مفلوج حیلے تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی


       سیندک اور گوادر بلوچستان میں موجود بگاڑ کا خلاصہ ہیں؛
مقامی افراد فوائد کے حصول سے خارج کردیے گئے ہیں

Mir Mohammad Ali Talpur

سال 1973 تا 77ء کی بلوچ حقوق کی جدوجہد کے دوران، پاکستان نے بغاوت کو کچلنے کیلئے ایرانی مہارت، ہتھیاروں اور مالی تعاون کا استعمال کیا اور 30 ایرانی اے ایچ ون کوبرا لڑاکا ہیلی کاپٹر ایرانی پائلٹوں سمیت بلوچ گوریلوں پر حملوں کیلئے استعمال کیے جنہوں نے مارو اور بھاگو والی مہلک گوریلا حکمت عملی کے تحت مو ثر طریقے سے فوج کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا تھا۔ تاریخی طور پر بلوچ اور ایرانیوں کے درمیان اختلافات رہے ہیں اور پاکستان نے اپنے علاقے کے اندر بلوچ قومپرست جدوجہد کیخلاف ایرانی خوف کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ایرانی ریاست نے منظم طریقے سے بلوچوں کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی حقوق پر قدغن لگائی ہوئی ہے، انہیں دبائے رکھا ہے اور یہاں تک کہ فعال طور پر بلوچی زبان اور لباس کی بھی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔

پھر فائق ایران نے بلوچ کیخلاف لڑنے میں پاکستان کی مدد کی، لیکن آج کے مسائل اور ایک مختلف حکومت کے باعث پاکستان اس عیش و عشرت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تاہم، اب بھی وہ بلوچ قومپرستوں کیخلاف فعال طور پر تعاون کررہے ہیں جنہیں وہ بلوچستان میں اپنے مفادات کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ پاکستان، فریڈرک نطشے کے اس مشورہ کو عملی طور پر بروئے کار لارہا ہے: ”دشمن کیخلاف سب سے بہترین ہتھیار ایک اور دشمن ہے“، اب وہ امریکہ کیساتھ چین کی دشمنی کا بڑی مہارت سے استعمال کرتے ہوئے اسکے ذریعے بلوچ جدوجہد کو کچلنے کی کوشش کررہا ہے۔ تاہم، یہ حکمت عملی ایک دودھاری تلوار ہے۔

پاکستان نے اپنی ظالم حکومتوں اور پالیسیوں کو برقرار رکھنے کیلئے ہمیشہ سپر پاور پر تکیہ کیا ہے۔ ایک طویل مدت تک یہ امریکہ تھا لیکن افغان جنگ کے بعد سے پرانے اتحادی ایکدوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔ چین، جوکہ اب عالمی بالا دستی کا متمنی ہے، اپنے مفادات کیلئے میدان میں اتر چکاہے۔ چین بہت سے ممالک میں مکمل آمادگی کیساتھ اکثریتی قومیت کی حمایت کرتا ہے، جوکہ دوسروں کو طیش دلاتا ہے۔

ایک عالمی طاقت بننے اور اپنی پیداوار اور ترقی کی سطح کو برقرار رکھنے کیلئے، چین کو قابل اعتماد توانائی اور خام مال کے ذرائع کی ضرورت ہے۔ فی الحال، چین خلیجی تیل کو اندرون ملک بھیجنے سے قبل ملاکن آبنائے کے ذریعے اپنے بحرالکاہل کے ساحل تک ترسیل کررہا ہے؛ لیکن وہ اسٹراٹجک طور پر کمزور ملاکن آبنائے پر اپنا انحصار ختم کرنا چاہتا ہے۔ جزائر پر تنازعات کے باعث اپنے ہمسایہ ممالک کیساتھ کشیدگی میں اضافہ کے سبب یہ مسئلہ اور بھی زیادہ فوری طور پر حل طلب بن چکا ہے۔ چین چاہتا ہے اور یہ اسکی ضرورت بھی ہے کہ اسے توانائی اور تجارت کیلئےخلیج سے مغربی چین تک ایک گزرگاہ ملے؛ اسکے مسائل کا حل گوادر اور بلوچستان ہیں۔

