آپ بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی


ہزاروں بلوچ 1974ءکے بعد سے لاپتہ ہوئے ہیں اور اب بھی ہورہے ہیں جبکہ ان میں سے 700 سے زائد کی تشدد زدہ لاشیں پورے بلوچستان میں پھینکی گئی ہیں

Mir Mohammad Ali Talpur

چنیدہ اور موزوں مالیخولیا ’اسٹابلشمنٹ‘ کی نفسیات میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، اسکے نتیجے میں، ہمیں بلوچستان میں موجود بے چینی اور مصائب کی بابت مضحکہ خیز حیلے اور توضیحات ملتی رہتی ہیں۔ اسٹابلشمنٹ کے ترجمان اس کا دفاع منطقی امر مسلمہ کیساتھ کرتے ہیں جوکہ لوگوں کو بے وقوف بنانے کیلئے کافی پرکشش ہوتی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ اس حقیقت کو نظر انداز کریں کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال گزشتہ 64 سالوں کے مظالم اور استحصال کی پیداوار ہے اور وہ اس بات پر یقین دلانا چاہتے ہیں کہ یہ سب کچھ مذموم عزائم رکھنے والی چند بین الاقوامی طاقتوں کی سازشوں کی پیدا کردہ ہیں۔

چند روز قبل سینیٹ کی کارروائی میں ہزارہ قتل عام کے حوالے سے سینیٹر رضا ربانی نے بلوچستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کو گوادر پورٹ کو چین کے حوالے کرنے سے منسلک کیا اور کہا، ”ہم سب جانتے ہیں کہ گوادر کتنا اہم ہے، خاص طور پر جب بات بین الاقوامی سیاست کی ہو۔“ شاید، وہ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ یہ باورکرلیں کہ چین کیساتھ دشمنی کی وجہ سے امریکہ اور بھارت وہاں مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ برطانوی ہائی کمشنر ایڈم تھامسن کے گزشتہ ماہ کے بیان؛ ”پاکستان کو انقلابی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں لوگوں کے مسائل حل نہیں کررہی ہیں“، نے بھی انہیں بری طرح پریشان کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا، ”آخر وہ ہوتے کون ہیں کہ اس طرح کا بیان دیں؟“ جناب، وہ اس طرح کا بیان اسلئے دیتے ہیں کیونکہ وہ آپکے پورے وجود کے قیام کی مالی اعانت کررہے ہیں۔

یاد رہے کہ بلوچستان پر سینیٹر کا یہ موقف کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہیں اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے جبری و غیر رضاکارانہ گمشدگی (ڈبلیو جی ای آئی ڈی) کے گزشتہ سال ستمبر کا دورہ بھی سخت ناگوار گزرا تھا۔ انکی زیرصدارت، قومی سلامتی پر پارلیمانی کمیٹی (پی سی این ایس) میں فیصلہ کیا گیا کہ مستقبل میں اقوام متحدہ کے کسی گروپ کو پاکستان میں ”حساس معاملات“ پر بات کرنے کیلئے دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ انہوں نے فوجی حکام کیساتھ ملاقات کرنے کی خواہش پراقوام متحدہ کے گروپ پر سخت تنقید کی اور خوشی کا اظہار کیا کہ فوجی قیادت کی طرف سے اقوام متحدہ کے ٹیم کی کوئی خاطر مدارت نہیں کی گئی۔ پی سی این ایس نے ڈبلیو جی ای آئی ڈی کے دورے کے حوالے سے اسے مطمئن کرنے میں ناکامی پر خارجہ اور داخلہ کی وزارتوں کی سخت کھچائی کی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پی سی این ایس کی لاپتہ افراد پر 15 سفارشات ابھی تک عالم برزخ میں ہیں۔ وہ خود تو لاپتہ افراد کیلئے کچھ کرتے نہیں مگر لاپتہ افراد کے بارے میں بین الاقوامی اداروں کی جائز تشویش انہیں ناگوار گزرتی ہے۔ مزید برآں یہ کہ جب ریاستیں لوگوں کیخلاف ’غلیظ جنگوں‘ کی قیادت کریں تو ہر ایک کو مداخلت کا حق حاصل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمان ٹربیون میں 27 ستمبر، 2012ء کو ذرائع کے حوالے سے ایک خبر چھپی جس میں عندیہ دیا گیا تھا کہ سینیٹر رضا ربانی کا نگراں وزیر اعظم کیلئے انتخاب کا امکان ہے۔ نگران وزیر اعظم بننے کیلئے آپ کو صحیح طرح کی صوتی سرسراہٹ کرنی پڑیگی۔

