قومی آزادی کیلئے متحدہ محاذ تشکیل کی کوششوں کو تیز کیا جائیگا ،بی ایس او آزاد مرکزی کمیٹی اجلاس میں اہم فیصلے


چیئرمین بلوچ خان کی زیر صدارت اجلاس منعقد، سیاسی صورتحال، درپیش نئے چیلنجز اور آزادی پسندوں کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر تفصیلی بحث مباحثہ کیاگیا

BSO-Asad

کوئٹہ (این این آئی ) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی کمیٹی کا چوتھا اجلاس زیر صدارت مرکزی چیئرمین بلوچ خان منعقد ہوا اجلاس میں تنظیم کی گزشتہ کارکردگی، تنظیمی امور،عالمی و علاقائی سیاسی صورتحال اور آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈوں پر مفصل بحث مباحثے کے بعد اہم فیصلے کیئے گئے مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستانی پارلیمانی الیکشن اور اس کے بعد کی سےاسی صورتحال ،تحریک آزادی کو درپیش نئے چیلنجز اورآزادی پسندوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کی ضرورت پرتفصیلی بحث مباحثہ کیا گیا اور موجودہ صورتحال میں تنظیم کو مزید فعال و متحرک رکھنے اور تحریک آزادی میں بی ایس او آزاد کے تاریخی کردار کو مزید موثر بنانے کےلئے حکمت عملی ترتیب دی گئی.

 

مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں تمام اےجنڈوں پر بحث کے بعد اہم فیصلے لیئے گئے تمام آزادی پسند پارٹیوں اورتنظیموں سے رابطہ کر کے قومی آزادی کےلئے متحدہ محاز کی تشکیل کےلئے کو ششوں کو تیز کیا جائےگا تمام آزادی پسند پارٹیوں اور تنظیموں کے درمیان اعتماد سازی اور ہم آہنگی پیدا کرنے کےلئے کوششیں کی جائینگی تنظیم کو عوامی سطح پر فعال اور متحرک کیا جائےگاعوامی سطح پر مرکزی پروگرام منعقد کےئے جائینگے سوشل میڈیا میں جاری بحث کا حصہ نہ بنتے ہوئے سوشل میڈیا میں بی ایس او آزاد سے متعلق اٹھنے والے تمام سوالات کا جواب مرکزی سطح پر دیئے جائیں گے جس کےلئے بی ایس او آزاد کے ای میل اور فیس بک پیج پر میسج کے زریعے رابطہ کیا جائے اور اپنے سوالات ر کھے جائیں بی ایس او آزاد کا سابقہ ویب سائٹ sagaar.org کے تنظیم کے خلاف استعمال ہونے کی وجہ سے نیا ویب سائیٹ www.sagaar.net کے نام سے باقائدہ شروع کیا گیا ہے جو کہ اب سے بی ایس او آزاد کا باقائدہ ویب سائیٹ ہوگا تنظیمی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے اور تنظیمی معملات کو تنظیم کی اداروں میں لانے کے بجائے میڈیا میں تشہیر کرنے کی وجہ سے فارغ کیئے گئے ممبران صہیب بلوچ ، عمران ، جمال ناصر ،نوبت مری ، سمیر اور بیبگر بلوچ کی بنیادی رکنیت ختم کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا گیاہے.

علاقائی و عالمی سیاسی صورتحال پر بحث کرتے ہوئے مرکزی ممبران نے کہا کہ عالمی دنیا کی نظریں بلوچ تحریک آزادی کی سیاسی کامیابیوں پر ہیں پاکستانی قبضہ گیر پارلیمنٹ کے الیکشن کو بلو چ عوام نے مسترد کر کے بلوچستان میں آزادی پسند سیاست کی مضبوطی و عوامی مقبولیت دنیا کے سامنے واضع کی ہے آج بلوچ عوام کے اسی جزبے اور نظریاتی وابستگی کو آگے لے جا کر قومی تحریک آزادی کومزید مضبوط و متحرک کرنا ہے.

