داخلی محاذ : بلوچستان کی علیحدگی پسند بغاوت کا بدلتا چہرہ


home-front Sarmachar

تحریر: مہوش احمد
ترجمہ: لطیف بلیدی

[حصہ اول]

مورخہ 25 دسمبر 2012 کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے نیم فوجی فرنٹیئر کور نے علی الصبح چھوٹے سے دور افتادہ گاوں میہی میں فوجی کارروائی کا آغاز کیا۔ تمام مٹھی بھر مقامی اخبارات میں سے کسی نے بھی آپریشن کی طرف توجہ نہیں دی۔ میہی، جوکہ بلوچستان کے اندر بہت دور واقع ہے، کے مکینوں کے مطابق چھ ہیلی کاپٹر اور لگ بھگ دو سو گاڑیاں فوجیوں کو لے کر اس موسم سرما کی صبح وہاں پہنچے۔ فوجی گھر گھر جاکر بندوقیں تانتے رہے اور حیران تھے کہ جب لوگ انکے غیر ملکی جاسوس ہونے کے الزامات کا جواب کلمہ کی قرات کیساتھ دے رہے تھے۔ ”ان کا خیال تھا کہ ہم ہندووں کے ایجنٹ ہیں۔“ ایک جھریوں بھرے کسان محمد امین نے کہا جس نے فوجیوں کی آمد کو دیکھا تھا۔

تین ہیلی کاپٹروں نے گاوں کے اوپر چکر لگائے اور مٹی سے بنے کچھ گھروں پر گولہ باری کی۔ چند خالی جھونپڑیوں پر مارٹر گولوں کے

File Photo

File Photo

سوراخ اب بھی اس منظر کا حصہ ہیں۔ امین نے کہا کہ ”ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے زمین جل رہی ہو اور آسمان گولیاں برسا رہا ہو۔“ مزید تین ہیلی کاپٹر گاوں کی ایک مسجد کے سامنے اترے جہاں عورتوں اور بچوں نے خود کو چھپا رکھا تھا۔ ایک کسان خاتون مہناز نے کہا کہ ”فوجیوں نے ہمیں باہر نکالا اور کئی گھنٹوں تک باہر سردی میں کھڑا کیا۔“ دیگر قریبی دیہات بھی اسی طرح کے حملوں کی زد میں آئے۔ آپریشن کے ختم ہونے تک فرنٹیئر کور نے میہی کے ارد گرد 12 چوکیاں قائم کرکے تمام داخلی اور خارجی مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

پہلی نظر میں میہی اتنا سنگین خطرہ نہیں دکھتا جسکے لئے وہاں فوج تعینات کی جائے۔ یہ قریب ترین شہر کراچی سے 12 گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے جوکہ ریتیلے بھورے مٹی کے جھونپڑیوں پر مشتمل ہے جہاں چند سو کسان اپنا وقت بھیڑ بکریاں چرانے میں گزارتے ہیں۔ کارروائی کے بعد بلوچ اخبارات میں ناقدین نے اس کو کوریج دینے میں ناکامی پر پاکستانی میڈیا کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ عبدالمالک، جوکہ کبھی سینیٹ کے ایک رکن تھے اور اسوقت بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ہیں، نے دعویٰ کیا کہ آپریشن میں معصوم لوگوں کی جانیں لی گئی ہیں اور اس شدید بمباری نے کئی دیہات تباہ کر دیے ہیں۔ مالک نے طیش میں آکر کہا کہ یہ ایک ”نسل کشی“ ہے جسے روکنے کی ضرورت ہے اور یہ ایک ”درندگی“ ہے جسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ لوگ جنہیں میہی کے بارے میں معلوم نہیں، ان کیلئے یہ حملہ اس روز بروز بڑھتی ہوئی تشدد کی ایک واضح مثال ہے جسکا استعمال پاکستانی سیکورٹی فورسز کی جانب سے اپنے ملک اندر کیا جارہا ہے۔

