بلوچ لاپتہ افراد : ایک روح شکن داستان (حصہ دوم) تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی


بلوچ کیساتھ پاکستانی ریاست کا سلوک کینہ پرور اور سفاکانہ ہے اور کمزور بہانے پیش کرکے وہ اپنی ذمہ داریوں سے انحراف جاری رکھے ہوئے ہے

Mir Mohammad Ali Talpur

ایک لاپتہ بیٹے، بھائی، یا دوست کا درد کسی شخص کی نفسیات پر گہری چھاپ بنائے رکھتا ہے۔ یہ ایک ان مٹ درد ہے، اسے نہ تو وقت اور نہ ہی دلاسے کم کرسکتے ہیں۔ دو ہفتے قبل، میں اپنے ساتھی ’جانی‘ دلیپ داس کی 91 سالہ ماں سے اپنی ادائیگیء احترام کیلئے گیا۔ اس کے پہلے الفاظ تھے، ”میرا جانی کیسا ہے؟“ وہ اب بھی یہی سمجھتی ہے کہ وہ زندہ ہے اگرچہ یہ 1975ء کا سال تھا جب اسے شیر علی مری کے ہمراہ فوج کے انٹیلی جنس نے بیل پٹّ سے اٹھایا تھا۔ انہوں نے اور ان کے شوہر، ایئر کموڈور (ر) بلونت داس، جو چند سال قبل انتقال کرگئے، نے اسکے بارے میں کوئی خبر حاصل کرنے کی بہت کوشش کی لیکن تمام محنت بیکار گئی۔ اگرچہ مسز داس کو دل کے کئی دورے پڑے ہیں لیکن لاپتہ بیٹے کی یادیں اور درد جانے کا نام ہی نہیں لیتیں۔

میں نے اپنے 16 سابق طالب علم کھو ئے؛ ان میں سوبدار، واحد بخش، شاہ میر اور احمد مرغیانی، زمان خان اور احمد علی چلگاری، عرضو، شربت، مراد اور زمان شیرانی، محمد خان اور محمد نبی پیردادانی، فیض محمد، ناصر اور وزیر خان مزارانی، گلزار تنگیانی اور غلام قادر پیرکانی۔ ڈاکٹر اکبر پیردادانی سمیت کئی لاپتہ ہیں۔ ان کے ساتھ میرا تعلق بہت گہرا ہے؛ اور بہت سے اکثر مجھ سے یہ کہتے، ”استاد، تہ مئے ناروائے پت استئے“ (استاد، آپ ہمارے لئے والد کی طرح ہیں)۔ مریوں میں ’ناروائے پت‘ کا مطلب ایک غیر فطری والد ہے مگر پھر بھی ایک والد۔ بہت سے کہتے، ”استاد، ما تھئی ناروائے بچّ استوں“ یعنی ہم آپکے غیرفطری بیٹے ہیں مگر پھر بھی بیٹے۔

اللہ بخش بنگلزئی کا بیٹا حافظ سعید الرحمن 10 سال سے زائد عرصے سے لاپتہ ہے۔ اپنے بیٹے کی تلاش کے دوران، جو اس دن سائیکل پر گھر سے نکلا تھا، انہوں نے مردہ خانوں کے چکر لاگائے، قبر سے نکالی گئی ایک لاش دیکھی، اپنے بیٹے کی گمشدگی کے بارے میں مختلف باتیں سنیں، جن میں اسکا جیل میں ہونا، ایک بم دھماکے میں ہلاک ہونا شامل ہیں۔ سرکاری بیانات پر سازشی چکرداریوں کا غلبہ ہے جو مسلسل بدلتی رہتی ہیں۔ انکے بیٹے کے لاپتہ ہونے کے دو ہفتے بعد ایم آئی کا ایک شخص آیا اور ان سے پوچھا کہ ان کے بیٹے کا جہادی تنظیموں کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔ انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ ایک مرتبہ اس کا نام بلوچستان ہائی کورٹ کی لسٹ پر جیل میں ہونے کے حوالے سے ظاہر کیا گیا تھا لیکن یہ بھی غلط ثابت ہوا۔ ایک مذہبی ذہنیت رکھنے والا بلوچ اتنے ہی خطرے میں ہے جتنا کہ ایک سیکولر بلوچ ۔

