حیدر علی: میرا ننھا سا آئیڈیل


hayder-ali-baloch-vbmp-long-march

تحریر : شہداد بلوچ
میں ایک بچے کو جانتا ہوں وہ کچھ سال پہلے تک اسکول کا بستہ اپنے کندھوں پر اُٹھایا کرتا تھا، پر قسمت کا بھی کیا کہنا جی! تمام تر حالات و واقعات سے باخبر ہونے کے باوجود اُسکا گُذر اُسی ’’برموداٹرائینگل‘‘ سے ہوا، جہاں سے اکثر لوگ اپنے پیاروں کے گُم ہوجانے کے قصے سناتے ہیں۔ اُس بچے کی خوش قسمتی یہ تھی کہ وہ خود تو اوتھل زیروپوائنٹ کے بدنام زمانہ’’برموداٹرائینگل‘‘ سے بچ نکلا۔۔۔۔۔ مگر بدقسمتی سے اُسکا والد اُس بے رحم ’’برمودا ٹرائینگل‘‘ کی نذر ہوگیا، اور اُنکی چار سالوں سے کوئی خبر نہیں ہے۔قدرت سے خفا یہ بچہ اسکول کے بستے کوگھر کے ایک کونے میں پھینک کراپنے گمشدہ والد کی تصاویریں اُٹھا کر اُنکی تلاش میں چل پڑا۔۔۔۔۔۔ مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔وہ چھ سالہ لڑکا اب دس سال کا ہوچکا ہے۔ قدرت کو شاید بچے کی چار سال پہلے خفا ہونے والی وہ بات ناگوار گذری تھی، اور قدرت ’’برموداٹرائینگل‘‘ پر اس قدر مہربان ہوگئی کہ زمین کا کیا ہلنا تھا نہ اُس بچے کا اسکول بچ سکا اور نہ ہی گھر کی چاردیواریاں، اور تو اور،اُسکے والدکی تصویریں ملبے میں دھنس گئیں۔۔۔۔۔ پھر رہی سہی کسر ’’برموداٹرائینگل‘‘ کے پھیرے داروں نے پوری کردی۔۔۔۔۔۔۔ اب نہ باہر سے اندر کوئی اِنکی مدد کو آسکتا ہے اور نہ ہی یہاں کے لوگ اپنی جانیں بچا کر باہر نکل سکتے ہیں۔

مگر یہ بچہ ہمت نہ ہارا اور گھر کے ملبے کی کھدائی کرکے اپنے والد کی تصاویریں نکال کر کسی طرح مشکے سے کوئٹہ جا پہنچا۔ اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کوئٹہ تا کراچی ساڑھے سات سو کلومیٹر طویل پیدل لانگ مارچ میں شامل ہو کر ایک ٹرالی کا وزن اپنے کمزور ہاتھوں میں اُٹھانے کا فیصلہ کرلیا۔۔۔۔۔۔ بظاہر تو وہ ایک پیہے والی ٹرالی تھی، مگر حقیقت میں وہ ننھا سا بچہ ہزاروں خاندانوں کے لئیے مسیحا بن کر اُنکے غم،پریشانی اور بے بسی کا بوجھ اُس ٹرالی میں ڈال کر بلند پہاڑی سلسلے کو بھوک وپیاس، تھکاوٹ وبیشمار زخم کھانے کے باوجود برداشت کرکے عبور کیا اور بالآخر اپنی منزل تک پہنچ گیا۔بلوچی ٹی وی چینل کے ایک صحافی نے سوال کیا کہ اِتنی کم عمری میں تم نے اِس ٹرالی کا وزن کوئٹہ سے کراچی تک کیسے اُٹھایا؟ تمہیں کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوئی؟

مگر جواب میں وہ اپنے تکالیف کی نشاندہی کے بجائے ماما قدیر اور فرزانہ مجید کے زخمی پیروں کا ذکرکرتے ہوئے جوش وجذبے سے کہتا ہے ’’ مجھے توکچھ بھی نہیں ہوا میں تو مزید آگے چلنے کے لئیے بھی تیار ہوں‘‘۔

دس سالہ حیدر علی کے کراچی پہنچنے پر اُسکی آنکھوں میں جو چمک دِکھی، وہ جیسے ہمیں مُخاطب کرکے کہہ رہی ہوں کہ اُمید کا دامن نہ چھوڑو۔۔۔۔۔۔۔ جدوجہد کرتے رہو۔۔۔۔۔۔ نئی صبح کا سورج طلوع ہونے کو ہے۔

ایک لمحے کے لئیے میرے ذہن میں اسکول کے وہ بچے بھی آئے، جو اپنے گھروں سے اسکولوں تک بامشکل اپنے بستوں کا وزن اُٹھا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ مگر حیدر علی نے پوری قوم کا وزن اُس ٹرالی میں ڈال کر کوئٹہ سے کراچی تک اپنے کندھوں پر برداشت کیا۔

برمودا ٹرائینگل سے بچ نکل کر ایک بے مثال جدوجہد کی تاریخ رقم کرنے والا ننھا سا حیدر علی میرا آئیڈیل ہے۔

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s