داخلی محاذ : بلوچستان کی علیحدگی پسند بغاوت کا بدلتا چہرہ


VBMPLongMarch

تحریر : مہوش احمد
ترجمہ : لطیف بلیدی

[حصہ سوئم]

مارچ 2005 کی ایک رات تین بجے 35 سالہ ﷲ نذر ایک کتاب پر سر دھن رہے تھے کہ انہوں نے اگلے کمرے میں سے عجیب سی آوازیں سنی۔ وہ کراچی کے گلستان جوہر کے علاقے میں ایک دوست کے گھر پر تھے۔ پہلے تو انہوں نے سوچا کہ شاید یہ انکی آوازیں ہوں گی جو گھر پر پانی اور دودھ لائے ہیں۔ وہ حیران ہوئے جب اندھیرے میں سے ہاتھ ابھر کر سامنے آئے۔

پاکستانی سیکورٹی فورسز کی جانب سے لوگوں کو بسوں سے اتار کر، رات کی تاریکی میں حملہ کرکے غائب کرنے کی کہانیاں 2005 تک پہلے سے ہی پھیلنا شروع ہوچکی تھیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ گزشتہ عشرے کے دوران کتنے بلوچ غائب ہو ئے ہیں۔ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی ایک مہم گروپ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے حکومت کی بلوچ افراد کے لاپتہ کرنے میں ملوث ہونے کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے نومبر 2013 اور فروری 2014 کے درمیان کوئٹہ سے اسلام آباد تک 2150 کلومیٹر طویل مارچ 100 دن میں مکمل کیا۔

اس گروہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے 2825 سے زائد لاپتہ افراد کے دستاویزی کوائف جمع کیے ہیں۔ 2010 میں پاکستانی سپریم کورٹ کی طرف سے قائم کردہ لاپتہ افراد تحقیقاتی کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت 1475، ان میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والوں تعداد نہیں بتائی گئی ہے، مقدمات سے نمٹ رہی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے 600 لاپتہ بلوچوں کی فہرست تیار کی ہے لیکن یہ تسلیم کیا ہے کہ یہ تعداد کم ہو سکتی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ صرف جنوری 2011 اور فروری 2012 کے دوران 300 افراد کو اغواء کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کی کئی بنچیں متعلقہ رشتہ داروں کی طرف سے دائر درخواستوں کی مشترکہ سماعت کر رہے ہیں، جن میں کبھی دس10 کبھی 35 تو کبھی 7 ایک ساتھ ہی، اور یہ کوشش کررہے ہیں کہ غائب ہو ئے بلوچوں کے معمہ کی تہہ تک پہنچ سکیں۔ چند لاپتہ افراد مسلح باغی ہیں یا سیاسی کارکن؛ دیگر بیشتر معصوم افراد ہیں یا زیادہ سے زیادہ علیحدگی پسند تحریک سے معمولی ہمدردی رکھتے ہیں۔

ﷲ نذر نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ، مارچ کی اس رات انہوں نے خود کو ”بیس سے 25 افراد“ کے درمیان گھرا پایا۔ پنجوں نے انہیں حلق سے دبوچا اور زمین کی طرف پر دھکیل دیا۔ پیروں نے انہیں لاتیں ماریں اور لاٹھیاں ان کی پیٹھ پر برسیں۔ انہوں نے محسوس کیا کہ انگلیاں ان کی گردن میں گاڑ کر سائینائیڈ کا کیپسول تلاش کر رہی تھیں کہ شاید وہ نگل لیں۔ اس وقت انکی خواہش تھی کہ کاش انکے پاس یہ ہوتا تو انہیں وہ سب بھگتنا نہ پڑتا جو کچھ انکے ساتھ ہونیوالا تھا۔ انکے اغوا کاروں نے انکی آنکھوں پر پٹی باندھی اور انکے سر پر ایک تھیلا ڈالا۔ انہوں نے تین یا چار نوکیلی چیزیں اپنے بدن پر محسوس کی جنہوں نے انہیں نیچے گرا دیا، ایک گاڑی کے پچھلی سیٹ پر بندوقیں ان پر تنی ہوئی تھیں، انہوں نے ایک بدبودار زیر زمین تہہ خانے کی گرمی محسوس کی۔