تاہم کئی عینی شاہدین کا یہ دعویٰ تھا کہ فرنٹیئر کور نے ایک انتہائی ٹارگٹڈ آپریشن کیا تھا۔ میہی کے آخری نکڑ پر ایک چھوٹی سی ڈھلان پر شکستہ حال مٹی کے جھونپڑیوں کی ایک بستی بہت سارے ملبے کے درمیان اب بھی موجود تھی۔ جھونپڑیوں کے اندر چھتوں کو سہارا دینے والی اسٹیل کی لمبی سلاخیں منہدم ہوچکی ہیں اور کھڑکیوں کے ٹوٹے ہوئے شیشوں کے ٹکڑے انجان مہمانوں کے پیروں کو چھید کر سکتے ہیں۔ ایک جھونپڑی کے فرش پر میڈیکل کی ایک کتاب کے جلے ہوئے صفحات بکھرے پڑے ہیں۔ اسلامی سیاسی فلسفہ کی ایک پھٹی ہوئی کتاب کے صفحات ایک کونے میں ملبے کے ڈھیر تلے پڑے ہوئے ہیں۔ علیحدگی پسند اخبار روزنامہ توار — جسکے کراچی کے دفتر پر نامعلوم حملہ آوروں یا سیکورٹی فورسز، یہ بات اس پر منحصر ہے کہ آپ یہ کس سے پوچھ یہ رہے ہیں، نے میہی آپریشن کے چند ماہ بعد حملہ کیا تھا — کے صفحات کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے خالی کمرے کے ارد گرد پھڑ پھڑا رہے ہیں۔ مہناز نے کہا کہ اس صبح جب فوجی یہاں جب آئے تھے تو وہ ایک شخص کو تلاش کر رہے تھے جو کبھی ان میں سے ایک جھونپڑی میں رہا کرتا تھا: ان کے بھائی ڈاکٹر اللہ نذر اور بلوچستان لبریشن فرنٹ، ایک ثقافتی نسلی قوم پرست ملیشیا جوکہ بلوچستان کی مکمل آزادی کیلئے لڑ رہی ہے، کے کمانڈر۔

آج جب پاکستان میں جنگ اور عسکریت پسندی اکثر القاعدہ اور طالبان کی سرگرمیوں کے ساتھ منسوب کی جاتی ہیں، حتیٰ کہ پاکستان کے اندر چند لوگ بھی بلوچستان کی علیحدگی پسند تحریک کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے ہیں جوکہ کئی عشروں سے وہاں پنپ رہی ہے۔ بلوچستان کے ”لاپتہ افراد“ کی کہانیوں نے پریس اور حکام کی کچھ توجہ تو حاصل کی ہے — خاص طور پر عدالتوں کا پاکستانی سیکورٹی فورسز کیخلاف الزامات کی تحقیقات کرانے سے– لیکن شاذ و نادر ہی اسے بلوچ علیحدگی پسندوں اور پاکستانی ریاست کے درمیان جاری ایک مسلسل جنگ کے تناظر میں دکھایا گیا ہو۔ بہت ہی کم لوگوں نے ابھی تک ڈاکٹر سے گوریلا کمانڈر بننے والے ﷲ نذر کے بارے میں سنا ہے جنہیں بلوچ طلباء تحریک — بشمول بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) کے، جسکی بنیاد انہوں نے ایک دہائی قبل رکھی تھی– میں ملوث ہونے کے سبب پاکستانی سیکورٹی فورسز کی نے اغواء کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ ﷲ نذر اسوقت ایک متوسط طبقے — انجینئروں، کسانوں، تارکین تعلیم طالبعلموں، سابق پولیس والوں، دکانداروں اور دیگر عام افراد — کی بغاوت کی رہنمائی کررہے ہیں جوکہ بلوچستان کی 67 سالہ تحریک آزادی کا تازہ ترین اعادہ ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں بہت سارے جنگی محاذ کھلے ہوئے ہیں، ﷲ نذر پاکستانی ریاست اور ہمہ گیر علیحدگی پسند سرمچاروں — یہ جنگجووں کیلئے بلوچی لفظ ہے جسکا مطلب ہے کہ ”وہ جو اپنے سر کو قربان کرنے کیلئے تیار ہیں“ — کے گروہوں کے درمیان لڑی جانیوالی ایک پرانی جنگ میں مصروف عمل ہیں۔

