کسی بھاری قیمت کی ادائیگی کچھ نہیں تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی


متحدہ عرب امارات کے شیخ تلور کے شکار کیلئے سب سے زیادہ موزوں اور بہترین اضلاع حاصل کرلیتے ہیں کیونکہ پاکستانی حکمران انہیں مطمئن کرنے کیلئے پیچھے کی طرف جھکتے ہیں

Mir Mohammad Ali Talpur

گزشتہ 64 سالوں سے بلوچ حقوق کی پامالی سزا سے مستثنیٰ رہی ہے۔ اس زخم پر توہین کی ضرب لگانے کیلئے عرب شیوخ بھی اپنے سالانہ پکنک کے دوران بلوچستان میں آزادی سے بلوچ حقوق کو روندتے چلے آرہے ہیں۔ نواب خاران امیر حبیب اللہ خان نوشیروانی (1911 تا 1955) کے قانونی ورثاء نے بلوچستان ہائی کورٹ میں خاران اور واشک کے اضلاع میں شکار کے علاقوں کی الاٹمنٹ پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید کیخلاف آئینی درخواست دائر کی ہوئی ہے۔ اس میں انہوں نے اپنی زرعی زمینوں، جنگلات، پانی کے گزرگاہ، چشموں، کاریزوں، پھلوں کے باغات اور چراگاہوں، جوکہ ایک وسیع علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں، کسی مشاورت یا اجازت کے بغیر ان کی متحدہ عرب امارات کے صدر کو شکار کیلئے غیر قانونی الاٹمنٹ کیخلاف استدعا کی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ ہر سال متحدہ عرب امارات کے صدر کا عملہ شکار کی چوکیاں قائم کرتے ہیں اور اپنی گاڑیوں پر علاقے میں گشت کرتے ہیں، یہاں تک کہ زمین مالکان، مزارعوں اور چرواہوں کو اس علاقے میں اپنی زمینوں، فصلوں اور مویشیوں کی دیکھ بھال کی بھی اجازت نہیں دیتے۔

درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خاران کے نواب اور محمد علی جناح کے درمیان 1948ء میں ہوئے الحاق کے دستاویز کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اس وقت کے نواب نے عوام کے اعتماد کی خلاف ورزی کی اور انہوں نے غیرقانونی طور پر اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے، جس نے قلات کے جبری الحاق کیلئے جواز فراہم کیا۔ بلوچ عوام سے کی گئی ان کی بے وفائی کا صلہ انہیں قدرت کے انصاف کی صورت میں یہ ملا کہ اب عرب شیوخ ان کی اولاد کے حقوق پامال کررہے ہیں۔

خاران کے نواب بااثر تو ہیں لیکن پھر بھی من موجی عرب شیوخ کے سامنے اس حد تک مجبور ہیں کہ انہیں امداد کیلئے بلوچستان ہائی کورٹ کے مداخلت کی ضرورت آن پڑی ہے۔ تاہم، کچھ نہیں ہوگا۔ اگرچہ ریاستی اداروں اور ان کی معاونت سے چلنے والی قاتل دستوں کی براہ راست اور ڈھٹائی کے ساتھ ملوث ہونے کے ثبوت مان لیے گئے ہیں، مگر پھر بھی اعلیٰ عدالتیں لاپتہ افراد کی زندگیاں بچانے میں بے بس ہیں۔

