ایک اذیت ناک انتظار:‌لاپتہ طالب علم زاہد بلوچ کی بازیابی کا مطالبہ


BSO-Azaad-Chairman-Zahid-Baloch-Family-press-conference-islamabad

محترم حاضرین مجلس و صحافی خواتین و حضرات!السلام علیکم

میں آج آپ محترمین کو اپنا نوحہ سنانے بلوچستان کے دور افتادہ علاقے نال خضدار سے آئی ہوں۔ میرے ہمراہ میرا یہ معصوم بچہ قمبر بھی ہے۔ میرے شوہر زاھد بلوچ کو آج سے تین مہینے پہ…لے کوئٹہ سے خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے ایف سی کی مدد سے اغواء کیا جو تاحال لاپتہ ہیں ۔ ان تین مہینے کے دوران مجھ سمیت میرے دو بچے اور زاھد بلوچ کے ضعیف والد اور والدہ جس قرب سے گذر رہے ہیں وہ شاید میں لفظوں میں بیان نا کرسکوں، لیکن انصاف کے ہر در پر دستک دے کر مایوس لوٹنے کے بعد میری آخری امید و سہارا حق و سچ کے علمبردار آپ صحافی حضرات ہی ہیں ۔ آج آپ کے سامنے صرف اس امید سے پیش ہوئی ہوں کہ شاید آپ کے توسط سے میری فریاد کسی ایسے سماعت سے ٹکرائے جو مجھے اور میرے ان دو معصوم بچوں کو انصاف دلا سکے ۔

حق و سچ کے امین صحافی خواتین و حضرات !میرے شوہر زاھد بلوچ ایک طالب علم ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے خاندان کے واحد کفیل بھی تھے ۔ وہ اپنے ابتدائی زمانہ طالب علمی سے لیکر اغواء ہونے تک بلوچ طلباء کے سیاسی حقوق کے جدوجہد میں سر گرمِ عمل رہے ہیں ، مختلف مراحل سے گذر کر وہ بلوچستان کے ایک پر امن طلباء تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے چیئرمین منتخب ہوئے اور ایک طالب علم کی حیثیت سے اپنے تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی پر امن سیاسی جدوجہد میں بھی مصروفِ عمل رہے ۔وہ آج سے قریباً تین ماہ پہلے اپنے تنظیمی سرگرمیوں کے سلسلے میں کوئٹہ میں موجود تھے لیکن 18 مارچ 2014 کو پاکستان کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے فرنٹیئر کور کی مدد سے اسے کوئٹہ کے علاقے سیٹلائیٹ ٹاون سے اغواء کرکے لاپتہ کردیا ۔ اغواء کے وقت وہاں درجنوں لوگ موجود تھے اس کے ساتھ ساتھ اس بات کے عینی شاھد بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے سینئر وائس چیئرپرسن کریمہ بلوچ سمیت مرکزی کمیٹی کے تین اور ممبران بھی ہیں ۔ زاھد بلوچ کے یوں اغواء نما گرفتاری کے بعد ہم مختلف تھانوں میں پتہ کرتے رہے لیکن انکا کوئی نام و نشان نہیں ملا پھر بعد ازاں درجنوں لوگوں کے سامنے سے اغواء کرنے کے باوجود بلوچستان فرنٹیئر کور نے اس امر سے انکار کردیا کہ زاھد بلوچ ان کے پاس ہیں ۔ اس وقت سے لیکر اب تک زاھد بلوچ لاپتہ ہیں اور ان کی کوئی خبر نہیں ۔ اس سلسلے میں ہم متعدد بار کوئٹہ کے سریاب تھانے گئے تاکہ ایف آئی آر کاٹی جائے لیکن ہر بار انہوں نے ہمیں یہ کہہ کر دھتکارہ کہ وہ ایجنسیوں کے خلاف ایف آئی آر نہیں کا ٹ سکتے ۔ ہم نے بعد میں بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن بھی دائر کی پھر عدالت نے ایف آئی آر کاٹنے کا حکم دیا لیکن پھر بھی طویل عرصے تک ہائی کورٹ کی حکم عدولی جاری رہی ۔ اس دوران ہم ہائی کورٹ و پولیس سمیت ہر اس دروازے کو انصاف کی آس لیئے کٹکھٹاتے رہے جہاں ہمیں تھوڑی بھی انصاف کی امید تھی لیکن ہمیں ہر طرف سے صرف مایوسی ہی ملی۔ اس دوران میرے شوہر کی تنظیم بی ایس او آزاد بھی مسلسل زاھد بلوچ کی بازیابی کیلئے تادم مرگ بھوک ہڑتال سمیت ہر طرح کی احتجاج کرتی رہی لیکن ابتک انکا احتجاج بھی بے سود ثابت ہورہا ہے ۔ بی ایس او آزاد کے احتجاجوں کو دیکھ کر میں بھی آج اپنے کمسن بچوں کے ہمراہ گھر سے نکلی ہوں تاکہ اپنی آواز سنا سکوں ۔

محترم حاضرین کرام !

