تباہ کن انتقام تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی


جن یورپی آبادکاروں نے مینیسوٹا پر قبضہ کیا، وہ زمین کے حقیقی مالک کیخلاف اپنے جرائم کے دفاع میں انتہائی حد تک بے رحم، سنگدل اور سفاک تھے 

Mir Mohammad Ali Talpurہر سال، 2005ءکے بعد سے، کچھ جیالے ڈکوٹا دیسی امریکی موسم سرما کی نقطہءانجماد والی سردی میں ، 1862ءمیں انصاف کی مسخ شدگی کی یاد کو پھر سے زندہ کرنے کیلئے، گھوڑے کی پیٹھ پر 300 میل کا ایک طویل سفر طے کرتے ہیں، جب ان کے اجداد میں سے 38 کو منکاٹو میں پھانسیاں دی گئیں، جو کہ امریکی تاریخ میں سب سے بڑی اجتماعی پھانسیاں تھیں۔ اسکی ڈیڑھ سو سالہ سالگرہ کو منانے کیلئے، اس سال کی سواری کرو کریک، یہ وہ ریزرویشن (تخصیص شدہ جگہ) ہے جہاں ڈکوٹا کو مینیسوٹا سے جلاوطن کرنے کے بعد آبا د کیا گیا تھا، جنوبی ڈکوٹا سے 10 دسمبر کو شروع ہوئی، یہ سواری 26 دسمبر کو منکاٹو میں اختتام پذیر ہوئی۔ ان پھانسیوں کے بعد 303 سیو دیسی امریکیوں کو کینگرو عدالت سے سزا سنائی گئی۔ ان ہزاروں لوگوں میں سے جنہوں نے 1862ء کی ڈکوٹا جنگ، جسے سیو بغاوت یا کہ لٹل کرو جنگ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، میں شکست کے بعد ہتھیار ڈال دیئے تھے، بعض کے مقدمات کی سماعتیں پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں ختم ہوئیں۔ اس سرعام اجتماعی پھانسی پر عملدرآمد ایک ہی پھانسی کے تختے پر کیا گیا تھا اور مُردوں کو اجتماعی طور پر ایک بڑی کھائی میں دفنایا گیا، جسے رات کو دوبارہ کھول کر لاشیں ڈاکٹروں میں تقسیم کردی گئیں۔

 

جب مینیسوٹا 11 مئی، 1858ء کو ایک ریاست بن گیا، تو ڈکوٹا دیسی امریکیوں کے جتھوں کے نمائندے، جنکی قیادت لٹل کرو کر رہے تھے، سیو سردار معاہدوں پر عمل درآمد کی خاطر مذاکرات کیلئے واشنگٹن ڈی سی گئے۔ بجائے اس کے، مینیسوٹا دریا کے ساتھ والا شمالی نصف ہتھیا لیا گیا اور پائپ اسٹون کی کُھدان کے حقوق بھی چھین لیے گئے۔ دیسی امریکیوں کی زمین آبادکاری کیلئے بستیوں اور پلاٹوں کے درمیان تقسیم کی گئی۔ اس سے ارد گرد کے جنگلات اور مرغزاروں سے کندہ کاری اور زراعت کا خاتمہ کیا گیا اور اس سے ڈکوٹاو ں کی کاشتکاری، شکار، ماہی گیری اور جنگلی چاول جمع کرنے کی سالانہ عرصہءتکمیل میں خلل پیدا ہوا۔ آبادکاروں کے بلاروک شکار نے ارنا بھینسوں، ایلک، وہائٹ ٹیل ہرن اور ریچھ کی تعداد کو ڈرامائی انداز میں کم کردیا اور ڈکوٹا لوگوں کو گوشت کی فراہمی میں کمی واقع ہوئی اور انکے پوستین کی فروخت بھی کم ہوگئی۔ ڈکوٹا دیسی امریکی اپنی زمین کے چھن جانے، سالانہ وظیفوں کی عدم ادائیگی، ماضی کے ٹوٹے ہوئے معاہدوں، غذائی قلت اور فصل کی ناکامی کے سبب قحط زدہ ہوئے، اور اس ضیاع پر ان میں تیزی سے عدم اطمنان بڑھ گیا۔

 