پاکستانی ریاست کیلئے بلوچستان دونوں، یعنی ایک اسٹراٹجک اثاثہ بھی ہے اور ملک کو مکمل کرنیوالے معمے کا ایک اٹوٹ ٹکڑا بھی۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے؛ یہ ملک کے رقبے کا 45 فیصد بنتا ہے، اور یہ ایران اور افغانستان کی سرحد پر واقع ہے۔ ملک کا سب سے طویل ساحل یہیں ہے، اور یہاں سب سے بڑے قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں، اور اس میں وسیع اقسام کے وسائل ہیں جیسا کہ کوئلہ، تیل، تانبا، سونا، سیسہ اور جست۔ دیگر ممالک نہ صرف بلوچستان پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں بلکہ مختلف اوقات میں اس کے اندرونی معاملات میں ملوث بھی رہے ہیں۔ گو کہ ملوث ہونے کی نوعیت مختلف رہی ہے: علیحدگی پسند بغاوت کی معاونت (افغانستان، مبینہ طور پر بھارت)؛ بغاوت کو کچلنے کیلئے گن شپ ہیلی کاپٹروں اور لڑاکا جیٹ طیاروں کی تعیناتی (ایران)؛ گہرے پانی کی ایک منافع بخش بندرگاہ کی تعمیر اور آپریشن (چین)؛ صوبے کے پرندوں کا شکار (سعودی عرب)؛ اپنے علاقے کے بعض حصوں پر ایک پرانا لیز (عمان)؛ افغانستان میں اپنی فوج کو سامان کی ترسیل کیلئے اس کی طویل اور پرپیچ سڑکوں کی طلب (امریکہ)؛ اور اس کی معدنی دولت سے مالا مال زمین میں کان کنی کیلئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری (جس کے ہتھے کوئی ٹھیکہ لگ جائے)۔

بلوچ علیحدگی پسندوں کیلئے افغان اور بھارتی معاونت کی افواہیں حسب معمول پاکستانی حکام کے درمیان شور و غل کا سبب بنتی رہتی ہیں۔ گزشتہ اکتوبر کو پاکستان کے اس وقت کے سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ماضی میں غیر دستیاب ”بلوچستان میں تشدد کے واقعات میں غیر ملکی ہاتھ کے ثبوت“ بھارتی حکام کو پیش کیے تھے۔ وکی لیکس کی 2010 کی ایک دستاویز اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی نے ایک نوجوان بلوچ علیحدگی پسند رہنما براہمدغ بگٹی کو کئی سال تک پناہ دے رکھی تھی (انہیں آخر کار سیاسی پناہ کیلئے سوئٹزرلینڈ بھیجا گیا، اس اقدام کو امریکی حمایت حاصل تھی)۔

