ء 28 اگست: بلوچستان کیلئے صدائے بیداری تحریر : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ : لطیف بلیدی


Mir Muhammad Ali Talpur28 اگست کی صبح میرے دوست صاحب جان مری کے ایک رشتہ دار کو سکرنڈ پولیس کی جانب سے فون ایک کال موصول ہوا۔ پولیس نے انہیں بتایا کہ ان کو پئی جنگل کے قریب سے تین لاشیں ملی ہیں اور ان میں سے ایک کی جیب میں یہ نمبر تھا جسے انہوں نے ملایا ہے۔

صاحب جان کے خاندان کو پتہ تھا کہ بدترین انہونی ہوچکی ہے کیونکہ ایک دن قبل وہ مٹیاری شہر سے لاپتہ ہوئے تھے جہاں وہ اپنے خاندان، جوکہ شہر سے کچھ فاصلے پر رہتا ہے، کیلئے ضروری اشیاء خریدنے گئے تھے۔

جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے صاحب جان کی لاش دیکھی۔ انہیں سر پر انتہائی قریب سے ایک گولی ماری گئی تھی؛ اسی طرح سے ان دونوں کو بھی جو بگٹی تھے۔ بگٹیوں میں سے ایک، شیر دل عرف جرو ولد در محمد، کو رواں سال کے اوائل میں 18 جون کو اغواء کیا گیا تھا۔ سبزل بگٹی کو اسی دن اغواء کیا گیا تھا جس دن صاحب جان اغواء ہوئے تھے۔

جرو 22 سال کے تھے، سبزل 20 کے اور صاحب جان کی عمر 45 سال تھی۔ پولیس نے بتایا کہ ان کی لاشیں مگسی کے قریب ایک مزدا ٹرک سے پھینکی گئی تھیں۔ صاحب جان کے رشتہ داروں نے احتجاجاً سڑک بلاک کردی جب پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا تھا۔ بعد میں انہوں نے بادل نخواستہ نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا۔

اسی روز بعد میں ایک سینئر صحافی اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (بی یو جے) کے سیکرٹری جنرل ارشاد مستوئی، زیر تربیت رپورٹر عبدالرسول اور ایک اکاونٹنٹ، یہ سب ایک خبر رساں ایجنسی کیلئے کام کرتے تھے، کو کوئٹہ میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔

استغاثہ تو چھوڑیں بلوچستان میں کسی پر بھی صحافیوں کے قتل کا الزام تک عائد نہیں کیا گیا، یا اسلئے کہ جہاں کہیں بھی وہ لوگ جو صحافیوں کو نشانہ بناتے ہیں وہ قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ اس میں کوئی تعجب نہیں کہ 2011 میں انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ کی جانب سے پاکستان کو عالمی سطح پر، صحافیوں کیلئے خطرناک ترین مقام کے طور پر، چوتھے نمبر پر رکھا گیا تھا۔ 8 جولائی 2012 کو کوئٹہ میں’بلوچستان میں میڈیا اور سول سوسائٹی‘ پر ایک ورکشاپ منعقد کیا گیا جس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ 2008 سے لیکر اب تک بلوچستان میں 22 صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے۔ اتفاقاً ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے مرحوم ارشاد مستوئی نے کہا تھا کہ ”تمام مزاحمتی گروہ کوریج کیلئے ہم سے رابطہ کرتے ہیں جبکہ سیاسی جماعتیں اور کچھ ادارے میڈیا کو مزاحمتی گروہ سمجھتے ہیں۔“

انہوں نے سیاسی رہنماوں پر بھی یہ الزام لگایا کہ وہ اپنے ’پریس ریلیز‘ شائع کروانے کیلئے نامہ نگاروں پر دباو ڈالتے ہیں۔ ہر کوئی یہ تصور کرسکتا ہے کہ ہر اس دیانتدار صحافی کا انجام کیا ہوسکتا ہے، اگر بعض ادارے اور ان کی کٹھ پتلی سیاسی جماعتیں میڈیا کو محض اس لئے مزاحمتی گروہ سمجھتے ہیں کہ وہ آئی ایس پی آر کے پریس نوٹ شائع کرنے کے بجائے، جو حقیقت ہے اس کو بیان کرنے کی ہمت کرتے ہیں۔ ارشاد مستوئی کا قتل اسی طرح کے صحافتی اقدار کا پاس رکھنے کے عزم کا نتیجہ ہے۔

