بلوچوں کو ‘پسمانده’ اور ‘ناخوانده’ رکهنے والے عظيم ترقی پسند قوم پرست رہنما: نواب خيربخش مری


خان زمان کاکڑ
baba-marri
نواب خيربخش مری چهياسی سال کی عمر ميں انتقال کرگئے اور کوئٹہ ميں بلوچ شہداء کے نيوکاہان قبرستان ميں ہزاروں بلوچ سوگواران، مرد و خواتين کی موجودگی ميں آزاد بلوچستان کے پرچم ميں سپردخاک کردئيے گئے. بلوچوں کے اس ليڈر ، سکالر، استاد اور کامريڈ نواب کے چند بڑے سياسی، علمی اور فکری اوصاف رہے تهے.

بہت دہمے، نرم اور معتدل لہجے و انداز ميں بلوچ مزاحمتی تحريک کی راہنمائی کرنے والے يہ نواب کبهی بهی “اعتدال پسند” نہيں رہے. پاکستان ميں بلوچوں کی ‘ترقی’ کے مخالف تهے. پاکستان کے ساتھ کوئی ‘معاہده’ نہيں کرگئے. ‘پنچابيوں’ کے ساتھ کسی بهی صورت نہيں رہنا چاہتے تهے. پاکستان ميں بلوچوں کے’ حقوق’ کی بات نہيں کرتے تهے. کسی بهی پاکستانی آئين پہ دستخط نہيں کی. ‘تعليم’ کے حق ميں نہيں تهے اور ‘جمہوريت’ کو بهی پسند نہيں کرتے تهے. انہوں نے گريٹر بلوچستان کا آئيڈيا ديا. سٹڈی سرکلز چلائے. بلوچ مزاحمت کاروں کی گوريلاتربيت کی. وه بلوچستان نيشنل پارٹی اور نيشنل پارٹی وغيره کو کبهی بلوچ قوم پرست پارٹياں تسليم نہيں کرتے. مسلح جدوجہد پہ پختہ يقين رکهنے والے ليڈر تهے. اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی پارلمانی سياست ميں حصہ لينے کو قرار ديتے تهے. وه اپنی اس غلطی پہ بڑے نادم تهے. وه حقيقی معنوں ميں بلوچ قومی تحريک کے سب سے موثر مفکر رہے. اتنے موثر کہ موت بهی ان کے اثر کو زائل کرنے ميں کامياب نہيں ہوسکی.بلوچوں ميں سب سے زياده تعصب بهری کہانياں اور مغالطے مری قبيلے کے حوالے سے پائے جاتے ہيں ليکن بلوچ آزادی پسند مجاہدين کا سب سے محبوب ليڈر اسی مری قبيلے کا نواب رہا. اس قبيلے کا شمار انتہائی پسمانده، غريب اور ناخوانده قبيلوں ميں ہوتا ہے ليکن بلوچوں کو جديد سوچ اور جديد نيشنلزم کا سرچشمہ بهی اسی قبيلے ميں ملا. بلوچوں کی مزاحمتی تحريک اور نيشنلسٹ سياست ميں يہ ‘جديديت’ سرمايہ دارانہ جديديت کے خلاف رہی. بالکل ايک مارکسی جديديت يا جديد مارکسزم کے طور پر. اسی لئے تو بلوچ قومی تحريک کے حوالے سے بڑے فکری الجهنوں کے باوجود لوگ خيربخش کو مارکسزم سے ہٹ کرکے ديکهنے ميں کامياب نہيں ہوسکے. ان کی مارکسی سوچ پہ بهی بڑی تنقيد رہی ليکن وه اس حوالے سے بڑے واضح تهے کہ پنجابی مزدور ان کا کامريڈ نہيں بن سکتا. سياست ميں اہميت اس کی تو نہيں ہوتی کہ کون مزدور کی کٹيگری ميں آتا ہے کون نہيں. اہميت تو اس کی ہوتی ہے کہ کون کامريڈ بننے کيلئے تيار ہوسکتا ہے اور کامريڈ بننے کيلئے اس کے پاس کتنی معروضی گنجائش ہوسکتی ہے. پنجاب ميں رياستی قوم پرستی نے تو يہ گنجائش کب سے ختم کی ہے. ابهی جب ماما قدير کا لانگ مارچ دس ملين زندهِ دلان کے شہر لاہور ميں پہنچا تو اسے جوائن کرنے کيلئے دس زنده دلان لاہور بهی بمشکل تيار نہيں ہوسکے. خير بخش پہ يہ حقيقت کئی سال پہلے آشکار ہوئی تهی. خير بخش تو صحيح معنوں ميں ايک دورانديش سياستدان اور سياسی دانشور تهے.بلوچستان کے مسئلے پر پاکستانی رياست کا جو يہ بڑا مشہور موقف رہا ہے کہ بلوچستان کے لوگوں کو وہاں کے سردار پسمانده رکهنا چاہتے ہيں ، يہ کوئی اور سردار کی بات نہيں کی جارہی ، خيربخش کی بات کی جارہی ہے. سردار تو سارے کسی نہ کسی شکل ميں رياست کے ساتھ ملے ہوئے آئے ہيں اور بلوچستان کو ‘ترقی’ دينے کے کام ميں سرگرمِ عمل رہے ہيں. يہ صرف ايک سردار تهے خيربخش مری جو بلوچستان کو “پسمانده” رکهنا چاہتے تهے. (بلوچستان کو ‘پسمانده’ رکهنے ميں غوث بخش بزنجو، سر دار عطاء الله مينگل اور نواب اکبر بگٹی کا کردار نواب خيربخش مری کی نسبت کچھ کم رہا )