آج اس تنازعہ میں ﷲ نذر سب سے اہم عسکریت پسند رہنماوں میں سے ایک کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ وہ صوبے میں سرگرم علیحدگی پسند ملیشیاوں کے تین کمانڈروں میں سے ایک ہیں، وہ واحد رہنماء ہیں جو بلوچستان میں موجود ہیں، اور وہ واحد رہنماء ہیں جو کسی قبائلی حاکم خاندان سے تعلق نہیں رکھتے۔ انکی پود کے دیگر دو کمانڈر — براہمدغ بگٹی اور ہیربیار مری، وہ بھی یورپ میں جلاوطنی میں رہ رہے ہیں– طاقتور قبائلی خاندانوں میں سے ہیں جنکے بزرگ کبھی صوبائی حکومت میں کابینہ سطح کے عہدوں پر تعینات رہے ہیں اور ریاست کیخلاف شورش کو منظم اور انکی قیادت بھی کرتے آئے ہیں۔ بلوچ تحریک کی قیادت کا تعلق 1970 کی دہائی سے بائیں بازو سے رہا ہے؛ تجربہ کار علیحدگی پسند رہنما خیر بخش مری، جو اس سال جون میں انتقال کرگئے، مشہور مارکسی تھے، اور اس رجحان کا تسلسل ﷲ نذر سمیت دیگر نوجوان رہنماوں کے درمیان بھی موجود ہے۔ بہر حال، صوبے کی قوم پرست صفوں میں سے ﷲ نذر کا ابھرنا تحریک کی قیادت کے ڈھانچے میں ایک بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایک وہ جسکی قیادت سردار یا قبائلی رہنماء کیا کرتے تھے اور ایک یہ جس کی افرادی قوت اور قیادت متوسط طبقے کے غیر قبائلی بلوچوں کے دستے کر رہے ہیں۔ ﷲ نذر کی قیادت تحریک کے مرکز کی شمال مشرقی بلوچستان — جوکہ مریوں اور بگٹیوں کا مسکن ہے اور اپنے دیرینہ علیحدگی پسند جذبات رکھنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے — سے ترسیلات زر امیر، شہری خصوصیات رکھنے والے جنوب کی جانب منتقل ہونے کی تبدیلی کی نظیر پیش کرتا، جو کہ ایک تعلیم یافتہ اور بڑھتے ہوئے پیشہ ور طبقے کا مسکن ہے، اور تاریخی اعتبار سے یہ فریق ثانی کے طور پر صوبے کی سیاست میں حصہ لیتے آئے ہیں۔

دو سال کے عرصے میں صوبے کے اندر، اور اسکے ساتھ ساتھ کراچی اور اسلام آباد جیسے شہروں میں بلوچوں کیساتھ ایک سو سے زائد انٹرویو کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ بی ایل ایف اور دیگر متوسط طبقے کی تنظیمیں جیسا کہ بلوچ نیشنل موومنٹ اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ متوسط طبقے کے بلوچ تیزی سے بدلتی ہوئی علیحدگی پسند تحریک کیلئے ہمدردی رکھتے ہوئے ریاست پرستوں سے کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں اور انتخابی سیاست چھوڑ رہے ہیں۔ ریاست کے سخت گیر ردعمل — فوجی کارروائیاں، اغواء اور تحریک کی سیاسی تنظیموں پر پابندی — نے علیحدگی پسندوں کی حمایت کی مزید حوصلہ افزائی کی ہے۔

علیحدگی پسند تحریک میں ﷲ نذر کے کردار نے ان کو اسلام آباد کی اسٹابلشمنٹ کے ریڈار کے بالکل مقابل لاکھڑا کیا ہے۔ مئی 2013 کے عام انتخابات کے فوراً بعد نیشنل پارٹی، جوکہ بلوچستان میں حکومت کر رہی ہے، کے ایک ممتاز سیاستدان سے ایک انٹرویو کے دوران جب میں نے ﷲ نذر کا ذکر کیا تو ان کے الفاظ سٹپٹانے لگے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اور ﷲ نذر کے نام کا ذکر ایک ساتھ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ، ”میری زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔“ (نیشنل پارٹی اور بی ایل ایف طویل عرصے سے ایک دوسرے کے شدید مخالف رہے ہیں جیسا کہ نیشنل پارٹی، اپنے سینئر ترین رہنماوں میں سے ایک، مولا بخش دشتی کی 2010 میں قتل کیلئے بی ایل ایف کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ بی ایل ایف اس الزام کی سختی سے تردید کرتی ہے۔) انٹر سروسز انٹیلی جنس ایجنسی کے بلوچستان ڈیسک کو بھیجے گئے سوالات کا جواب نہیں ملا، اسی طرح سے بلوچستان میں فرنٹیئر کور کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل محمد اعجاز شاہد سے انٹرویو کی درخواست کا بھی کوئی جواب نہیں ملا۔ فرنٹیئر کور اور پاکستان آرمی کے دیگر سیکورٹی حکام کیساتھ انٹرویو کی اجازت انہیں گمنام رکھنے کے میرے وعدہ کے بعد ملی۔