میں اصل موضوع سے ہٹ رہا ہوں۔ چلیں پھر سے گوادر اور بین الاقوامی سازشوں کی طرف لوٹتے ہیں۔ گوادر مارچ 1948ء کو اسوقت عمان کو لیز پر تھا جب جناح کی قیادت میں پاکستان نے تمام معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جبری الحاق کے ذریعے بلوچ کی آزادی کو ہڑپنے کا فیصلہ کیا۔ تب کوئی سازش نہیں تھی ماسوائے پاکستانی ریاست کی بلوچستان پر قبضہ کرنے اور بلوچ کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی سازش کے، اور یہ سازش ابھی تک پھل پھول رہی ہے۔ حقیقی اور بنیادی سازش 1948ء سے لیکر بلوچ اور 1999ء کے بعد سے ہزارہ کیخلاف ریاستی سرپرستی میں کی جانیوالی دہشتگردی کے اصل مسئلے کو دھندلانا ہے۔ سرکاری بیانیہ اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ جو کچھ بلوچستان میں ہوتا ہے وہ ’غیر ملکی ہاتھ‘ کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے ہے۔ جو بات وہ آسانی سے بھول جاتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ بلوچ کی تاریخ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ان لوگوں کیخلاف مزاحمت کی ہے جنہوں نے انہیں سرنگوں کرنے کی کوشش کی ہے۔ غیر ملکی ہاتھ کے بارے میں الزامات کا مقصد اپنے اُن ’اسٹراٹیجک اثاثوں‘ کیخلاف تنقید کا رخ موڑنا ہے جو افغانستان میں امریکہ اور کشمیر میں بھارت کیخلاف کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں رہے، اور انہوں نے اپنا قہر یہاں کے غیرمسلح اور بے گناہ لوگوں پر برپا کیا ہوا ہے۔

ہزارہ قتل عام، بشمول اس سال ہوئے دو حملوں کے، کی ذمہ داری لشکر جھنگوی کی طرف سے قبول کی گئی تھی۔ تو پھر رضا ربانی کے بیان کا مطلب یہی ہوگا کہ وہ چین کے دشمنوں کیلئے کام کر رہے ہیں؛ یہ اتنی ہی بعید از قیاس اور انتہائی احمقانہ ہے جتنی کہ یہ ہوسکتی ہے۔ ان الزامات کا اصل مقصد بلوچ قومپرستوں کو بدنام کرنا ہے تا کہ حکومت اور میڈیا عوام کو فوج اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کی طرف سے بلوچ کیخلاف ڈھائے جانیوالے مظالم کیلئے جواز فراہم کر سکیں۔ جنوری میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد، بلوچ کیخلاف کارروائیاں تیز کردی گئیں، جبکہ لشکر جھنگوی کی طرف آنکھیں بند کر لی گئیں، جسکا نتیجہ 16 فروری کے قتل عام کی صورت میں نکلا۔

