داخلی محاذ : بلوچستان کی علیحدگی پسند بغاوت کا بدلتا چہرہ


Baloch Sarmachar

تحریر : مہوش احمد
ترجمہ: لطیف بلیدی
[حصہ دوم]

ﷲ نذر کی سب سے پرانی یادیں فوجی کارروائی کیساتھ وابستہ تھیں۔ سن 1973 میں جب ﷲ نذر تین سال کے تھے، پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اسلام آباد میں عراقی سفارت خانے سے ہتھیاروں کا ایک ذخیرہ برآمد کیا۔ چار دن بعد نکسن کو بھیجے گئے ایک خط میں بھٹو نے بھارت، افغانستان، عراق اور سوویت یونین پر ”تخریبی اور رجوعی عناصر“ کیساتھ ملکر ”سازش“ کرنے کا الزام لگایا جو ”ملکی سا لمیت میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں۔“ اسلحے کے اس ذخیرے کو انہوں نے (دیگر گروہوں کے ساتھ ساتھ) ملک کے بلوچ قوم پرستوں سے جوڑ دیا، بھٹو نے بلوچستان میں جمہوری طور پر منتخب پہلی صوبائی حکومت کو برخاست کرکے انہیں گرفتار کرلیا، ان کے رہنماوں کو ہمسایہ صوبہ سندھ کی جیل میں قید کردیا، اور آخر میں 55 افراد کیخلاف قانونی کارروائی شروع کی جسے حیدرآباد سازش کیس کے طور پر جانا گیا۔ محض دو سال قبل ایک خونی خانہ جنگی کے بعد پاکستان کا مشرقی بازو الگ ہوکر بنگلہ دیش بنا تھا؛ انکی خواہش تھی کہ ایک اور 1971 کو دہرانے سے بچا جائے۔

اسکے بعد جو کچھ ہوا وہ مبینہ طور پر پاکستانی سیکورٹی فورسز کی طرف سے کیا جانیوالا تاریک ترین اور سفاکانہ کارروائیوں میں سے ایک تھا جو بلوچستان میں کیا گیا۔ امریکی ماہر سیاسیات سیلگ ہیریسن نے اپنی کتاب ’افغانستان کا سایہ: بلوچ قوم پرستی اور سوویت تحریص‘ میں لکھا ہے کہ بھٹو نے ایچ 1 گن شپ ہیلی کاپٹر اور ایف 14 لڑاکا طیارے صوبے میں تعینات کیے جو انہیں شاہ ایران کی طرف سے مستعاراً دیے گئے تھے، اور 80,000 فوجی اس بغاوت کو کچلنے کیلئے بھیجے جو صوبائی کابینہ کی برطرفی کے بعد بھڑکی تھی۔

بلوچستان میں شورش برپا ہوئی۔ ﷲ نذر کے بڑے بھائی، جن کی عمر اسوقت 25 سال سے زیادہ نہ ہوگی، پہاڑوں میں سرمچاروں کیساتھ جڑ گئے۔ ﷲ نذر نے بتایا کہ انکے والد کو بھائی کے اس فیصلہ پر سزا دی گئی۔ انہیں سیکورٹی فورسز کی طرف سے کئے گئے کئی سرچ آپریشنوں میں سے ایک کے دوران حراست میں لیا گیا، اور چند ماہ کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔

ﷲ نذر بلوچستان کے جنوبی میدانی علاقے آواران کے گاوں میہی میں 1970 میں پیدا ہوئے۔ گاوں کے بزرگوں کی کہانیوں سے انہیں پتہ چلا کہ وہ مغربی بلوچستان یا جنوبی ایران کے دامنیوں کی اولاد میں سے ہیں۔ داستان کے مطابق یہ بات مشہور ہے کہ دامنی قبیلے کے لوگ ایک بار کسی عورت کی عصمت دری پر اٹھ کھڑے ہوئے، اس عورت کو پناہ دی اور اسکی عصمت دری کرنے والے کیخلاف لڑے۔ اس پرانے فیصلے نے انہیں ایک قبائلی جھگڑے میں الجھا دیا اور انہیں مشرق کی جانب دھکیلا جو کہ موجودہ دور کا پاکستان ہے۔
ﷲ نذر نے مجھے بتایا کہ ”ہمیں اپنی تاریخ وراثت میں اسی طرح کی کہانیوں سے منتقل ہوئی ہے۔“