گوادر کے بطور ایک گہرے پانی کی بندرگاہ کے متعدد فوائد ہیں؛ یہ سارا سال، ہر موسم میں گہری کھاڑی والی بندرگاہ ہے جو کہ اس کے سب سے بڑے آئل ٹینکروں کو بالآخر سنبھال سکتی ہے۔ یہ خلیج عرب کے قریب اور شپنگ کے اہم گزرگاہ پر واقع ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ کے تیل اور گیس کے ذخائر کو چین کی پہنچ میں لاتا ہے۔ گوادر کو پاکستان کے شمال میں شاہراہ قراقرم کیساتھ منسلک کرنے کیلئے پہلے سے منصوبہ شدہ روڈ چین کیلئے ملاکن راستے سے تقریباً 8000 کلومیٹر (5000 میل) کا فاصلہ کم کرسکتی ہے اور یہ خلیج سے اندرن ملک اپنی توانائی کی کھپت پورا کرنے کیلئے ایک براہ راست راستہ ہوگا۔

چین نے طویل مدت سے بلوچستان پر منصوبہ بندی کی ہوئی ہے کیونکہ بلوچستان کا گوادر پورٹ اور اسکے وسائل پر دسترس اور وہاں قدم جمانے سے چین کو اپنے عالمی عزائم کی جلد تکمیل کیلئے ایک اہم سہولت فراہم ہوگی۔ پاکستان نے گوادر کو چاندی کی تھالی پر چین کو پیش کردیا جب سال 2000ء میں فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے گوادر کی ترقی کیلئے اس کیساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے جسکے پہلے مرحلے میں بندرگاہ کی تعمیر کیلئے اس نے 200 ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔ تاہم، 2007ء میں پورٹ آف سنگاپور اتھارٹی انٹرنیشنل لمیٹڈ کو 20 سال ٹیکس کی رعایت کیساتھ بندرگاہ کو چلانے کیلئے 40 سال کا ایک معاہدے کیا گیا تھا۔ اس نے پانچ سال کے دوران 525 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا لیکن سودا کارگر ثابت نہ ہوا۔ پورٹ آف سنگاپور اتھارٹی نے حکومت پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا بشمول اس ضروری 670 ایکڑ زمین کی عدم دستیابی کے کہ جس پر بحریہ نے قبضہ کر رکھا ہے۔ اس کے بعد اگست 2012ء میں پاکستان اور چین نے ایک معاہدہ کیا جسکے تحت گوادر پورٹ کا آپریشنل کنٹرول اسے دیدیا گیا۔

پاکستانی حکومت چین کو سب سے زیادہ منافع بخش شرائط پر سب کچھ دے رہی ہے اور اس سے یہ بھی التجاء کر رہی ہے کہ وہ گوادر کوسٹل آئل ریفائنری کے منصوبہ پر نظر ثانی کرے جسے 2009-10ء میں لپیٹ دیا گیا تھا جب صوبے کو چینی شہریوں کیلئے نوگو ایریا قرار دیدیا گیا، چونکہ فروری 2006ء میں حب میں تین چینی انجینئر ہلاک ہو گئے تھے اور 4 مئی، 2003ء کو گوادر میں ایک بم حملے میں مزید چینی انجینئر مارے گئے تھے۔ پاکستان چین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے اسے20 سال کی ٹیکس چھٹی اور ایک فیصد ورکرز منافع شرکت فنڈ کی چھوٹ دینے کی پیشکش کر رہا ہے۔ ان تمام مراعات کا مقصد چین کے بلوچستان کے وسائل کا استحصال کرنے میں ملوث ہونے کو یقینی بنانا ہے۔ ترقی کے بہانے سے بلوچ اس بندربانٹ اور گوادر کی دستبرداری سے سخت نالاں ہیں، کیونکہ اس سے وہاں کی آبادیاتی خصوصیات میں تیزی سے تبدیلی آئے گی اور چین کو ایک فوجی اڈہ مہیا کرے گی۔

