داخلی محاذ بلوچستان کی علیحدگی پسند بغاوت کا بدلتا چہرہ


home-front_Gawader
تحریر : مہوش احمد
ترجمہ: لطیف بلیدی
[حصہ چہارم]

گوادر پر 2004 کے حملے کے بعد کے ابتدائی چند سالوں تک بلوچ عسکریت پسندوں نے خود کو چھوٹے پیمانے کی کارروائیوں تک محدود کر رکھا تھا جس میں زیادہ تر فوج اور گیس پائپ لائنوں کو نشانہ بنایا جاتا۔ 2005 میں ﷲ نذر کے اغواء سے کچھ وقت پہلے، تین دہائیوں تک بلوچستان کی سیاسی قسمت پر حاوی رہنے والے اکبر بگٹی نے، جنہیں عام طور پر ایک پاکستان نواز سیاستدان سمجھا جاتا تھا، مشرف کی فوجی حکومت کیخلاف ایک شدید تنقید کا سلسلہ شروع کیا۔ رویے کی اس تبدیلی میں عمل انگیز عنصر ظاہراً سوئی، ضلع ڈیرہ بگٹی میں نواب بگٹی کے گھر کے پچھواڑے میں واقع ایک گیس پیدا کرنیوالے شہر، میں پیش آنیوالا ایک ہولناک عصمت دری کا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔

جب 2 جنوری 2005 کی رات شازیہ خالد اپنے کمرے میں سو رہی تھیں تو ایک آدمی داخل ہوا۔ اس نے انہیں بالوں سے پکڑا، ان کی گردن کو دبوچی، ان کی گردن کے گرد ٹیلی فون کا تار لپیٹا اور رسیور سے ان کے سر پر مارنا شروع کیا۔ پھر اس نے کئی بار ان کی عصمت دری کی۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک جج کی سربراہی میں ایک آزاد ٹریبونل کی طرف سے اس ماہ کے آخر میں جاری کی گئی 35 صفحات پر مشتمل ایک خفیہ سمری کے مطابق، شازیہ خالد ”نیم بےہوشی کی حالت“ میں تھیں جب وہ اگلی صبح ایک نرس کے دفتر میں ٹھوکریں کھاتی ہوئی داخل ہوئی، ”ان کی پیشانی پر سوجن تھی اور انکے ناک اور کانوں سے خون بہہ رہا تھا۔“ نیو یارک ٹائمز کے صحافی نکولس کرسٹوف نے اس واقعہ پر اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ان کے آجر، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے حکام، فوراً جائے وقوعہ پر پہنچے اور مبینہ طور پر ان سے خاموش رہنے کو کہا۔ صحافیوں کے ساتھ انٹرویو میں شازیہ خالد نے اس جرم کیلئے پاکستان فوج کے ایک کیپٹن حماد پر الزام لگایا، اور دعویٰ کیا کہ سیکورٹی فورسز نے اس جرم کو چھپانے کی کوشش کی تھی۔ ڈیلی ٹائمز کی ایک رپورٹ میں قومی اسمبلی میں اس وقت کی حزب اختلاف کی ایک رکن شیری رحمن نے بیان دیا تھا کہ ”عدالتی تحقیقات کے مکمل ہونے سے پہلے ہی کیس کے ملزمان میں سے ایک کیپٹن حماد کو مشرف نے بے گناہ قرار دیدیا۔“عصمت دری کے اس واقعے میں اللہ نذر کے دامنی اجداد کی قدیم داستان کی بازگشت سنائی دیتی ہے جنہیں عصمت دری کا شکار ہونیوالی خاتون کا ساتھ دینے پر اپنے علاقوں سے جلاوطن ہونا پڑا تھا۔ اس واقعے نے بلوچستان بھر میں بھی بڑے پیمانے پر غم و غصے کو اکسایا۔ بلوچ لبریشن آرمی، ایک عسکریت پسند گروہ جسکی سربراہی حال ہی میں انتقال ہوئے ایک اور قبائلی رہنماء خیر بخش مری کیا کرتے تھے، کئی سال گمنامی کی تاریکی میں رہنے کے بعد ایک نئے جوش و ولولے کیساتھ دوبارہ ابھر کر سامنے آئی۔ دیگر گروہوں نے بھی اپنی سرگرمیاں تیز کردیں، اس معاملے کی ”پردہ پوشی“ کیخلاف احتجاجاً پی پی ایل کی گیس پائپ لائنوں پر راکٹ فائر کیے گئے اور شازیہ خالد کیساتھ یکجہتی کا دعویٰ کیا گیا۔

