئے کارٹن بھی پڑے تھے جوکہ بلوچی شاعری اور نثر کی کتابوں سے بھری ہوئی تھیں۔ یہ کتابیں گزشتہ سال کے دوران ’تخریب کارانہ‘ اور ’انتہا پسندانہ مواد‘ کو ضبط کرنے کیلئے فرنٹیئر کور کی جانب سے مارے گئے چھاپوں کے بعد خوف کے مارے شہر کی آٹھ کتابوں کی دکانوں سے واپس لوٹائی گئی تھیں۔ (اس طرح کے چھاپے گوادر شہر میں بھی کتابوں کی دکانوں پر مارے گئے تھے۔) تاہم ’قابل اعتراض‘ مواد میں سے بیشترمقامی زبان میں لکھا گیا افسانوی ادب تھا۔

صوبے کے مکران بیلٹ میں، جہاں گوادر اور تربت واقع ہیں، کتابوں کی دکانیں 2014ء کے وسط سے بلوچی کتابیں نہیں رکھ رہے ہیں۔ گاندھی کی نگارشات بھی یہاں نہیں ملتیں۔ گاندھی پاکستان کے دیگر شہروں میں تو ظاہراً جائز ہے۔ اور اسی طرح بظاہر بلوچی کتابوں کی چھپائی بھی؛ کراچی میں پبلشرز کو نہ ہراساں کیا گیا ہے اور نہ ہی انہیں اٹھایا یا مارا پیٹا گیا ہے۔

اکیڈمی کیلئے، جوکہ بلوچی کتابوں کی چھپائی کراچی میں قائم پبلشرز سے کرواتی ہے، ان کتابوں کی دکانوں میں فروخت پر پابندی کا مطلب اس کی آمدنی کے ایک اہم ذریعے کی معطلی ہے۔ اس ادارے کو صوبائی حکومت کی طرف سے محض 500000 روپے سالانہ گرانٹ ملتی ہے جو کہ بنیادی ضروریات کیلئے بھی بہت کم ہے۔

بلوچستان میں نجی اسکولوں اور زبان سکھانے کے مراکز میں بلوچی کی نصابی کتب زیادہ تر کراچی شہر میں واقع سید ہاشمی ریفرنس لائبریری کے زیراہتمام طباعت ہوکر آتی ہیں۔ تاہم، زبان سکھانے کے کئی مراکز بند کردیے گئے ہیں خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں فوج کی موجودگی زیادہ ہے، جیسا کہ مشکے، اور اسکے باعث انکی مانگ بھی مسلسل رو بہ زوال ہے۔ گزشتہ دو سال سے نئی کتب کیلئے کوئی آرڈر نہیں دیا گیا۔

لائبریری کے انتظامی عملے میں سے ایک کے الفاظ اسکی وضاحت بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔ بلوچستان میں بلوچی کی تعلیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ: ”ہمارے پاس فنڈز نہیں ہیں کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہم کلاسوں کو ہمیشہ ایک باقاعدہ جگہ پر منعقد کرسکیں۔ کبھی کبھار کوئی اپنا گھر رضاکارانہ طور پر دے دیتا ہے یا ہم کسی درخت کے نیچے بھی بیٹھ جاتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کو نامزد کرتے ہیں جو ذمہ دار ہوں اور جن پر ہم اس طرح کی کلاسیں منعقد کرنے کیلئے اعتماد کرسکیں، توہم انہیں کتابیں بھیجتے ہیں۔“

جب ان کی مادری زبان میں تعلیم کو ایک تخریبی عمل تصور کیا جائے تو ہم ایک عام بلوچ سے کس طرح یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ ریاست کے ہاتھوں دیے گئے احساس بیگانگی کے علاوہ کچھ اور محسوس کرے گا؟

مصنف روزنامہ ڈان کے عملے کی ایک رکن ہیں

naziha.ali@dawn.com
بشکریہ : روزنامہ ڈان ، 8 اپریل 2015
War on language

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s