اخلاقی طور پر قائل تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی


ریاست اور اسکے ادارے اپنی بے رحمی کی انتہا کو پہنچ گئے ہیں اور انھوں نے بلوچ کیخلاف پہلے ہی سے اپنا سب کچھ داو پر لگا دیا ہے کیونکہ بلوچ اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں

Mir Mohammad Ali Talpur

حال ہی میں اسلام آباد کی سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کیس کی سماعت پر راجہ ارشاد، جوکہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے نمائندہ وکیل ہیں، چنانچہ یہ اعتراف کیا ہے کہ ’اڈیالہ 11‘ کیخلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہے، ان کا کہنا ہے کہ انہیں حراست میں رکھا گیا ہے کیونکہ یہ ایجنسیاں ”اخلاقی طور پر اس بات پر قائل ہیں کہ وہ دہشت گردی میں ملوث تھے۔“ یہ بیان باضابطہ طور پر آئی ایس آئی اور ایم آئی کے مو قف کو دہراتا ہے کہ اگر وہ ’اخلاقی طور پرقائل‘ ہوں کہ کوئی شخص مجرم ہے تو انہیں اس کو مارنے، اپاہج کرنے یا قید میں رکھنے کیلئے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اصل اڈیالہ 11 میں سے چار ملزمان کی لاشیں پھینک دی گئیں، اور جب دوسروں کو گزشتہ سال عدالت میں پیش کیا گیا، چونکہ ان کی حالت ایسی تھی کہ ایک ملزم کی غمزدہ ماں اگلے دن صدمے سے انتقال کر گئی۔ دوسری بات یہ کہ اٹارنی جنرل نے اعتراف کیا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں 700 باغیوں کو بغیر کسی مقدمے کے قید میں رکھا گیا ہے لیکن انہیں رہا نہیں کیا جائے گا۔ کتنے بلوچ قید میں رکھے گئے ہیں، اس کااعتراف نہیں کیا گیا ہے؛ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا کہنا ہے کہ 14000 افراد لاپتہ ہیں۔ بے بس اور گرجتی سپریم کورٹ محض اجرت میں بڑھوتی کے متلاشی افسانوی کردار کی طرح کارروائی کی دھمکی دیتی ہے کہ، ”میری تنخواہ میں بڑھاو ، وگرنہ میں ….“

 

اس کا مطلب خالصتاً یہ ہے کہ اگر ایجنسیوں کو اخلاقی طور پر کسی کے جرم کا یقین ہو تو اسے انصاف کی استعانت کے بغیر ہلاک یا قید میں رکھا جاسکتا ہے۔ سو، یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ہزاروں بلوچ لاپتہ ہورہے ہیں، ان میں سے تقریباً ایک ہزار کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ہلاک کیاگیا اور پورے بلوچستان میں پھینک دیا گیا۔ تاہم ان اعداد و شمار میں وہ انگنت افراد شامل نہیں ہیں جوکہ مستونگ، مشکے، ڈیرہ بگٹی اور مری علاقوں میں آپریشن کے دوران جاں بحق ہوئے۔ ان مظالم کیلئے جواز صرف یہ ہے کہ ایجنسیاں اخلاقی طور پر اس بات پر قائل ہیں کہ بلوچ انکے دشمن ہیں۔ 1947ء کے بعد سے پاکستانی ادارے اخلاقی طور پر اس بات پر قائل ہیں کہ بلوچ کیخلاف کی گئی تمام نا انصافیاں جائز ہیں۔

 

حال ہی میں نافذ کردہ ’منصفانہ مقدمہ بل‘ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ان سے بھی زیادہ ناانصافی اور مظالم کا ارتکاب زیادہ شدت کیساتھ وسیع پیمانے پرکیا جائے گا۔ ایک کارٹون جوکہ میں نے بہت عرصہ قبل دیکھا تھا میرے ذہن پر منقوش ہے؛ اس میں زنجیروں سے جکڑا ہوا ایک لاغر شخص اور ایک بھاری بھرکم وحشی نما آدمی ہاتھ میں ہنٹر تھامے کہہ رہا ہے کہ، ”تردید کے خوف کے بغیر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ….“ خیر، ایک قیدی کے سامنے ہنٹر تھامے کسی شخص کو تردید کے خوف کی ضرورت ہی نہیں۔ جب ناقابلِ احتساب طاقتور ادارے جن کے ہاتھ میں ہنٹر ہو، جوکہ اپنے ہی قوانین کی پاسداری نہ کرتے ہوں، اور اخلاقی طور پر قائل ہوں کہ فلاں شخص مجرم ہے، تو لہٰذا لوگوں کے پاس اور کیا چارہ ہوگا؟

