جلتی پر تیل انڈیلنا تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی


گوادرچین کی گہری وابستگی کے سبب، پاکستانی اسٹابلشمنٹ اور چینی مفادات کے درمیان، بلوچ قومپرستی کا نیا میدان جنگ بن جائے گا

Mir Mohammad Ali Talpur

جب کوئی شخص اپنے ابتدئی کلمات میں28 مئی 1998ء کو چاغی میں کیے گئے جوہری دھماکے کو تاریخی قرار دے تو یہ بات اس تحریر کو لکھنے کے مقصد کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔ مسٹر اسامہ نظامانی نے اپنے مضمون ”گوادر: پاکستان اور خطے کیلئے ایک ابھرتا ہوا مثالی نمونہ“ (ڈیلی ٹائمز، 19 مارچ، 2013) میں یہی کیا ہے۔ کسی بھی ایٹمی دھماکے کا جشن منانا ہیروشیما اور ناگاساکی کے متاثرین کی یاد میں ایک سیدھی سادی توہین ہے۔ یہ امر ’چیچک‘ اور ’وبائی موت‘ کو لوگوں کیلئے ایک نعمت کے طور پر انکا جشن منانے کے مترادف ہے۔ وہ ایٹمی دھماکہ کہ جس نے ایک پہاڑ کو مار ڈالا اور وہاں رہنے والوں پر اسکے منفی اثرات کو صرف وہی لوگ ایک تاریخی واقعہ قرار دے سکتے ہیں جو صرف اور صرف اس دنیا کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہوں۔

اور پھر نظامانی ”ملک کو قریبی اور بین البراعظمی روایتی فوجی خطرات سے نمٹنے کیلئے صحیح نشانے پر لگنے والے، بہتر اور کامیاب ترسیلی نظام کی ترقی“ کی ستائش کرتے ہیں۔ خاص طور پر فاسد طبیعت والے افراد اور اداروں کے ہاتھوں میں اسکی تعیناتی کا نظام ہونا جوہری ہتھیاروں کو شرحاً مزید خطرناک بنا دیتے ہیں۔ اسٹراٹیجک کمانڈ اینڈ کنٹرول سپورٹ سسٹم (ایس سی سی ایس ایس) جیسے آرائشی نام دینے سے جوہری ہتھیار کبھی بھی وینٹی فیئر کے شائع کردہ سیاہ موت یا چیچک کے اشتہارات کے مقابلے میں زیادہ پرکشش نہیں ہوسکتے۔

مصنف گوادر کا چین کے حوالے کرنے کو ”دیر آید درست آید“ کے طور پر سمجھتا ہے اور امید کرتا ہے کہ ”گوادر پورٹ کو چین کے حوالے کرنے سے جو اقتصادی اور اسٹراٹیجک مواقع پیدا ہوئے ہیں“ اس سے ایک نیا ”اسٹراٹیجک اور اقتصادی افق“ نمودار ہو گا۔ وہ بلوچ کی ناراضگی کو بہ آسانی نظرانداز کرتا ہے لیکن پھر بلوچ خدشات کی ان لوگوں کے نزدیک کوئی اہمیت بھی تو نہیں ہے جو بلوچستان کو ٹیڑا نلیئس (غیرآباد یا غیر مسکونہ زمین) کے طور پر دیکھتے ہیں۔ گوادر کے استحصال کی حمایت کرنا، اسٹابلشمنٹ کے بلوچ کے منظم خاتمے کے نقطہءنظر کی حمایت کرنے کے مترادف ہے۔ یہ نقطہءنظر ان لوگوں کو بااختیار بننے میں بھی مدد دیتا ہے جو بلوچ عوام کیخلاف مظالم کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اس عمل میں شریک کار ہیں۔

نظامانی مستقبل میں گوادر سے ملنے والے غیر حقیقی اقتصادی فوائد کو بیان کرتا ہے اور اندازہ لگاتا ہے کہ ”40 ارب ڈالر کی آمدنی اور بیس لاکھ ملازمتوں کا پیدا ہونا، بطور ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے، پاکستان کیلئے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔“ وہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیتا ہے تاکہ اسے ”شہری سہولیات سے آراستہ ایک مکمل ساحلی شہر“ بنایا جاسکے۔ شاید وہ نہیں جانتا کہ ماضی میں نجی اور سرکاری شعبوں کی شہرکاری کی کوششیں کرپشن اور لوٹ مار کا مثالی نمونہ رہی ہیں۔

اس لوٹ مار کی وضاحت سپریم کورٹ کے جسٹس جاوید اقبال اور جسٹس راجہ فیاض احمد پر مشتمل ڈویژن بنچ کے سول پٹیشن نمبر 123-کیو 2006 کے حوالے سے دیے گئے فیصلے میں اچھی طرح سے کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ، ”گوادر میں زمینوں کی الاٹمنٹ خود حکومت کی طرف سے بنائی گئی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی ہیں۔ صوابدیدی اختیارات کو من مانے اور غیر مناسب طریقے سے استعمال کیا گیا ہے، جس کا حوالہ اختیارات کے غلط اور طاقت کے ناجائز استعمال کی ایک واضح مثال کے طور پر دیا گیا ہے۔ کوئی نہیں جانتا ہے کہ مسکونہ علاقے کی زمین، جوکہ حکومت کی ملکیت تھی، کس طرح سے نجی شعبے کو منتقل ہوئی، اور وہ بھی مونگ پھلی کے داموں، اس سے شفافیت کی کمی اور بدانتظامی ظاہر ہوتی ہے۔“ لوٹ مار جاری ہے، جیسا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کی وقعت اس کاغذ جتنی بھی نہیں کہ جن پر انہیں لکھا جاتا ہے۔ دسمبر 2009ء کو دی گئی میکرو حبیب کی عمارت کو گرانے کی ہدایت پر تاحال عمل نہیں ہوا ہے۔ پرویز مشرف اور اعلی بیوروکریٹس سمیت ملک کی اعلیٰ قیادت گوادر کے سنگھار ہاوسنگ کالونی میں من پسند پلاٹوں کے مالک ہیں۔ یہ تو صرف تودے کا سرا ہے۔ یہ تودہ ایک ہزار ٹائیٹینک تو خود ہی ڈبو دیگی اور یہ ان تودوں میں سے صرف ایک ہے۔ ظلم اور جبر کا تودہ تو بہت بڑا ہے۔

حتیٰ کہ مئی 2003ء تک، اسٹابلشمنٹ کی حامی جماعتوں نے بھی گوادر ماسٹر پلان کیخلاف ہڑتالیں کی تھیں۔ گوادر کی وجہ سے صوبے کی آبادیاتی خصوصیات میں تبدیلی سے آنیوالی تباہی کے حوالے سے بلوچ کی تشویش کو نظامانی نہ صرف نظرانداز کر تا ہے بلکہ اسے ایک مثبت عمل سمجھتا ہے۔ گوادر پر اسٹابلشمنٹ کی پالیسیاں جلتی پر تیل انڈیل رہے ہیں۔ وہ غلطی سے یہ سمجھتا ہے کہ، ”سب کو ایکساتھ ملانے سے گوادر ملک میں ابھرتے ہوئے متوسط طبقے کیلئے ایک زرخیز زمین بن جائے گی۔“ یہ دلیل غلط اور گمراہ کن ہے؛ کراچی، جوکہ دو کروڑ آبادی والا شہر ہے، اس نے اس خیالی مڈل کلاس کو پیدا کرنے کے بجائے کئی مافیا پیدا کیے۔ ایک شہر کہ جسکی تعمیر کا مقصد بلوچ کو انکے حقوق سے محروم کرنا ہو اور اسکی بنیاد تنگ نظرانہ عسکریتی اسٹراٹیجک اہداف کے حصول پر مبنی ہو، تو وہ اس مقصد کیسے حاصل کر پائیگا؟ وہ غلطی سے یہ فرض کرلیتا ہے جبکہ اس بات کو بھول جاتا ہے کہ اسلام آباد کی ہو بہو نقل کہیں بھی نہیں بنائی گئی ہے کہ گوادر کی ایک سے زائد نقلیں بنائی جائیں گی۔ درمیانے طبقے کے ظہور اور نئے شہروں کے قیام جیسے بہانے مصنوعی کی ترقی کے نام پر لوگوں کو انکے حقوق سے محروم کرنے کیلئے کوئی جواز فراہم نہیں کر سکتے۔

