مکران میں بلوچستان کا شخص: رجائیت پسند، آزادی کا جنگجو، خطر پیما


Dr Allah Nazar

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے اعلیٰ کمانڈر ڈاکٹر اﷲ نذر سے انٹرویو

انٹرویو : وینڈی جانسن
ترجمہ : لطیف بلیدی

”….جیسا کہ مہذب دنیا جانتی ہے، پاکستان بنیاد پرستوں کی افزائش کررہا ہے….“

باوجود اسکے کہ میڈیا اس خطے کو کس طرح پیش کرتا ہے، بلوچستان شورش زدہ نہیں ہے۔ یہ بے چین نہیں ہے۔ بلکہ یہ حالت جنگ میں ہے۔ اور تمام کھلاڑی، سیاسی اور مسلح، اس کی روح کیلئے لڑ رہے ہیں۔ حال ہی میں دشت کے علاقے، جہاں پہلی مرتبہ داعش (دولت اسلامی عراق شام) کا ذکر بلوچستان کے حوالے سے سامنے آیا تھا، میں لڑائی کے بعد ہم نے اس پر تبصرے کیلئے ڈاکٹر ﷲ نذر سے رابطہ کیا۔

یہ ڈاکٹر ﷲ نذر کا گروہ بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) تھا کہ جس نے داعش سے منسلک لشکر خراسان، جسکی قیادت ایرانی شہری ملا عمر کر رہے ہیں، کیساتھ حال ہی میں دشت میں جنگ کی تھی۔

ہمارے 2011 کے انٹرویو میں، ڈاکٹر ﷲ نذر نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی معاونت سے بلوچستان میں بنیاد پرستی کے فروغ کی کوششوں کا مسئلہ اٹھایا تھا، لیکن اکیلے وہ نہیں ہیں جنہوں نے مزید ابتر حالات آنے کی بابت پہلے سے متنبہ کیا تھا…. ملک سراج اکبر اور دیگر صحافیوں نے کئی سالوں کے دوران وسیع مالی امداد والے منصوبوں کے بارے میں لکھا ہے جو کہ اب پاکستان میں ہوش اڑا دینے والے تشدد کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس تشدد کے بارے میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ترجمان جان محمد بلیدی بڑی کج بیانی کیساتھ کہتے ہیں کہ، ”کچھ حد تک صورتحال بہت مبہم ہے۔“اور بلوچستان میں صورتحال بہت مبہم ہے، لیکن محض اس وجہ سے کہ پاکستان غیر ملکی تحقیقاتی صحافیوں کو وہاں سفر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ چند نڈر مقامی صحافی جو محدود وسائل کیساتھ بیشمار مسائل کو رپورٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں کئی اطراف سے حملوں کا خطرہ رہتا ہے: انٹیلی جنس ایجنسیاں، انتہا پسند گروہ اور حتیٰ کہ، مبینہ طور نامہ نگاروں کے مطاق، باغی گروہوں کی طرف سے بھی، جنکا دعویٰ ہے کہ میڈیا انکے بیانیے کو کوریج نہیں دیتا۔ وہ لوگ کہ جنہوں نے بلوچستان میں سفر کیا ہو، میں جانتی ہوں کہ زندگی کے خطرات حقیقی ہیں، لیکن میرے ذاتی تجربے میں یہ خطرات مہربان بلوچ میزبانوں کی طرف سے درپیش نہیں تھے۔

داعش اب عالمی سطح پر آچکی ہے۔ درج ذیل میں اس کے مشرق کی طرف پھیلاو کی بابت اس شخص کے مشاہدات ہیں جس کے لئے بلوچستان میں صورتحال بالکل مبہم نہیں۔
******

وینڈی جانسن: ہمیں حال ہی بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اور ملا عمر کی زیر قیادت لشکر خراسان کے درمیان بلوچستان کے علاقے دشت میں لڑائی کے بارے میں پتہ چلا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ داعش کے نام کا ذکر پاکستان کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ کیا یہ پاکستان میں داعش ہے یا اس کا لشکر خراسان کیساتھ اتحاد ہے؟

