بلوچ لاپتہ افراد : ایک روح شکن کہانی (حصہ اول) تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی


لوگ ان مظالم کو عدم دلچسپی کیساتھ دیکھتے ہیں کیونکہ لاپتہ اور ہلاک کیے گئے بلوچوں کو محض ایک شماریاتی حیثیت دیکر خارج البلد کردیا گیا ہے

Mir Mohammad Ali Talpur

بلوچ لاپتہ افراد اور ان کے تباہ حال رشتہ داروں کی خاموش اور دکھ بھری پکار انسانیت کی روح کو ریزہ ریزہ کرنے کیلئے کافی زوردار ہے، لیکن بظاہر یہاں کے مرکزی دھارے کے معاشرے اور میڈیا پر اسکا کوئی اثر نہیں پڑ رہا، دونوں اس دکھ بھری پکار پر بہرے ہیں۔ جو کچھ بلوچستان میں ہو رہا ہے، اسے معاشرہ اور میڈیا بڑی حد تک یا تو دیکھے سے انکاری ہیں یا ان مظالم کو صحیح قرار دینے کیلئے جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تمام ریاستی ادارے اس جرم کے ارتکاب میں معاون اور آمادہ ہیں، اور انہوں نے متاثرہ افراد کو اپنے درد کا اظہار کرنے کیلئے اپنی زندگی اور اعضاءکا خطرہ مول لینے کیلئے مجبور کر رکھا ہے۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ 10 فروری کو کراچی میں ایک بڑی بلوچ ریلی نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور آزادی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ انہوں نے آزاد بلوچستان کا ایک بڑا پرچم بھی اٹھا رکھا تھا، یہ جان کر کہ کینہ پرور پاکستانی ریاست ان لوگوں کو بھی سزا دیتی ہے جو اغواءکیے گئے لوگوں کی لاشیں وصول کرنے جاتے ہیں۔ گُلّے، بہار خان پیردادانی کے بیٹے نے اپنے رشتہ داروں، جبری طور پر غائب کیے گئے دو بھائی اور میرے سابقہ شاگرد محمد خان اور محمد نبی کی لاشیں وصول کی تھیں، 15 اگست، 2012ءکے بعد سے لاپتہ ہے۔ ریاست ان لوگوں کیلئے ایک مناسب تدفین بھی نہیں چاہتی جن کو وہ مار دیتی ہے۔

عام طور پر لیکن غلطی سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ لاپتہ افراد کی کہانی حالیہ دنوں کی ہے۔ 6 فروری، 1974ءکو سردار عطاءاﷲمینگل کے بیٹے اسد اللہ مینگل اور احمد شاہ کو انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اغوا کیا، اور اسی طرح میرے دوست دلیپ داس عرف دلی کو، میرے مری دوست شیر علی، بہار خان لالوانی، شفیع محمد بادانی، محمد درکانی، اللہ بخش اور شاہ دوست پیردادانی کو غائب کیا گیا، جنکی بابت پھر کبھی نہیں سنا۔ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے بہت سارے بلوچوں کو اسی طرح کے انجام کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہاں بیشتر دانشوروں نے لاپتہ افراد کے مسئلے کونظر انداز کیا ہوا ہے، ان میں سے کچھ کہ جنہوں نے اس خاموش دکھ بھری پکار کو صدا فراہم کی ہے، ان میں سے ایک ’پھٹتے آموں کا ایک کیس‘ کے مصنف محمد حنیف ہیں، جوکہ سب سے زیادہ ممتاز اور سب سے زیادہ فصیح ہیں۔ انہوں نے ایک پمفلٹ، ’بلوچ جو لاپتہ نہیں رہے اور وہ جو لاپتہ ہیں‘، پاکستان انسانی حقوق کمیشن کی ایک رپورٹ کے طور پر لکھا ہے۔ انہوں نے چھ لاپتہ یا اب جو لاپتہ نہیں رہے، ان افراد کے رشتہ داروں کا انٹرویو لیکر اس مسئلے کو چبھتے انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ اس درد، فریب اور مایوسی کی روح شکن توضیحات ہیں کہ جنہیں انکے رشتہ دار جھیل رہے ہیں۔ شاید، آئی ایس پی آر اس پر بھی، مظالم کو بے نقاب کرنیوالی دیگر رپورٹوں کی طرح، ’جھوٹ کا پلندہ‘ والا لیبل لگا دیگی۔ زیر نظر مضمون حنیف کے پمفلٹ پر مبنی ہے۔

