بلوچ رہنما نواب خیر بخش مری انتقال کر گئے


Nawab Khair Bux Marri

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

بلوچستان کے بزرگ قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری طویل علامت کے بعد کراچی کے ایک نجی ہپستال میں انتقال کر گئے، ان کی عمر 88 برس تھی۔

نواب خیر بخش مری کے فرزند مہران مری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کے انتقال کی تصدیق کی اور کہا کہ خاندان نے انھیں علاج کی خاطر بیرون ملک لے جانے کی کوشش کی لیکن حکومت کی جانب سے اجازت نہیں مل سکی۔

مہران مری کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایکسرے، خون کے نمونے، ایم آر آئی سمیت تمام رپورٹس لیکر بیرون ملک ڈاکٹروں سے رابطہ کیا جن کا کہنا تھا کہ اگر مزید دیر کی گئی تو گردے فیل ہونے اور نمونیا کا خطرہ ہے۔

مہران کے مطابق ہپستال میں علاج کے دوران طبی پیچدگیوں میں اضافہ ہوگیا تھا۔

مہران کا کہنا تھا کہ پاکستان حکومت نے ہر ممکنہ رکاوٹ پیدا کی کہ انھیں بیرون ملک نہ لے جایا جائے اس لیے انھیں میڈیکل ایمرجنسی کے لیے درکار دستاویزات سے بھی محروم رکھا گیا۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ نواب اکبر بگٹی کو بموں سے ہلاک کیا گیا جبکہ نواب مری کو وقت اور دواؤں کے ذریعے ہلاک کیا گیا، بعد میں موت کو طبی اور عمر کا تقاضا قرار دیا جائے گا۔

نواب خیر بخش مری کو جمعرات کو شہر کے نجی ہپستال میں داخل کیا گیا تھا، وہ گزشتہ کئی سالوں سے کراچی میں ہی رہائش پذیر تھے۔

کوہلو سے تعلق رکھنے والے نواب خیر بخش مری کی تدفین کہاں کی جائیگی، مہران مری کا کہنا تھا کہ ابھی اس کا فیصلہ ہونا ہے۔

واضح رہے کہ نواب خیر بخش مری نے عملی سیاسی سے کناہ کشی اختیار کرلی تھی، وہ میڈیا سے بھی بہت کم بات کرتے تھے، آخری بار انھیں اس وقت میڈیا میں دیکھا گیا تھا جب سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو ان سے ان کے بیٹے بالاچ مری کی ہلاکت پر تعزیت کرنے گئی تھیں۔

نواب خیر بخش مری کے تین بیٹے گزین مری، حربیار مری اور مہران مری بیرون ملک رہتے ہیں جبکہ ایک بیٹا چنگیز مری مسلم لیگ نواز بلوچستان کا سرگرم رہنما ہے جن کے بارے میں نواب خیر بحش مری کہہ چکے ہیں کہ وہ ان کی املاک کا وارث ہے سیاسی نہیں۔

مارکس وادی نظریے کے پیروکار نواب مری نیشنل عوامی پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر تھے۔

سنہ 1970 کے انتخابات میں انھوں نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور بعد میں وہ قومی اسمبلی کی نشست سے دستبردار ہوگئے۔

انتخابات کے بعد نواب خیربخش کے سیاسی ساتھی غوث بخش بزنجو گورنر اور سردار عطااللہ مینگل وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے لیکن دو سال کے بعد ان کی حکومت کو برطرف کرکے ’نعپ‘ پر پابندی عائد کردی گئی اور نواب مری سمیت نعپ کی قیادت کو گرفتار کرلیا گیا۔

حکومت کے خلاف سازش کے مشہور مقدمے حیدرآباد سازش کیس سے رہائی کے بعد نواب خیر بخش مری نے مزاحمتی تحریک کا اعلان کیا اور اپنے قبیلے کے ساتھ افغانستان منتقل ہوگئے۔

افغانستان میں مجاہدین کے داخل ہوجانے کے بعد وہ افغانستان سے واپس آگئے۔

نواب خیر بخش مری بلوچستان کے دوسرے اہم سیاست دان سردار عطااللہ مینگل کے دوست اور سمدھی بھی تھے۔

دونوں لاہور کے ایچی سن کالیج میں زیر تعلیم رہے۔

Leave a comment

Filed under News

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s