سمن بلوچ بلوچستان یونیورسٹی میں ایم ایس سی کیمسٹری کی ایک طالبہ ہے، ان کے والد ڈاکٹر دین محمد خضدار کے علاقے اورناچ کے سرکاری ہسپتال میں ایک میڈیکل افسر تھے، انھیں 28 جون، 2009ء کو ان کے ہسپتال کی رہائش گاہ کے دروازے توڑ نے کے بعد، انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اٹھایا۔ وہ بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی مرکزی کمیٹی کے رکن تھے۔ ان کے بھائی سے ان کی سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ سمن ایک گومگو کی حالت میں ہے، کیونکہ اسے ہمیشہ جھوٹ بولنا پڑتا ہے، اسلئے کہ وہ نہیں چاہتی کہ اسکے اساتذہ کو یہ معلوم ہو کہ وہ کیوں کلاس میں موجود نہیں ہے، یا تو وہ کسی احتجاجی کیمپ میں ہے، یا کسی عدالت کی سماعت میں، یا پھر اس امید میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہی ہوتی ہے کہ کوئی صحافی اس کے والد کے بارے میں کچھ لکھے گا۔ اسے جھوٹ بولنا برا لگتا ہے۔ سمن اپنے والد کے انجام کی بابت فکرمند ہے اور پوچھتی ہے کہ وہ کیونکر انہیں سالوں حراست میں رکھتے ہیں اور پھر وہ انہیں قتل کردیتے ہیں۔ وہ کہتی ہے، ”اگر وہ میرے والد کو پھانسی دینا چاہتے ہیں، وہ اس کو عدالت میں لائیں، اس پر مقدمہ چلائیں اور ہم سب کے سامنے اسے پھانسی دیں۔ ہمیں کم از کم یہ جان کر اطمینان ہوگا کہ وہ اب نہیں رہے۔ لیکن اگر وہ اسے تین سال، چار سال تک زندہ رکھتے ہیں، اگر وہ ہر روز اس پر تشدد کرتے ہیں اور پھر اسے قتل کرکے اس کی لاش کو پھینک دیتے ہیں، آخر اس کا مقصد کیا ہے؟“ وہ مزید کہتی ہے، ”ان لاشوں کو دیکھنے، ان کے بارے میں سننے، مزید لاشوں کے گرنے کے کیلئے انتظار کرنے نے، ہمیں چلتی پھرتی لاشوں میں تبدیل کر دیا ہے، ہم خود کو ان پھینکی گئی لاشوں کی طرح محسوس کرتے ہیں۔“

سمن نے اپنی زندگی کے گزشتہ تین سال عدالتوں اور احتجاجی کیمپیوں، میڈیا کو اپنے والد کا نام خبروں میں زندہ رکھنے پر قائل کرنے کی کوشش میں گزارے ہیں۔ وہ کہتی ہے، ”میں عدالت کی سماعتوں میں جاتی ہوں لیکن میرا دل اسے قبول نہیں کرتا، میں جانتی ہوں کہ ان عدالتوں سے مجھے انصاف ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔“ اس کے چھوٹے بھائی کو اسکول چھوڑ کر خاندان کی زمین پر کام کرنا پڑ رہا ہے تاکہ خاندان کی کفالت کرسکے۔