نواب بگٹی، جنہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی، کو ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ء میں صوبائی حکومت کو برخاست کرنے کے بعد بلوچستان کا گورنر مقرر کیا۔ ایک سال سے بھی کم عرصے بعد نواب بگٹی نے خطے میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کے مظالم کیخلاف احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اب بھی انہیں عموماً مکمکا کرنیوالا سمجھا جاتا تھا، جب تک کہ مبینہ طور پر شازیہ خالد کی عصمت دری نے ان کو اپنے خیالات بدلنے پر مجبور کردیا۔ (دوسروں کے ساتھ ساتھ ﷲ نذر نے بھی اس بات سے اختلاف کیا اور مجھ سے کہا کہ نواب بگٹی بہت عرصہ قبل اپنا راستہ بدل چکے تھے۔) ڈیڑھ سال سے زائد عرصے تک نواب بگٹی اور مشرف لڑائی میں مصروف رہے۔ بلوچستان کے غم و غصہ کیخلاف حکومت کا ردعمل فوری اور جابرانہ تھا؛ جیو ٹی وی پر ایک انٹرویو میں پرویز مشرف نے کہا کہ ”یہ ستر کی دہائی نہیں ہے کہ وہ پہاڑوں پر چڑھ جائیں گے اور ہم ان کا پیچھا کرتے پھریں گے۔ انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ انہیں کیا چیز آکر لگی اور انہیں یہ بھی پتہ نہیں چلے گا کہ یہ چیز کہاں سے آئی۔“ 26 اگست 2006 کی رات سیکورٹی فورسز اور مسلح علیحدگی پسندوں کے درمیان ایک جھڑپ میں 37 عسکریت پسند اور 21 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک نواب بگٹی تھے۔

ان کی موت پر بلوچ جماعتوں نے فوری طور پر 15 روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ صوبے بھر میں شٹرڈاون اور پہیہ جام ہڑتال کااعلان ہوا۔ پاکستان بھر کے شہروں میں بلوچ مظاہرین کا سیلاب سڑکوں پر امڈ آیا۔ سینکڑوں طلبا، جن میں بہت سے بولان میڈیکل کالج سے تھے، جہاں ﷲ نذر نے تعلیم پائی تھی، کوئٹہ کی سڑکیں بلاک کیں اور سرکاری عمارتوں پر حملہ کیے۔ اختر مینگل نامی ایک اداس پاکستان نواز سیاستدان نے فرائیڈے ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”اس واقعے نے پاکستان کیساتھ ہمارا آخری تعلق، اگر کبھی رہا بھی ہو، ختم کردیا ہے۔ “

جلد ہی بہت سے بلوچ علیحدگی پسند رہنماء ملک سے فرار ہونا شروع ہوئے اور بیرون ملک سیاسی پناہ کیلئے درخواستیں دینے لگے۔ دیگر کو مار دیا گیا۔ نواب بگٹی کے قتل کے ایک سال سے تھوڑا زیادہ عرصے بعد نومبر 2007 میں بی ایل اے کے کمانڈر بالاچ مری کو افغانستان میں قتل کیا گیا۔ اپریل 2009 میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے چیئرمین غلام محمد بلوچ، بلوچ نیشنل فرنٹ کے جنرل سیکریٹری لالہ منیر اور بلوچ ریپبلیکن پارٹی کے وائس چیئرمین شیر محمد بلوچ کی مسخ شدہ لاشیں جنوبی بلوچ شہر تربت سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پیدراک میں پھینک دی گئیں۔ انہیں تربت شہر کی ایک عدالت میں پیشی میں شرکت کے محض پانچ دن بعد اغواء کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کر دیا گیا۔ اسکے ایک سال بعد بہت سی دھمکیاں ملنے کے بعد بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) کے مبینہ کمانڈر حیر بیار مری اور بی ایل اے کے کمانڈر براہمداغ بگٹی ملک سے فرار ہو گئے۔ ایک بی ایل ایف کو چھوڑ کر، ان کی تنظیمیں بلوچستان میں سب سے بڑے عسکریت پسند گروہ رہے ہیں۔