نظامانی بلوچستان کے ساحل پر بحری مشقوں کی تعریف کرتا ہے اور اس گوہربیانی کیساتھ کہتا ہے: ”پاکستان اور رائل سعودی نیول فورسز (آر ایس این ایف) کے درمیان باہمی دلچسپی کا کلی میل دونوں بحری افواج کو خلیج فارس، خلیج عدن اور بحیرہ احمر میں عمومی روایتی اور غیرمتناسب خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمہ وقت مشترکہ آپریشنل تیاری کے قابل بنائے گی۔ پاکستان کی جانب سے ایٹمی سہ پیوندہ کا حصول بحری میدان میں اس کی ڈیٹرنس کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنائے گی اور اس سے وہ اپنے نئے بحری قوت کے استعمال کے ذریعے مشرقی اور مغربی پانیوں میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے اورجب کبھی اور جہاں کہیں بھی اسکی ضرورت پڑی، وہ اس کو مذاکراتی اوزار کے طور پر استعمال کرنے کے قابل ہوگی۔“ واہ۔ وہ عسکریت کاری اور ترقی کے درمیان تفریق کو سمجھنے میں ناکام ہے، وہ سمجھتا ہے کہ آخرالذکر اولالذکر ہے۔ وہ یہ تصور پیش کرتا ہے کہ گوادر کی ترقی بحری عسکریت کاری کے ساتھ ساتھ ہو، جو کہ خطے میں استحکام کے بجائے مزید نقطہ ہائے اشتعال پیدا کرے گا۔ اس منطق کا منبع وہ لوگ ہیں جن کو لگتا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ عسکری طور پر حل کیا جا سکتا ہے۔ نظامانی بلوچ عوام کیخلاف اسٹابلشمنٹ کی ظالمانہ پالیسیوں کا ایک معذرت خواہ ہے اور خطے میں عسکریت کاری کا ایک وکیل ہے۔

جدید ہتھیاروں کے اس دور میں یہ سمجھنا خام خیالی ہے کہ دفاعی اعتبار سے کراچی کی نسبت گوادرزیادہ محفوظ ہے۔ خطے میں عسکریت کاری کیلئے گوادر کو تختہءمشق کے طور پراستعمال کرنا بلوچ عوام سے سراسر ناانصافی ہے اور اس سے انکی پرامن زندگی کے حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ گوادر کی عسکریت کاری نہ صرف لوگوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالے گی بلکہ ساحلی بلوچ برادریوں کو ماہی گیری کے ان مواقع سے بھی محروم کردیگی جن پر انکا روزگار منحصر ہے۔ حتیٰ کہ منصوبہ شدہ توسیع کے بغیر بھی ان کی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں اور انہیں تادیبی اقدامات کا بھی سامنا ہے، جیسا کہ بڑے پیمانے پر ان کی کشتیوں کو نقصان پہنچانا، جب کبھی بھی وہ ان ظالمانہ نظام الاوقات کے نفاذ کی خلاف ورزی کرتے ہیں؛ قومپرست بھی جوابی کارروائی میں بحریہ کی کشتیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ماضی میں چینی انجینئروں کو ہلاک کیا گیا ہے اور دوبارہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے بلوچ کیخلاف جابرانہ اقدامات میں تیزی سے اضافہ کیا جائے گا۔ جیساکہ نظامانی خود قبول کرتے ہیں کہ گوادر سے چین کو زیادہ فائدہ ہے اور یہ اس کی فوری ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ گوادرچین کی گہری وابستگی کے سبب، پاکستانی اسٹابلشمنٹ اور چینی مفادات کے درمیان، بلوچ قوم پرستی کا نیا میدان جنگ بن جائے گا۔ استحصال کی تمام کوششیں تنازعے کی شدت میں اضافہ پر ہی منتج ہونگی۔ تنازعات کا حل محض زبانی جمع خرچ سے کبھی نہیں نکل سکتا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ گوادر بلوچ عوام کے استحصال، ان کے حقوق سے مکمل انکار اور خطے کی عسکریت کاری کا ایک مثالی نمونہ ہے۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970ء کی دہائی کے ابتداء سے ایک تعلق ہے
mmatalpur@gmail.com
بشکریہ: ڈیلی ٹائمز،اتوار، 24 مارچ، 2013

http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2013%5C03%5C24%5Cstory_24-3-2013_pg3_2

Advertisements

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s