اسلام آباد میں ایک خصوصی استقبالیہ میں عبدالقادر، جو کہ بلوچستان میں فوج کے سابق کور کمانڈر تھے اور اب وفاقی حکومت میں وزیر ہیں، نے مجھے بتایا کہ ﷲ نذر ”ایک طالب علم رہنما تھے جو مقبول ہو گئے۔“ بے شک، ﷲ نذر کے حامیوں کیلئے تو وہ انکے روز مرہ کے ہیرو ہیں — وہ جو ایک طالب علم سے میڈیکل ڈاکٹر بنے اور پھر ایک گوریلا۔ ”ﷲ نذر کی مقبولیت کی ظاہری وجہ انکا متوسط طبقے کا پس منظر ہے،“ ملک سراج اکبر، جو کہ ایک کالعدم آن لائن میگزین بلوچ ہال کے ایڈیٹر ہیں، نے مجھے بتایا۔ ”بلوچ ان کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ’ یہ وہی شخص ہے جسے ہم اسکول میں ملے تھے،‘ یا ’ یہ وہی ہے جو مقامی بس پر سفر کرتا تھا۔“‘

ﷲ نذر 2005 سے عوامی اجتماعات میں نہیں آتے جب انہیں سیکورٹی فورسز نے اغوا کیا تھا، تب سے وہ بلوچستان کے پہاڑوں میں روپوش ہیں۔ لیکن ملک بھر میں بلوچوں سے بات کرکے مجھ پر ان کی مقبولیت کی وسعت کا انکشاف ہوا۔ میری ایک نوجوان لڑکے سے ملاقات ہوئی، جب اس نے پہلی بار ﷲ نذر کے پیر چھونے کے بارے میں بات کی تو اسکا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ ان لڑکیوں سے ملی جنہوں نے انہیں طویل اور مایوس کن خطوط لکھے کہ وہ کب پہاڑوں میں انکے ساتھ ہونگے۔ مجھے وہ شاعر ملے جنہوں نے ان کے نام پر بلوچی نغمے لکھے۔ تیرتیج کے چھوٹے سے بلوچ گاوں کے ایک ذکر خانے — بلوچستان کے ذکری مسلمانوں کی مسجد — میں خواتین کے ایک گروہ نے بتایا کہ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی جسیم قمیضوں کی پیچیدہ کڑھائی کے نام بھی ان سے منسوب کیے ہیں۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے بولان میڈیکل کالج میں ایک تربیتی مرکز کی دیوار پر، جہاں ﷲ نذر ایک طالب علم تھے، بلوچ نوجوانوں نے انکا نام شکستہ انداز میں رواں خط کیساتھ بڑے بڑے سرخ حروف لکھا ہوا تھا۔ ایک اور دیوار پر چاکنگ کی گئی تھی جس میں بی ایس او (آزاد) کے ارکان نے کمیونسٹ انقلابی چے گویرا کے منقوش چہرے کیساتھ ان کا ایک مشہور قول لکھا ہوا تھا، ”ہر وہ شخص جو اپنی قوم کیلئے لڑے، میرے بڑے بھائی ہیں۔“ جب میں نے بلوچ طلباء سے دیوار کی اس نقاشی کے بارے میں پوچھا تو انہوں مجھے نے بتایا کہ گویرا ان کی تنظیم کے بانی ”ڈاکٹر“ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

مبہم ای میل کے تبادلوں اور سیٹلائٹ فونز اور بلا شناخت کے نمبروں سے گمراہ کن کالز کے کئی ماہ بعد آخر کار نومبر 2013 کو میں ﷲ نذر کیساتھ آمنے سامنے بیٹھی۔ دو دن کے سفر — ہوائی جہاز، وین، موٹر سائیکل اور پیدل، اور نو افراد کے ایک مسلح موٹرسائیکل قافلے کیساتھ آخری دس گھنٹے کی مسلسل سواری — کے بعد میں جنوبی بلوچستان کے ایک چھوٹے سے پہاڑی مقام پر پہنچی۔ کجھور کے درخت کی پتیوں سے بنے دو جھونپڑے اس قدرتی منظر کی تصویر میں دلجمعی کیساتھ ایستادہ تھے جنکی حفاظت ستاروں بھرے آسمان والی رات تلے چاروں اطراف میں ٹیلوں پر بیٹھے کلاشنکوف تھامے لاغر و درازقد سرمچار کررہے تھے۔

