’دور ہٹو ورنہ تمہارے بھائی اور تمہیں مار دیں گے‘


balochistan_bso_leader_zahid_baloch_missing_624x351_bbc

کچھ دیر کے بعد سفید رنگ کی ایک گاڑی آئی۔ اہلکاروں نے زاہد کے ہاتھ اور آنکھیں باندھ کر اس میں ڈالا اور ساتھ لے گئے۔

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے سب بڑے شہر کراچی میں پریس کلب کے باہر سے ابھی وائس فار مسنگ پرسنز کا کیمپ چند روز قبل ہی ختم ہوا تھا تو اسی جگہ پر بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد نے اپنا احتجاجی کیمپ قائم کر لیا، جس کی قیادت بی ایس او آزاد کی خواتین کر رہی ہیں جو اپنے چیئرمین زاہد بلوچ کی بازیابی چاہتی ہیں۔

بی ایس او کی وائس چیئرمین کریمہ بلوچ کا کہنا ہے کہ جس وقت ان کے چیئرمین زاہد بلوچ کو مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا وہ ان کے ساتھ تھیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ وہ تنظیمی سرگرمیوں کے بعد بلوچستان یونیورسٹی کے پچھلی سڑک سے گزر رہے تھے کہ ایف سی نے انھیں روک لیا اور زاہد بلوچ سے پوچھ گچھ شروع کردی۔

’انھوں نے زاہد سے شناختی کارڈ مانگا جو اس نے دکھا دیا۔ تھوڑی دیر بعد اہلکاروں نے کچھ فاصلے پر موجود سادہ کپڑوں میں لوگوں کو بلا لیا، جو زاہد کو دُور لے گئے، ہم نے وہاں جانے کی کوشش کی تو ایف سی اہلکاروں نے ہم پر بندوقیں تان لیں اور متنبہ کیا کہ اگر آگے بڑھے تو تمہیں اور تمہارے بھائی کو مار دیں گے۔‘

کریمہ بلوچ کا کہنا تھا کہ انھوں نے کسی قسم کی مزاحمت کرنے کی کوشش نہیں کی کہ کہیں وہ زاہد کو کوئی نقصان نہ پہنچائیں۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار زاہد سے سوال کیا کہ ’تم افغانی ہو یا طالبان؟‘ اس نے کہا کہ ’میں بلوچ ہوں۔‘

کریمہ کے مطابق انھوں نے بلوچی لباس پہنا ہوا تھا اور انھوں نے بتایا کہ یہ ان کے بھائی ہیں لیکن ایف سی نے انھیں دور کر دیا۔

’اہلکاروں نے ہمیں کہا کہ آپ یہاں سے چلے جاؤ، لیکن ہم نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھائی کے ساتھ جائیں گے۔ انھوں نے مزید فورس طلب کر لی اور بھائی کا چہرہ دیوار کی طرف کر دیا، کچھ دیر کے بعد سفید رنگ کی ایک گاڑی آئی۔ اہلکاروں نے زاہد کے ہاتھ اور آنکھیں باندھ کر اس میں ڈالا اور ساتھ لے گئے۔‘

بی ایس او آزاد بلوچستان کے نوجوانوں میں بہت مقبول جماعت ہے۔ کوئٹہ سے لےکر پسماندہ علاقے آواران کے تعلیمی اداروں کے در و دیواروں پر اس کے نعرے اور مقصد تحریر نظر آتا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ پرامن سیاسی جدوجہد میں یقین رکھتے ہیں۔

تنظیم کے مرکزی فیصلے کے تحت بی ایس او کے رہنما لطیف جوہر نے بدھ سے سے تادمِ مرگ بھوک ہڑتال شروع کردی ہے، جو زاہد بلوچ کی بازیابی تک جاری رہے گی۔

لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے وائس فار مسنگ پرسنز نے عبدالقدیر بلوچ کی قیادت میں کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے اسلام آباد تک پیدل مارچ کیا، لیکن کسی کی بھی بازیابی نہیں ہوئی۔

لطیف جوہر کا کہنا ہے کہ پر امن احتجاج ان کا حق ہے، وہ کسی پر تشدد نہیں کر سکتے، لیکن خود پر تشدد کر سکتے ہیں۔

’میری امیدیں بین الاقوامی اداروں سے وابستہ ہیں کہ وہ صورتحال کا نوٹس لیں، مجھے اپنی جان کی پروا نہیں ہے، میں ان بلوچ طالب علموں کے لیے فکر مند ہوں جنھیں تعلیم سے دور رکھا جارہا ہے اور اغوا کر کے ان پر تشدد کیا جارہا ہے۔‘

بی ایس او آزاد کے رکن ٹیلیفون کے ذریعے اور صحافیوں سے روبرو رابطہ کر کے اپنی روداد سناتے رہے، لیکن انھیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ اس احتجاجی کیمپ میں پاکستان یوتھ الائنس کی مریم کنور بھی اظہار یکجہتی کے لیے موجود تھیں۔

مریم کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ تو میڈیا کی نظروں سے پہلے بھی اوجھل رہا ہے، لیکن سینیئر صحافی حامد میر پر حملے کے بعد میڈیا کوریج تو دور کی بات، کوئی صحافی کیمپ پر بھی آ نہیں رہا۔ پہلے کم سے کم یہ ہوتا تھا کہ کوریج کر کے چلے جاتے تھے، اسے ٹی وی پر چلاتے نہیں تھے، لیکن اب تو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔

Leave a comment

Filed under News

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s