گوادر کی عسکریت کاری بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ گوادر کے نئے ہوائی اڈے کی 5600 ایکڑ زمین ملٹری اسٹیٹس آفیسر (ایم ای او) نے 1.05 ارب روپے میں خریدی ہے جس نے اسے فوجی جائیداد بنادیا ہے۔ اس رقبے کا کوئی ہوائی اڈہ ضرور فوجی مقاصد کیلئے ہے، لندن کا ہیتھرو ایئر پورٹ، جہاں مصروف ترین اوقات کے دوران ہر 46 سیکنڈ میں ایک جہاز اترتا یا پرواز کرتا ہے، 2965 ایکڑ پر محیط ہے۔ مئی 2011ء میں چین کی طرف سے گوادر پورٹ کا انتظام چلانے کی رضامندی کے بعد، پاکستان کے سابق وزیر دفاع احمد مختار نے اپنے چین کے دورے کے دوران کہا کہ، ”تاہم، ہم چین کے مزید شکرگزار ہونگے اگر وہ گوادر میں ایک بحری اڈے کی تعمیر پر اتفاق کرلے۔“

گوادر میں بلوچ کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ افسانوی طرز پر زمین کی قبضہ گیری نے انہیں اپنی سب سے قیمتی شے سے محروم کردیا ہے؛ پینے کے پانی کی ایک شدید دائمی قلت برقرار ہے؛ روزگار میں مقامی لوگوں کا حصہ صرف جسمانی مشقت ہے، جیسا کہ انہیں ایک اقلیت میں تبدیل کیا جارہا ہے اور ریاستی جبر بھی بڑھتا جارہا ہے۔ وہ ترقی کے ان مفلوج حیلوں سے اپنی محرومی اور بیدخلی پر سخت نالاں ہیں۔ مارچ 2011ء میں، گوادر شہر کے باہر فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے ایک کیمپ پر حملہ کیا گیا جس میں 11 افراد کو ہلاک اور دو گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا تھا۔ بحریہ نے ماہی گیری کیلئے اوقات مقرر کر رکھے ہیں جس پر مچھلیاں کوئی توجہ نہیں دیتیں لہٰذا ماہی گیر بھی ان اوقات کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور انتظامیہ ان کی کشتیوں کو نقصان پہنچاکر انہیں سزا دیتی ہے۔ جنوری 2006ء میں، عسکریت پسندوں نے سیکورٹی فورسز کی طرف سے ماہی گیروں کی درجنوں کشتیوں کو نقصان پہنچانے کیخلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے گوادر فش ہاربر میں پاکستان نیوی سب میرین فورس کی تین لانچوں کو نذر آتش کر دیا تھا۔

تاہم، گوادر پاک چین دوستی کا واحد شکار نہیں ہے؛ سیندک میں، چین کی میٹالرجیکل کنسٹرکشن کمپنی (ایم سی سی) کو 2012ء تک دس سال کی لیز دی گئی تھی۔ سید فضل حیدر نے 2006ء میں خبردار کیا تھا کہ چینی حد سے زیادہ کانکنی کررہے ہیں؛ 15800 ٹن خام تانبے کے بجائے 24000 ٹن نکالا جا رہا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی اور زہریلا کیچڑ لوگوں کیلئے سنگین مسائل ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بلوچستان کو 0.7 ملین ڈالر سالانہ کی معمولی رائلٹی موصول ہورہی ہے، بلوچ کی ناراضگی کو نظر انداز کرتے ہوئے اس لیز میں پانچ سال کی توسیع کردی گئی ہے۔

سیندک اور گوادر بلوچستان میں موجود بگاڑ کا خلاصہ ہیں؛ مقامی افراد فوائد کے حصول سے خارج کردیے گئے ہیں؛ آبادیاتی خصوصیات میں تبدیلی زبردستی لائی جارہی ہے؛ زمین پر ایک حریص قبضہ گیری اور ترقی کے مفلوج حیلوں بہانوں سے وسائل کا استحصال جاری ہے؛ ضروری سہولیات کی شدید کمی دائمی ہے؛ بلوچ اثاثوں کو تحفے کے طور پر دیا جارہا ہے؛ عسکریت کاری بلاروک بڑھ رہی ہے؛ مسلح افواج نے من مانی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور بلوچ کیساتھ تادیبی انداز میں نمٹ رہے ہیں؛ ہلاک اور لاپتہ افراد کی فہرست طویل ہوتی جارہی ہے، اور آخری مگر نہ کہ غیر اہم بات یہ ہے کہ بلوچ ان تمام ناانصافیوں کیخلاف مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970ء کی دہائی کے ابتداء سے ایک تعلق ہے

mmatalpur@gmail.com

بشکریہ: ڈیلی ٹائمز، اتوار، 3 فروری، 2013 http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2013%5C02%5C03%5Cstory_3-2-2013_pg3_2

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s