قدیر بلوچ کا بیٹا جلیل ریکی، بلوچ ریپبلکن پارٹی کا سیکرٹری اطلاعات تھا۔ اسکے دو سالہ بیٹے کے دل میں ایک سوراخ تھا۔ وہ لاپتہ ساتھیوں کیلئے مہم چلا رہا تھا، اسکے دوستوں نے انہیں خبردار کیا کہ اسکو اٹھالیا جائیگا، لیکن اس نے کہا کہ، ”اگر میں بھاگ گیا تو یہ تمام پریس ریلیز کون لکھے گا؟“، اور پھر ایک دن وہ آگئے اور تقریباً تین سال کیلئے وہ ایک لاپتہ شخص بن گیا۔ اس مدت کے دوران، اس نے ایک بار اپنے خاندان کے لوگوں سے بات کی تھی جب ایک فوجی نے، خاندان کی طرف سے اپنے موبائل میں ہزار روپے کا بیلنس ڈلوانے کے بعد، اسے بات کرنے دی۔

لوگ ان مظالم کو عدم دلچسپی کیساتھ دیکھتے ہیں کیونکہ لاپتہ اور ہلاک کیے گئے بلوچوں کو محض ایک شماریاتی حیثیت دیکر خارج البلد کردیا گیا ہے۔ تاہم، قدیر کیلئے، جوکہ اب وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا نائب چیئرمین ہے، اس کا بیٹا جلیل صرف اعداد و شمار نہیں تھا اور انہوں نے اس کی بازیابی کیلئے حتی الوسع کوشش کی۔ قدیر نے اپنی ایف آئی آر میں جنرل پاشا کو نامزد کیا تھا۔ ایک بار ایک کرنل اسکے پاس آیا اور کہا کہ اسے انکے لئے برا محسوس ہوا ہے، اور اگر انکا بیٹا صرف ایک سیاسی کارکن ہے تو اسے رہا کر دیا جائیگا۔ دو سال اور تین ماہ لاپتہ ہونے کے بعد عید الاضحی سے چند روز قبل، جلیل ایک لاپتہ شخص نہیں رہا بلکہ دل میں گولی مارا گیا مردہ شخص بن چکا تھا، اسکی لاش تربت سے ملی۔ اسکے دل اور اطراف میں تین گولیاں تھیں۔ قدیر کو ریاست کی طرف سے تدفین کیلئے مدد کی پیشکش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ، ”آپ کا کام اسے لے جانا تھا۔ آپ کا کام اس کو مارنا تھا۔ آپ نے اپنا کام کردیا ہے۔ باقی سب میں خود کر سکتا ہوں۔“ پھر قدیر نے کچھ ایسا کیا کہ کسی خاندان والے آدمی کو نہیں کرنا چاہئے تھا۔ انہوں نے اپنے پانچ سالہ پوتے کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے مردہ والد کی لاش دکھانے لے گیا۔ انہوں نے اس بات کو یقین بنایا کہ بچہ اپنے والد کی گولیوں سے چھلنی، بری طرح مسخ شدہ لاش کو اچھی طرح دیکھ لے۔انہوں نے بچے سے بات بھی کی اور اسے بتایا کہ اسکے والد کو کس نے اور کیوں مارا ہے۔ پاکستان یہ سب بلوچ کیساتھ کرتا ہے اور پھر ان سے اپنے گن گانے کی توقع رکھتا ہے۔

