آزمودہ کار سپاہی


pen in resistance
تحریر : نزیحہ سید علی
ترجمہ: لطیف بلیدی
تقریباً 40 برس قبل ہونے والے دھماکے میں جب محمد علی ٹالپر نے اپنے دونوں ہاتھ گنوائے تو اسوقت وہ طبی سہولیات جیسی شے سے کوسوں دور بلوچستان کے مری علاقے کی پہاڑوں میں تھے۔ دو ڈاکٹروں کو ان تک پہنچنے کیلئے، کراچی سے کوئٹہ تک کا ایک ہوائی سفر اور پہاڑوں میں اونٹ پر سواری سمیت، چھ دن لگے۔ لیکن یہ جنگ کا مارا آزمودہ کار سپاہی 1970 کے عشرے کی بلوچ بغاوت کا حصہ ہونے کی کہانی سنانے کیلئے زندہ رہے۔

بلوچستان اس وقت بغاوت کی چوتھی لہر کی گرفت میں ہے جو کہ تقریباً تقسیم کے فوراً بعد شروع ہوئی تھی۔ اس کاز کیلئے ٹالپر صاحب کی رغبت، جسکا حوالہ وہ ”جدوجہد“ کے طور پر دیتے ہیں، عمر کیساتھ کم نہیں ہوئی اور اسکا اظہار انہوں نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی کراچی تا اسلام آباد طویل احتجاجی مارچ میں شمولیت سے کی جو کہ کوئٹہ سے پیدل شروع ہوئی تھی۔ان کی نیت ہالہ تک ساتھ چلنے کی تھی لیکن 16 دن کے بعد خراب صحت نے انہیں مارچ سے باہر رہنے پر مجبور کر دیا۔ اپنی شلوار اوپر کھینچ کر وہ غمناک انداز میں اپنے ٹخنوں اور پنڈلیوں کی سوجن دکھاتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”روزانہ 20 کلومیٹر پیدل چلنا کوئی شعبدہ بازی نہیں ہے۔“

vbmplongmarch-hyderabad

مارچ کے شرکا، جو کہ اب لاڑکانہ پہنچ چکے ہیں، نے تین راتیں حیدر آباد میں انکی رہائشگاہ پر گزاریں، وہ ہر صبح گاڑی پر واپس اسی جگہ لوٹ جاتے جہاں پر شام کو انہوں نے مارچ روکا تھا۔

سن 1920 میں تعمیر کیا گیا، ٹالپر صاحب کا گھر فرش اور چھتوں پر شاندار اصل ٹائل کے کام کے ساتھ ساتھ نایاب فارسی مسودات کی حامل ہے۔ ایک خوابگاہ میں اجرک چادروں کے دو بڑے بنڈل تھے۔ یہ احتجاجی ریلی کے شرکاء کو سندھ میں ان خیر خواہوں کی طرف سے دیے گئے تھے جن دیہاتوں میں سے وہ گزرے تھے۔

Dilip Dass on the right

Dilip Dass on the right

ٹالپر صاحب کا پاکستان میں شاید سب سے پہلے رونما ہونیوالے ’لاپتہ‘ افراد کے واقعات کیساتھ قریبی تعلق ہے۔ مری علاقے کی پہاڑوں میں مزاحمتی جنگجووں میں سے ان کا ایک ساتھی دلیپ داس تھا۔ 1971 میں بلوچستان سے سندھ سفر کے دوران دلیپ داس اپنے بلوچ ساتھی شیر علی مری کے ہمراہ ”انٹیلی جنس ایجنسیوں“ کی جانب سے اٹھائے گئے اور پھر دوبارہ انہیں کبھی نہیں دیکھا گیا۔

ٹالپر صاحب کہتے ہیں کہ ”ان کی ماں، جوکہ کراچی میں رہتی ہیں، اب 92 سال کی ہیں۔ حتیٰ کہ اب بھی، جب کبھی میں ان سے ملتا ہوں، وہ پوچھتی ہیں ’میرا جانی کیسا ہے؟‘ ( یہ دلیپ کیلئے ان کی عرفیت ہے)۔ اگرچہ انہوں نے 1971 کے بعد سے اسے نہیں دیکھا ہے لیکن وہ سمجھتی ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ وہ کہیں پر اب بھی زندہ ہو۔ اس شخص کی آس کبھی ختم نہیں ہوتی جسکے پیارے کو کسی ریاست نے غائب کردیا ہو۔ “