شیوخ کے جھتے ’معدومیت کے خطرے سے دوچار فہرست میں شامل‘ تغدار تلور کی نقل مکانی کے راستوں اور مسکنوں پر یلغار کرتے ہیں۔ اجازت ناموں کے علاوہ انہیں اپنی جائیداد اور شکار کے مقاصد کیلئے درآمد شدہ اشیاء کیلئے ٹیکس سے بھی چھوٹ دی گئی ہے۔ انہیں بھدے قسم کے تلور کو باہر لیجانے کیلئے پورا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے شیخ تلور کے شکار کیلئے سب سے زیادہ موزوں اور بہترین اضلاع حاصل کرلیتے ہیں کیونکہ پاکستانی حکمران انہیں مطمئن کرنے کیلئے پیچھے کی طرف جھکتے ہیں۔ بدقسمتی سے، تلور خطرے سے دوچار جنگلی جانور اور نباتات کی بین الاقوامی تجارت پر معاہدے (سی آئی ٹی ای ایس) کے ضمیمہ نمبر ایک میں شامل ہے، جو اسکی کمرشل تجارت سے ممانعت کرتا ہے۔ عالمی تحفظ یونین (آئی یو سی این) اسکی حیثیت کو خطرے سے دوچار کے قریب تفویض کرتا ہے، یعنی بے جا استحصال کے سبب اسکی تعداد تیزی سے گھٹ رہی ہے، اور یہ خطرے سے دوچار ہونے یا حتیٰ کہ مکمل طور پر معدوم ہونے کا بھی سامنا ہے۔ گویا کہ اسکا سالانہ قتل عام کافی نہیں، پانچ ہزار سے لیکر دس ہزار کو زندہ پکڑکر جزیرہ نما عرب میں شاہین مالکان کو شاہینوں کی تربیت کیلئے فراہم کیا جاتا ہے۔ چونکہ تلور ایک نازک صورتحال سے نبردآزما ہے، اسکی معدومیت میں معاونت ایک جرم ہے، لیکن پھر ایک ایسی ’اسٹا بلشمنٹ‘ سے، جسے انسانوں کی کوئی پرواہ نہ ہو، جیسا کہ بلوچ، ہزارہ اور شیعہ نسل کشی سے ثابت ہوتا ہے، تو جانوروں کے حقوق کی دیکھ بھال کی توقع نہیں کی جا سکتی، خاص طور پر جہاں بات عرب شیوخ کی ہو ۔

عربوں کے یہ سالانہ ’حملے‘ بلوچ کیلئے تلخ یاددہانیاں ہیں کہ ان کی آبائی زمین پران کے حقوق پر قدغنیں لگائی گئی ہیں۔ لیکن اصل میں یہ ان بہت ساری ناانصافیوں میں سے صرف ایک کی مثال ہے کہ جنکا بلوچ سامنا کررہے ہیں۔ ایک اور ضرررساں ترقیاتی منصوبہ کہ جس نے ان کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہوا ہے۔ میرانی ڈیم، کہ جس نے پندرہ ہزار خاندانوں کو اپنی زمین سے اکھاڑ پھینکا، اس ڈیم کو ان زمینوں کو سیراب کرنے کیلئے تعمیر کیا گیا تھا کہ جنہیں متحدہ عرب امارات کے شیوخ چاہتے تھے اور یہ ایک مسلسل تباہی کا باعث بنا ہوا ہے۔ ہاشم بن راشد نے اپنے مضمون ”ترقی یافتہ بلوچ؟“ میں اس تباہی کو بے نقاب کیا ہے۔ جون 2007ء کی موسلادھار بارشوں کے دوران اسکے ناقص ڈیزائن کے سبب مخالف سمت میں پانی کے بہاو کی وجہ سے وہاں سیلاب آیا اور تقریباً 36 افراد جاں بحق اور 250000 افراد بے گھر ہوگئے، کھجور کے نخلستان اور کاریز کا نظام تباہ و برباد ہو گیا۔ اسے 33000 ایکڑ زمین کو سیراب کرنا تھا لیکن اس سے 50000 ایکڑ سے زائد قابل کاشت زمین ناقابل استعمال ہوگئی اور مستقبل میں آبپاشی کے ذرائع بھی ختم ہوگئے۔ ڈیم نے اس سے کئی گنا زیادہ زمین تباہ کردی جتنی کہ یہ کبھی بھی سیراب کرپاتی۔ اسکے علاوہ، بے گھر خاندانوں کی اکثریت کو ابھی تک کوئی معاوضہ نہیں ملا ہے۔

گوادر پورٹ، ایک اور بیزارکُن مسئلہ ہے کہ جسکو یہاں تک کہ بلوچستان کی کٹھ پتلی انتظامیہ سے مشورہ کیے بغیر ہی چین کے حوالے کردیا گیا۔ گوادر کو بلوچستان میں آبادیاتی خصوصیات اور فوجی توازن کو تبدیل کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ چین یقینی طور پر بلوچ قومپرستوں کیخلاف اقدامات میں پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔ یہ امر بلوچ کے اندر نفرت کو مزید گہرا کررہا ہے۔