 

سی ایس لیوس نے کہا، ”تمام مظالم سے وہ ظلم سب سے زیادہ ظالمانہ ہو سکتا ہے کہ جسے متاثرین کی بہتری کیلئے بروئے کار لایا جائے۔ کسی ڈاکو سردار کے ماتحت رہنا کسی صالح قادرِ مطلق مفسد کے زیر تسلط رہنے سے بہتر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ڈاکو سردار کا ظلم کسی وقت تھم جائے، ہوسکتا ہے کہ اسکی طمع کسی نقطے پر پُرتسکین ہو؛ لیکن وہ لوگ جو ہمیں ہمارے ہی مفاد کی خاطر اذیتیں دیتے ہیں، ہمیں بلا اختتام جسمانی و روحانی اذیت بہم پہنچاتے رہیں گے، اسلئے کہ وہ یہ سب کچھ اپنے ضمیر کی اجازت کیساتھ کرتے ہیں۔“ یہ پاکستانی ریاست کے رویے کو صحیح تناظر میں پیش کرتی ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے ڈاکو سرداروں کا مجسّم رہی ہے جسے قادرِ مطلق خدائی فوجدار ہانکتے اور اسکی رہنمائی کرتے رہے ہیں۔ یہاں اداروں کے عقائد اور رویے، جنہیں اپنے بے لگام طاقت کے سبب سزا سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے، اپنے اس ایقان پر مطمئن ہیں کہ انکے مظالم اخلاقی طور پر جائز ہیں۔ لہٰذا انصاف کی امید رکھنا ایک واماندہ یوٹوپیائی خواب ہی رہی ہے اور ہمیشہ کیلئے خواب ہی رہے گی۔ سب لوگ تباہ و برباد ہوجائیںگے جب تک کہ وہ متحد نہ ہوں اور سب کیلئے ناانصافیوں کیخلاف مزاحمت نہ کریں۔

 

خودمتقی ریاستیں تمام سرحدوں سے بالاتر ہیں اور ان کا خیال ہے وہ بے خطا اور عالمِ کُل ہیں۔ بدقسمتی سے، ریاست کی اخلاقی اتقاء اپنے آپ تک محدود نہیں؛ اسکا اگلا قدم لوگوں کو یہ منوانا ہوتا ہے کہ جو کچھ یہ سوچتا ہے وہ درست ہے اور ان کیلئے سب سے بہتر ہے۔ یہ خود اتقائی حقیقت سے منقطع ہونے اور کسی شخص کے خیالات مسلط کرنے کی کوشش، جوکہ بنیادی حماقت کی ایک توسیع ہے، کے سبب وجود میں آئی ہے، کیونکہ اس طرح کے مغالطے کبھی بھی اپنے منبع تک محدود نہیں رہتے۔ مکمل اختیارات اور مذہبی رجحان کی حامل ریاستیں، فطری طور پر، انسانی حقوق کو ہمیشہ روندتے آئے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں اس کیلئے ایک ’الہامی‘ منظوری حاصل ہے اور انہیں عوام کیخلاف اپنی غارت گری کیلئے کسی ستر تک کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس طرح کی ریاستیں اور ان کے رہنماء یہ سوچتے ہیں کہ لوگوں کو اپنے خیالات اور اپنے فلسفے کو منوانا ان کا الہامی فریضہ ہے۔ وہ لوگوں کو اپنے خیالات قبول کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس جبر کی وسعت اور مظالم لامحدود ہیں۔ خوش قسمتی سے، لوگوں کے اپنے ذہن اور مفادات ہیں، اور اسی وجہ سے وہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں اور بالآخر تمام جبر ناکام ہی رہتا ہے۔