گلابی لباس میں ملبوس ایک نوجوان خاتون جسے میرے ساتھ بھیجا گیا تھا، جھونپڑی میں مجھے قہوہ پیش کیا جہاں میں اور وہ آرام اور ﷲ نذر کا انتظار کررہے تھے۔ چٹائیاں اور کمبل فرش پر بچھے ہوئے تھے۔ ہماری روشنی کا واحد ذریعہ ایک بلب والی بتی تھی جو ایک پورٹیبل بیٹری سے منسلک تھی اور ہمیں گرم رکھنے کیلئے ایک سنہری سرخ چولہا تیار کیا گیا تھا۔ یہ تقریباً آدھی رات تھی، اور ہم پہاڑوں کی مکمل خاموشی میں لپٹے بیٹھے تھے۔ میری ساتھی آگے جھکی اور چولہے کے قریب پڑے چھوٹے سے ڈھیر میں سے چند ٹہنیاں اور خشک پتیاں اٹھائیں تاکہ آگ جلتی رہے۔

Dr Allah Nazar with BLF sarmachars

Dr Allah Nazar with BLF sarmachars

چند لمحوں بعد، ہم نے پتوں کی چرمراہٹ اور دروازے پر بڑبڑاتی ہوئی بلوچی سنی۔ میں نے مونچھیں، چمڑے کی خاکی جیکٹ اور ایک ایم 16 رائفل دیکھی۔ اﷲ نذر داخل ہوئے جن کے دونوں اطراف شال سے اپنے چہرے ڈھانپے آر پی جیز تھامے مضطرب لڑکے تھے۔ ان کی آنکھوں کی سفیدی اس جھوپڑی کے اندھیرے میں تقریباً نین کی طرح روشن تھے۔

اپنے رہنماءکے آگے وہ تقریباً خاموش مو¿دبانہ انداز میں پیچھے کھڑے تھے، وہ اﷲ نذر سے پہلے میرا خیر مقدم نہ کرنے کو ترجیح دے رہے تھے۔ بلب کی روشنی تلے میں نے اﷲ نذر کے چھوٹے بال، شلوار قمیض، اور ان کے پاو¿ں میں چپل دیکھی۔ انہوں نے سر ہلایا اور بے تکلفی سے کہا کہ، ”تقریباً ہالی وڈ کی ایک فلم کی طرح، ہاں نہیں؟“

(نوٹ: اس مضمون کے اصل متن میں چند غلطیاں اور خامیاں تھیں جنکی نشاندہی مصنف کو کردی گئی تھی لیکن اسکے باوجود انہیں درست نہیں کیا گیا۔)

بشکریہ: کاروان میگزین
تاریخ اشاعت: یکم جولائی 2014
Home Front

1 Comment

Filed under Write-up

One response to “داخلی محاذ : بلوچستان کی علیحدگی پسند بغاوت کا بدلتا چہرہ

  1. Dear Mahvish Ahmed your interview with Dr. Allah Nazar is very inspiring. But it is very brief & incomplete. Although there is very little conversation with our beloved Baloch Hero Allah Nazar; as such it is insatiable to satisfy the thirst of people of Balochistan, who are eager to listen the words of their Leader Dr. Allah Nazar. It seems that it is more about your troublesome travel to deserted areas of Balochistan than high-lighting the
    circumstances, which forced Dr.Allah Nazar to abandon & sacrifice all opportunities of a luxurious life after completion of his M.B.B.S; and adopt & choose the most hard line for the sake of restoration of the rights of millions of his oppressed and deprived Baloch masses. Anyhow we are
    highly grateful to you for risking your life and using your pen in the right
    direction. Expecting that you would make it convenient to write more on this
    subject or atleast complete your interview of Dr.Allah Nazar and thanks.
    Balochjk.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s