ڈاکٹر ﷲ نذر: جیسا کہ آپ جانتی ہیں، جیسا کہ مہذب دنیا جانتی ہے، پاکستان بنیاد پرستوں کی افزائش کررہا ہے۔ اور وہ بلوچ قومپرست تحریک آزادی کو ختم کرنے کی حتی الوسع کوشش کررہے ہیں، وہ تحریک آزادی کو کچلنے کیلئے اپنی بہترین کوشش کر رہے ہیں، اپنے ڈیتھ اسکواڈ دستوں کے ذریعے، اپنے مارو اور پھینک دو والی پالیسی کے ذریعے، اپنے ٹارچر سیلوں اور دیگر ذرائع کے ذریعے، لیکن پاکستانی اسٹابلشمنٹ مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ لہٰذا اب وہ بلوچ تحریک آزادی سے توجہ ہٹانے کیلئے مذہب کا آلہ استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، بلکہ اس کی بجائے وہ دنیا کو بنیاد پرستی کی بدصورت تصویر دکھا رہے ہیں۔

دشت میں صورتحال کی بابت یہ ہے کہ ملا عمر پاکستان کی بدنام زمانہ آئی ایس آئی (انٹر سروسز انٹیلی جنس) کی معاونت سے ایک بنیاد پرست گروہ کی قیادت کررہا ہے۔ وہ بلوچستان کی تحریک آزادی کا مقابلہ کرنے کیلئے مسئلہ پیدا کر رہے ہیں۔ وہاں دشت میں ملا عمر کیساتھ بہت سے عرب، پشتون اور دیگر نسلی گروہوں کے افراد موجود ہیں۔ اسلام کے نام پر وہ بلوچ تحریک کو روکنے یا اسکے لئے رکاوٹ پیدا کرنے کیلئے فرقہ وارانہ مسائل پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجھے مزید واضح کرنے کی اجازت دیں، یہ صرف ملا عمر نہیں بلکہ وہاں دوسرے گروہ بھی موجود ہیں: لشکر اسلام، تحفظ حدود اللہ اور دیگر۔

وینڈی جانسن: کیا شام اور عراق میں موجود داعش بلوچستان کیلئے ایک خطرہ ہے؟

ڈاکٹر اﷲ نذر: جی ہاں محترمہ، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ بلوچستان میں داعش کے اتحادیوں کے چار سے زائد چار کیمپ موجود ہیں۔ ایک مکران میں ہے، ایک ڈسٹرکٹ خضدار کے وڈھ میں۔ تیسرا زہری کے علاقے مشک میں ہے۔ 100 سے زائد مسلح افراد وہاں موجود ہیں جن میں عرب، پشتون، پنجابی اور دیگر شامل ہیں۔ سردار ثناءاللہ زہری کی مدد سے وہ وہاں رہ رہے ہیں۔ چوتھا کیمپ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے چلتن کے قریب ہے۔ وہاں چار کیمپ ہیں اور وہ بھی اسی طرح کے گروہوں میں سے ہیں۔ اور اب پاکستانی آئی ایس آئی انہیں متحرک کررہی ہے۔ ان کی سرگرمیوں کی سرپرستی پاکستانی آئی ایس آئی کر رہی ہے۔

جیسا کہ آپ نے خبروں میں سنا ہے، اور پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پارلیمنٹ میں یہ کہا تھا کہ کراچی میں نیول بیس کے اپنے پچھواڑے میں بنیاد پرست مذہبی گروہوں کی سرگرمیوں کیلئے حمایت موجود ہے۔ اب آپ تصور کر سکتے ہیں کہ یہاں ان کیلئے پاکستانی فوج میں ہمدردی ہے اور پاکستانی فوج کے سینئر صفوں کے افسران ان تنظیموں اور لوگوں کیساتھ ملوث ہیں۔ اور اب پاکستانی طالبان نے خود کو داعش کیساتھ منسلک کردیا ہے۔ پاکستانی طالبان پہلے ہی سے بلوچستان میں آئی ایس آئی کی خاطر کام کر رہے ہیں۔

داعش موجود ہے۔ بالکل موجود ہے۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے آواران کے تیرتیج علاقے میں ذکری مسلمان فرقے کی ایک عبادت گاہ (ذکر خانہ) میں سات سے زائد بلوچ قتل کیے۔ اور انہوں نے گلیوں میں پمفلٹ بھی پھینکے ہیں جن میں انکے نسخہءاسلام کی وکالت کی گئی ہے۔ یہ تحفظ حدود اللہ، الجہاد، لشکر اسلام، الفرقان، انصار الاسلام کی سرگرمیاں ہیں۔ یہ گروہ بلوچستان میں سرگرم ہیں اور یہ داعش کا حصہ ہیں۔

