جب جرائم غیرمرئی بن جائیں: خضدار، بلوچستان کے اجتماعی قبروں پر


تحریر : میر محمد علی ٹالپر
ترجمہ : لطیف بلیدی

Mir Mohammad Ali Talpurخضدار میں توتک کے مقام پر 25 جنوری کو ایک چرواہے نے ایک اجتماعی قبر دیکھی جسکے بعد مقامی لوگ لاشیں نکالنے کیلئے وہاں جمع ہوئے۔ مڈل کلاس حکومت کے نمائندے لاشوں کی تعداد کو 13 تک محدود رکھنے کیلئے درد زِہ میں مبتلا دکھتے ہیں جبکہ چھن کر آنیوالی خبروں کے مطابق تعداد 150 اور اس سے زیادہ کی ہیں۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ کے ایک جج نے انکی تعداد 25 بتائی ہے۔ تعداد تو ایک طرف مگر یہ جعلی نمائندہ حکومت اس بات کو سمجھنے میں ناکام ہے کہ حتیٰ کہ ایک لاش بھی بہت زیادہ ہے لیکن دراصل بات یہ ہے کہ یہ حکومت بھی گزشتہ کی طرح عوام کی خدمت کرنے کے بجائے اپنی حکومت بچانے کے بارے میں

جینوسائڈ واچ کے صدر گریگری ایچ سٹینٹن کیمطابق نسل کشی آٹھ مراحل پر مشتمل ہے جوکہ یہ ہیں: درجہ بندی، علامت بندی، سلبِ انسانیت، تنظیم، تقطیب، تیاری، خاتمہ کاری اور تردید۔ بلوچستان میں یہ عمل نازی جرمنی کی طرح صریحاً وحشیانہ یا روانڈا کی طرح کھلم کھلا نہیں رہی ہے لیکن یہ پراسرار طور پر زور پکڑ رہی ہے ان آرائشی سیاسی لبادوں کیساتھ جوکہ اسے پوشیدہ رکھنے میں مددگار ہیں۔ بلوچستان میں بیک وقت دونسل کش کارروائیاں ایکساتھ جاری ہیں، ایک کا ہدف بلوچ ہیں اور دوسرے کا ہدف ہزارہ اور شیعہ۔بلوچ منظم طور پر پسماندہ رکھے جا رہے ہیں تاکہ ان کے خاتمے کو آسان اور ان کے وسائل کے غیر قانونی استحصال کو قابل جواز بنایا جائے۔ جیسا کہ میرے دوست ڈاکٹر محمد تقی صاحب اپنے مضمون ’بلوچستان لہولہان‘ (ڈیلی ٹائمز 30 جنوری) میں بجا طور پر کہتے ہیں کہ ہزارہ کو ’گیتھوائز‘ کیا جارہا ہے۔ طاقت کے استعمال کا خطرہ ان کو گیتھوائز کر رہا ہے جبکہ اکثریت ہونے کے سبب بلوچ کو اس انداز میں جسمانی طور پر گیتھوائز نہیں کیا جاسکتا مگر پاکستان کی طرف سے انہیں سیاسی و معاشی طور پر گیتھوائز کیا جارہا ہے تاکہ آخر کار انہیں جسمانی طور پر بھی گیتھوائز کیا جاسکے۔ اس عمل میں اہم کردار ڈاکٹر مالک کی حکومت، بالکل اسی طرح جیساکہ اس سے قبل رئیسانی حکومت، اور ان کے مرشد و آقا فوج اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کا ہے۔بلوچ کیخلاف طاقت کا استعمال بھی منظم طور پر اور بے رحمی سے کیا جا رہا ہے اور اس کا ثبوت ہزاروں لاپتہ اور ان میں سے آٹھ سو سے زائد قتل کرکے پھینکے گئے لوگ ہیں اور یہ تعداد ان جعلی مقابلوں میں قتل کیے گئے افراد کے علاوہ ہے جنکی نوعیت بھی اسی شدت کی ہے۔ یہ سب بلوچ عوام کو دہشت زدہ کرکے اطاعت گزاری پر مجبور کرنے اور انہیں ریاست کے دوسرے درجے کی محکوم رعیت ہونے کی قبولیت کیلئے کیا جا رہا ہے تا کہ بعد میں انہیں جو کچھ بھی دیا جائے یا جیسی تیسی سیاسی و مادی خبزریزے ان کی طرف پھینکے جائیں وہ انہی پر اکتفاء کرلیں۔

بلوچ نے کبھی بھی اطاعت شعاری کیساتھ اسے بطور اپنا مقدر اور اپنی ناگزیر قسمت کے قبول نہیں کیا ہے۔ انہوں نے 27 مارچ 1948 کے بعد سے ایڑی چوٹی کا زور لگاکر اسکے خلاف مزاحمت کی اور یہی ان کی راہ نجات رہی ہے اور اسی سے انہیں اپنی بلوچ شناخت کو برقرار رکھنے اور مکمل تسلط کو ناکام بنانے میں مدد ملی ہے جسکی پاکستان خواہش رکھتا اور کوشش کرتا آرہا ہے۔ اگر بلوچ طاقت کا مقابلہ طاقت سے نہ کرتے تو اسوقت بلوچستان دیگر نسلی گروہوں کے دلدل میں دھنس چکا ہوتا اور کثیر قوموں اور خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں کی اجارہ داری اور ملکیت میں چلا گیا ہوتا۔ بلوچ نے اپنی شناخت اور وقار کو قائم رکھنے کی بھاری قیمت ادا کی ہے اور توتک کی اجتماعی قبریں، جوکہ یقینا وہاں موجود کئی قبروں میں سے محض چند ہیں، تمام لاپتہ اور قتل کیے گئے افراد اس بات کا ثبوت اور اسکی یاد دہانی ہیں۔ بلوچ نے اس قیمت کے ادا کرنے میں کبھی بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا اور تاریخ ان لوگوں کی گواہ رہتی ہے جو عزت اور وقار کیساتھ جینا چاہتے ہیں۔

بگٹی قبیلے کے تقریباً دو لاکھ افراد ڈیرہ بگٹی اور ملحقہ علاقوں سے بے گھر ہوئے جب 2005 میں مشرف کے تحت فوج نے، اس بات کو یقینی بنانے کیلئے، ان کیخلاف ایک شیطانی آپریشن شروع کیا، کہ وہ بلا کسی چوں چرا کے انکے تابعدار بن جائیں اور اسکے نتیجے میں 2006 میں نواب اکبر بگٹی کی شہادت واقع ہوئی۔ اتنی بڑی تعداد میں بگٹیوں کی اس ہجرت کے اثر کو اسوقت سمجھا جاسکتا ہے جب ہمیں یہ اندازہ ہو کہ یہ اپنے آبائی زمینوں پر رہنے والے بگٹیوں کی غالب اکثریت ہے۔ یہ بگٹی، جو دنیا میں کہیں بھی دیگر لوگوں کی طرح، اسی علاقے میں رہنا چاہتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں اور جو انکا اپنا ہے لیکن انہیں اپنی آبائی زمینوں سے دور رکھا گیا ہے کیونکہ فوج اور ایف سی کی نظروں میں ان کی وفاداری مشکوک ہے جن کی اس علاقے پر حتمی رٹ قائم ہے۔

نواب اکبر بگٹی کے ایک پوتے شاہ زین بگٹی، جو ہمیشہ پاکستان سے اپنی وفاداری کو ثابت کرنے کیلئے دردِ زہ میں مبتلا رہتے ہیں، کو سپریم کورٹ کے حکم اور کوئٹہ کے کٹھپتلیوں کی یقین دہانی پر طویل عرصے سے بے گھر بگٹیوں میں سے بہت سوں کیساتھ ڈیرہ بگٹی جانے کیلئے گزرگاہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا لیکن ایف سی نے انہیں داخلے کی اجازت نہیں دی جو انہیں واپسی کی اجازت دینے سے قبل ان سے وفاداری کی مخصوص شرائط کی منظوری اور یقین دہانیاں چاہتا ہے۔ بے گھر بگٹیوں کو طاقت کے بل پر ان کے آبائی علاقے میں رہنے کے ان کے بنیادی حق سے انکار کیا جا رہا ہے اور حتیٰ کہ اس ناانصافی نے ان لوگوں کو بھی ٹس سے مس نہیں کیا جو قوم پرست ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور وہاں کی حکومت ہیں۔ ڈاکٹر مالک اور ان کی حکومت، اگر اس ذلت بھرے، خوشامدی، غلامانہ، قابل رحم اور جگر سوز افراد کے جتھے کو حکومت کا یہ قابل احترام عہدہ دے بھی دیا جا ئے تو وہ اپنے مرشدین یعنی فوج اور ایف سی کے اس حد تک شکرگراز ہیں کہ وہ ایک ایسا لفظ بھی نہیں کہہ سکتے جو انکے ان منافع بخش عہدوں کو خطرے میں ڈال سکے۔

توتک کی اجتماعی قبروں کی طرف واپس لوٹنے کیلئے سرفراز بگٹی کی جوہر بیانی کا ذکر کرنا لازمی ہے جو بلوچستان میں وزیر داخلہ کا تضحیکی عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ بی بی سی اردو کے انٹرویو میں جب انہوں نے اس ہولناک جرم میں اپنے مرشدین کے ملوث ہونے سے انکار کیا تو اسکا الزام را اور بلوچ سرمچاروں پر لگانے کی کوشش کی۔ وہ یہ بھول گئے کہ اسی پست ہمت سپریم کورٹ، جو کہ لاپتہ افراد کے کیس پر سو سماعتوں کے باوجود لاپتہ یا ہلاک افراد کیلئے قانونی کارروائی تو درکنار کسی ایک شخص کیخلاف الزام تک عائد کرنے میں ناکام رہی ہے، نے کافی صداقت کیساتھ لاپتہ افراد اور ’مارو اور پھینک دو‘ والی پالیسی کیلئے ایف سی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مورود الزام ٹھہرایا۔ لیکن ڈاکٹر مالک اور ان کا قابل رحم جتھہ ان لوگوں کے حوالے سے کچھ برا نہیں دیکھتا، کچھ برا نہیں سنتا اور کچھ برا نہیں کہتا جنکے سبب جو کچھ وہ ہیں اور جہاں وہ آج ہیں، انہی کی مرہون منت ہیں۔ یہاں تک کہ سو اجتماعی قبریں، وہاں اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہیں، جو انہیں اور ان کے ضمیر کو کم ازکم اس حد تک تو جھنجوڑ سکیں کہ اگر مستعفی نہیں ہوتے تو نہ سہی مگر سچ تو بولیں۔