ایران کی سرحد اور بلوچستان کے منافع بخش ساحل سے متصل جنوبی مکران بیلٹ، تاریخی طور پر یہ علاقہ صوبے کی 1947 کے بعد کی، سیاسی تحریکوں کا حصہ رہا ہے۔ لیکن ﷲ نذر کے اغواء سے دس سال قبل، بلوچوں کی ہمسایہ شہر کراچی، خلیجی ریاستوں اور ایران کی طرف ہجرت کے نتیجے میں یہاں اسمگلنگ اور ترسیلات زر میں تیزی سے اضافے کی راہ ہموار ہوئی اور پاکستان کا یہ جنوبی کونہ شہری علاقے میں تبدیل ہونا شروع ہوا۔ اسکے ساتھ ساتھ ایک ایسے علاقے میں ایک تعلیم یافتہ متوسط طبقہ ابھر کر سامنے آیا جو کہ انتہائی حد تک غریب رہا ہے۔ روزمرہ کی بقاء کے خدشات سے خود کو منوانے کے دوران یہ طبقہ وسیع تر سیاسی سوال کی طرف تیزی سے راغب ہونا شروع ہوا اور اسی تیزی کیساتھ بلوچ سیاست کا مرکز بنیادی طور پر قبائلی شمال سے شہری جنوبی کی طرف منتقل ہوا۔ اس طبقے کا ایک حصہ پاکستان حامی سیاست کا فعال ترغیب دہندہ بن گیا۔

صوبے کی آبادیاتی اور ثقافتی خصوصیات میں تبدیلی کو تسلیم کرتے ہوئے نو منتخب وزیر اعظم نواز شریف نے 2013 میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے طور پر زیادہ اعتدال پسند اور ﷲ نذر کے متوسط طبقے کے سابق ساتھی ڈاکٹر عبدالمالک کو نامزد کیا۔ مالک کی تقرری نے دہائیوں سے صوبے کے سب سے اعلیٰ عہدے پر سے سرداری غلبہ ختم کیا (اگرچہ اسمبلی پر اب بھی سرداروں کا غلبہ ہے)۔

لیکن عبدالمالک کے اقتدار میں آنے کی تبدیلی نے نئے بلوچ علیحدگی پسند بھی پیدا کیے: عموماً ”ایک نوجوان تعلیم یافتہ متوسط طبقہ،“ جیسا کہ ملک سراج اکبر، جوکہ بلوچ ہال کے ایڈیٹر ہیں، نے اپنی کتاب ’بلوچ قومپرست تحریک کی نئی کثیرالجہتی تشریح‘ میں لکھا ہے۔ اکبر کے مطابق نئی علیحدگی پسند تحریک میں حتیٰ کہ ”خواتین اور بچے“ بھی شامل ہیں جو ”فعال طور پر ایک آزاد بلوچستان کی حمایت میں پرامن احتجاجی ریلیوں میں حصہ لیتے ہیں۔“

نواب بگٹی کی موت کے بعد کے سالوں میں بی ایل ایف نے بی ایل اے اور بی آر اے سمیت بلوچستان لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ اور یونائیٹڈ بلوچ آرمی جیسی دیگر کم معروف عسکریت پسند گروہوں اور تنظیموں کیساتھ اتحاد کیا۔ آج بی ایل ایف علیحدگی کے نام پر کئے گئے تمام حملوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ 2010 میں جاری کردہ ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد حملوں میں ”اساتذہ، پروفیسروں اور اسکول کے منتظمین“ کو
ہدف بناکر اغواءاور قتل کرنا بھی شامل ہیں۔ یو بی اے کی طرف سے کئے گئے اس طرح کے سب سے حالیہ حملوں میں سے ایک میں 16 افراد جاں بحق اور 44 زخمی ہوئے جب اس سال اپریل میں ایک مسافر ٹرین پر بم دھماکہ کیا گیا۔ یو بی اے، مبینہ طور پر بی ایل اے کا ایک گروہ ہے جس کا مقصد بغاوت کو بلوچستان سے باہر پھیلانا ہے، نے اسی مہینے اسلام آباد میں واقع پشتون بستی کے باہر ایک سبزی منڈی پر بھی بم حملے کی ذمہ داری لی تھی جس میں 24 افراد جاں بحق اور 116 زخمی ہوئے تھے۔