بلال مینگل نوشکی میں ایک اعزازی صحافی تھا، انہیں نو بچوں کو کھلانا تھا، وہ ایک کرنل کی پیشکش پر فوج کے نوشکی قلعے میں وردی ساز ٹھیکیدار بن گیا۔ اسے معلوم نہ تھا کہ اس کی قیمت اسے اپنے پسندیدہ بیٹے خالد کی صورت میں ادا کرنی پڑےگی جسے وہ سلائی میں مدد دینے کیلئے اپنے ساتھ لے گیا۔ قلعے میں یہ مستقل ہدایات تھیں کہ کوئی افسر یا سپاہی حملوں کے خطرے کے سبب باقاعدہ اجازت کے بغیر باہر نہیں جا سکتا۔ ایک دن نائب صوبیدار رمضان نے احکامات کی خلاف ورزی کی اور فائرنگ میں زخمی ہوگیا۔ واقعہ چھ بجکر پندرہ منٹ پر ہوا اور بلال سات بجکر تیس منٹ پر قلعے سے نکلا، لیکن اس واقعے کیلئے اسے گرفتار کرلیا گیا۔ مقدمے کی سماعت 10 ماہ تک چلتی رہی، اور ایک دن دوسرے قیدیوں نے اسے بتایا کہ ان کے بیٹے خالد کو اٹھالیا گیا ہے۔ خالد 25 دن کے بعد واپس آگیا لیکن یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی؛ 16 مئی، 2011ءکی رات کو، انکے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور انکے دو بیٹوں خالد اور مرتضیٰ کو اٹھا لیا گیا۔ اپنے گھر کی چھت سے اس نے ان گاڑیوں کو قلعے میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔ بلال نے پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او سے مدد مانگی، جو دروازے تک ساتھ رہا لیکن وہاں سے انہیں واپس کردیا گیا۔ اس نے ایک ایف آئی آر درج کرائی، اور بھوک ہڑتال شروع کردی، بعد میں بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی۔ اس نے کور کمانڈر کوئٹہ کے پی ایس او کے ساتھ ایک پُرتکرار ملاقات بھی کی تھی جوکہ شدید الجھن میں اختتام پذیر ہوئی، مدد کرنے کے بجائے اس نے کہا کہ اسے، یعنی بلال کو، 25 سال کی سزا سنائی گئی ہے اور اسے جیل میں ہونا چاہئے۔ بلال سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے شروع کئے گئے سماعتوں میں بھی پیش ہوا، لیکن لگتا نہیں ہے کہ اسے ان پر زیادہ یقین ہو۔ ”چیف جسٹس یہاں صرف اپنی صورت دکھانے کیلئے آتے ہیں۔ وہ صرف اپنے آپ کو بچانے کے بارے میں فکرمند ہیں۔ کچھ بھی تبدیل نہیں ہواہے، کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا۔“ خالد ابھی تک لاپتہ ہے۔

لاپتہ ذاکر مجید کی بڑی بہن، فرزانہ مجید، بلوچ جدوجہد کی ایک نئی صورت اور مرحلے کی نمائندگی کرتی ہے۔ پہلے کبھی بھی بلوچ خواتین نے اتنے فعال طور پر اور اتنے بڑے پیمانے پر حصہ نہیں لیا ہے؛ ریاستی مظالم نے انہیں اس کردار پر مجبور کر دیا ہے۔ فرزانہ نے بلوچستان یونیورسٹی سے بایو کیمسٹری میں ماسٹرز کیا ہے اور ایم فل کے پروگرام میں داخلہ لیا ہوا ہے۔ لیکن کلاسوں میں شرکت کرنے یا کسی تجربہ گاہ میں کام کرنے کے بجائے، وہ احتجاجی کیمپوں میں اپنے بھائی کی رہائی کا مطالبہ کرنے کیلئے بیٹھتی ہے۔ ذاکر بلوچ اسٹوڈنٹس آگنائزیشن (آزاد)، ایک قومپرست طلباءتنظیم، کا نائب صدر تھا اور انگریزی میں ماسٹرز کا ایک طالب علم۔ اسے دوستوں کیساتھ مستونگ سے واپس آتے وقت انٹیلی جنس اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔ اسکے دوستوں کو جلد ہی رہا کر دیا گیا اور انہوں نے فرزانہ کو اطلاع دی؛ ٹی وی چینلز پر بھی یہ خبر نشرہوئی تھی۔ ذاکر کے بھائی نے مستونگ میں ایک ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ فرزانہ اپنی بیمار ماں کے بارے میں فکر مند تھی لیکن آخر میں اسے بتانا پڑا، خاتون شکستہ ہوگئی اور دعائیں مانگنے لگی اور ابھی تک دعائیں مانگ رہی ہے۔

