بلوچستان میں ایف سی کی کارروائیاں


Pak-Army-operation

ریاض سہیل

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بلوچستان

بلوچستان کے ضلع آوارن کےگاؤں ملازئی کے رہائشیوں کے لیے اٹھارہ فروری کی شام بھی ایک معمول کی شام تھی جب وہ مال مویشی چرانے کے بعد سورج غروب ہونے سے قبل گھروں کو لوٹ چکے تھے۔

صبح جلد اٹھنے کی عادت ہونے کی وجہ سے یہ لوگ اٹھارہ فروری کو بھی اسی طرح سوگئے کہ اچانک ہیلی کاپٹر اور گاڑیوں کے شور نے ملازئی گاؤں کے لوگوں کو جگا دیا۔

آوران ضلعے کی تحصیل جاؤ کے اس گاؤں میں ایف سی نے پانچ مبینہ علیحدگی پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا جن میں 16 سالہ مسمات گلشن کا دولہا محمد نواز بھی شامل تھا۔

محمد نواز کے نکاح کو ابھی دو روز ہی ہوئے تھے۔ وہ کراچی کی ایک فیکٹری میں مزدور تھے اور شادی کے لیےگاؤں آئے تھے۔

” ہم گھر میں سوئے ہوئے تھے کہ اہل کاروں نے ہمیں اٹھایا اور مارنے لگے، ہمارے لڑکے جان بچانے کے لیے بھاگے تو انھوں نے میرے شوہر، بھائی، کزن کو مار ڈالا، جب کہ ایک بھائی زخمی ہوگیا جسے علاج کے لیے کراچی لے گئے۔”

گلشن ملازئی بتاتی ہیں’ ہم گھر میں سوئے ہوئے تھے کہ اہل کاروں نے ہمیں اٹھایا اور مارنے لگے، ہمارے لڑکے جان بچانے کے لیے بھاگے تو انھوں نے میرے شوہر، بھائی، کزن کو مار ڈالا، جب کہ ایک بھائی زخمی ہوگیا جسے علاج کے لیے کراچی لےگئے۔‘

گاؤں والوں کو اگلی صبح کو ان نوجوانوں کی لاشیں چند فرلانگ دور واقع ندی سے ملیں، پانچوں نوجوان تعلیم یافتہ نہیں تھے۔

ایک گھر کی زمین پر صرف نشانات موجود تھے جب کہ باہر سفید رنگ کا خیمہ لگا ہوا تھا جس میں متاثرین نے رہائش اختیار کی ہوئی تھی۔

balochistan_fc_awaran 2

گاؤں کے بعض گھروں کی کھڑکیوں اور دیواروں میں گولیوں کے نشانات واضح تھے جب کہ استعمال شدہ گولیاں اور اس کا پٹہ بھی ہمیں دکھایا گیا جو چار پانچ انچ گولیوں کے خول تھے۔

ایف سی نے اپنے اعلامیے میں پانچ ہلاکتوں کے بارے میں بتایا ہے جب کہ گرفتاریوں کی کوئی تفصیلات موجود نہیں تاہم گاؤں کے لوگوں نے ایک فہرست ہمیں دی جس کے مطابق کارروائی کے دوران 48 لوگوں کو حراست میں لیاگیا جن میں سے اکثریت اب بھی زیرِ حراست ہے۔

اس کارروائی کے دوران ملا عیسیٰ نامی ایک بزرگ بھی گرفتار کیےگئے۔

’وہ ہم سب کو اٹھا کر لےگئے چار لڑکے زخمی تھے انھیں پھینک دیا، ہماری آنکھیں اور ہاتھ پیچھے باندھ کر کیمپ میں قید کردیا، ہمیں کچھ نظر تو نہیں آ رہا تھا صرف شور شرابہ سنائی دے رہا تھا دوسرے روز انھوں نے ہم آٹھ بوڑھوں کو رہا کردیا۔‘

پچاس کے قریب گھروں پر مشتمل گاؤں سے کہیں بھی سیاسی وابستگی نظر نہیں آئی لیکن مذہب کی طرف رجحان ضرور موجود تھا۔

ایف سی نے ہلاک ہونے والے مبینہ علیحدگی پسندوں کا تعلق بلوچستان لبریشن فرنٹ سے ظاہر کیا لیکن کسی بھی عسکریت پسند تنظیم نے ہلاک ہونے والوں کو اپنا قرار نہیں دیا۔

ایف سی کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے ایف سی کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کے جواب میں کارروائی کی گئی۔