لیکن میرا خیال ہے کہ یہ انتہا پسندی ناکام ہو جائے گی کیونکہ بلوچ قوم ایک انتہائی سیکولر قوم ہے۔ وہ مذہب کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ صدیوں سے بلوچستان میں ہندو رہ رہے ہیں، سکھ، دوسری برادریاں، گوادر میں اسماعیلی…. مگر بلوچ نے ان میں سے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا ہے۔ بلوچ ہندووں اور دوسروں کو قبول کرتے ہیں۔ بلوچوں کے ذکریوں کیساتھ ازدواجی تعلقات ہیں۔ بلوچ کبھی بھی مذہب کے نام پر امتیازی سلوک نہیں کرتے۔ لیکن اب پاکستانی ریاست چند پاکستانی دانشوروں اور فوج کیساتھ ملکر اسلام کا نام استعمال کرکے بنیاد پرستی کو ہوا دے رہے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کا سب سے اہم اور بنیادی مقصد بلوچ قومی آزادی کی تحریک کو کچلنا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ داعش اور طالبان کے ان غیرمہذب اور ظالمانہ نظریات کی دہشت کو فروغ دینا ہے۔

اگر مہذب دنیا بلوچ تحریک آزادی کی مدد کرتی ہے اور بلوچستان کی بطور ایک آزاد ریاست کے حمایت کرتی ہے تو یہ بڑھتی ہوئی انتہا پسندی ناکام ہو جائے گی۔ یہ ناکام ہو جائے گی۔ دوسری صورت میں یہ بلوچستان کیلئے ایک مسئلہ ہوگی، بلکہ یہ باقی ماندہ دنیا کیلئے بھی ایک درد سر بنے گی: افغانستان، بھارت، سعودی عرب اور امریکہ کیلئے۔

وینڈی جانسن: کیا آپ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) یا یونائیٹڈ بلوچ آرمی (یو بی اے) کیساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں بات کر سکتے ہیں؟

ڈاکٹر اﷲ نذر: بی ایل اے کا جنگ کرنے کا اپنے طریقہ ہے۔ بی ایل ایف کا اپنا۔ مجھے نہیں لگتا کہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کے درمیان کوئی نظریاتی اختلافات ہیں ۔
بطور ایک آزادی کی تحریک کے ہم اچھے تعلقات پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، نہ صرف یو بی اے اور بی ایل اے کیساتھ بلکہ ان تمام گروہوں اور تنظیموں کیساتھ جو بلوچستان کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔

وینڈی جانسن: بلوچ مزاحمت کے اندر تقسیم کا بنیادی سبب کیا ہے؟ کیا یہ وسائل پر ہے یا طرز حکومت پر جو کہ مختلف گروہ ایک آزاد بلوچستان میں دیکھنا پسند کریں گے؟ اس کی سرحدوں کے بارے میں ہے؟ کیا کم ترقی پسند علاقوں کے قبائلی سرداروں کے اہداف مختلف ہیں؟

ڈاکٹراﷲ نذر: محترمہ، بنیادی طور پر ہم سب ایک آزاد بلوچستان پر یقین رکھتے ہیں۔ آزاد بلوچستان ایک فلاحی ریاست ہوگی۔ ہم ایک آزاد عدلیہ چاہتے ہیں۔ ہم پورے بلوچ عوام کیلئے تعلیم کا حصول چاہتے ہیں۔ ہم پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتے ہیں اور ہم کیمیائی، حیاتیاتی اور دیگر ہتھیاروں کے تصرف کے مکمل طور پر خلاف ہیں جو کہ انسانیت کیلئے خطرہ ہیں۔ لیکن جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ بلوچستان کے مختلف حصوں میں قبائلی خطے ہیں اور چھوٹے موٹے قبائلی علاقے ہیں جہاں قبائلی سرداروں کا مسئلہ موجود ہے۔ کبھی کبھی ان کی انا ابھر کر سامنے آجاتی ہے…. کبھی کبھی وہ رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں جیساکہ وہ اسٹابلشمنٹ کی جیب میں ہیں۔ لیکن عام بلوچ، نہ صرف مکران میں بلکہ پورے بلوچستان میں، ایک بلوچ فلاحی ریاست پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ آزادی پسند بلوچ سیاسی کارکنان اور وہ جو بلوچستان میں آزادی کیلئے لڑ رہے ہیں، ہم آزادی کے جنگجو، ہم ترقی پسند لوگ، پورے بلوچستان میں اپنے لوگوں کو یہ ترغیب دینے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ ایک پلیٹ فارم پر آجائیں۔ ہمیں بہت مثبت جواب ملا ہے۔