قوم پرستی کے نام پر اپنے گماشتوں کو تحریک آزادی کے خلاف استعمال کرنا پاکستان کا آزمودہ حربہ رہا ہے جسے استعمال کرکے پاکستان اپنے گماشتے ڈاکٹر مالک کو سامنے لاتے ہوئے تحریک آزادی پر ایک مرتبہ پھربلوچ قوم پرستی کے نام پر حملہ آور ہوا ہے ڈاکٹر مالک نے خود کو پاکستان کے دیگر گماشتوں سے آگے رکھتے ہوئے بلوچ فرزندوں کی اغوائ اور شہادتوں میں پاکستان کے فوج کے دست راست کا کردار ادا کیاہے جس کے عوض آج وہ پاکستانی قبضہ گیر اعوانوں میں بیٹھے ہوئے تحریک آزادی کو کاونٹر کرنے کےلئے مزاکرات اور ترقی کے نعرے لگا رہے ہیں اور دنیا کے سامنے آزادی پسندوں کے مد مقابل بلوچ عوام کی نمائندگی کا جھوٹادعویٰ کر رہے ہیں.

پاکستان تحریک آزادی کو کاونٹر کرنے کےلئے اپنے تمام حربے آزما چکا ہے اپنے گماشتوں اور اپنے زرخرید کارندوں کو استعمال کرنے کے ساتھ عالمی اداروں اور اپنے حمایتی ملکوں میں سفارتی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے دنیا بھر میں تحریک آزادی کےلئے مشکلات پیدا کرنے اور عالمی سطح پر بلوچ قوم کی آواز کو دبانے کےلئے کوششیں کر رہا ہے پاکستان چین کے ساتھ مل کر گوادر سمیت دیگر بلوچ قومی وسائل کی لوٹ مار کو تیز کر چکا ہے ،پاکستان اپنے اور چین کے مفادات کے تحفظ کو اس خطے میں یقینی بنانے کیلئے چین کی معاشی اور عسکری قوت کوبلوچ قومی تحریک آزادی کو ختم کرنے کی کوشش میں استعمال کر رہا ہے.

عالمی سیاست کے داو پیچ، عالمی طاقتوں کے اپنے مفادات کےلئے جنگ اور ڈپلومیسی کے تحت دنیا میں کوئی ملک نہ کسی کا مستقل دوست ہے اور نہ ہی دشمن دنیا کے ممالک اپنے مفادات دیکھتے ہوئے اپنے پالیسیوں کو مرتب کرتے ہیں بلوچ قوم کو اپنی سرزمین کی تاریخی اہمیت اور آج کی سیاسی پیش رفتوں اور عالمی طاقتوں کے مفادات کی دوڑ میں اپنی سرزمین اور اپنے قومی وجود کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے خود کو عالمی سطح پر منوانا ہوگا جس کےلئے بلوچ قوم کی قومی آزادی کی صورت میں اپنی سرزمین پر سیاسی طاقت اپنے ہاتھوں میں لینا ضروری ہے آزادی پسندوں کو پاکستان کی شاطر سامراجی حربوں اور عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں اور عالمی طاقتوں کے بدلتے مفادات کا ادراک کرتے ہوئے جامع پالیسیوں اور طویل مدتی مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے جس کےلئے قومی آزادی کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا کامیابی سے سامنہ کرنا اور اپنے اندر موجود کمزوریوں کا ادراک کرتے ہوئے ان کا خاتمہ کرنا ہوگا منظم قومی اداروں کی تشکیل ، قومی آزادی کی نظریاتی بنیادوں پر اتحاد اور ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے.

نظریاتی ہم آہنگی اور اپنے قوت کو اتحاد و اتفاق کے ساتھ پاکستانی قبضہ گیریت کے خلاف منظم انداز میں استعمال کر کے ہی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں قومی آزادی کےلئے جد و جہد کرنے والے تنظیموں اور پارٹیوں کومتحد و منظم ہوکر بلوچ عوام میں اپنی جھڑوں کو مزید مضبوط کرتے ہوئے بلوچ عوام کو سیاسی میدان میں مزید منظم و متحرک کرنے کی ضرورت ہے ۔

Leave a comment

Filed under News

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s