 

مذہبی انتہا پسندی ایک لعنت رہی ہے، جہاں کہیں بھی اس نے سر اٹھایا ہے؛ تاہم، یہ دوگنی مہلک ہو جاتی ہے جب ریاست اسے اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والے لوگوں کیخلاف اپنائے۔ جو مسائل اس طرح کی ریاستیں اور اسکے ادارے پیدا کرتے ہیں، وہ ان کے عقائد کی طاقت اور حاصل اختیارات سے متناسب ہوتی ہیں۔ اس میں کسی حیرانگی کی بات نہیں ہے کہ وہ ایک غیر معمولی جوش اور جذبے کیساتھ ہر قسم کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مظالم کا رتکاب کرتے ہیں۔ فرانسیسی مصنف اور کیتھولک فلسفی، بلیز پاسکل (1623 تا 1662) نے اسے مختصر اور جامع طور پر بیان کیا ہے کہ: ”لوگ کبھی بھی گناہ کو اس قدر خوشدلی اورکامل اندار سے نہیں کرتے جتنا کہ وہ مذہب کے نام پر کرتے ہیں۔“ 

 

پاکستانی ریاست آہستہ آہستہ المُوت قلعہ کی حیثیت اختیار کررہا ہے جہاں حسن صباح کے خبطی قاتل مقیم رہتے جو اس کے حکم پر دہشت پھیلاتے اور ان تمام لوگوں کو مارڈالتے جو اس کی مخالفت کرتے۔ پاکستان اور اس کے اداروں نے، اپنی ’اسٹراٹجک گہرائی‘ کی پالیسی اور اپنے اسٹراٹجک اثاثوں کی فروغ پر مسلسل ثابت قدمی نے، اپنے آپ کو اس خطے اور اسکی جغرافیائی حدود میں رہنے والے لوگوں کی زندگی اور انکے اعضاء کیلئے ایک واضح اور موجود خطرہ بنا دیا ہے۔ اس پالیسی نے اسے عالمی برادری میں الگ تھلگ کرکے رکھ دیا ہے اور یہ اپنے سماجی، سیاسی اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے کو مسلسل چاٹ رہا ہے اور اسکی باقیات میں محض ایک سیاسی، اقتصادی، اور سماجی طور پر دیوالیہ خول رہ گیا ہے جسے طاقت کے استعمال یا اسکے استعمال کی دھمکی کے ذریعے مصنوعی طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔ یہ صورتحال غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہ سکتی کیونکہ سماجی، اقتصادی اور سیاسی قوانین طبیعیات کے قوانین کی طرح چاہ، خواہشات اور خوابوں سے آزاد رہ کر کام کر تے ہیں۔ یہ خول جلد یا بہ دیر اپنی ہی حماقتوں کے وزن کے سبب منہدم ہونے کی پابند ہے۔

 

یہ خودساختہ، بے خطاء اور معصوم ریاستیں اور ادارے جب اپنے عقائد اور پالیسیوں اور ان کی واضح خاتمے اور شکست کا ادراک کرلیں تو یہ انتہائی حد تک ظالمانہ اور بے رحم بن جاتی ہیں۔ ریاست اور اسکے ادارے اپنی بے رحمی کی انتہا کو پہنچ گئے ہیں اور انھوں نے پہلے ہی سے بلوچ کیخلاف اپنا سب کچھ داو پر لگا دیا ہے اسلئے کہ بلوچ اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ وہ ذہنیت اور ناموافق عالمی صورتحال ہے کہ جس کیخلاف بلوچ نبردآزما ہیں۔ اسی لئے بلوچ کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ماسوائے اس سب کچھ کے ساتھ مزاحمت کرنے کے، جو اسکے پاس موجود ہے۔ لوگوں کی مرضی کو بالآخر غالب ہونا ہے۔

 

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970ءکی دہائی کے ابتداءسے ایک تعلق ہے

mmatalpur@gmail.com 

بشکریہ: ڈیلی ٹائمز، اتوار، 27 جنوری، 2013

http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2013%5C01%5C27%5Cstory_27-1-2013_pg3_2

 

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s