فرزانہ نے بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی، اور تب سے اپنے بھائی کی گمشدگی کو اجاگر کرنے کی امید میں وہ ہر جگہ احتجاجی کیمپوں سے جڑ گئی ہے۔ اس نے ماما قدیر کیساتھ اسلام آباد میں کیمپ لگایا اور جسٹس جاوید اقبال سے ملاقات کی جنہوں نے ان سے وہی کہا جو کہ وہ ہر دوسرے بلوچ خاندان کو کہتا ہے: احتجاجی کیمپ بند کرو، گھر جاو ¿ اور آپکے خاندان کے افراد ایک ہفتے کے اندر اندر آپکے ساتھ ہونگے۔ حنیف کہتے ہیں، ”جاوید اقبال نے اس ڈراو ¿نے خواب کو دوام دینے میں ایک عجیب کردار ادا کیا ہے۔ اس نے بہت سے خاندانوں سے بہت سارے جھوٹے وعدے کیے ہیں کہ بہت سے لوگ ان کو اس مسئلے کا ایک حصہ سمجھتے ہیں۔“

فرزانہ اپنے آبائی شہر خضدار واپس چلی گئی اور انہیں یہ اطلاعات موصول ہونا شروع ہوئیں کہ ذاکر کبھی واپس نہیں آئے گا۔ پھر ذاکر کے لاپتہ ساتھیوں کی لاشیں باقاعدہ وقفوں کیساتھ نمودار ہونا شروع ہوئیں۔ انہیں نے غفار لانگو کی لاش ملی، پھر سمیر رند کی، جلیل ریکی، ثناءسنگت کی لاش، جسے 28 گولیاں ماری گئی تھیں۔ دو سال تک، انہیں ذاکر کے بارے میں خبر موصول ہوتی رہی لیکن پچھلے ڈیڑھ سال سے یہ سلسلہ بند ہوچکا ہے۔ فرزانہ نے پاکستانی ریاست اور اسکے عوام سے آس لگانا چھوڑ دیا ہے۔ وہ کہتی ہے، ”کیا یہ بالکل واضح نہیں ہے کہ وہ ہم بلوچوں سے نفرت کرتے ہیں؟ اگر ذاکر نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے، وہ اسے عدالت میں کیوں نہیں لاتے؟ اس پر مقدمہ چلائیں، اور اسے سزا دیں، پورے خاندان اور پوری قوم کو کیوں سزا دے رہے ہیں؟“ احتجاجی کیمپوں میں وہ اپنا وقت، چے گویرا کی سوانح عمری، اسپارٹیکس، موسیٰ سے مارکس تک جیسے انقلابی اور سیاست سے متعلق کتابیں پڑھنے میں صرف کرتی ہے تاکہ دوسرے لوگوں کی جدوجہد کے بابت جان سکے۔

(جاری ہے)

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970ءکی دہائی کے ابتداءسے ایک تعلق ہے
mmatalpur@gmail.com
بشکریہ: ڈیلی ٹائمز، اتوار، 17 فروری، 2013
http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2013%5C02%5C17%5Cstory_17-2-2013_pg3_2

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s