دیسی امریکیوں کا ایجنٹ اور مینیسوٹا اسٹیٹ کے سینیٹر تھامس گالبریتھ، جو اس علاقے کا انتظام چلاتا تھا، اس نے رقم کی ادائیگی کے بغیر خوراک کی تقسیم سے انکار کر دیا۔ ڈکوٹا، امریکی حکومت اور مقامی تاجروں کے ایک اجلاس میں ڈکوٹا کے نمائندوں نے حکومتی تاجروں کے نمائندے اینڈریو جیکسن مائرک سے کہا کہ انہیں ادھار پر خوراک فروخت کیا جائے۔ ان کا جواب تھا، ”جہاں تک میرا سوال ہے، اگر وہ بھوکے ہیں تو انہیں گھاس یا ان کو اپنا گوبر کھانے دو۔“

 

بڑھتی ہوئی نا انصافیاں مینیسوٹا کے حقیقی مالکان یعنی ڈکوٹا سیو اور یورپی نوآبادکاروں کے درمیان جنگ پر منتج ہوئی۔ 17 اگست، 1862ء کو، ایک نوجوان ڈکوٹا دیسی امریکی نے تین دیگر کیساتھ ملکرپانچ آبادکاروں کو ہلاک کر دیا۔ اس رات ڈکوٹا کے ایک کونسل نے مینیسوٹا دریا کی وادی بھر میں بستیوں سے سفید فاموں کو علاقے سے نکالنے کی کوشش میں حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ 18 اگست، 1862ء کو لٹل کرو کی زیر قیادت گروہ نے زیریں سیو ایجنسی پر حملہ کیا جہاں سب سے پہلے ہلاک شدگان میں اینڈریو مائرک بھی شامل تھا۔ بعد میں اس کی لاش ملی، اس کے منہ میں گھاس بھری گئی تھی۔ ابتدائی طور پر ڈکوٹاو ں کے حملوں نے کامیابی حاصل کی لیکن ایک بڑی فوج کی آمد کیساتھ پانسہ پلٹ گیا اور بڑے پیمانے کی حتمی لڑائی 23 ستمبر، 1862ء کو وُڈلیک کی لڑائی تھی۔ ڈکوٹاو ں کو جامع شکست ہوئی اور زیادہ تر جنگجوو ں نے ہتھیار ڈال دیے تھے اور انہیں نومبر 1862ء میں منعقدہ فوجی مقدمات کی سماعتوں تک قید میں رکھا گیا۔ 1600 ڈکوٹا خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو فورٹ اسنیلنگ کے قریب پائیک جزائر پر واقع جنگی قیدیوں ایک کیمپ میں رکھا گیا۔ برے حالات زندگی، صفائی کے فقدان اور متعدی بیماریوں کی وجہ سے 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ مینیسوٹا کے گورنر الیگزینڈر ریمسی نے 9 ستمبر، 1862ء کو اعلان کیا کہ، ”مینیسوٹا کے سیو دیسی امریکیوں کا یا تو مکمل خاتمہ کیا جائے یا انہیں ہمیشہ کیلئے ریاست کی سرحدوں سے باہر نکال دیا جائے۔“ اپریل 1863ء میں، امریکی کانگریس نے ڈکوٹا ریزرویشن کا خاتمہ کر دیا، تمام سابقہ معاہدوں کی منسوخی کا اعلان کیا گیا اور ڈکوٹا لوگوں کو مینیسوٹا سے مکمل طور پر باہر نکالنے کی کارروائی شروع کی گئی۔ اس مقصد کیلئے، ریاست کی حدود کے اندر پائے جانے والے ڈکوٹا کی فی کاسہءسر کی قیمت 25 ڈالر مقرر کی گئی تھی۔ محض 208 موویکانٹن لوگوں کو استثنیٰ حاصل تھی کہ جنہوں نے سفیدفام آبادکاروں کیساتھ تعاون کیا تھا۔ لٹل کرو 3 جولائی، 1863ء کو ایک سفیدفام آبادکار، نیتھن لامسن کے ہاتھوں مارے گئے جسے 500 ڈالر اضافی دیے گئے۔لٹل کرو کے کاسہءسر اور کھوپڑی کو سینٹ پال، مینیسوