آم، جمہوریت اور ڈھٹائی


پاکستان میں آموں اور جمہوریت کا موسم ہے۔ آم منڈیوں اور سیاستدان اسمبلیوں میں پہنچ گئے ہیں۔

mango pakistan

کہتے ہیں کہ کسی ایسے ہی موسم میں ایک آدمی کسی باغ سے آم چرا رہا تھا کہ باغ کا رکھوالا وہاں پہنچ گیا۔ جس وقت مالی موقع واردات پر پہنچا تو چور آم درخت سے توڑ کے نیچے پھینکنے کی بعد اتر کے مالِ غنیمت اکھٹا کر رہا تھا۔ کچھ آم اس کے اردگرد بکھرے پڑے تھے اور کچھ اس کی جیبوں سے برآمد ہوئے۔ اسے آزاد عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے باوجود جرم سے انکار کر دیا۔

وکیل استغاثہ نے جرح کرتے ہوئے اس سے پوچھا کہ تم کسی اور کے باغ میں کیا کر رہے تھے۔ اس نے جواب دیا کہ میں باغ میں گیا ضرور تھا لیکن چوری کرنے نہیں بلکہ سیر کرنے۔

وکیل نے اگلا سوال یہ اٹھایا کہ اگر تم سیر کر رہے تھے تو تمہارے اردگرد بکھرے آم کس نے توڑے تھے۔ اس نے کہا کے ویسے تو مجھے نہیں پتا لیکن میرا خیال ہے کہ کوئی آندھی آئی ہوگی جس سے آم ٹوٹ گئے۔

وکیل استغاثہ نے کہا کہ اگر یہ بھی سچ ہے کہ تم سیر کرنے گئے تھے اور یہ بھی مان لیا جائے کہ آم آندھی سے ٹوٹ گئے ہوں گے تو جو آم تمہاری جیب سے نکلے ان کا کیا جواب دو گے؟ چور نے کہا کہ خدا کی قسم میں بھی اسی بات پہ حیران ہوں کہ وہ آم میری جیب میں کہاں سے آ گئے۔

اگر اس قصے میں آم کو گمشدہ بلوچ، جیب کو سیف ہاؤس اور چور کو پاکستانی فوجی ایجنسیاں پڑھا جائے تو یہ کہانی پاکستان کی کہانی ہے۔ خفیہ ایجنسیاں گمشدہ بلوچوں کے کیس میں سپریم کورٹ میں جو بیان دیتی آئی ہیں وہ اس چور سے کچھ بہت مختلف نہیں۔

ہمارے پاس کوئی آم نہیں ہیں۔ جو آم ٹوٹے پھوٹے گولیوں کا نشانہ بنے کبھی بوری میں بند اور کبھی کپڑوں کا چھلکہ اترے مادر زاد برہنہ گلیوں سڑکوں کے کنارے پڑے ملتےہیں وہ نا ہم نے توڑے نہ بھنبھوڑے، نا گولیاں ہم نے ماریں نہ بوری میں ہم نے بند کیا اور نہ پھینکا ہم نے۔ سرحد پار سے کوئی آندھی آئی ہوگی جس نے یہ تباہی مچا رکھی ہے۔

جو ایک آدھا آم ہمارے سیف ہاؤس سے چوسی بلکہ چچوڑی ہوئی حالت میں برآمد ہوا ہے تو خدا کی قسم ہم بھی پریشان ہیں کہ وہ ہمارے پاس کہاں سے آگیا۔

فرق اس کہانی اور پاکستان میں ایک یہ ہے کہ یہاں باغ کے رکھوالوں پر ہی چوری کا الزام ہے اور دوسرا یہ کہ کہانی کی عدالت نے چور کو چوری کے ساتھ ساتھ ڈھٹائی کی سزا بھی دی تھی اور پاکستان میں کسی کو چوری کی سزا بھی نہیں ملی۔

یہ وہ صورتحال ہے جس میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے نامزد ہونے پر ہماری ہتھیلیاں جمہوریت کی تالیاں پیٹ پیٹ کر لال ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان مسلم لیگ نون کا بلوچستان میں حکومت بناتے ہوئے بلوچ مڈل کلاس کے ایک نمائندے کو وزیر اعلی نامزد کرنا ایک اچھا قدم ہے لیکن پاکستان میں حکومت اور اختیارات بدقسمتی سے دو علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں۔ اور بلوچستان میں مسئلہ حکومت نہیں اختیارات سونپنے کا ہے۔ اور وہ اختیار جو آرمی چیف کو ادب سے راستہ دینے والی نواز حکومت کے پاس ہے ہی نہیں وہ سونپیں تو کسے اورکیسے؟؟

کیا ڈاکٹر مالک بلوچستان میں جاری مینگو پارٹی روک سکیں گے؟ آم چوروں کو پکڑنا ان کے لیے مشکل ہوگا لیکن کیا ان سے آموں کی برآمدگی کی توقع بھی رکھی جا سکتی ہے؟

کیا مینگو پارٹی کرنے والوں کی بے نام حکومت کے اختیارات واپس لیے جا سکتے ہیں؟ یا یہ صوبائی مسئلہ ہے وفاقی نہیں، یہ وفاقی مسئلہ ہے صوبائی نہیں کا پنگ پانگ کھیلا جائے گا؟ ان سب سوالوں کا جواب آنے تک میں نے تالیاں ملتوی کر رکھی ہیں۔

آپ اگر چاہیں تو ڈاکٹر مالک کو وزیر اعلی بننے پر مبارک باد ضرور دیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ جمہوریت کی لالی کے ہماری ہتھیلیوں سے بلوچوں کے چہروں تک سفر میں ایف سی کی کئی چیک پوسٹیں ہیں۔

اگر آم چور جمہوریت کو اپنی عدالت والی کہانی سناتے رہے اور ڈاکٹر مالک اسے سپریم کورٹ کی طرح سنتے رہے تو تاریخ کی عدالت سے باہر نکلتے ہوئے وکٹری کا نشان بنانے کے لیے انہیں شاہ رخ جتوئی سے کہیں زیادہ ڈھٹائی کی ضرورت ہوگی۔

شاعری اور تھیٹر کو اپنی ذات کا حصّہ سمجھنے والے سلمان حیدر راولپنڈی کی ایک یونیورسٹی میں پڑھاتے ہی

http://urdu.dawn.com/2013/06/10/aam-jamhooriyat-aur-dhitaai-salman-hyder-aq/

Leave a comment

Filed under Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s