عام بلوچوں میں قومپرستی کا احساس موجود ہے۔ ہمارے عام بلوچ آزادی سے محبت کرتے ہیں، وہ اپنی ثقافت سے محبت کرتے ہیں، وہ اپنے ضابطہءاحترام سے محبت کرتے ہیں، تو لہٰذا مجھے لگتا ہے کہ…. بطور جنگ آزادی کے ایک سپاہی کے، اپنی سرزمین پر موجود آزادی کیلئے لڑنے والے ایک سپاہی کی حیثیت سے میری رائے یہ ہے کہ یہ چیز ہمارے لئے کوئی رکاوٹ نہیں بنے گی۔ مستقبل میں آپ انشاءاللہ دیکھیں گے، بلوچ کی آزادی کے ایک دہائی کے اندر اندر، لوگ یہ دیکھیں گے کہ قبائلی سردار ایک آزاد ریاست کے طور پر بلوچستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہوں گے۔ قبائلی سردار بلوچستان کی سماجی ترقی کے آگے کوئی رکاوٹ نہیں بنیں گے۔

اسوقت قبائلیت کا کوئی احساس باقی نہیں رہا۔ قوم پرستی قبائلیت کے احساس پر غالب آچکی ہے۔ لہٰذا باقی ماندہ بلوچستان کے، جیسا کہ آپ اشارہ کر رہی ہیں کہ جن علاقوں میں قبائلی عوام رہتے ہیں…. میں واضح طور پر یہ دیکھ رہا ہوں کہ ریاستی پشت پناہی اور آئی ایس آئی کی مدد کے بغیر قبائلی سرداروں کا کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے۔

اب وہ آئی ایس آئی کی مدد کیساتھ کیا کر رہے ہیں؟ میں آپ کو اسکی ایک سادہ سی مثال دوں گا۔ چیف آف جہلاوان نواب ثناءاللہ زہری انجیرہ میں رہتے ہیں جو کہ انکا آبائی قصبہ ہے۔ لیکن سارا شہر آزادی پسند ہے اور وہاں آزادی کے جنگجو موجود ہیں۔ ریاست کی مدد کیساتھ گزشتہ تین سالوں کے دوران ثناءاللہ زہری نے 100 سے زائد گھر منہدم کیے ہیں، انہیں بلڈوز کیا ہے۔ لیکن لوگوں نے وہاں سے ہجرت نہیں کی۔ لوگوں نے ریاست اور ثناءاللہ زہری کی طاقت کے آگے سر نہیں جھکایا۔ اسوقت زیادہ سے زیادہ لوگ بلوچ تحریک آزادی کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ ایک واضح مثال ہے کہ چیف آف جہلاوان ثناءاللہ زہری اور چیف آف سراوان اسلم رئیسانی جیسے طاقتور قبائلی سردار اپنا اثر و رسوخ کھورہے ہیں۔

Dr. Allah Nazar with 1970s resistance fighter Wahid Qambar one of the BLF's founders

Dr. Allah Nazar with 1970s resistance fighter Wahid Qambar one of the BLF’s founders

وینڈی جانسن: مجھے معلوم ہے کہ کچھ بلوچ قبائلی رہنماء وہاں سے نکلنے والے وسائل سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، مثال کے طور پر بولان میں کوئلے سے۔ کیا وہ تحریک آزادی کو آمدنی کا کچھ حصہ دیتے ہیں؟ یا آزادی کی تحریک کی مالی معاونت بنیادی طور پر بیرون ملک سے ہو رہی ہے؟ کیا وسائل سے پیدا ہونیوالی عمومی آمدنی صرف امیروں کے تصرف کیلئے استعمال ہو رہی ہے؟

ڈاکٹر ﷲ نذر: نہیں، نہیں۔ جیساکہ آپ نے سنا ہے کہ بولان میں کوئلے کی کانیں ہیں، انہیں پاکستانی ریاست لوٹ رہی ہے۔ اور ہاں ہم نے بھی سنا ہے کہ کچھ قبائلی سردار بھتہ خوری کے ذریعے پیسہ حاصل کر رہے ہیں، لیکن اسے آزادی کی تحریک کے مفاد میں استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔ زیادہ تر پیسے ان لوگوں کی ذاتی جیبوں میں چلا جاتا ہے جو یہ پیسے وصول کررہے ہیں۔

وینڈی جانسن: پشتونوں کا کیا ہوگا ؟ کیا پشتونوں کیساتھ کوئی بات چیت ہو رہی ہے جو ایک آزاد بلوچستان کے سبب متاثر ہوں گے، مثال کے طور پر سرحدی امور پر؟

