بلوچستان کی جدوجہد


 

allah-nazar-baloch1

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے رہنماء ڈاکٹر اﷲ نذر سے خصوصی انٹرویو
سیریز: بلوچستان سے جرات کے خاکے

انٹرویو: جہانزیب حسین
ترجمہ: لطیف بلیدی

اس خصوصی انٹرویو میں جہانزیب حسین نے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے موجودہ اعلیٰ کمانڈر ڈاکٹر اللہ نذر سے بات کی ہے جو کہ اس وقت پاکستانی ریاست سے آزادی حاصل کرنے کیلئے مسلح جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ایڈیٹر کیساتھ مراسلت میں اﷲ نذر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستانی پارلیمانی سیاست میں حصہ لینا بلوچستان پر پاکستان کی حکومت کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے۔ مگر پھر بھی وہ کہتے ہیں کہ وہ بندوق کے بجائے کتاب کا انتخاب کریں گے اگرچہ دونوں ایک دوسرے کی رہنمائی کرتے ہیں۔

سوال: کیا آپ پاکستان کے قیام کے بعد بلوچ قوم پرستی کی پیدائش اور اسکے ارتقاء پر کچھ روشنی ڈال سکتے ہیں؟

جواب: بلوچ ثقافت، رسم و رواج، ضابطہءتوقیر اور عمومی نفسیات وہ اجزاء ہیں جو بلوچ قوم پرستی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، جسکی جڑیں صدیوں کی تاریخ میں پیوست ہیں۔ 1948ء میں جیسے ہی پاکستان نے بلوچستان پر حملہ کیا تو اس نے ہماری شناخت کو ختم کرنے کیلئے ہم پر اپنی ثقافتی سیادت نافذ کی۔ اسکولوں میں اردو زبان لاگو کی گئی۔ ہمارے بچوں کو عرب، افغان اور منگول حملہ آوروں کی تاریخ کے بارے میں سکھایا گیا جوکہ ایک طرح سے ہماری اپنی تاریخ سے مکمل طور پر مختلف اور متضاد ہے۔ پنجاب اور دیگر علاقوں سے اساتذہ لائے گئے تاکہ بلوچ طالب علموں کی نئی نسل کو پاکستانیت میں ڈھالا جا سکے۔ ایک طرح سے، ایک سست رفتار ثقافتی نسل کشی کی ابتداء کی گئی۔ آبادیاتی خصوصیات کے توازن کو بدلنے کیلئے، صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور اسکے گردونواح میں بستیاں بسائی گئیں۔

یہ ان عناصر کیخلاف جدوجہد ہے جس نے عصر حاضر کی بلوچ قوم پرستی کو جنم دیا۔ ارتقاء کے کئی مراحل سے گزرنے کے بعد بلوچ قوم پرستی مضبوط نظریاتی بنیادوں پر آکر کھڑی ہوئی ہے۔ آج ہمارے پاس ایک واضح تصور موجود ہے، سیاسی ادارے اور بلوچ ریاست کے قیام کیلئے ایک بلیو پرنٹ موجود ہے جو جدید دور کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوگی۔

سوال: بلوچستان دو طاقتور ممالک، پاکستان اور ایران کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔ اس کے جغرافیائی محل وقوع کو مد نظر رکھتے ہوئے، کیا بلوچستان کیلئے یہ ممکن ہے کہ وہ آزادی حاصل کرلے؟

جواب: یقینا یہ ممکن ہے۔ اگر قبرص ترکی اور یونان کے باوجود اپنے وجود کو برقرار رکھ سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں رکھ سکتے؟ اگر اسرائیل اور فلسطین کیلئے دو ریاستی تصفیہ ایک حل ہو سکتا ہے، تو پھر بلوچستان کیلئے یہاں کوئی ایسا تصفیہ کیونکر نہیں ہو سکتا؟ اس کے علاوہ، چونکہ ان دونوں ممالک، ایران اور پاکستان، سے نکلنے والے خطرات سے نہ صرف اس خطے کو بلکہ پوری دنیا کو خطرہ لاحق ہے۔

پاکستان اور ایران جس طرح سے اپنے وجود کو قائم رکھے ہوئے ہیں، دونوں مذہب کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یہ عالمی سطح پر سب کیلئے ایک پریشانی بن چکے ہیں۔ عراق، افغانستان، شام اور افریقہ میں متعدد ممالک ایران اور پاکستان کی پالیسیوں کی وجہ سے گہرے بحران میں پھنس چکے ہیں۔ ایک طرف پاکستان عالمی طاقتوں کی خدمت گزاری کررہا ہے تو دوسری طرف انہی ممالک کو بلیک میل کرنے کیلئے مذہبی انتہا پسندوں کی حمایت و معاونت کررہا ہے۔ ایران، جوکہ اپنی جغرافیائی و سیاسی مقاصد کیلئے، ان ممالک کیساتھ تعلقات قائم کیے ہوئے ہے جو مغربی مفادات سے منسلک نہیں ہیں۔

اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہے کہ اگر ہم ایک پرامن مستقبل چاہتے ہیں تو اس میں پاکستان اور ایران کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بلوچستان کی آزادی نہ صرف خطے کی بلکہ پوری دنیا کی خوشحالی کیلئے اہم ہے۔

سوال: موجودہ تحریک پچھلی تحریکوں کی نسبت زیادہ بڑے پیمانے پر ہے۔ یہ بلوچستان میں ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے۔ اس کے باوجود یہ بلوچستان کے اندر یا باہر ایک مضبوط سیاسی محاذ تیار کرنے کے قابل نہیں ہوئی ہے۔ کیوں؟

جواب: ماضی میں بلوچ جدوجہد ایک منظم تحریک کے بجائے بغاوت ہوا کرتی تھی، حالانکہ اس میں قوم پرستی کی جھلک بھی ہوتی تھی۔ وہاں پہلے سے کوئی طویل المیعاد سیاسی کام نہیں ہوا کرتا تھا جس پر انحصار کیا جاسکتا۔ سیاسی اداروں کے بجائے یہ قبائل ہوتے تھے جو آواز اٹھاتے تھے۔ لیکن آج کی بلوچ جدوجہد ایک نظریے کی بنیاد پرمکمل طور پر ایک سیاسی تحریک ہے۔ اس کی قیادت بصیرت رکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے۔ ہماری جدوجہد چند قبائل یا قبائلی علاقوں تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے بلوچستان میں پھیلی ہوئی ہے۔ ہر پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ، قبائلی، ڈاکٹر، وکلا، اساتذہ، مزدور، سب اس تحریک کا حصہ ہیں۔

جہاں تک آپ کے سوال کے دوسرے حصے کا تعلق ہے تو میں تسلیم کرتا ہوں کہ اب بھی ہمارے مختلف قوم پرست تنظیموں کے درمیان مضبوط اتحاد نہیں ہے۔ میرے خیال میں یہ قبائلی ذہنیت اور پسماندگی کا نتیجہ ہے جو کہ اب بھی ہم میں کہیں کہیں موجود ہے اور ایک مضبوط سیاسی محاذ کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ لیکن ان کی کمزوریوں کے باوجود تمام تنظیموں کے درمیان ایک نظریاتی قربت موجود ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے رویوں میں بہتری آئیگی۔ ہماری تنظیم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے اس معاملے کے حوالے سے ایک پالیسی سامنے لائے۔ ہمیں امید ہے کہ جلد یا بہ دیر، ہم ایک مضبوط سیاسی اتحاد قائم کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

سوال: اس سے پچھلی یعنی 1973 تا 78 کی بغاوت کی ناکامی کی وجوہات کیا تھیں؟

جواب: جیسا کہ میں نے کہا کہ وہ تحریکیں زیادہ تر بغاوتیں ہوا کرتی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں کسی حد تک ایک قوم پرستانہ پہلو تو موجود ہوتا تھا لیکن وہ قبائلی سرداروں کی زیر قیادت ہوتی نہ کہ سیاسی تنظیموں کے تحت جنکا کوئی روشن خیال سیاسی ایجنڈا ہو۔ قبائلی سرداروں اور دیگر اہم شخصیات کی جانب سے کیے جانیوالے ذاتی فیصلے حاوی رہتے تھے۔ مثال کے طور پر 1973 کی بغاوت کے دوران عطاءاللہ مینگل کے بیٹے منیر مینگل اور مہراﷲ مینگل جب جنگ سے پیچھے ہٹے، اسکے ساتھ ہی تمام سیاسی سرگرمیاں بھی ختم ہوگئیں۔ جب میر سفر خان زرکزئی کو شہید کیا گیا، اس کے ساتھ لڑنے والے ہر شخص نے لڑائی بند کرنے کا فیصلہ کیا۔

چند سال بعد جب 1978 میں اس بغاوت کا اختتام ہوا، ہم نے دیکھا کہ انہی قبائلی سرداروں کے بیٹے پاکستانی پارلیمنٹ کا حصہ بن گئے۔ گل خان نصیر جوکہ 70 کے عشرے کی بغاوت کے ایک اہم کھلاڑی تھے، ضیاءالحق کے ساتھ سمجھوتہ کیا۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس وقت کی قیادت موقع پرست تھی، جب آسانی دیکھی جنگ شروع کردی اور جب کبھی مناسب سمجھا جنگ بندی کردی۔ لیکن آج غلام محمد، لالہ منیر، رزاق گل اور رسول بخش مینگل جیسے رہنماوں کی شہادت کے بعد تحریک کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہوجاتی ہے۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ کی مثال لے لیں: جب ڈاکٹر خالد، دل جان اور سدّو مری کو شہید کیا گیا، ریاست کے ساتھ محاذ آرائی میں کمی واقع ہونے کے بجائے اضافہ ہوا۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آج کی تحریکیں نظریے پر مبنی ہیں اور سیاسی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہیں۔