میڈیا اظہار خیال کو کنٹرول کرتا ہے اور اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ بلوچ کو بدترین رنگوں میں رنگا جائے، یہ اس برتاو کے بالکل برعکس جو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) یا دوسرے بنیاد پرستوں سے برتا جاتا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کا انٹرویو لیاجاتا مگر بلوچ رہنماوں پر پابندی عائد ہے۔ سپریم کورٹ میڈیا میں بلوچ کی آراء کا نوٹس ریاست کی سالمیت کو خطرے کے طور پر لیتا ہے لیکن ٹی ٹی پی کو حلال اور جائزسمجھتا ہے۔ یہ کسی تعجب کی بات نہیں کہ میلکم ایکس نے کہا، ”اگر آپ محتاط نہیں ہیں تو اخبارات آپ کو ان لوگوں سے متنفر کردینگی کہ جن پر ظلم ہورہا ہو، اور ان لوگوں کیلئے محبت پیدا کرینگی جو ظلم کر رہے ہوں۔“ یہاں مظلوم سے آخرش نفرت کی جاتی اور ظالم کی تعریف۔

لوگ اکثر ایسے تکلیف دہ سوال پوچھتے ہیں جوکہ لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی سمن بلوچ نے محمد حنیف سے پوچھا: ”اگر وہ میرے والد کو پھانسی دینا چاہتے ہیں، انہیں عدالت میں لائیں، اس پر مقدمہ چلائیں اور ہم سب کے سامنے انہیں پھانسی دیں۔ ہمیں کم از کم یہ جان کر اطمینان ہوگا کہ وہ اب نہیں رہے۔ لیکن اگر وہ انہیں تین سال، چار سال کیلئے زندہ رکھتے ہیں، اور اگر وہ ان پر ہر روز تشدد کرتے ہیں اور پھر انہیں قتل کرکے ان کی لاش کو پھینک دیتے ہیں، تو اس سب کا مطلب کیا ہے؟“ اسکا جواب یہ ہے کہ وہ ایسا ان لوگوں کو جسمانی اور نفسیاتی طور پر خوفزدہ کرنے کیلئے کرتے ہیں جو اپنے حقوق چاہتے ہیں اور ریاست کی طاقت کو نہیں مانتے۔

یہ غورطلب بات ہے کہ 1974ء کے بعد سے ہزاروں بلوچ لاپتہ ہوئے ہیں اور اب بھی ہورہے ہیں جبکہ ان میں سے 700 سے زائد کی تشدد زدہ لاشیں پورے بلوچستان میں پھینکی گئی ہیں۔ تاہم، یہ سفاکیت بلوچ کو خوفزدہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے جو جبر اور استحصال کیخلاف اپنی مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ انہیں اس بات کا احساس ہے کہ ان کا اپنے حقوق، زمین اور وسائل سے دستبرداری ان کی زندگی کو بے معنی اور بے وقعت بنا دے گی۔ لہٰذا، وہ مزاحمت اور جدوجہد کررہے ہیں۔ ان کیلئے حتمی قیمت ان کی زندگی نہیں ہے بلکہ ان کی زمین، تاریخ اور ثقافت ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے بغیر وہ اپنے بندھن اورطرز زندگی سے محروم ہوجائینگے اور یہ انہیں بغیر کسی شناخت اور بلامقصد زندگی کی طرف دھکیل دیگی؛ جدوجہد ان کی شناخت کو محفوظ اور مضبوط کرتی ہے۔ ریاست کو ان کا پیغام یہ ہے کہ وہ ثابت قدم رہینگے اور غالب ہونگے۔ ان کیلئے پابلو نیرودا کا واضح بالذات اور تیکھا قول: ”تم سارے پھول کاٹ سکتے ہو لیکن تم بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے“، محرک مقولہ بن چکا ہے۔ یہی بات ہے کہ جس پر وہ یقین رکھتے ہیں اور وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے خواہ کچھ بھی کہا جا ئے یا کیا جائے۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970ء کی دہائی کے ابتداء سے ایک تعلق ہے
mmatalpur@gmail.com
بشکریہ: ڈیلی ٹائمز، اتوار، 24 فروری، 2013
http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=20132\24\story_24-2-2013_pg3_2

Leave a comment

Filed under Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s