بی ایس او کے خلاف منفی پروپیگنڈے اور بحران کا غلط تاثر


Banuk Kareema Baloch
تحریر : ۔سینئر وائس چیر پر سن کریمہ بلوچ

بی ایس او کے آزادی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بی ایس او تنہائی میں رہ کر جدوجہد کرے اور دیگر ہم فکر ساتھیوں ، تنظیم اور سرکلوں سے اپنا ناطہ توڑ دے۔

یہ رویہ نہ صرف بی ایس او کے لئے خطر ناک ہوگا بلکہ مجموعی طور پر تحریک کو نقصان پہنچائے گا۔

BSO بلوچ آزادی کی تحریک میں ایک جز کی حیثیت رکھتی ہے ، مگر کل نہیں اسلئے بی ایس او کا تحریک کے دائرے سے نکل کر الگ تھلگ رہنا غیرفطری اور غیردانش مندی ہوگا۔

آج جو لوگ بی ایس او آزادکی آزادی پر انگلی اٹھا کر آزادی کے معنی کو غلط انداز میں ترجمہ کررہے ہیں، وہ اپنی غیردانش مندانہ سوچ اور متعصبانہ رویّے سے بی ایس او کو دیوار سے لگانے کی کوشش کررہے ہیں۔بی ایس او کے آزاد ہونے سے مراد ادارے کے آزادانہ حیثیت اور آزادانہ پالیسی ہے ۔

کوئی اس کی گواہی نہیں دے سکتا کہ بی ایس او کی ادارہ جاتی معاملات میں کسی شخص یا تنظیم نے مداخلت کی ہے۔ ہاں البتہ بی ایس او دانشوروں، فارغ التحصیل تجربہ کار ساتھیوں اور یگر قائدین سے صلاح و مشورہ ضرور کرتی رہی ہے جسے ہم ایک صحت مند سیاسی روایت سمجھتے ہیں مگر فیصلہ سازی ہمیشہ اداروں کے اندر سیرحاصل بحث و مباحثے کے بعد مرکزی جمہوریت کے تحت کئے جاتے رہے ہیں۔

بی این ایف کے پلیٹ فارم پر ہمارا بی این ایم کے ساتھ اتحاد اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کے ساتھ معاونت کاری کوئی عیب اور شرمندگی کی بات نہیں۔

ہم تحریک کے عظیم تر مفاد میں یکجہتی اورمشترکہ جدوجہد کے سوچ کو پروان چڑھا تے رہیں گے۔ یہ ہماری تنظیمی پالیسی ہے اور وقت کی ضرورت بھی۔

وہ قوتیں جو تنگ نظری کا عینک پہن کر چیزوں کا غلط تجزیہ کررہے ہیں دراصل تحریک کو نقصان پہنچانے کا موجب بن رہے ہیں ۔ ہم ایسے منتشرالخیال عناصرکو ہرگز یہ اجازت نہیں دیں گے کہ ہماری تنظیم میں انتشاراور تقسیم کاری کا بیج بو سکیں۔ جو دوست بی ایس او کے خلاف پروپیگنڈا اور بے بنیاد الزام تراشی کی وجہ سے تذبذب کا شکا ر ہیں ان سے ہماری گزارش ہے کہ اپنی آنکھوں سے تنگ نظری اور فسطایت کا عینک اتارکر شخصیات اور گروہوں کے بجائے تنظیموں اور اداروں پر بھروسہ کریں۔

آج بی ایس او نہ منتشر ہے نہ غیر منظم اور نہ ہی بحران کا شکا ر ہے ۔چند گمراہ عناصر اپنے گروہی مقاصد کے لئے میڈیامیں انتشار اور اختلاف کا تاثر ضرور عام کررہے ہیں- مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پروپیگنڈے کے ذریعے بحران کے نعرہ بازی سے بی ایس او اور تحریک کو کو ئی بحران زدہ نہیں کرسکتا۔

ہم اپنے کارکنان اور ہمدردوں کو بڑے اعتماد کے ساتھ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ان سخت ترین حالات میں بھی بی ایس او آز اد منظم ہے اور تحریک کے اندر اپنے حصے کا کردار احسن طریقے سے ادا کررہی ہے اور کرتی رہے گی۔

سینئر وائس چیر پر سن کریمہ بلوچ

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s