بی ایل ایف پر، جوکہ سب سے زیادہ جنوبی بلوچستان میں حملے کرتی ہے، گزشتہ دس سال کے دوران فرنٹیئر کور کے فوجیوں اور پاکستانی ریاست کے دیگر نمائندوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ بلوچستان فرنٹیئر کور کے ترجمان نے 2011 میں مجھے بتایا کہ 27 پلاٹون (تقریبا 1000 فوجی) پولیس فورس کے ہمراہ کوئٹہ میں گشت کرتے ہیں۔ ترجمان نے جنوبی بلوچستان، بی ایل ایف کے ہیڈ کوارٹر، کی بھی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ وہ علاقہ ہے جہاں فوجیوں کی بڑی تعداد مرتکز کی گئی ہے۔“ گزشتہ دو سال میں بلوچستان کے سفر کے دوران چوکیوں پر ملنے والے فوجیوں کے ساتھ بات چیت سے مجھے پتہ چلا کہ ان میں سے بہت سارے تو محض نوجوان اور خوفزدہ تھے جنہیں پنجاب سے لاکر یہاں تعینات کیا گیا تھا، وہ وہاں کی زبان نہیں جانتے اور مسلسل اپنی زندگی کیلئے خوفزدہ تھے۔ ایک سیکورٹی اہلکار نے مجھے بتایا کہ مسلح افواج نے اس بات کو یقینی بنایا ہے جس سے بلوچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ان کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں — اگرچہ پاکستان فوج کی اپنی ویب سائٹ پر یہ کہا گیا ہے کہ بلوچ نوجوانوں کی صرف ایک چھوٹی سی تعداد نے ”اس پیشے کو ترجیح دی ہے جسکی بنیادی وجہ ناخواندگی اور جہالت ہے۔“ کچھ بلوچوں نے، جن سے میں نے بات کی تھی، بتایا کہ چوکیوں پر فوجی انہیں پانی، دودھ یا سگریٹ کی طرح کا سامان لینے کیلئے بازاروں کو بھیجنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک نوجوان خاتون رحیمہ نے، جنکے ساتھ میں گجر مشکے میں رہی تھی، مجھے بتایا کہ ”انہیں غدار کہا جاتا ہے، لیکن وہ حیران ہوتے ہیں جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ہم تو عام سے نارمل لوگ ہیں۔“

دو ماہ قبل بی ایل ایف نے گوادر سے کوسٹ گارڈز کے دو اہلکاروں کو اغواء کیا تو پاکستان انسانی حقوق کمیشن نے فوراً ایک بیان جاری کرکے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ سب سے زیادہ متنازعہ بات یہ ہے کہ اس گروہ پر پاکستانی ریاست کے ساتھ روابط کا شبہ ہونے پر مقامی بلوچوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ملک سرج اکبر نے کہا کہ ”بی ایل ایف نے، پاکستانی ایجنسیوں کیلئے جاسوسی یا غداری کا الزام لگا کر، سب سے زیادہ اپنے ساتھی بلوچوں کو ہلاک کیا ہے۔“ اکبر کے
مطابق، ان واقعات نے ”ان کی حمایت میں نمایاں طور پر کمی کی ہے۔“ نیشنل پارٹی کے ایک سینئر رکن، حاصل خان بزنجو اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ”انہوں نے بلوچوں کی حمایت کھو دی ہے، کیونکہ انہوں نے دکانیں بند کرادیں، پنجابیوں کو ہلاک کیا، اور کبھی کبھار اپنے لوگوں پر حملہ کیا اور ان کو قتل کیا۔“

لیکن بہت سے بلوچوں کیلئے بی ایل ایف اور دیگر علیحدگی پسند گروہوں کی جانب سے کئے گئے حملے پاکستانی سیکورٹی فورسز کی طرف سے کئے جانیوالے مظالم کے سبب زیادہ نمایاں نہیں ہیں۔ اس حقیقت کو حتیٰ کہ حاصل بزنجو بھی تسلیم کرتے ہیں جو علیحدگی پسند سیاست کیلئے بڑھتی ہوئی حمایت کا باعث ”پاکستانی ریاست کی ظالمانہ پالیسیوں“ کو گردانتے ہیں۔ حال ہی میں بی ایس او (آزاد) کے ایک رکن لطیف جوہر نے اپنی تنظیم کے چیئرمین زاہد بلوچ کے اغواء کیخلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج میں ایک 46 روزہ بھوک ہڑتال کی تھی۔ مزید یہ کہ گزشتہ ماہ لوگوں نے 86 سالہ خیر بخش مری کے جنازے میں ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔ حکام نے نواب مری کو ریاستی تجہیز و تکفین دینے کی کوشش کی لیکن بی ایس او (آزاد) کی علیحدگی پسند نوجوان خواتین نے ان کے جسد خاکی کو گھیرے میں لے کر ان کے تابوت کو آزاد بلوچستان کے پرچم میں لپیٹ کر اپنے شہداء کے قبرستان لے گئے۔

(جاری ہے)

نوٹ: اس مضمون کے اصل متن میں چند غلطیاں اور خامیاں تھیں جنکی نشاندہی مصنف کو کردی گئی تھی لیکن اسکے باوجود انہیں درست نہیں کیا گیا۔

بشکریہ: کاروان میگزین(ہندوستان)
تاریخ اشاعت: یکم جولائی 2014
http://caravanmagazine.in/reportage/home-front

[حصہ اول]

[حصہ دوم]

[حصہ سوئم]

Leave a comment

Filed under Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s