دلیپ کو بھی، ٹالپر صاحب کی طرح، لندن گروپ کے حصے کے طور پر جانا جاتا تھا، جہاں تک موخرالذکر کا تعلق ہے تو یہ ان سے منسوب ایک غلط نام ہے کیونکہ وہ کبھی بھی لندن نہیں گئے۔ غیر بلوچ نوجوانوں پر مشتمل اس گروہ کو محمد بابا 70 کی دہائی کے ابتداء میں اپنے ساتھ لائے تھے، جو لندن میں اپنی تعلیم چھوڑ کر بلوچ مزاحمت میں شامل ہونے کیلئے آئے تھے۔ اس میں نجم سیٹھی، احمد رشید، راشد رحمن اور ان کے چھوٹے بھائی اسد رحمن (جوکہ چاکر خان کے نام سے معروف تھے، اور انہوں نے دراصل چند لڑائیوں کی سربراہی کی تھی) شامل تھے۔

ٹالپر صاحب 1970ء میں کراچی یونیورسٹی میں صحافت کی تعلیم حاصل کر رہے تھے جب انہوں نے اسے ادھورا چھوڑ کر باغیوں کیساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس سے پہلے وہ چھ ماہ تک اپنے ایک رشتہ دار، جو کہ ایک ڈاکٹر تھے، کیساتھ رہے اور بیماریوں کا علاج، دوا دینے کے بارے میں، اور معمولی سرجری میں انکی مدد کرکے جو کچھ وہ سیکھ سکتے تھے انہوں نے سیکھا۔ اضافی مہارت مفید ثابت ہوئی، تاہم دھماکہ خیز مواد کے حادثے کے بعد وہ اصل لڑائی میں حصہ نہ لے سکے۔

Mir Mohammed Ali Talpur in Marri Mountains

وہ کراچی سے 22 اکتوبر 1971 کو پہاڑوں میں جنگجووں کے ساتھ شامل ہونے کیلئے نکلے جہاں لندن گروپ کے کچھ ارکان پہلے سے ہی موجود تھے۔

گوریلا جنگجو کے طور پر زندگی آسان نہ تھی، خاص طور پر ان نوجوان کیلئے جو کھاتے پیتے گھرانے کا شہری پس منظر رکھتے ہوں۔ ٹالپر صاحب اس وقت کو یاد کرتے کہتے ہیں، ”ہم کسی نہ کسی طرح وہاں رہے۔ وہاں کوئی خیمے، کوئی سہولیات نہیں تھیں۔ ہم چھجوں کے نیچے، چھوٹے سے غاروں میں رہتے تھے۔ مری علاقوں میں خوراک کی پیداوار ہوتی اور سبی زیادہ دور نہ تھا، ہم راشن لینے وہاں جاتے اور گڑ اور ہاتھ کی چکی میں پسے ہوئے آٹے کی طرح کی اشیاء لیتے۔“ شاید یہ ان کی نوخیز آدرشیت تھی جس نے انہیں ثابت قدم رہنے کی طاقت دی۔

جنرل ضیاء کی طرف سے بھٹو کی بے دخلی کیساتھ لڑائی ختم ہوگئی جس نے بعض بلوچ رہنماوں کے ساتھ سیاسی تصفیوں پر دستخط کئے۔

تاہم اس وقت بھی جذبات تھے، لیکن بلوچستان کی صورتحال بتدریج تبدیل ہوئی ہے۔ ٹالپر صاحب کیمطابق ستر کی شورش اور موجودہ شورش کے درمیان ایک اہم فرق ہے۔ ”پہلے وہاں آزادی کے بارے میں تحفظات تھے، تاہم اس کے بیج بودیئے گئے تھے۔ اب بلوچ پوری لگن کیساتھ آزادی کیلئے لڑ رہے ہیں۔ اب ان کیلئے کوئی درمیانی راستہ نہیں ہے۔“

بشکریہ : روزنامہ ڈان ، 13 جنوری 2014

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s