خيربخش کی اپنی ايک فلاسفی تهی. ان کی اپنی ايک سياسی ڈکشنری تهی جس ميں ” ڈيولپمنٹ “کا مطلب تها “ری کالونائزيشن، استحصال، استعماريت”. ترقی کی جو تعريف رياست، لبرل دانشور اور اين جی اوز والے کرتے ہيں ہمارے اکثر قوم پرست شعوری يا لاشعوری طور پر اس تعريف کو تسليم کرچکے ہيں ليکن ايک خيربخش مری تهے جنہوں نے اس تعريف کو تسليم کرنے سے انکار کرديا، اس کے خلاف منظم سياست کرنے کا فيصلہ کرديا. خيربخش سے رہنمائی لينے والے بلوچ سرمچار “ترقی” کے خلاف لڑتے رہے. وه “ترقی” کی مخالفت ميں اس حد تک گئے کہ بدترين قدرتی آفات کے دوران بهی رياستی “امداد” اور “خيرات” سے انکار کرتے رہے، امداد او ر خيرات کے کام ميں سرگرم پاکستانی آرمی کو بلوچ علاقوں ميں آنے نہيں ديتے. خيربخش مری کہا کرتے تهے کہ بلوچ تو کبهی پنجابيوں کے ساتھ نہيں رہے ہيں وه کيوں بلوچوں کو ترقی دينا چاہتے ہيں؟ وه انتہائی نرم لہجے ميں پنجابيوں کو مخاطب کرکے بتاتے تهے، “ہم کبهی آپ کے ساتھ نہيں رہے ہيں، ہميں چهوڑ دو، ہم آپ کے ساتھ نہيں رہنا چاہتے ہيں.” ان کی داستان يا نريٹيو ميں کبهی “ہمارا ملک”، “ہمارا پاکستان” اور “ہماری حکومت” جيسے تراکيب آپ کو نہيں مل سکتے. وه اپنے ليے پاکستانی کہلانا ايک گالی سمجهتے تهے.

نقاد اور ڈی کنسٹرکشنيسٹ نواب نے بی بی سی کو ايک انٹرويو ميں بتايا ہے، “ہمارے يہاں جو روٹی بچتی ہے، اسے ‘ودهی’ کہتے ہيں، جو پسمانده لوگوں کو دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ يہ ‘ودهی والے’ ہيں، يعنی مانگ کرکهانے والے. اسے اچها نہيں سمجها جاتا. پنجاب سمجهتا ہے کہ ہميں حصہ دينا ہے. اس کو برے معنی ميں سمجهتے ہيں يعنی ہم ودهی والے ہيں، پسمانده ہيں. دہلی والے (مشرف) اور امريکہ کے غلام پنجابی ہميں پسمانده کہتے ہيں.”

رياستی کے ڈيويلپمنٹ ڈسکورس کی شديد مخالفت کرتے ہوئے وه بہت ساده سا سوال اٹهاتے تهے کہ کيا پنجابی کا نظام سوشلسٹ يا کميونيسٹ ہے کہ وه خير بخش سے زياده بلوچوں کے دوست بنے بيٹهے ہيں؟ ان کے نزديک پنجابيوں کی حثيت ہر دور ميں امپائرز کے فرمانبردار اور اطاعت گزار لوگوں کی رہی تهی، استحصال کرنے والوں کے ساتھ روزگار ميں شريک ان لوگوں کو صرف ايک کام آتا ہے يعنی دوسرے لوگوں کا استحصال کرنا.

دانشور نواب “ترقی” کو بہت ہی پوسٹ ماڈرن معنوں ميں ليتے تهے. وه ڈيولپمنٹ ڈسکورس کا گلوبل سياست سمجهتے تهے . صرف پاکستانی رياست کی حد تک نہيں جس کا ہر ترقياتی منصوبہ ايک بڑی فوجی چهاؤنی کے قيام سے شروع ہوتا ہے بلکہ عالمی سطح پہ ڈيولپمنٹ کا جو ڈسکورس رہا ہے وه انسانوں کے استحصال اور محکوميت کے ايک دور کی سياست کا عکاس ہے. ری کالونائزيشن يا نيو کالونائزيشن کا دور. خيربخش نے کبهی بهی پاکستانی رياست کو پوسٹ کالونيل تناظر ميں نہيں ليا اور اس تناظر کا تو بڑا ہی خلاف رہا جس ميں عوام کی سياست کی اہميت ختم ہوجاتی ہے اور ہر بڑی تبديلی کيلئے ہميشہ بيرونی قوتوں کی طرف ديکها جاتا ہے. ان کی نظر ميں کسی بهی معاشرے ميں تبديلی خود اسی معاشرے کے لوگ ہی لانے کا حق رکهتے ہيں اور وہی اصلی تبديلی ہوتی ہے. ليکن يہاں پہ ايک نکتے کی بڑی اہميت ہے ، خيربخش مری نظام کے اندر، موجوده رياست کے اندر ره کر کسی بهی تبديلی کے حق ميں نہيں تهے يعنی وه شراکت داری (co-optation) کی سياست نہيں کرتے تهے. وه پاکستانی سپريم کورٹ ميں چھ نکات پيش کرنے والوں جيسے نہيں تهے. وه کسی زرداری اور نوازشريف کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے والوں سے ايک سو اسی زاويے کے فاصلے پر کهڑے تهے.

جب پاکستان کے حکمران طبقات بلوچستان کی “پسماندگی” کا حوالہ ديتے ہيں تو ان کے بيانيے ميں يہ واضح ہوتا ہے کہ بلوچوں کا کلچر(سرداری نظام) اس تمام پسماندگی کا ذمہ دار ہے . بالفاظ ديگر وه بلوچستان ميں اس رياست کو قبوليت نہ ملنے کا رونا روتے ہيں جو لوگوں کو “موڈرنائز” کرنے کا کام کرتی ہے. جہاں تک سرداری نظام کا مسئلہ ہے تو اس نظام سے انگريز استعمار اور پاکستانی رياست نے ہميشہ بڑ ا کام ليا ہے.