سوال: گزشتہ بغاوتوں نے کس طرح سے آج کی بلوچ جدوجہد کی تربیت کی ہے؟ آپ کی رائے میں، گزشتہ بغاوتوں سے سیکھے گئے سبق کا اطلاق آج مناسب طور پر کیا جارہا ہے؟

جواب: ہم نے اپنے ماضی کی تحریکوں کی کمزوریوں اور ناکامیوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا، ان تحریکوں کی سب سے بڑی کمزوری تنظیم کی کمی تھی۔ دوم، قبائلی اثر و رسوخ بہت زیادہ تھا۔ موقع پرست قیادت بھی ایک عنصر تھی۔ لیکن آج کی تحریک اس سلسلے میں مختلف ہے۔ یہ سائنسی طور پر منظم ہے اور بلوچ عوام کی انقلابی ضروریات پر مبنی ہے۔ تاہم ہم تسلیم کرتے ہیں کہ آج بھی ہماری تحریک قبائلی اثرات سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہے۔ ہم اب بھی اپنی تحریک میں قبائلی رویے کی جھلک دیکھتے ہیں لیکن مسلسل سیاسی تنظیم اور ایک مضبوط نظریاتی ڈھانچے نے ان اثرات کو کم کیا ہے۔

عوام اور موجودہ قیادت نے ان کی کوتاہیوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب کسی شہزادے یا قبائلی ذہنیت رکھنے والے کسی قبائلی سردار کو تحریک کی قیادت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ لوگوں کی یکجہتی قبائلی آقاوں کے بجائے سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ بیک وقت، اگرچہ، قبائلی افراد تحریک کا حصہ تو ہیں، لیکن صرف اس صورت میں کہ وہ ان جماعتوں کے پلیٹ فارم، اس کے نظریات اور سیاسی پروگراموں کیساتھ متفق ہیں اور انکی پیروی کرتے ہیں۔

سوال: بنگلہ دیش کی پاکستان سے آزادی حاصل کرنے کے قابل ہونے کی اہم وجوہات میں سے ایک اس کی آبادیاتی خصوصیات کی برتری تھی۔ دوسری طرف بلوچ ایک اقلیت ہیں۔ کیا بلوچستان ایک بڑی آبادی کے بغیر آزادی یا زیادہ سے زیادہ خودمختاری حاصل کر سکتا ہے؟

جواب: آبادی کا حجم کسی آزادی کی جدوجہد کی کامیابی یا ناکامی میں ایک بڑا عنصر نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پرمشرقی تیمور نے ایک نوآبادیت سے آزادی حاصل کرلی تو دوسرے نوآبادکار، انڈونیشیا نے، جسکی مشرقی تیمور کیساتھ مشترکہ سرحدیں تھیں، قبضہ کرلیا۔ ایک چھوٹی سی آبادی ہونے کے باوجود، مشرقی تیمور انڈونیشیا کیخلاف لڑا اور آخرکار آزادی حاصل کرلی۔ جنوبی سوڈان نے 2011 میں شمالی سوڈان سے آزادی حاصل کی، حتیٰ کہ وہ ایک خشکی سے محصور (لینڈ لاک) ملک تھا اور اس کی آبادی بھی شمالی سوڈان کے مقابلے میں کم تھی۔

بنیادی نقطہ یہ ہے کہ آزادی کی جدوجہد قومی تاریخ، ثقافت، رسم و رواج، جغرافیائی تخصیص اور عمومی نفسیات پر منحصر ہوتی ہے نہ کہ آبادی کے عددی توازن پر۔ آج 30.5 ملین بلوچ جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں، اپنے قومی تشخص کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ قابضین ہمیں محض اس بناء پر دبا کر نہیں رکھ سکتے ہیں کہ انکی آبادی بڑی ہے۔ ہماری ہزاروں سال کی تاریخ اس حقیقت کی مصداق ہے کہ ہم اس سے بھی زیادہ طاقتور قوتوں کیخلاف اپنی زمین اور قومی تشخص کے دفاع کیلئے لڑتے آئے ہیں۔ اگر ہم اپنی پوری تاریخ میں بہت سے حملہ آوروں اور قابضین کیخلاف لڑ سکے ہیں تو اب کی بار بھی ہم کامیاب ہو جائیں گے۔ ہمارے اور قابض کے درمیان طاقت کا عدم توازن ہماری حوصلہ شکنی میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ جب تک کہ آخری قابض فوجی ہماری سرزمین چھوڑ نہیں دیتا تب تک ہم یا تو سیاسی یا براہ راست ذرائع سے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

بشکریہ : ریکوشے میڈیا(کینیڈا)
تاریخ اشاعت: 22 جولائی 2014
Inside the struggle for Balochistan | Ricochet

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s