اس طرح کی کہانیاں پاکستان کے قیام کی خرافات کو براہ راست چیلنج کرتی ہیں۔ مرکزی دھارے میں شامل تاریخ کی کتابوں میں کہا جاتا ہے کہ بلوچستان نے 1948 میں پر امن طور پر نئی جمہوریہ پاکستان کیساتھ الحاق کیا تھا۔ لیکن ﷲ نذر کو یہ بتایا گیا تھا کہ بلوچستان پر ”قبضہ“ کیا گیا، جب پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے صوبے میں فوج تعینات کی تھی۔

ﷲ نذر نے ریاست کی نصابی کتب میں تاریخ کے مخصوص طرز بیان کے حوالے سے کہا کہ، ”اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا کوئی وجود ہی نہیں۔ ہماری تاریخ، ہماری زبان، ہماری شناخت کو مسخ کیا گیا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہم لوگ گونگے اور کھوکھلے انسان ہوں۔“ انہیں پتہ چلا کہ نہ صرف 1948 کی داستان متنازعہ تھی بلکہ بلوچستان کا پاکستان کیساتھ الحاق کے بعد وہاں برپا ہوانیوالی چار علیحدگی پسند بغاوتوں کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے اور ان کے ردعمل میں کی جانیوالی سفاکانہ فوجی کارروائیوں کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔

جب وہ 15 سال کے تھے تو وہ میہی سے قریب واقع قصبے گجر مشکے منتقل ہوئے جہاں وہ پہلی مرتبہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ارکان سے ملے۔ بی ایس او طویل عرصے سے تعلیم یافتہ بلوچوں کیلئے ایک فورم تھا جو بلوچستان کے بدنام زمانہ سرداروں میں سے کسی کے ساتھ بھی قریبی طور پر وابستہ نہیں تھا۔ اس گروہ کی سیاست روز اول سے، بجائے قبائلی وابستگیوں کے، قومپرستی رہی ہے، جو پچھلے ادوار میں باغیوں کو ایک جٹ رکھا کرتی تھی۔ یہ اس سیاسی مشغولیت کا آغاز تھا جس نے ﷲ نذر کی زندگی کو بدلنا تھا۔ 1980 کے اواخر میں وہ کوئٹہ منتقل ہوئے جہاں انہوں نے میڈیکل اسکول میں داخلہ لیا، ایک ایسے وقت جب افغانستان، جوکہ صرف تین گھنٹے کے فاصلے پر تھا، امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان طویل سرد جنگ کے دردزہ کے آخری مرحلے میں تھا۔ جنگ نے کوئٹہ پر انمٹ نقوش چھوڑے جو کہ بائیں بازو کے پاکستان کے ”روشن خیال دانشوروں“ کیلئے ایک مرکز بن گیا۔ خود ﷲ نذر نے بھی جلد ہی ”انقلابی ادب“ پڑھنا شروع کر دیا۔

”فرانز فینن کی ’افتادگان خاک‘ کا بلوچی ترجمہ پر ہمارے ہاتھ لگا۔ ہم نے ژاں پال سارتر کی فینن پر تمہید اور پاولو فریرے کی ”تدریس مظلومین“ پڑھی۔ اور ہم نے مارکس، لینن، کاسترو، کافکا، ماو، ہو چی منھ جیسے عظیم لکھاریوں کو پڑھا۔ یہاں تک کہ گیبریل گارسیا مارکیز۔ مجھے اسکی ’ایک سو سالہ خلوت‘ بہت اچھی لگی۔“

سرد جنگ کے خاتمے کیساتھ 1990 کی دہائی کے ابتداء ہی میں ﷲ نذر اور ان کے ساتھیوں کو ان قوم پرستوں کی اس سیاست، جسے وہ ”سمجھوتے والی سیاست“ کہتے ہیں، سے تیزی کیساتھ بیزاری میں اضافہ ہوا، جنکے ساتھ وہ کام کر رہے تھے۔ اس پورے عشرے کے دوران متوسط طبقے کے اعتدال پسند بلوچستان نیشنل یوتھ موومنٹ کے اجتماعی بینر، اور عام طور پر بی ایس او کے تحت کام کرتے رہے۔ یہ گروہ بلوچستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے پیشرو تھے: 1993ء میں قائم شدہ پاکستان نواز نیشنل پارٹی، اور 1994ء میں قائم کی گئی پاکستان مخالف بلوچ نیشنل موومنٹ، اور اسوقت اسے بی ایل ایف کا سیاسی ونگ سمجھا جاتا ہے۔ (دونوں جماعتیں بی این وائی ایم اور بی ایس او کے ارکان کے درمیان علیحدگی کے بعد قائم ہوئیں اور تب سے یہ آپس میں متصادم ہیں۔)