۱۹۷۲ء ميں جب بلوچستان ميں نيشنل عوامی پارٹی کی حکومت تهی، سردار عطاء الله مينگل وزيراعلی اور نواب خيربخش مری نيپ کے صوبائی صدر تهے، بلوچستان اسمبلی نے سرداری نظام کے خلاف قرارداد پاس کی. اس قرارداد ميں اور قرارداد کے حق ميں ہونے والی تقريروں ميں واضح طور پر کہا گيا ہے کہ قبائلی لحاظ سے سرداری نظام کی اپنی ايک افاديت رہی ہے، ليکن جب انگريزوں نے سرداروں کو خريدنا شروع کرديا اور پهر پاکستانی رياست نے رويال خاندانوں کو نوازنے کا کام جاری رکها تو اس سے لوگوں کو بڑا نقصان پہنچا اور وه اپنے حقوق سے محروم ہوگئے. اس قرارداد ميں وفاقی حکومت سے سرداری نظام کو ختم کرنے کا مطالبہ کيا گيا ليکن بهٹو صاحب نے تنخواه داری کے اس نظام يا دہندے کو ختم کرنے کی بجائےآٹھ مہينے بعد نيپ کی حکومت کو ختم کرديا، بلوچستان پہ فوج کشی شروع کردی اور نيپ کی ليڈرشيپ کو مشہور حيدرآباد ٹريبيونل ميں قيد کرديا. بهٹو صاحب نے ‘قوم’ کے سامنے سچ بات رکهی، انہوں نے کہا ، “اس پارٹی (نيپ) کی لڑائی ميری شخصيت کے ساتھ نہيں تهی،ان کا تصادم ميری حکومت اور پارٹی کے ساتھ نہيں تها. ان کی جنگ، نيپ کی جنگ پاکستان کے خلاف تهی. وه شروع سے پاکستان کے خلاف تهے. ا ن کا تعلق انڈين نيشنل کانگريس سے تها. پاکستان کے قيام کے بعد انہوں نے ايک نئی جماعت بنائی اور اسے نيشنل عوامی پارٹی کا نام ديا. نام تبديل کيا جاسکتا ہے ليکن رويہ نہيں. گہری جڑيں رکهنے والی خصوصيات تبديل نہيں ہوسکتیں، ذہنيت تبديل نہيں ہوئی، دل نہيں بدلا. ميں آپ کو يقين دلاتا ہوں اگر انہوں نے پاکستان کو تسليم کيا ہوتا اور اس کے ساتھ وفاداری کی ہوتی تو آج وه حکومت کرتے. کوئی بهی ا ن کو ختم کرنے کی خواہش نہيں رکهتا. ليکن ان کی بڑی مختلف بنياد تهی.”

سيکولر نيپ کے خلاف خاکيوں، فرشتوں اور نوائے وقتوں کی پشت پناہی کرنے والے ذوالفقار علی بهٹو پهر خو د انہی قوتوں کے ہاتهوں ايک انتہائی ناروا انجام تک پہنچ گئے. بهٹو صاحب کی برطرفی کے بعدخاکی لوگ حيدرآباد جيل آنا شروع ہو گئے تهے کہ نيپ کی قيادت کا اعتماد بهٹو کے خلاف اور ايک آمر کے حق ميں کسی نہ کسی طريقے سے حاصل کيا جائے. ان کا يہ خيال تها کہ نيپ کے راہنماؤں اور کارکنوں، خصوصاً بلوچوں کے ساتھ تو بهٹو صاحب نے بڑا ظلم کيا ہے وه بڑی آسانی سے بهٹو صاحب کے خلاف ايک ڈکٹيٹر کا ساتھ دينگے ليکن معاملہ بڑا مختلف تها. نيشنل عوامی پارٹی تو بائيں بازو کی سياست کی ايک نمائنده جماعت تهی وه جب ايک بدمعاش جمہوريت کے خلاف مضبوطی سے كهڑی ہوسکتی تهی تو ايک جابر ڈکٹيٹر کو کس طرح تعاون فراہم کرسکتی تهی.