بعد میں، اسی دن تیرتیج میں ذکریوں پر ایک مہلک مسلح حملہ کیا گیا جو ماشی کے قریب واقع اپنے ذکر خانے میں عبادت کررہے تھے۔ اس میں سات افراد شہید ہوئے بشمول رضا جہانگیر [ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن-آزاد (بی ایس او-آزاد) کے سیکرٹری جنرل جنہیں گزشتہ سال 14 اگست کو پاکستان فوج نے شہید کیا تھا] کے والد بختیاراور تیرہ سالہ نیاز بلوچ کے۔

یہاں اس بات کا ذکر کرنا بے جا نہ ہوگا کہ ایک ماہ قبل ذکری زائرین کی بس کو خضدار کے علاقے میں مذہبی عسکریت پسندوں کی طرف سے نشانہ بنایا گیا جس میں سات افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ستمبر 2013 کے 7.6 شدت کے تباہ کن زلزلے کے بعد آواران کے علاقے میں عسکریت پسند تنظیموں کو فوج کی طرف سے سہولیات فراہم کی گئی تھی۔ یہ صرف زلزلے کے بعد ممکن ہوسکا کہ فوج وہاں گھس آئی اور بلوچ قوم پرستی کا مذہب کیساتھ مقابلہ کرنے کیلئے مذہبی گروہوں کو اپنے ساتھ لے آئی۔ بلوچستان کی روادار سیکولر سرزمین کو اسٹابلشمنٹ کی جانب سے ایک مکروہ، غیررودار، متعصب اور فرقہ وارانہ میدان جنگ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

جو بھی مقتدر قوتیں ہیں انہوں نے کچھ وقت کیلئے ہزارہ نسل کشی کو روک دیا ہے اور ذکریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ بلوچ معاشرے کو ناقابل تلافی حد تک تقسیم کریں اور حقوق کیلئے جاری جدوجہد کو کمزور کریں۔ پنجگور میں اسکول کا جلایا جانا بھی ایک بڑے طے شدہ منصوبے کی تکمیل میں موزوں عمل تھا اور اس کا مقصد بلوچ کو تعلیم سے محروم رکھنا ہے۔ گزشتہ اگست بلوچ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا: 38 ہلاک ہوئے، تقریباً 20 زخمی اور سو سے زائد اغواء ہوئے۔ مزید درجنوں افراد فوج کیساتھ ’جھڑپوں‘ میں مارے گئے۔

28 اگست کے واقعات ایک صدائے بیداری ہے۔ قارئین کو تعجب ہو گا کہ میں اسے کیوں صدائے بیداری سمجھتا ہوں: یہ تینوں واقعات نہ بے ترتیب تھے اور نہ ہی غیر متعلق۔ یہ پاکستانی ریاست اور اس کے اداروں کی طرف سے بلوچ کی اپنے حقوق اور وسائل کیلئے جاری جدوجہد کو کمزور کرنے کی اس منظم اور جابرانہ کوشش کا حصہ ہیں۔

صاحب جان مری اور دیگر افراد کا اغواء اور قتل اس گھناونے ’اٹھاو-مارو-پھینک دو‘ والی پالیسی کا تسلسل ہیں جسکا مقصد بلوچ کی صفوں میں کارکنوں کی تعداد گھٹانا اور دوسروں کو ڈرانا ہے تاکہ وہ بلوچ حقوق کی حمایت سے گریز کریں۔

ارشاد مستوئی کا قتل ان لوگوں کی خاموشی کو یقینی بنانے کیلئے تھا جو بلوچستان میں ناانصافیوں اور مظالم کو بے نقاب کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ آواران اور دوسری جگہوں میں ذکریوں پر حملوں کا مقصد تاریخی طور پر سیکولر بلوچ معاشرے میں عدم رواداری اور تعصب کے کینسرکو پھیلانا اور سیاسی مزاج میں بگاڑ پیدا کرنے کیلئے سماجی مزاج کو تبدیل کرنا ہے۔

