جیئند بلوچ اور علی حیدر بلوچ کا انقلابی قافلہ


Beauragh_Ali Haider_ Jehand_ Baloch

Beauragh Baloch-Ali Haider Baloch-Jehand Baloch

تحریر: حکیم واڈیلہ

۲۸ اکتوبر ۲۰۱۳ سے قبل ہم میں سے اکثر لوگ ایک ایسے نام سے ناواقف تھے جو آج ایک آئڈیل کے طورپر جاناجاتاہے. ہم ایک ایسے کردار سے بےخبر تھے جو اپنی عمر، طاقت اور عقل سے بہت زیادہ سوچتا، سمجھتا اور عمل کرتاہے. ہم اس کردار سے ناواقف تھے جس نے کوئٹہ سے کراچی تک کے پیدل سفر کے دوران ناتو اپنے ہاتھ سے اپنے ٹھیلے کو گرنے دیا اور ناہی کبھی یہ شکایت کی کہ میں تھک چکا ہوں اب میں اور نہیں چل سکتا. لیکن وہ کردار جسے آج دنیا علی حیدر کے نام سے جانتی ہے اس نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران کہاتھاکہ ہم اپنا احتجاج اپنے پیاروں کی بازیابی تک جاری رکھیں گے یہ تکلیف، مشقت، لمبا سفر اور ہمارے پیروں کا درد ان کربناک اذیتوں سے زیادہ نہیں جو ہمارے پیاروں کو ریاست پاکستان کی جانب سے جبری طور پر گمشدہ کرکے ہمیں دیےگئے ہیں.

علی حیدر اور دیگر لاپتہ بلوچوں کے لواحقین نے جب کوئٹہ سے کراچی کی جانب لانگ مارچ کا آغازکیا تو روزاول سے وہ لوگوں کو اپنا درد سمجھاتے اپنے دکھوں سے آگاہی دیتے اور انہیں یہ بھی بتاتے کہ ہم (بلوچوں) پر کیونکر یہ ظلم اور بربریت جاری ؤ ساری ہے. علی حیدر اپنے قافلے کا سب سے چھوٹا مگر بہادر باہمت اور با عزم سپاہی کے طور پہچانا جانے لگا. یوں تو علی حیدر کی باتوں کا اثر ہر ایک انسان دوست کے دلوں کو چھونے لگا. لیکن شاید سب سے زیادہ اس کا اثر جیئند بلوچ اور اس جیسے دوسرے علی حیدر کے ہم عمروں پر گہرا ہواہوگا. علی حیدر کا قافلہ جب کراچی پہنچا وہاں کچھ دن قیام پزیر ہوا پھر علی حیدر کا کراچی پریس کلب میں سیمینار میں خطاب کرنا اپنے درد کو دنیا کے سامنے بیان کرکے ان سے مدد کی اپیل کرنا. علی حیدر کے یہ تمام انقلابی اور تاریخی عمل جیئند کو علی حیدر کے سوچ کے اور بھی قریب لے گئی.

جب ۱۳ دسمبر کو لاپتہ بلوچوں کے خاندان کا قافلہ انصاف اور سچ کی تلاش کے دوسرے مرحلے میں کراچی سے اسلام آباد کی جانب بڑھنے لگا تب تک علی حیدر بہت سے لوگوں کا آئڈیل بن چکا تھا. علی حیدر (لاپتہ رمضان بلوچ کے فرزند) کو بلوچستان سمیت بیرون ممالک میں بلوچ، دیگر انسان دوست اقوام سمیت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بھی جاننے پہچاننے لگی. لیکن کس کو خبر تھی علی کی جدوجہد سے جیئند اتنا متاثر ہوچکاہے کہ وہ کراچی سے اسلام آباد تک کے پیدل لانگ مارچ کا حصہ بن کر خاموشی سے علی حیدر سمیت تمام لواحقین کے درد کو اپنا مان کر ان کے ساتھ قدم بہ قدم چل پڑےگا.

پہلے کچھ دنوں تک تو لانگ مارچ کے شرکاءکو بلوچ اور سندھی علاقوں سے کافی محبت اور عزت ملی اور لوگوں کی بڑی تعداد لانگ مارچ کے شانہ بشانہ مارچ کرتےرہے. لیکن ان لوگوں کے چہرے ہمیشہ بدلتےرہے لوگ آتے اظہار یکجہتی کرتے اور چلے جاتےتھے. لیکن ان تمام لوگوں میں ایک چہرہ ہمیشہ نمایا ہوتاگیا اور وہ چہرہ تھا علی حیدر کے نظریاتی دوست جیئند کا جس کی لانگ مارچ میں شرکت صرف اظہار یکجہتی تک ہی نہیں تھی بلکہ وہ خود اس قافلے کا حصہ بن چکاتھا.

دوران لانگ مارچ جب جیئند کے دوست علی حیدر کو بیماری کی وجہ سے لانگ مارچ چھوڑکر علاج کےلیے جانا پڑا اُس وقت جیئند کو افسوس تو ضرور ہوا ہوگاکہ اس کا دوست کچھ دنوں تک اس سے دور رہےگا. لیکن شاہد اس جدائی کی وجہ سے جیئند میں سستی یا پھر لانگ مارچ بیزاری کے تاثرات دیکھنے کو نہیں ملے. جیئند کا ایسے موقع پر لانگ مارچ میں شرکت کرنا جب ریاست ایک ۱۰ سالہ طالبعلم چاکر کو صرف اس بنیاد پر اغواء کرکے قتل کرکے لاش کو مسخ کردیتی ہے کیونکہ چاکر کے گھرکا ایک فرد آزاد بلوچستان کا حامی ہوتاہے. ایسے حالات میں علی حیدر اور جیئند کا یہ انقلابی سفر بذات خود ریاستی فورسزکی ناکامی اور شکست کا منہ بولتا ثبوت ہے.

Courtesy: Inkar

Leave a comment

Filed under Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s