صوبائی وزیرِداخلہ سرفراز بگٹی بھی اسی موقف کی تائید کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ صوبے میں آپریشن نہیں بلکہ فورسز جوابی کارروائی کرتی ہیں۔

سرفراز بگٹی کے مطابق جب ایف سی، لیویز یا پاکستان فوج کے قافلے گذرتے ہیں تو ان پر حملہ ہوتا ہے جس کی جواب میں فورسز کارروائی کرتی ہیں اور حکومت کسی فورس سے یہ اختیار نہیں لے سکتی کہ اس پر حملہ ہو اور وہ جوابی کارروائی بھی نہ کرے۔

آواراں کی جاؤ تحصیل ہیڈ کوارٹر میں ایف سی کا قلعہ نما کیمپ موجود ہے جب کہ جاؤ سے لےکر ملازئی گاؤں تک ہمیں راستے میں کہیں کوئی اور کیمپ یا کسی فورس کا گشت نظر نہیں آیا۔

balochistan_fc_awaran 1

ملازئی گاؤں سے تقریباً 15 کلومیٹر دور کھوڑو گاؤں میں بھی جلے ہوئے مکانات اور سامان کی باقیات موجود ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایف سی اور دیگر فورسز نے یہ کارروائی کی ہے۔

ایک نوجوان نے ہمیں اپنا گھر دکھایا جس کی چھت سلامت نہیں تھی اور جلا ہوا ملبہ زمین پر پڑا تھا۔ سیاہ دیواروں سے ایسے لگتا تھا جیسے ان کو آگ لگ چکی ہے۔

نوجوان کے مطابق صبح ساڑھے چار بجے کے قریب گاڑیوں کی آواز پر وہ اٹھ گئے، ایف سی کی گاڑیاں دیکھ کر گھر والوں نے انھیں بھگا دیا، انھوں نے دور سے دیکھا کہ 30 سے زائد گاڑیاں اور دو ہیلی کاپٹر تھے جو انتہائی نیچے پرواز کر رہے تھے۔

انھوں نے بتایا ’اہل کار گھروں میں داخل ہوئے اور سارا قیمتی سامان اٹھا کرگاڑیوں میں ڈالا اور گھر کو گولے سے اڑا دیا، ہم دور سے شعلے بلند ہوتے ہوئے دیکھتے رہے۔‘

گھروں کے باہر لوہے کے بکس موجود تھے جن کے کنڈے ٹوٹے ہوئے تھے جب کہ برتن، پانی کے کولر اور بسترے کوئلہ بن چکے تھے۔

کھوڑو گاؤں میں جب ہماری گاڑیاں داخل ہوئیں تو معصوم بچے ڈر کر دوڑتے رہے، جب کہ راستے میں کئی سائیکلیں چھوڑ کر ادھر ادھر بھاگنے لگے۔

ایک خاتون نے بتایا کہ ان کے بچے خوف زدہ رہتے ہیں جب ہماری گاڑی گاؤں میں داخل ہوئی تو بچوں نے سمجھا کہ یہ فوجی گاڑی ہے اس لیے وہ بھاگ گئے۔

کھوڑو گاؤں میں ہائی سکول موجود ہے جس کی دیواریں بلوچی میں نعروں سے سجی تھیں اس کے علاوہ ایک پرائیوٹ سکول بھی قائم ہے۔ کالج میں پڑھنے کے لیے بچوں کو 100 کلو میٹر دور آواراں ضلعی ہیڈکوارٹر جانا پڑتا ہے جہاں روزانہ جانا یا رہائش اختیار کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

موجودہ حکومت اور اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ترقیاتی منصوبے بنانے کے اعلان کیے لیکن پتھریلی سڑکیں کئی برسوں سے ٹوٹی ہوئی ہیں راستے میں ویران سکول تو نظر آتے ہیں لیکن پانی، بجلی یا ٹیلیفون کی کوئی لائن نظر نہیں آتی لوگوں نے اپنے طور پر شمسی توانائی کے پینل ضرور لگا رکھے تھے۔

علاقے میں موبائل فون کی سروس دستیاب نہیں صرف پی ٹی سی ایل کی وی وائرلیس فون سروس موجود ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی کارروائیوں سے پہلے یہ سروس بھی معطل ہوجاتی ہے اور ان کا رابطہ منقطع ہوجاتا ہے۔

Courtesy: BBC Urdu

 

Leave a comment

Filed under News

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s