واجب التعظیم ماما قدیر کی قیادت میں یکساں طور پر نڈر بانکوں (بلوچی میں خواتین) اور ورناوں (بلوچی میں نوجوان مردوں) کیساتھ وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز کا لانگ مارچ اجتماعی قبروں کی دریافت کیساتھ مزید دلخراش اور اہم بن چکا ہے۔ اس لرزہ خیز دریافت کے ساتھ شرکاء کا عزم مزید پختہ ہوا ہے۔ ان کا یہ مارچ بلوچ کیخلاف کی جانیوالی نا انصافیوں اور اپنے حقوق کیلئے انکی جدوجہد کا ایک بالکل نیا باب ہے۔ انہوں نے بلوچ قوم کی ممنونیت اور محبت بہت کٹھن طریقے سے حاصل کی ہے۔ یہ بہادر نفوس بلوچ قوم کے غیر مشروط شکریے اور ممنونیت کے مستحق ہیں۔ کوئی ان سرشار بلوچوں کے سامنے محض احترام میں کھڑا رہ سکتا ہے جنہوں نے نہ صرف صبر اور برداشت کی نئی حدیں قائم کی ہیں بلکہ سیاسی جدوجہد میں اختراعی جدت بھی پیدا کی ہے۔ بلوچ کیخلاف جاری مظالم اور ’غلیظ جنگ‘ کے مسئلے کو اجاگر کرنے کیلئے جمعرات کو انہوں نے ملتان پریس کلب میں اجتماعی قبروں کیخلاف احتجاج کیا۔ ان کا احتجاج منفرد ہے اور اس نے نا انصافیوں کے بارے میں لاکھوں لوگوں کو آگاہی دی ہے۔ ہم ایک ملین تقاریر اور مضامین سے جتنا کچھ حاصل کرسکیں اتنا انہوں نے اپنے اس تاریخی مارچ سے حاصل کیا ہے۔ وہ اب تک تقریباً 1700 کلومیٹر پیدل چلے ہیں اور اسلام آباد سے اب بھی 730 کلومیٹر دور ہیں۔

لگتا ہے کہ بلوچ کیخلاف نا انصافیاں عوام کے ذہنوں اور پاکستانی میڈیا میں درج نہیں ہوتیں۔ وہ بلوچ اور حال ہی میں ہزارہ کیخلاف انسانیت کے خلاف جرائم سے بے خبر اور بے حسی کا شکار ہیں۔ کیا اس بے حسی کا باعث یہی ہو سکتا ہے جیسا کہ بیرتوت بریخت کہتے ہیں، ”جب جرائم کا ڈھیر لگنا شروع ہوتو وہ غیر مرئی بن جاتی ہیں۔“ اس بات کا قوی امکان ہے کہ لوگ دوسروں کیخلاف ناانصافیوں کے عادی ہوجاتے ہیں خاص طور پر وہ مظلوم جن پر مذہب کا ٹھپہ لگا ہو جیسا کہ ہزارہ ہیں یا جن پر سیاسی مقاصد کے حصول کا کلنک لگا ہو جیسا کہ بلوچ ہیں۔ بے حسی اور اسکے سبب کو مزید اجاگر کرنے کیلئے میں اپنے مضمون کا اختتام بیرتوت بریخت کی منتخب نظموں سے لیے گئے اس اقتباس کیساتھ کروں گا:

”پہلی بار یہ خبر آئی کہ ہمارے دوستوں کو قتل کیا جارہا ہے تو وہاں ایک ہولناک شور برپا ہوا۔
اس کے بعد ایک سو قتل ہوئے۔
پر جب ایک ہزار کو قتل کیا گیا اور پھر قتل کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا تو ہر سُو خامشی چھا گئی۔
جب برائی برسنے لگے بارش کی طرح، تو کوئی نہیں چلّاتا ”تھم جا! “
جب جرائم کا ڈھیر لگنا شروع ہو تو وہ غیر مرئی بن جاتی ہیں۔
جب اندوہ ناقابل برداشت ہوں تو پھر گریے نہیں سنے جاتے۔
موسم گرما میں گریے بھی بارش کی طرح برستے ہیں۔“

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کی دہائی کے ابتداءسے ایک تعلق ہے،
وہ @mmatalpur کے ہینڈل پر ٹویٹس کرتے ہیں اور
mmatalpur@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جاسکتا ہے
بشکریہ : نیکڈ پنچ ڈاٹ کام ، جمعہ، 31 جنوری 2014

To read in English Click HERE

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s