زاھد بلوچ ایک تنظیم کے چیئرمین تھے اور پر امن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے تھے ایک پر امن سیاسی کارکن کو اس طرح صفحہ ہستی سے غائب کرنا کہاں کا انصاف ہے ؟ اگر زاھد بلوچ نے کوئی گناہ کیا ہے یا اس پر کوئی بھی الزام ہے تو پھر پاکستان میں ایک قانون ہے ایک آئین ہے، آپ اسے اپنے ہی آئین و قانون کے مطابق اپنے ہی عدالتوں میں پیش کرکے اس پر جرم ثابت کریں پھر اسے جو دل چاہے سزا دیں لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ زاھد بلوچ کے ساتھ اس کے پورے خاندان کو ہی ایک اذیت میں مبتلاء کریں ۔ بالفرض اگر زاھد گنہگار ہے بھی تو پھر آپ بتائیں میرا اس میں کیا قصور ہے کہ میں اسکا سزا بھگت رہی ہوں ، میرے ان کمسن بچوں قمبر اور دودا کا کیا قصور ہے جو اس عمر میں روز اپنے والد کے انتظار میں دروازہ تکتے رہتے ہیں اور ہر آنے والے کو اس امید و آس سے دیکھتے ہیں کہ شاید وہ انکے والد کی خبر لایا ہو ، آپ مجھے بتائیں زاھد بلوچ کے ضعیف والد و والدہ کا کیا قصور ہے جو اپنے جوانسال بیٹے کیلئے بھری نیند سے اٹھ کر گڑا گڑا کر روتے ہیں ۔ مجھ سے قمبرو دودا روز پوچھتے ہیں کہ ہمارے ابو کہا ں ہیں ، میں روز ایک نیا جھوٹ ان سے بولتی ہوں آج انکو میں آپکے سامنے لائی ہوں تاکہ آپ انکے اس سوال کا جواب دیں کیونکہ مجھ میں اتنی سکت نہیں کہ میں انہیں یہ کہہ سکوں کے ان کے والد باقی 18000 بلوچوں کے ہمراہ ایک ایسے جہنم میں جھونک دیئے گئے ہیں جہاں سے واپس بلوچوں کی سر بریدہ لاشیں ہی آتی ہیں ۔ میرے ان بچوں کی عمر پڑھنے لکھنے کی ہے دنیا سے بے نیاز ہوکر کھیلنے کودنے کی ہے لیکن آخر کس ناکردہ گناہ کی پاداش میں آپ ان کے نونہال کندھوں پر وہ بوجھ ڈال رہے ہیں جو کسی کے بھی کندھے جھکا کر اسکی کمر توڑ دینے کیلئے کافی ہے ؟ آخر کیوں آپ کے بچوں کیلئے پڑھا لکھا پنجاب اور مجھے جیسے ایک بد نصیب بلوچ ماں کے بچوں کیلئے پریس کلب و احتجاج ؟