نصراﷲ بنگلزئی، کوئٹہ ڈگری کالج کا ایک سابق طالب علم، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا موجودہ چیئرپرسن، اپنے لاپتہ چچا علی اصغر بنگلزئی کی تلاش میں جٹا ہوا ہے جوکہ ایک درزی کی دکان چلاتا تھا، ایک سیاسی کارکن تھا اور خیر بخش مری کی سیاسی جماعت حق توار کاایک رکن تھا۔ انہیں 2000ء میں اٹھایا گیا لیکن 14 دن کے بعد رہا کردیا گیا۔ اس مدت کے دوران، اصغر کو ایک دیوار پر الٹا لٹکا یا گیا اور اسے خیر بخش کیخلاف گواہی دینے کیلئے کہا گیا، اور ڈرایا گیا کہ ایسا نہ کرنے پر رسی کاٹ دی جائے گی، لیکن اس نے انکار کر دیا۔ نصراللہ کی لگاتار مہم اور کوئٹہ پریس کلب کے باہر اس کا مستقل احتجاجی کیمپ فوجی اسٹابلشمنٹ کیلئے تھوڑی سی شرمندگی کا باعث بن رہے تھے، تو ایم آئی کے ایک کرنل ظفر نے ملاقات کیلئے اسے بلایا اور اس سے پوچھا، ” کیا آپ گورنر سے ملتے رہے ہو؟“ اس نے کہا کہ کم از کم سات مرتبہ۔ کرنل نے گفتگو جاری رکھی، ”اور آپ نے اسے مقامی آئی ایس آئی کے کمانڈر کو گورنر ہاوس میں طلب کرنے کیلئے کہا؟“ اس نے ہاں میں جواب دیا۔ کرنل نے کہا کہ، ”وہ یہاں میرے سب سے زیادہ جونیئر کیپٹن تک کو طلب نہیں کر سکتا۔ وہ یہ بات جانتا ہے اور آپکو بھی جاننا چاہئے۔“ نصراللہ، جو ایک سیدھا جواب حاصل کرنا چاہتا تھا، اس نے کہا،” ہو سکتا ہے کہ آپ لوگوں نے اسے مار ڈالا ہو اور اسے کسی ناقابل رسائی جگہ پر دفن کردیا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ آپ مجھے اس کی قبر پر نہیں لے جاسکتے“، اور”اگر یہ بات ہے، تو قرآن لے آو ، اس پر اپنا ہاتھ رکھو اور مجھے سچ بتادو۔ اور میں آپکی جان چھوڑ دونگا۔“ کرنل ظفر پر نصراللہ کی اس جذباتی التجاء نے کوئی اثر نہیں ڈالا اور اس نے کہا کہ، ”اسکا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہم ایک مشین ہیں۔ ہم جذبات سے عاری ایک مشین ہیں۔“

دوسری بار جب اصغر بنگلزئی کو گرفتار کیا گیا وہ اپنے دوست اقبال کے ہمراہ تھا۔ اقبال کو بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا لیکن 24 دنوں کے بعد اسے رہا کردیا گیا۔ 2003ء میں نصراللہ کا خاندان کوئٹہ کے کورکمانڈر، جوکہ خفیف تبدیلی کیلئے ایک بلوچ تھا، عبدالقادر زہری، اور بعد میں وہ گورنر بھی بنا، کے ساتھ ایک ملاقات طے کرنے میں کامیاب ہوا۔ لیکن یہ بھی برآور ثابت نہیں ہوا۔ انہوں نے جے یو آئی (ف) کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی اور کوئٹہ میں آئی ایس آئی کے سربراہ بریگیڈیئر صدیق سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ انکی حراست میں ہے، اور ایک سال تک وہ اس سے اکثر ملتے رہے لیکن یہ بھی ثمرآور نہ ہوسکا۔ انہوں نے اسلام آباد میں جنرل ذکی سے ملاقات کی؛ مدد کا وعدہ تو کیا گیا لیکن کوئی مدد نہیں آئی۔ ان سب سے امید کھونے کے بعد، نصراللہ نے ایک بار پھر گورنر اویس غنی سے ملاقات کی لیکن وہ دنگ رہ گیا جب غنی نے اس سے کہا،”اگر آپ اپنے مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں تو میں آپ کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتا۔“ نصراللہ نے تلخی سے کہا، ”میں ایک عام شہری ہوں۔ آپ گورنر ہیں۔ ہم آپ کے گورنر ہاو س میں بیٹھے ہیں اور آپ مجھے میرے تحفظ کے بارے میں دھمکی دے رہے ہیں۔“ سب اسے احتجاجی کیمپ ہٹانے اور ان کی مہم کا خاتمہ چاہتے تھے، جیسا کہ یہ انہیں اور ملک کو ’بد نام‘ کر رہے ہوں۔ وزارت داخلہ کی طرف سے ایک اعلی عہدیدار جہاز کے ذریعے کوئٹہ پہنچے اور ان سے ملے۔ ”انہوں نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ اگر ہم احتجاجی کیمپ ختم کردیتے ہیں، تو وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ علی اصغر کو دو ہفتے کے اندر اندر رہا کیا جائے گا۔“ نصراللہ نے دوسرے خاندانوں سے مشورہ کیا اور احتجاجی کیمپ عارضی طور پر بند کردیا گیا۔ مہینے گزر گئے، کچھ نہیں ہوا، چونکہ ان سے جھوٹ بولا گیا تھا۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ایک ایف آئی آر درج کروانے کیلئے نو سال لگ گئے، اور سپریم کورٹ اور حکومت بلوچ کیلئے اپنی کوششوں کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔

جب علی اصغر لاپتہ ہوا، اسکا سب سے بڑا بیٹا 12 سال کا تھا اور سب سے کم عمر صرف چھ ماہ کی تھی۔ سب سے بڑے بیٹے کی چند سال قبل شادی ہوگئی۔ اپنے چچا کی تلاش میں 11 سال گزارنے کے بعد، نصراللہ اپنی دماغی حالت کو بلا جھجک بیان کرتا ہے۔ ”پورا خاندان نفسیاتی مسائل سے دوچار ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم سب ذہنی طور پر بیمار ہیں۔“ اپنی غیر موجودگی میں علی اصغر ایک دادا بن چکا ہے۔ اس کا پوتا بھی اسے چاچا بلاتا ہے کیونکہ نصراللہ اس کا حوالہ چاچا کے طور پردیتا ہے۔ گمشدگیاں بلوچ معاشرے کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق ہیں اور ان میں پروفیسر صبا دشتیاری جیسے دانشور شامل ہیں؛ لالہ حمید بلوچ اور الیاس نذر جیسے صحافی؛ ڈاکٹر دین محمد اور اکبر مری جیسے ڈاکٹر؛ زمان خان مری اور علی شیر کرد جیسے وکلا، اور ذاکر مجید اور سنگت ثناء جیسے سرگرم کارکن۔ بلوچ کیساتھ پاکستانی ریاست کا سلوک کینہ پرور اور سفاکانہ ہے اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کی وردیاں پہن کر جرائم کا ارتکاب کرنے جیسے کمزور بہانے پیش کرکے وہ اپنی ذمہ داریوں سے انحراف جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس طرح کے بہانے محض اس کی ایک ریاست کو چلانے کے قابل نہ ہونے کو ظاہر کرتے ہیں۔ بظاہر لگتا ہے کہ لاپتہ افراد کی داستان جاری رہے گی اور اس میں شدت آئیگی جیسا کہ بلوچ ان مظالم اور اپنے حقوق کے انحراف سے تنگ آ چکے ہیں، وہ زیادہ فعال طور پر اور کھلے عام ریاست کیخلاف بول رہے ہیں اور آزادی کا مطالبہ کرر ہے ہیں۔
(جاری ہے)

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970ء کی دہائی کے ابتداء سے ایک تعلق ہے
mmatalpur@gmail.com
بشکریہ: ڈیلی ٹائمز، پیر، 18 فروری، 2013
http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2013%5C02%5C18%5Cstory_18-2-2013_pg3_2

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s