جب انکے اغوا کاروں نے ﷲ نذر کی آنکھوں سے پٹی اتاری تو وہ ایک سفید رنگ کمرے میں تھے جہاں ایک میز کے ساتھ دو کرسیاں اور ایک طرف دیوار پر شیشے کی ایک اسکرین لگی ہوئی دیکھی۔ کسی نے ایک لمحے کیلئے اسکرین کے اس طرف والے کمرے کی بتی جلائی تو انہوں نے چند افراد کے چہروں کی جھلک دیکھی اور امکان یہی تھا ان لوگوں کو ﷲ نذر کی شناخت کیلئے لایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ”جب میں داخل ہوا تو وہ پہلے ہی سے میرا نام جانتے تھے۔“

جب ﷲ نذر ایک لڑکھڑاتے ہوئے پنکھے کے نیچے انتظار کر رہے تھے تو انہیں شک ہوا کہ انہیں دیگر بہت سارے لوگوں کی طرح سیکورٹی ایجنسیوں نے اٹھایا ہے۔ جس چیمبر میں انہیں رکھا گیا تھا وہاں انہوں نے اس دھندلاہٹ میں دو افراد کو کرسیوں پر بیٹھے دیکھا۔ ”ایک شرابی اور ڈان دکھنے والا کردار، جنہیں آپ بھارتی فلموں میں دیکھتے ہیں“ انہیں بتا رہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ کیا کریں گے۔ ﷲ نذر کو یاد تھا کہ اس نے کہا، ”تم چیئرمین ہو، ہم تمہیں ایک پاگل میں بدل دیں گے۔“

اﷲ نذر کی مسکراہٹ نکل پڑی، ان کو ایک دوست یاد آیا جو دماغی عارضے میں مبتلا تھا۔ اس کے جواب میں، ان لوگوں نے انہیں زبردستی میز پر لٹا دیا۔ اس کے بعد ان میں سے ایک ان کے پیروں پر کھڑا ہوا اور دوسرے نے لاٹھی سے ان کے ہاتھ اور کولہوں پر مارنا شروع کر دیا۔ جب وہ مارنے سے فارغ ہوئے تو پھر سے انہیں کرسی پر پھینک دیا۔ ”مسکرانے کی سزا“، انہوں نے ان سے کہا۔

انہوں نے ان کی تصویر کھینچی، ہتھکڑیاں اتاریں، پیروں میں بیڑیاں ڈالیں اور اس سے بھی ایک چھوٹے سیل میں انہیں پھینک کر بند کر دیا۔ اسکے بعد سب کچھ دھندلا تھا: کئی گھنٹے طویل دورانیے تک ان سے انکے ”ساتھیوں، دوستوں اور بی ایس او“ کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی اور دھمکیاں دی گئیں کہ ان کا انجام بھی ”بنگالیوں کی طرح“ اپنا جسم بیچنے پر ہوگا۔ ”انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک بنگالی کی قیمت صرف 300 روپے تھی،“ ﷲ نذر نے یاد کرتے ہوئے کہا، ”میں چونک گیا کہ وہ قیمت تک جانتے تھے۔ کیا انہوں نے کبھی اس طرح کی چیز کیلئے پیسے ادا کیے ہیں؟“ وہاں ایک لمبا سا ڈنڈا تھا جسے ان میں سے ایک آدمی انکے ہتھیلی پر بار بار مار رہا تھا اور دھمکی دے رہا تھا کہ وہ اسکو انکے ”اندر گھسا دینگے۔“ ﷲ نذر کے تفتیش کار ان سے ایک صحتمند عضو تناسل کیلئے دعا مانگنے کو کہہ رہے تھے۔ جب میں نے ﷲ نذر سے اسکا مطلب پوچھا تو انہوں نے اپنا سر ہلایا اور کہا کہ اس بارے میں بات کرنا ہمارے لئے ایک نامناسب موضوع ہے۔

ﷲ نذر سے اور آواران، کوئٹہ، کراچی اور اسلام آباد میں دیگر آٹھ بلوچوں کیساتھ انٹرویو میں — بشمول ایک سوشیالوجی کے طالب علم کہ جسے کوئٹہ سے سیکورٹی فورسز نے اٹھایا اور دوماہ تشدد چیمبر میں گزارنے کے بعد وہ تعلیم چھوڑ کر بغاوت میں شامل ہوا؛ گجر مشکے سے ایک کسان جو ایک فوجی آپریشن میں اٹھایا گیا، اسکے پڑوسی اور دوست کیمطابق وہ اب ”پاگل ہوچکاہے“؛ اور ایک ڈاکٹر کہ جس نے ایک سال تک لاپتہ رہنے کے بعد اپنی پریکٹس چھوڑ دی تھی؛ سب نے اپنا نام نہ لینے کا کہا — سیکورٹی ایجنسیوں کے نامعلوم حکام کی طرف سے کیے گئے تشدد کی کہانیاں خوفناک حد تک یکساں تھیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئٹہ میں دو تشدد چیمبر ہیں۔ عمرانیات کے طالبعلم نے مجھے بتایا کہ ”ایک بالکل سیاہ تھا جو کہ ذہنی تشدد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے؛ دوسرے کے فرش، دیواروں اور چھت پر مرغولے دار دائروں والا رنگ کیا گیا تھا جو جسمانی تشدد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔“ ڈاکٹر نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح سے ”وہ ہمارے جسم کو الٹا لٹکا کر اور ہمارے پیٹ پر بجلی کے جھٹکے دیا کرتے تھے۔“