ﷲ نذر نے مجھے بتایا کہ 1999 کو انہوں نے اور انکے بی ایس او کے ساتھیوں نے مسلح بغاوت کے بارے میں بات کرنا شروع کی تھی۔ جنوری 2002 میں پارٹی کے کونسل سیشن سے وہ باہر نکل آئے اور اعلان کیا وہ علیحدگی اختیار کر رہے ہیں اور ایک تنظیم قائم کریں گے جسکا مقصد بلوچ کی آزادی ہوگا۔ اسکے کچھ ہی عرصے بعد انہوں نے بی ایس او (آزاد) کا قیام عمل میں لایا جو بلوچستان کی ”سب سے مقبول ترین طلباء تنظیم“ بنی، جیسا کہ نیشنل پارٹی کے ایک سینئر سیاستدان نے مجھے بتایا۔ گزشتہ سال کے عام انتخابات سے قبل پاکستانی حکومت نے، اپنے طریقے سے اس کی مقبولیت کا اعتراف کرتے ہوئے، عدم تشدد پر یقین رکھنے والی تنظیم بی ایس او (آزاد) کو بھی سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی جیسی عسکریت پسند اسلامی گروہوں کی طرح کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کردیا۔

لیکن ﷲ نذر خود جلد ہی اپنی تنظیم، جوکہ مکمل طور پر سیاسی تھی (اوراب بھی ہے)، سے نکل کر دوسری تنظیم میں چلے گئے۔ انہوں نے سیدھا سیدھ ایک عسکریت پسند تنظیم میں شمولیت اختیار کی تاکہ ”وہ ہتھیار اٹھائیں، اور ایک خود مختار اور فلاحی ریاست کے قیام کیلئے لڑیں،“ انہوں نے کہا۔ اس وقت ﷲ نذر اور ان کے ساتھی مریوں سے منسلک بلوچ لبریشن آرمی جیسی تنظیم کے مقابلے میں محض نوسیکھیے تھے جنہیں گوریلا جنگ کے فن میں طویل تجربہ حاصل تھا۔ لیکن، کم وقت میں ہی ان نئے آنے والوں نے بغاوت کی اس نئی لہر کے محاذوں پر خود کو مضبوطی سے جما لیا۔

مورخہ 2 مئی 2004 کو بلوچستان کے جنوبی ساحلی شہر گوادر میں ایک بم دھماکے سے تین چینی انجینئر ہلاک اور 11 دیگر افراد زخمی ہوئے۔ حملے کا دعویٰ ایک مسلح علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کی طرف سے کیا گیا جوکہ 2003 میں قائم کی گئی یا دوبارہ بحال کی گئی تھی، اس بات انحصار اس پر ہے کہ آپ یہ کس سے پوچھ رہے ہیں۔ ایسی کئی دیگر تنظیموں کی طرح بی ایل ایف کے قیام کے حوالے سے بھی بہت سی مختلف باتیں کہی جاتی ہیں۔ کچھ اسے جمعہ خان مری، ایک بلوچ قوم پرست، سے نتھی کرتے ہیں اور یہی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 1964 میں دمشق میں قیام کے دوران ایک گروہ قائم کیا تھا، اور کچھ اسے خیر بخش مری اور 1970 کی بغاوت سے منسلک کرتے ہیں۔ ﷲ نذر کے ساتھ ساتھ دیگر کا کہنا ہے کہ اس گروہ کا خیال 1999ء میں سامنے آیا اور 2003ء میں اسے قائم کیا گیا۔ میں حتمی طور پر اس کی توثیق کرنے سے قاصر ہوں کہ ان میں کونسی بات حقیقت سے قریب تر ہے۔ لیکن یہ بات یقین کیساتھ کہی جاسکتی ہے کہ بی ایل ایف نے اپنی موجودہ شکل میں 2003 میں کام کرنا شروع کیا، اور یہ کہ ﷲ نذر، جنہوں نے اسی سال مارچ میں ایک تربیتی کیمپ میں شمولیت اختیار کی تھی، گوکہ اس کے قیام کے آغاز میں اسکے رہنماوں میں سے نہ تھے لیکن اسوقت وہ اسکے ارکان میں سے ایک تھے۔ ﷲ نذر نے مجھے بتایا کہ نئے بی ایل ایف کو کئی علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت حاصل ہوئی جو اس حوالے سے زیادہ تجربہ رکھتے تھے؛ بلوچ رہنما اکبر بگٹی کی بھی حمایت حاصل ہوئی جوکہ تاریخی طور پر اسٹابلشمنٹ نواز شخصیت تھے لیکن اپنے آخری سالوں میں وہ ایک سخت گیر علیحدگی پسند بن گئے۔

