نواب مہران مری کو مری قوم اور نواب خیر بخش مری کے ساتھیوں کا اعتماد حاصل ہے، نوابزادہ گزین مری


gazain marri
کوئٹہ (آن لائن) نوابزادہ گزین مری نے مری قبائلی عمائدین و معتبرین کی جانب سے مہران مری کو سردار منتخب کرنے کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواب خیربخش مری صرف ایک روایتی سردار نہیں تھے بلکہ وہ اس نظام میں انقلابی تبدیلیاں بھی لائےدوبئی سے جاری کئے گئے بیان میں نوابزادہ گزین مری نے کہا کہ کسی بھی مہذب قوم میں سربراہ کی وفات کے بعد چالیس روز تک سوگ منایا جاتا ہے لیکن چونکہ اسٹیبلشمنٹ کو یہ علم تھا کہ مری اور بلوچ قوم چنگیز کو سربراہ نہیں مانتی اس لئے انہوں نے جلدبازی کا مظاہرہ کرکے اپنی کچھ کٹھ پتلیوں کو ساتھ ملا کر جنگیز مری کو سربراہ کے طور پر مسلط کرنے کی ناکام کوشش کی

ان کی دستار بندی میں وہ لوگ شامل تھے جو تمام کے تمام پہلے سے ہی اسٹیبلشمنٹ کی پیرول پر ہیں انہیں اس نظام یا چنگیز مری سے کوئی ہمدردی نہیں وہ تو صرف اپنے آقا کا حکم بجالارہے تھے اگر وہ قبائلی رسم و رواج اور اس نظام کو مانتے تو وہ چنگیز کے والد خیربخش مری کو سردار تسلیم کرتے اور اگر چنگیز کے لئے ان کے دل میں ذرا بھی عزت و احترام ہوتا تو چنگیز کے والد دو ہفتے تک ہسپتال میں تھے ان لوگوں نے حال پرسی تک گوارا نہیں کی لہذا ان لوگوں کا کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ اپنے آقا کی خوشنودی کے حصول کیلئے ایسے فیصلے کریں جو قوم کے مفاد کے برخلاف ہوںدشمن نے ہمیں سوگ منانے کابھی موقع نہیں دیا اور ہمیں مجبور کیا گیا کہ ہم قوم کو اس غیر یقینی صورت حال سے نکال لیں مہران کو قبیلے کا سردار منتخب ہونے کا ہم نے بہت تفصیلی اور باریک بینی سے جائزہ لیامہران نواب خیربخش مری کے پیروکار اور انکی سوچ فکر و فلسفے کو جاری رکھے ہوئے ہیں مری قوم اور نواب خیر بخش مری کے ساتھیوں کا اعتماد حاصل ہے جبکہ چنگیز اس کے بالکل برعکس ہے وہ نواب خیربخش مری کے فکر و فلسفے سے نہ تو کل متفق تھے اور نہ آج ہیں اسے مری قوم پر زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کی گئیقوم کے نئے سربراہ کا انتخاب کرنا دو چار لوگوں کے دائرہ اختیار میں نہیں مری قبیلے کے ہر شخص کو اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے چاہیے وہ ملک میں رہ رہے ہوں یا بیرون ملک دو چارسرکاری لوگ قوم کے سربراہ کا انتخاب نہیں کرسکتے مری قوم کی تاریخ میں اس طرح کے زبردستی کے نواب قوم پر مسلط کئے گئے لیکن تاریخ اور قوم نے ہمیشہ زبردستی کے نوابوں کے ساتھ وہ انصاف کیا جس کے وہ حقدار تھے

خیربخش مری ایک روایتی سردار نہیں تھے وہ ایک انقلابی سردار تھے چونکہ اس نظام میں انقلابی تبدیلیاں لائے اب اس منصب پر قبائلی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ قومی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں قبیلے کے نومنتخب سردار کو قبیلے کے ساتھ بلوچ قومی مفاد کے تحفظ کیلئے بھی اپنا مؤثر وعملی کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ بلوچ قوم
کو اسٹیبلشمنٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا ۔

Leave a comment

Filed under News

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s