موجوده اے اين پی کے ايک ليڈر افراسياب خٹک نواب خيربخش مری کے ساتھ ايک جماعت، ايک جيل اور جلاوطنی ميں ساتھ رہے ہيں. وه حيدرآباد جيل ميں جنرل ضياء الحق کی آمد کی کہانی سناتے ہوئے ايک دلچسپ واقعے کا ذکر کرتے ہيں کہ جب جنرل ضياء نے حيدر آباد جيل ميں ولی خان، غوث بخش بزنجو اور عطاء الله مينگل سےالگ الگ مختصر ملاقاتيں کيں، ان سے کہا کہ ميرے دل ميں آپ لوگوں کيلئے بڑا احترام ہے اورميرا يہ باور ہے کہ آپ”اسلامی جمہوری پاکستان” ميں ايک اہم کردار ادا کرينگے ليکن نواب خيربخش کو يہ بات نہ کرسکے، صرف عليک سليک کی اس لئے کہ خيربخش نے سينے پہ لينن کا ايک بڑا بيج لگايا ہوا تها. بهٹو صاحب کے دور ميں جب بلوچستان ميں فوج کشی جاری تهی تو کراچی سے سردار عطاء الله مينگل کے بڑے بيٹے اسدالله مينگل کو اٹهايا گيا تها اور کافی عرصے سے لاپتہ تهے. جنرل ضياء الحق نے جيل ميں اس ملاقات کے دوران سردار عطاء الله کو بتايا کہ بدقسمتی سے اسد مينگل مزيد زنده نہيں ہيں، وه وفات پاچکے ہيں. افراسياب خٹک بتاتے ہيں کہ جب جيل کے سارے ساتهی سردار عطاء الله کے ساتھ تعزيت کرنے کيلئے جمع ہوگئے، سردار عطاء الله نے کہا کہ ان کا بيٹا بهی ايک بلوچ تها اور بهی بہت زياده بلوچ قتل چکے ہيں ان کا بيٹا انہی ميں سے ايک ہے ان سے مختلف نہيں.

پاکستانی رياست نے نواب خيربخش کو بهی وہی زخم ديا جو سردار عطاء الله کو ديا تها اور خيربخش کا بالکل وہی ردعمل تها جو عطاء الله کا تها. ان دونوں سرداروں کو اپنے دو بيٹوں کی قبروں کی زيارت بهی نصيب نہيں ہوئی اور ان کو يہ ثبوت بهی نہ ملی کہ اسد اور بالاچ کو قبريں نصيب ہوئی ہونگي يا نہيں؟ شہيد اسدمينگل کے بهائی اخترمينگل اور شہيد بالاچ مری کے بهائی چنگيز مری ميں صرف اتنا فرق ہے کہ اول الذکر کچھ کم پاکستان کے ساتھ ملے ہوئے ہيں اور آخرالذکر کچھ حد ہی سے زياده. ليکن خيربخش نے تو اپنی وراثت کو جہاں پہ بهی کوئی آزاد کی جنگ لڑنے والا بلوچ سرمچار رہتا ہے اس کے حوالے کرديا جو ان کے جنازے کے دورا ن ثابت بهی ہوگيا کہ ان کا اصل وارثت کون ہے. اب صرف حربيار نہيں، صرف ڈاکٹر الله نظر نہيں، جدهر بهی کوئی بلوچ سرمچار ہے وه اپنے آپ کو خيربخش کا حقيقی وارث سمجهتا ہے.