خیر، اب یہ صدائے بیداری کس کیلئے ہے؟ فطری طور پر میں یہاں ڈاکٹر مالک اینڈ کمپنی جیسوں کو شمار نہیں کر رہا ہوں۔ وہ یہاں پر فوج کی طرف سے منظم کردہ کھیلوں کی تقریبوں اور ثقافتی میلوں کی زینت بننے کیلئے بیٹھے ہیں۔ وہ ترقی کے ڈرامے اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے نام پر بلوچ وسائل کی غیر قانونی لوٹ مار اور بلوچ کیخلاف سفاکانہ جبر کو قانونی جواز فراہم کرتے ہیں۔ انہیں بلوچ حقوق یا ان کے دکھوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ میرا دعویٰ بڑی حد تک توتک کمیشن رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے جس میں ہر خاص و عام کو الزام سے بری قرار دیا گیا کہ گویا یہ لاشیں کسی غیرمعمولی طوفان میں توتک پر بارش کی طرح برسی تھیں۔ اس سے مزید پتہ چلتا ہے کہ بلوچ کو ان سے کبھی انصاف نہیں ملے گا جو کہ صرف پاکستانی مفادات کی تعمیل کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھ، ان سے پہلے کے شریک کاروں کی طرح، بلوچ کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ ان سے بلوچ کی تکلیف پر کسی ردعمل کی توقع نہیں کر سکتے۔

یہ صدائے بیداری بالعموم تمام بلوچوں کیلئے اور بالخصوص ان لوگوں کیلئے ہے جو بلوچ حقوق اور وسائل کیلئے بلوچ مزاحمت کی قیادت کر رہے ہیں۔ جب تک کہ نواب خیر بخش خان مری حیات تھے تو وہ اپنی غالب قدآورشخصیت کیساتھ ان لوگوں کے دل و دماغ پر ایک ہوشمندانہ اثر رکھتے تھے جو بلوچ حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ ان کی رحلت کیساتھ ایک خلاء پیدا ہوا ہے، چونکہ ہمارے درمیان ان جیسا کوئی قدآور واحد رہنماء باقی نہیں رہا۔ اس خلاء کو صرف ایک بڑے متحدہ بلوچ محاذ سے ہی پر کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ عمل قربانیوں اور دانشمندی کا تقاضہ کرے گی۔ مجھے امید ہے کہ بلوچ مزاحمت کی موجودہ قیادت اس عمل کیلئے تیار ہو جائے گی۔

اس ذمہ داری کا بوجھ انہی پر ہے کہ وہ اسٹابلشمنٹ کی طرف سے تیار کردہ ان مذموم عزائم کا مقابلہ کریں جن سے وہ بلوچ معاشرے میں تقسیم پیدا کرنا چا ہتے ہیں، ان آوازاوں کو دبانا چاہتے ہیں جو سچ کا بول بالا کرتے ہیں اور ان لوگوں کا راستہ روکنا چاہتے ہیں جو حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ رہنماوں پر، ان سب کا مقابلہ کرنے کیلئے، مربوط حکمت عملی کیساتھ آگے بڑھنے کی ایک ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور یہ صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب وہ صورتحال کی سنگینی کو سمجھیں اور اپنے اختلافات ختم کردیں۔ رہنماوں کے درمیان موجود اختلافات اور عدم اتحاد عوام کو منتشر کررہے ہیں جبکہ سرگرم کارکن افسردگی اور مایوسی کی حالت میں کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں۔ وہ سرگرم کارکن جنہوں نے اپنی زندگی وقف کررکھی ہے اس نااتفاقی کے سبب ناامید ہورہے ہیں جبکہ دیگر نئے دھڑوں کی تشکیل میں لگے ہوئے ہیں کہ گویا پہلے والے کافی نہ تھے۔ ان سے میں یہی کہوں گا کہ: جدوجہد شخصیات سے زیادہ بڑا ہوتا ہے اور وہ اس پروقار سفر کو جاری رکھیں جس پر وہ نکل پڑے تھے۔

اگر یہ رہنماء بلوچ تاریخ میں ایک حاشیے سے کچھ زیادہ بننا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے طریقے بدلنے پڑیں گے اور جلد بدلنے پڑیں گے۔ صرف وہ جو بلوچستان سے زیادہ اپنے آپ سے اور اپنے ذاتی مفاد سے محبت کرنے والے ہیں ان کیلئے متحد ہونا مشکل ہوگا۔ ذاتی انا اور اختلافات کو ایک طرف رکھنے کی ضرورت ہے۔ تمام تنظیموں پر بلوچ عوام کی جانب سے ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگوں اور مادر وطن کی بے لوث خدمت کریں۔ اگر وہ عوام کی خدمت اور انکی رہنمائی کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کریگی۔

بشکریہ : ویو پوائنٹ
تاریخ اشاعت: جمعرات، 4ستمبر 2014

August 28: A wake-up call for Balochistan – Viewpointonline

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s