بی ایس او آزاد کے قائم مقام چیئرمین بانک کریمہ بلوچ کے گھر پر چھاپہ


Banuk Kareema Baloch

گذشتہ شب بی ایس او آزاد کے قائم مقام چیئرمین بانک کریمہ بلوچ کے گھر پر چھاپہ لگا یا گیا اور بعد ازاں اہلخانہ کو شدید زدو کوب کیا گیا

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ سیاسی جماعتوں اور کارکنان پر ریاستی فورسز کے بلا جواز حملے جاری ہیں ۔ گذشتہ شب بی ایس او آزاد کے قائم مقام چیئرمین بانک کریمہ بلوچ کے گھر پر چھاپہ لگا یا گیا اور بعد ازاں اہلخانہ کو شدید زدو کوب کیا گیا ۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد ایک پر امن طلباء تنظیم ہے اور پر امن ذرائع استعمال کرکے سیاسی جدو جہد کررہی ہے لیکن بلوچستان میں جہاں مذہبی شدت پسند گروہوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ جب چاہیں بلوچ خواتین پر حملے کریں ، وہیں بی ایس او آزاد جیسی پرامن سیاسی تنظیم کے کارکنان اور رہنماوں کیلئے عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے ۔

بی ایس او آزاد کے کے سیکریٹری جنرل رضاجہانگیر کو شہید اور مرکزی چیئرمین زاہد بلوچ کو اغواء کرنے کے بعد اب ریاستی ادارے تواتر کے ساتھ بی ایس او آزاد کے قائم مقام چیئرپرسن بانک کریمہ بلوچ کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔

گذشتہ شب ایف سی نے تمپ میں واقع بانک کریمہ کے گھر پر فورسز نے چھاپہ مار کر اہلخانہ کو شدید زدو کوب کرکے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی اور گھر میں موجود کئی افراد کو اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے ، جنہیں تین گھنٹے تک حراساں کرنے کے بعد رہا کیا گیا ، یاد رہے اس سے پہلے بھی بانک کریمہ بلوچ کے گھر پر ایف سی نے دو بار مارٹر گولوں سے حملہ کیا تھا جس سے گھر کو شدید نقصان پہنچا تھا ۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بی ایس او آزاد کو ریاستی ادارے نشانہ بنارہے ہیں اور اسے ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ اب تک درجنوں کارکنوں اور رہنماوں کو شہید اور سینکڑوں کو لاپتہ کیا جاچکا ہے ، حال ہی میں بی ایس او آزاد کے چیئرمین زاہد بلوچ کو بھی اغواء کیا گیا جس کے خلاف بی ایس او آزاد سراپا احتجاج ہے ۔

ایک پر امن طلباء تنظیم پر یوں آئے روز حملے اور طلباء کیلئے پر امن سیاست کے تمام راہیں متروک کرنا ۔ بی ایس او آزاد آج جو پر امن جمہوری جدوجہد کر رہا ہے اس کی اجازت اسے تمام عالمی قوانین دیتے ہیں ۔ تنظیم سازی ، اپنے نظریات کا پر امن پرچار ، اظہارِ رائے کی آزادی کسی بھی شخص کو حاصل وہ سیاسی آزادی ہے جسے عالمی قوانین یقینی بناتے ہیں ۔

ہم بی ایس او آزاد کے قائم مقام مرکزی چیئرپرسن بانک کریمہ بلوچ کے گھر پر ہونے والے حملوں اور چھاپوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام عالمی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان واقعات کا نوٹس لیکر بلوچ سیاسی کارکنان کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں اور پاکستان پر دباو ڈالیں ، ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بی ایس او آزاد ایک پر امن سیاسی جدوجہد کررہا ہے اگر ہمارے کارکنوں یا بانک کریمہ بلوچ کو کسی بھی قسم کی گزند پہنچائی جاتی ہے تو اس کے ذمہ دار پاکستان اسکے خفیہ ادارے اور فورسز ہونگے ۔
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد

Leave a comment

Filed under News

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s