وزیرستان میں جاری نام نہاد آپریشن کی آڑ مہاجرین کے نام پر فوج شدت پسندوں کو بلوچستان میں آباد کررہی ہے۔ نواب مہران مری


Mehran Baluch

کوئٹہ(آن لائن) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق میں بلوچ قومی نمائندے مری قبیلے کے سربراہ مہران بلو چ نے بلوچستان میں تشدد زدہ لاشوں کے ملنے پر کٹھ پتلی حکومت بلوچستان کے ترجمان کے بیان کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ دشمن ریاستی قوتیں بلوچستان و بلوچ قوم کو ایک منصوبے کے تحت مذہبی شدت پسندی کی جانب دھکیل رہی ہیں پنجگور میں بچیوں کی تعلیم پر قدغن اور وزیرستان کے مہاجرین کی بلوچستان میں آبادکاری بلوچستان کے معاشرے کو مذہبی شدت پسندی و انتہاء4 پسندی کی آگ میں جھونکنے کی ریاستی سازشوں کی کڑیاں ہیں یکجہتی کا مظاہرہ کرکے

ہی ریاستی قوتوں کے مذموم و ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا جاسکتا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’آن لائن‘‘ سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا مہران بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں آپریشن اور جبری گمشدگیوں اور تشدد زدہ لاشوں سے متعلق کٹھ پتلی حکومت بلوچستان کا بیان جھوٹ کا پلندہ ہے ایسے بیانات سے وہ خود کو بے وقوف بناسکتے ہیں بلوچ قوم کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آپریشن آج بھی جاری ہے بلوچستان کی صوبائی حکومت نہ صرف بلوچ قتل عام میں ملوث ہے بلکہ بلوچ قوم کے قاتلوں کے سیاہ کرتوں کو چھپانے کی بھی ناکام کوشش کر رہی ہے بلوچ قوم کے خلاف فوجی آپریشن، اغوا و جبری گمشدگیاں اور مسخ شدہ لاشوں کا ملنا جاری ہے وہیں بلوچ قوم کو ایک منصوبے کے تحت مذہبی شدت پسندی کی طرف دھکیلا جارہا ہے بلوچستان میں اسٹبلشمنٹ کی سرپرستی میں قائم ڈیتھ سکواڈز اور انتہا پسند تنظیموں سے بلوچ قوم پرست رہنماوں و کارکنوں کو جہاں ہدف بنوایا جارہا ہے تو دوسری طرف مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر بلوچستان کے اصل چہرے کو مسخ کیا جاسکے پنجگور اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف مہم چلانا اور سکولز کی بندش بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں تاکہ بلوچ قوم کو تعلیم سے دور رکھ کر جہالت کے اندھیرے میں دھکیلا جائے اس سلسلے میں ہم نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر عالمی تنظیموں اور بین الاقوامی قوتوں کو اپنے ان خدشات سے آگاہ کیا ہے کہ بلوچ دشمن ریاست اپنے خفیہ ادارے کے توسط سے بلوچ سرزمین پر طالبانائزیشن کو پھیلانا چاہتی ہے مدارس اور تبلیغی جماعتوں کو فروغ دیا جارہا جس کا مقصد صرف اور صرف بلوچ جہد آجوئی کا راستہ روکنا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں جاری نام نہاد آپریشن کی آڑ مہاجرین کے نام پر فوج شدت پسندوں کو بلوچستان میں آباد کررہی ہے یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کوئٹہ شوریٰ پہلے سے موجود ہے دشمن بڑی چالاکی کے ساتھ ہمارے معاشرے میں انتشار پھیلارہاہے تاکہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرسکے اس نازک اور اہم دور میں بلوچ قوم کو حالات کا ادراک کرتے ہوئے یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اتحاد و یکجہتی ہی وہ مؤثر ہتھیار ہے جس سے ہم دشمن کے ہر وار کا مؤثر و بہتر انداز میں مقابلہ کرتے ہوئے اسکے عزائم کو ناکام بناسکتے ہیں ۔

Leave a comment

Filed under News

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s