ڈاکٹر ﷲ نذر: یہ نہ صرف پشتونوں کیلئے ایک مسئلہ ہے بلکہ بلوچ کیلئے بھی ہے۔ 1893 میں سامراجی طاقتوں نے ڈیورنڈ لائن نامی ایک لائن کی حد بندی کی تھی۔ اس لائن نے پشتون اور بلوچ قوم تقسیم کیا ہے۔ بلوچستان کی آبادی کا ایک حصہ افغانستان میں رہتا ہے اور پشتونوں کی ایک بڑی آبادی ڈیورنڈ لائن کے پاکستانی طرف رہتی ہے۔ لہٰذا ڈیورنڈ لائن ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے، اور نہ ہی پشتونوں کیلئے، اور عالمی طاقتوں کو بلوچستان اور پشتونستان کی ریاستوں کو اپنی قدرتی شکل میں دوبارہ حد بندی پر غور کرنا چاہئے۔ میرے خیال میں یہ اس مسئلے کا حل ہے جسکا اسوقت دنیا کو سامنا ہے۔ دنیا کو، مہذب دنیا کو، ایک آزاد بلوچستان کی حمایت کرنی چاہئے- دو مذہبی ریاستوں کے درمیان بلوچستان بطور ایک بفر ریاست کے- جسکے اس طرف ایران ہے اور مشرق کی طرف پاکستان ہے۔ یہ دونوں ملک مذہب کے نام پر بنائے گئے ہیں۔ بلوچستان بطور ایک بفرریاست کے نہ صرف بہت سارے مسائل کو حل کرے گا بلکہ اس سے دنیا کے باقی حصوں کو بھی مدد ملے گی۔ میرے خیال میں ایک بلوچ بفرریاست واحد حل ہے۔ اسکے افغانستان پر، وسطی ایشیاء پر اور جنوب مشرقی ایشیا پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے مغرب مثبت فوائد حاصل کرے گا۔

وینڈی جانسن: آپ کے کردوں کیساتھ کوئی تعلقات ہیں؟

ڈاکٹر ﷲ نذر: نہیں، بدقسمتی سے ہمارا کردوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے، لیکن تاریخی طور پر ہم اور کرد ایک ہی نسل سے ہیں۔ آپ کہہ سکتی ہیں کہ کرد اور بلوچ کزن ہیں۔ لہٰذا بدقسمتی سے، ہم دونوں ریاست کے بغیر قومیں ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ دنیا کو یہ احساس کرلینا چاہئے کہ مشرق وسطیٰ میں کردوں کی ایک ریاست کا ہونا ضروری ہے چونکہ وہ ایک طویل مدت سے اس کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں، اور بلوچ کیلئے بھی۔

وینڈی جانسن: آپ اس میں کچھ مزید اضافہ کرنا چاہیں گے؟

ڈاکٹر ﷲ نذر: یہ کہ یہاں بلوچستان میں انتہائی گھمبیر صورتحال ہے۔ آپ لوگ یہاں سے بہت دور رہتے ہیں، مگر یہاں بلوچستان میں مکمل طور پر ایک مشکل صورتحال اور کہانی ہے، لیکن اسکی خبریں بلوچستان سے باہر کبھی نہیں پہنچ پاتی ہیں۔

مذہبی بنیاد پرستی بڑھ رہی ہے، اور اسے حمید گل جیسے پاکستان کی آئی ایس آئی کے سابق ایجنٹ، مرزا اسلم بیگ اور سرحدی امور کے وزیر جنرل عبدالقادر بلوچ جیسے لوگ، یہ سب کے سب بنیاد پرستی کے فروغ میں ملوث ہیں۔ میں مہذب دنیا اور جمہوری اور سیکولر روشن خیال ممالک کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اگر انہوں نے بلوچستان کی صورتحال پر نظر نہیں ڈالی، جوکہ دن بہ دن ابتر ہوتی جارہی ہے، یہ نہ صرف بلوچ قوم اور بلوچ تحریک آزادی کیلئے ایک مسئلہ ہوگی، بلکہ بھارت، سعودی عرب، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ، امریکہ، حتیٰ کہ مغرب، برطانیہ اور یورپ کیلئے بھی۔ یورپ، امریکہ اور دیگر جمہوری اور مہذب لوگوں کو بلوچ تحریک آزادی کی مدد کرنی چاہئے۔ ایک آزاد بلوچ ریاست پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔ یہی میرا پیغام ہے۔

بشکریہ : کرائسس بلوچستان
تاریخ اشاعت : جمعرات 18 ستمبر 2014

To read the interview in English Click HERE

Crisis Balochistan

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s