کسان کے پڑوسی نے کہا کہ ان کا تشدد زدہ دوست، چیمبر میں ان کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہے گا۔ ”وہ اسلئے کہ انہوں نے اسکی عصمت دری کی تھی،“ انہوں نے بتایا، ”وہ ایک ڈنڈے کو تیل اور مصالحے کیساتھ لت پت کرکے اس کے پیچھے گھسا دیتے تھے۔“

ﷲ نذر نے اپنے اغوا کاروں کے جنسی حملے کی دھمکیوں پر عمل درامد کرنے کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ، ”کوئی بلوچ کبھی بھی یہ تسلیم نہیں کرے گا اگر اس کے ساتھ یہ ہوا ہو۔ ان کی تفتیش کی طریقے غیر انسانی تھے…. ہم ان کیلئے ٹیسٹ کرنے کی اشیاء تھے۔“

”’ہم تشدد، قتل، یا سالوں تک آپ کو رکھ سکتے ہیں‘؛ بلوچستان میں پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی طرف سے جبری گمشدگیاں“ کے عنوان سے 2011 کی ایک رپورٹ میں ہیومن رائٹس واچ نے صوبے میں لاپتہ افراد کیلئے پاکستانی سیکورٹی فورسز کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ تنظیم نے پتہ لگایا ہے کہ عام طور پر لاپتہ افراد کو غیر تسلیم شدہ حراستی مراکز میں رکھا جاتا ہے جنہیں فرنٹیئر کور اور انٹیلی جنس ایجنسیاں چلارہے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک کوئٹہ کی فوجی چھاونی میں ہے جسکا نام قلی کیمپ ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا کیا گیا ہے ان میں اکثر رہا ہونے والے لوگ ٹارچر سیلوں میں اپنے گزارے گئے وقت کے بارے میں بات کرنے سے ہچکچا رہے ہیں، لیکن ہیومن رائٹس واچ اس بات کا تعین کرنے میں کامیاب رہی ہے کہ ”تشدد کے طریقوں میں، اکثر لاٹھی یا چمڑے کی بیلٹ کے ساتھ پیٹنا، قیدیوں کو الٹا لٹکانا، اور طویل دورانیے تک خوراک اور نیند سے محروم رکھنا“ شامل ہیں۔

ﷲ نذر کی نگرانی کرنے والے افراد ان سے بار بار یہ کہتے تھے: ”ہم تمہاری لاش کسی گٹر میں پھینک دیں گے، جیسا کہ ہم دوسروں کیساتھ کرتے ہیں۔“ بہت سارے لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ویران پہاڑی چوٹیوں پر، سنسان گلیوں میں، یا شہر کی خالی سڑکوں پر سڑنے کیلئے پھینک دی گئیں۔ اکثر ان کے بازو اور ٹانگیں کٹے ہوئے ہوتے، ان کے چہرے اتنے مسخ ہوتے کہ پہچانے نہ جائیں، اور ان کی لاشیں بڑے سوراخوں کیساتھ چھید کیے جاتے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بلوچستان میں جولائی 2010 اور فروری 2011 کے درمیان، صرف سات ماہ کے اندر، 70 لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ اس سال جنوری کے اواخر میں لیویز کے ایک گروہ، مقامی بلوچ جو کہ پولیس فورس کے طور پر خدمات انجام دیتے ہیں، نے کوئٹہ سے چند گھنٹوں کی مسافت پر واقع توتک میں ایک لرزہ خیز انکشاف کیا: انہوں نے لاپتہ افراد میں سے 13 کی لاشوں کیساتھ ایک اجتماعی قبر دیکھی جنہیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ (مقامی لوگوں نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ قبر سے ملنے والی لاشوں کی تعداد بہت کم رپورٹ کی گئی تھی۔)