انسانی حقوق کی تنظيموں اور اين جی اوز کے رپورٹس ميں بلوچ خواتين کی ايک انتہائی ‘پسمانده’ تصوير ہميں ديکهنے کو ملتی ہے. ان خواتين کو تو خيربخش مری نے اتنی بڑی ‘پسماندگی’ ميں يرغمال بنا رکهی تهيں کہ جب وه وفات پاگئے تو انہی ‘پسمانده’ بلوچ خواتين نے باہر نکل کرکے ان کے ترقی يافتہ سرکاری بيٹے چنگيز مری سے ان کی ميت کو زبردستی چهين ليا اور آزاد بلوچستان کے جهنڈے ميں اسے لپيٹ کرکے اپنی مرضی سے بلوچ شہداء کے قبرستان ميں سپردِخاک کرديا. صرف ‘پسمانده’ لوگ ہی کسی کی خونی وراثت کے حق کو ٹکرا سکتے ہيں. يہ کام تو ترقی يافتہ اور مہذب لوگوں کا نہيں. يہ کام کوئی ‘ترقی يافتہ’ اور ‘تعليم يافتہ’ جنرل عبدالقادر تو نہيں کرسکتا. بلوچ خواتين اب اتنی زياده ‘پسمانده’ ہوچکی ہيں کہ وه سينکڑوں کی تعداد ميں نکل کرکے آزاد بلوچستان کے نعرے لگاتی ہيں، جدوجہد کرتی ہيں، لانگ مارچ کرتی ہيں. فرزانہ مجيد اس ‘پسماندگی’ کی ايک بڑی مثال ہے جو کوئٹہ سے کراچی پهر کراچی سے اسلام آباد پيدل ايک تاريخی لانگ مارچ کرگئی اور اسلام آباد ميں بين الاقوامی برداری اور ميڈيا کو بتايا کہ وه اپنی ‘پسماندگی’ ميں اب اس نتيجے پہ پہنچ چکی ہے کہ پاکستانی رياست سے کوئی مطالبہ کرنے کی بجائے دنيا کے نوٹس ميں صرف يہ بات لانا چاہتی ہے کہ پاکستانی رياست نے بلوچوں کو ‘ترقی ياقتہ’ بنانے کيلئے اس کے بهائی ذاکر مجيد اور ہزاروں بلوچ سياسی کارکنان کو کس ‘نامعلوم بلند مقام’ پہ پہنچايا ہے. ان تمام ‘پسماندگيوں’ کے پيهچے خيربخش مری کا ايک بڑا ہاتھ تها.

نواب خيربخش کو پتہ تها کہ ان کی زندگی ميں بلوچستان آزاد نہيں ہوسکتا ہے ليکن ان کو يقين تها کہ وه ايک مقدس ہدف کی طرف جارہے ہيں، وه ديکھ رہے تهے کہ بلوچوں کی آزادی کی تحريک تيزی سے اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی ہے اور بلوچوں ميں پاکستان کے خلاف نفرت ميں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے.

امريکی مصنف سليگ ايس ہيريسن نے اپنی کتاب In Afghanistan’s Shadow: Baloch Nationalism and Soviet Temptation ميں خيربخش مری کا بڑا دلچسپ شخصياتی اور سياسی خاکہ پيش کيا ہے. جس ميں نواب مری کی سوچ قوم پرستی اور مارکسيت کے ايک خوبصورت اميزے کی صورت ميں سامنے آتی ہے. ہيريسن کے خيال ميں نواب مری مارکس اور لينن کے نظريات کو ايک بلوچ صورتحال ميں ڈال کرکے نيشنل کميونيزم کے طور پر اپنانا چاہتے ہيں.

بلوچ قوم اور پاکستا ن ميں ديگر محکوم اقوام کا طبقاتی سوال ان کے قومی سوال سے علحيده نہيں. خيربخش ديگر قوم پرستوں سے اس لئے بهی بڑے مختلف رہے کہ وه قومی سوال کی وضاحت ميں کبهی طبقاتی پہلو کو نظرانداز نہيں کرتے. بلکہ اکثر تو طبقاتی پہلو کو بنيادی اہميت ديتے تهے. باقی تو اب طبقاتی مسئلے کا ذکر تک نہيں کرتے. جمہوریت بچاؤ، عدليہ بچاؤ اور ميڈيا بچاؤ نعرے ديگر قوم پرستوں کے مقبول سياسی نعرے بن گئے ہيں. اقتدار کی شراکت داری، حصہ داری اور ميڈيا پروجکشن و پاپولزم ميں بلوچوں اور پشتونوں کے “اعتدال پسند” قوم پرستوں کو اسلام آباد مل گيا ليکن ان ايونيوز پہ سفر کرنے سے منکر خيربخش مری کو لاکهوں بلوچوں کے دلوں ميں ہميشہ کيلئے بسنے کی بڑی پروقار رہائش گاه مل گئی. بس اتنا ہی فرق ہے خيربخش کا اور باقيوں کا.

(خان زمان کاکڑ سياسی تجزيہ نگار اور ادبی نقاد ہے. اس کی علمی دلچسپی سماجی علوم کے اس حصے ميں ہے جس ميں محکوم اور ٹهکرائے ہوئے طبقات کی زندگی ، کلچر اور سياست کے موضوعات زيربحث لائے جاتے ہيں)
@khanzamankakar

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s