اسی سال پاکستان کے فوجی حکمران پرویز مشرف نے چین کی مدد سے ایک چھوٹے سے ساحلی گاوں گوادر کو ایک منافع بخش پاکستانی اثاثے میں تبدیل کرنے کی ٹھانی۔ ﷲ نذر نے کہا کہ ”گوادر ایک علامتی حملہ تھا اور چینی انجینئرز ایک درست ہدف۔ وہ یہاں نوآبادیاتی مشینری کا حصہ بننے اور ہمارا استحصال کرنے کیلئے آئے تھے، نہ کہ حلوہ بانٹنے۔“ ﷲ نذر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے خود اس حملے میں حصہ نہیں لیا، انہوں نے اور ان کے ساتھیوں میں سے کسی نے بھی ایسی کسی کارروائی کے بارے میں بات کرنے سے انکار کیا جس میں انہوں نے خود حصہ لیا ہو۔

بی ایل ایف کو نہیں لگتا تھا کہ گوادر اقتصادی ترقی کیلئے کوئی خوش آئند موقع ہے جسکا مشرف حکومت نے پاکستان کے لوگوں سے وعدہ کیا تھا۔ غریب مچھیرے جو کئی نسلوں سے اس ساحل پر آباد تھے، تعمیرات کے نام پر انہیں وہاں سے زبردستی بے دخل کیا گیا۔ ٹھیکیدار تو پہنچے، لیکن مقامی بلوچ کیلئے روزگار نہیں پہنچا۔ پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا، اچانک وہاں کشادہ سڑکیں بنیں، نئی حکومتی عمارتیں، ہائی ٹیک سازو سامان اور بندرگاہ بنی لیکن ان چیزوں سے بی ایل ایف کے احباب اور اہل خانہ کی زندگیوں میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ اس گروہ کو یہ یقین تھا کہ پاکستانی ریاست وہی کر رہی ہے جو وہ ہمیشہ کرتی آئی ہے: ترقی کو عذر کے طور پر استعمال کرکے بلوچستان کے قدرتی وسائل کا استحصال کرنا۔

گوادر کی تعمیر پہلا موقع نہیں تھا کہ بلوچ اپنے وسائل کے استحصال کیخلاف ریاست کیساتھ محاذ آرائی کی طرف گئے ہوں۔ کانوں کی کھوج کرنیوالوں نے 1952 میں شمال مشرقی بلوچستان میں سوئی گیس کے ذخائر دریافت کیے جسے دنیا میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ذخیرہ مانا جاتا ہے۔ بلوچوں کی مرکزی حکومت کیخلاف الزامات یہ ہیں کہ گیس اور اسکا منافع بلوچستان سے نکال کر ملک کے باقی حصوں کو خوشحال بنانے کیلئے لے جایا جارہا ہے، اور یہ بات اختلاف اور تنازعہ کا ایک اہم سبب بنی ہوئی ہے۔ پٹرولیم و قدرتی وسائل کی وزارت کے مطابق آج بھی حکومت شہری بلوچستان میں گیس کی مانگ کا صرف 41 فیصد ہی پورا کر پارہی ہے۔ حکومت گیس کی فراہمی کے حوالے سے صوبے کے وسیع فاصلے اور بکھری ہوئی منتشر آبادی کو مورد الزام ٹھہراتی جو کہ بنیادی طور پر سیاسی نہیں بلکہ رسد کا مسئلہ ہے۔

میرے ساتھ اپنے انٹرویو میں ﷲ نذر کا کہنا تھا کہ پاکستانی ریاست کی ”نوآبادیاتی حکمت عملی“ بی ایل ایف کے خونی اقدامات کا جواز ہیں۔ لیکن اگر کبھی بھی ان کے ذہن میں بی ایل ایف کے منتخب کردہ راہ کے بارے میں کوئی شکوک و شبہات ہوئے ہوں، وہ محض ایک سال بعد ختم چکے تھے، جس دن پاکستانی ریاست نے انہیں ”غائب“ کیا تھا۔

(جاری ہے)

نوٹ: اس مضمون کے اصل متن میں چند غلطیاں اور خامیاں تھیں جنکی نشاندہی مصنف کو کردی گئی تھی لیکن اسکے باوجود انہیں درست نہیں کیا گیا۔

بشکریہ: کاروان میگزین(ہندوستان)
تاریخ اشاعت: یکم جولائی 2014
Home Front

[حصہ اول]

Leave a comment

Filed under Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s