بکھرے یاداشتوں‌میں‌ایک آوارہ ….ذوالفقاربلوچ ذلفی


saeed-mengalجنوری 2011 رات کا وقت تھا، میرے موبائل کی گھنٹی بجی ریسیو کیا تو وہی مہر بھر آواز

“ماما میں‌بول رہا ہوں، پہچان گئے نہ”

ہاں‌ہاں‌بولو کیسے ہو؟ کہاں ہو؟ اتنے وقت سے کہاں تھے؟ کال کیوں نہیں‌کی ہے؟ میں‌نے سوالوں‌کا تانتا باندھ دیا کیونکہ چار مہینے سے مجھے اس کی کوئی خبر نہیں تھی. اس نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا. “ماما کسی اور کا مابائل ہے زیادہ بات نہیں‌کرسکتا، وہ میرے فل پیچھے پڑے ہیں‌بہت مشکل سے نکل آیا ہوں،اب گھر نہیں‌جاسکتا اور ناکوئی جگہ ہے جہاں فی الحال میں‌جاسکوں. ماما کہا تمہیں‌کوئی ایسی جگہ سوجتی ہے جہاں‌کچھ وقت رک سکوں، جیسے ہی موقع ملا پھر دوستوں‌(سرمچاروں) کے پاس چلا جاؤں گا. ماما موبائل کا چارج ختم ہورہا ہے، تمہیں‌میری وہ باتیں‌یاد ہیں‌نا

[Courtesy Daily Tawar – Jan 23, 2013]

Leave a comment

Filed under Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s