ﷲ نذر کی گرفتاری کے بعد کے مہینوں میں انکے خاندان اور دوستوں نے ان کی رہائی کیلئے مہم چلائی۔ اگست 2005 میں، پاکستان انسانی حقوق کمیشن نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ”بتایا جاتا ہے کہ خاص طور پر ڈاکٹر اللہ نذر کی حالت بہت خراب ہے“ اور مطالبہ کیا کہ ”ملک میں غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے تمام افراد کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے۔“ ایچ آر سی پی کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ﷲ نذر ”عملی طور پر مفلوج ہوچکے ہیں اور انہوں نے اپنی یادداشت کا ایک بڑا حصہ گنوا دیا ہے“؛ تشدد نے انہیں ”جسمانی اور ذہنی طور پر معذور کردیا ہے۔“ 13 اگست کو انہیں آخرکار پنجاب میں رحیم یار خان کی ایک عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، اس کے بعد انہیں بلوچستان منتقل کردیا گیا اور پھر ان پر دہشت گرد کارروائیوں کا الزام عائد کیا گیا۔ اس عدالتی کارروائی نے انہیں اس سے پہلے ہوانیوالے اذیتناک سلسلے سے ایک حد تک ریلیف فراہم کیا، خاص طور پرجب ﷲ نذر اپنی حراست کے دوران عوام کی نظروں میں ایک بڑی شخصیت کے طور پر ابھر کر سامنے آنا شروع ہوئے تھے۔ لیکن جن لوگوں نے انہیں پولیس کے حوالے کیا اور اس کے بعد انہیں دوبارہ زیر تفتیش لائے تھے، ان لوگوں سے ان کی رہائی کیلئے ان کے حامیوں کی کوششوں کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ ان لوگوں نے ﷲ نذر سے کہا کہ ”ہم عدالتوں کے مالک ہیں، بلوچستان میں جو کچھ ہوتا ہے اسکا فیصلہ ہم کرتے ہیں۔“

واقعی سپریم کورٹ نے 2009 میں بلوچستان میں لاپتہ افراد کے مسئلے کو محض اٹھایا تھا مگر اس معاملے کو حل کرنا ابھی باقی ہے۔ اس وقت کے چیف جسٹس نے جب سب سے پہلے 2007 میں مشرف حکومت دور میں اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی تو انہیں معزول کردیا گیا، جس سے وکلاء کی مشہور تحریک شروع ہوئی اور اس سے آخر کار جمہوری حکومت کی بحالی ہوئی۔ عوامی دباو کے تحت اور سپریم کورٹ کے حکم پر اس کی چھان بین 2009 اور مئی 2010 میں دوبارہ شروع ہوئی اور حکومت نے لاپتہ افراد کیلئے تحقیقاتی کمیشن قائم کیا۔ اس وقت سپریم کورٹ کی کم از کم تین بنچیں اور اسکے ساتھ ساتھ بلوچستان ہائی کورٹ کی کئی بنچوں میں متعلقہ رشتہ داروں کی طرف سے دائر کردہ انفرادی اور اجتماعی درخواستوں کی سماعت ہورہی ہے۔

اﷲ نذر ایک سال سے زائد عرصے تک حراست میں رہے، اور آخر کار جولائی 2006ءمیں انہیں رہا کیا گیا۔ اﷲ نذر نے کہا کہ ”مجھے پتہ نہیں کہ انہوں نے مجھے کیونکر جانے دیا، یا تو انہوں نے یہ سوچا تھا کہ میں زندہ نہیں رہوں گا یا یہ کہ میں اتنا اہم آدمی نہیں ہوں۔“ اﷲ نذر کی بہن مہناز نے مجھے بتایا کہ وہ اپنی رہائی کے بعد اپنے خاندان کو الوداع کہنے چند گھنٹوں کیلئے میہی آئے تھے، اور اس کے بعد وہ پہاڑوں میں چلے گئے۔ یہ وقت عجیب طرح سے مناسب تھا؛ ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد اکبر بگٹی کی موت بلوچستان کو ایک بار پھر ابھارنے کی وجہ بنا، اور
اس واقعے نے بغاوت کے طرز عمل کو مستقل طور پر بدل کر رکھ دیا۔

(جاری ہے)

نوٹ: اس مضمون کے اصل متن میں چند غلطیاں اور خامیاں تھیں جنکی نشاندہی مصنف کو کردی گئی تھی لیکن اسکے باوجود انہیں درست نہیں کیا گیا۔

بشکریہ: کاروان میگزین(ہندوستان)
تاریخ اشاعت: یکم جولائی 2014
http://caravanmagazine.in/reportage/home-front

[حصہ اول]

[حصہ دوم]

Leave a comment

Filed under Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s