زاھد بلوچ کی ضعیف والدہ اپنے بچے کے انتظار میں رو رو کر ہلکان ہوچکی ہے اور بیمار ہوکر بستر مرگ پر لگ چکی ہے ، نا وہ کچھ کھا رہی ہے نا پی رہی ہے کیا آپ میں سے یا پاکستان کے مقتدرہ میں سے کوئی اسے آکر یہ بتاسکتا ہے کہ اس کے بچے کو پاکستان کے کس قانون کے تحت دنیا کے کس انصاف کے تقاضے کے تحت یوں غائب کیاگیا ہے ؟آخر آپ کے قانون و آئین میں کہاں لکھا ہے کہ مجھے بغیر کسی گناہ کے بھرے گھر سے نکال کر یوں پریس کلبوں کے سامنے خاک چھاننے پر مجبور کریں ؟ محترم صحافی برادری ہزاروں صفحات قانون کے سیاہی سے سیاہ کرنے کے بعد بھی اگر ریاست کسی شخص کو ماورائے قانون یوں اغواء کرکے اپنے ہی قانون کو توڑ دے تو کیا اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ اس شخص نے اصل میں آپ کے آئین و قانون کے مطابق کوئی جرم ہی نہیں کیا ہے ؟ ورنہ جو قانون ٹریفک کے ایک سگنل توڑنے تک پر سزا تجویز کرسکتا ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس شخص کیلئے جسے آپ انتہائی خطرناک سمجھتے ہیں اس کے لئے قانون میں کوئی سزا نا ہو، کیا اپنے ہی قانون کو یوں توڑنا سب سے بڑی دہشتگردی نہیں ؟ ۔ ہم آخر مطالبہ کیا کررہے ہیں یہی کہ اگر زاھد بلوچ کسی بھی جرم میں ملوث ہے یا اس پر کوئی بھی الزام ہے اسے آپ عدالتوں میں پیش کرکے اس پر وہ جرم ثابت کریں پھر بھلے آپ اسے پھانسی دے دیں لیکن آخر کیوں انصاف کا یہ سادہ سا تقاضہ اس ملک میں امر محال بن چکا ہے ؟۔ بلوچستان میں روز ہم کسی مسخ شدہ لاش کے ملنے کی خبر سنتے ہیں اور ہر گرتے لاش کے ساتھ ہمارا بھی ایک حصہ مرجاتا ہے اس غم میں کہ کہیں وہ لاش زاھد بلوچ کی نا ہو، ہر لاش کے ساتھ میرے دوبچوں دودا و قمبر کے بچپن کی ایک خواہش دم توڑ دیتی ہے ، ہر لاش کے گرنے کے ساتھ ہی زاھد بلوچ کی ضعیف والدہ ایک زندہ لاش بن جاتی ہے آخر ہمارا قصور کیا ہے کہ ہمیں مملکتِ خداداد پاکستان یوں قسطوں میں مار رہا ہے ؟ کیا ہم بلوچ آپ سے کم انسان ہیں جہاں باقی پاکستان میں کسی لیڈر کو چھینک بھی آتی ہے تو میڈیا اسے بریکنگ نیوز میں نشر کرتا ہے لیکن یہاں بلوچستان کے سب سے بڑے تنظیم کا چیئرمین ، ایک ہونہار طالبعلم ، ایک شفیق باپ ، ایک ذمہ دار شوہر اور ایک فرمانبردار بیٹا تین مہینوں سے ریاستی خفیہ اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہیں اور میڈیا کو جوں تک نہیں رینگتی ۔ اگر آپ اپنے اس بلوچ بیگانگی کے باوجود بھی کمسن دودا اور قمبرسے وعدہ وفا کی امید رکھیں تو یہ آپ کے خام خیالی کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے ۔

حق و سچ کے پیامبروں !

میں آج آپ کے سامنے فریاد صرف اسلیئے کر رہی ہوں کیونکہ میری آخری امید آپ ہو ، مجھے امید ہے کہ آپ مجھ بلوچ کو اپنی ماں ، بہن بیٹی سمجھ کر میری آواز کو ہر اس جگہ پہنچاو گے جہاں سے انصاف کی تھوڑی بھی امید ہو ۔ میں آپ کے توسط سے سپریم کورٹ آف پاکستان ، اقوام متحدہ ، انسانی حقوق کے تمام علمبردار اداروں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ زاھد بلوچ کے بحفاظت بازیابی کو ممکن بناکر ہمیں انصاف دلائیں اور ہمارے اس اجڑے خاندان کو دوبارہ آباد کریں ۔ اس کے ساتھ ساتھ میں آپ محترم صحافی خواتین و حضرات کو آگاہ کرنا چاہتی ہوں کہ میں آج سے بطور احتجاج اس پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگا کر بیٹھ رہی ہوں میرا دوسرا بیٹا دودا بیماری کی وجہ سے ہیاں تک پہنچ نہیں سکا مگر اس بھوک ہڑتال میں میرا یہ کمسن بیٹا قمبرمیرے ساتھ رہے گا تاکہ وہ آج ہی اس ریاست میں انصاف اور نا انصافی کے پیمانوں کو اپنی نظروں سے دیکھے۔

شکریہ

زرجان بلوچ اہلیہ لاپتہ زاھد بلوچ

An agonising wait: Missing Baloch leader’s wife demands recovery

Leave a comment

Filed under News, Video

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s