ایک اعلیٰ پولیس افسر کے مطابق، صرف چمن میں حکام کروڑوں روپے کما رہے ہیں، اس پر طرہ یہ کہ ان غیر قانونی سرحدی چوکیوں کی آمدنی اور یہ حقیقت کہ بلوچستان کو اربوں ڈالر مالیت کے منشیات کی تجارت کیلئے ایک گزرگاہ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے اور آپ کو اندازہ ہو ہی جائے گا کہ اس سیاہ معیشت میں وہاں کیا کچھ داو پر لگا ہوا ہے۔ سیاہ معیشت افراتفری کے عالم میں پروان چڑھتی ہے اور اس کے نتیجے میں پرآشوب حالات کو فروغ ملتا ہے۔ وہ کہ جنکے پاس اختیارات ہیں، اس صورتحال کا اربوں روپے کمانے کیلئے استحصال کررہے ہیں۔ خرم حسین نے اپنے مضمون ”پوشیدہ معیشت“ میں اسٹیٹ بینک کے تحت چلنے والے 16 تصفیہ گھروں کے اعداد و شمار دیے ہیں۔ ہر ماہ یہ لین دین کی رقم کا ڈیٹا جاری کرتی ہیں۔ 1999ء کے بعد سے ڈیٹا کچھ بڑا ہی ظاہر کرتا ہے، واقعی بہت ہی بڑے تناسب کیساتھ، جوکہ نظروں سے اوجھل ایک بڑی کاروباری گرما گرمی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کوئٹہ اور پشاور میں ایک غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، اگرچہ یہ فیصل آباد اور راولپنڈی جیسے اقتصادی مراکز نہیں ہیں۔ اول الذکر کے اعداد و شمار بالترتیب محض 900 ارب روپے اور 1.3 کھرب روپے سے نیچے ہیں، اور مو خرالذکر کیلئے اعداد و شمار بالترتیب 1.3 کھرب روپے اور 1.4 کھرب روپے کے ہیں۔ غیر قانونی طور پر لین دین کی رقم یقینا قانونی طور پر کی گئی لین دین کی رقم سے بہت زیادہ ہے اور یہ یہی پیسہ ہے جوکہ حکام کو صورتحال کے بُرآشوب رکھنے کی طرف راغب کرتا ہے تا کہ وہ بڑے پیمانے پر منافع کماتے رہیں۔

’اسٹابلشمنٹ‘ اپنے اور اپنے دوستوں کی ان مراعات کو برقرار رکھنے کی خواہش میں غیر انسانی بربریت پر اتر آئی ہے اور اسے بلوچ کیخلاف ’غلیظ جنگ‘ کیساتھ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس کی تازہ ترین جدت یہ ہے کہ اس نے مغوی بلوچوں کی لاشیں کراچی میں پھینکنا شروع کر دی ہیں۔ خاران اور پنجگور سے تعلق رکھنے والے اقراء یونیورسٹی کراچی کے دو طالب علم مقبول اور بابو افتخار، جنہیں جنوری میں اغوا کیا گیا تھا، کی لاشیں حال ہی میں منگھو پیر کے قریب سے ملی ہیں اور ان کیساتھ کراچی سے ملنے والی مغوی بلوچوں کے لاشوں کی تعداد سات تک پہنچ چکی ہے۔ ’اسٹابلشمنٹ‘ بلوچ کو خطرے سے دوچار حیات کی فہرست میں دیکھ کر بہت خوش ہو گا۔ اسکے اسٹراٹجک اثاثے ہزارہ اور شیعہ کو اس فہرست میں شامل کرنے کیلئے اوور ٹائم لگا رہے ہیں۔

معمولی سی توہین اور اپنے حقوق کی چھوٹی سی خلاف ورزیوں کو عاجزی سے قبول کرنے کا انجام سب سے زیادہ مکروہ خلاف ورزیوں کی قبولیت پر ہوتا ہے۔ ہر خلاف ورزی آپکی آزادی کو محدود کردیتی ہے لہٰذا اسکے خلاف مزاحمت کرنی چاہئے۔ خاران کے نواب اور وہ لوگ جو اس توہین کو قبول کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں فریڈرک نطشے کو ملاحظہ فرمائیں، ”اپنا مالک خود بننے کے استحقاق کیلئے کسی بھی بھاری قیمت کی ادائیگی کچھ نہیں۔“ پروقار زندگی کیلئے کوئی بھی قیمت بڑی نہیں۔

اکبرالہ آبادی (1846تا1921) نے بھی اسے شاندار طریقے سے بیان کیا ہے: غفلت کی ہنسی سے آہ بھرنا اچھا/ افعالِ مضر سے کچھ نہ کرنا اچھا/ اکبر نے سنا ہے اہلِ غیرت سے یہی/ جینا ذلت سے ہو تو مرنا اچھا۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970ء کی دہائی کے ابتداء سے ایک تعلق ہے
mmatalpur@gmail.com
بشکریہ: ڈیلی ٹائمز،اتوار، 10 مارچ، 2013
http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2013%5C03%5C10%5Cstory_10-3-2013_pg3_2

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s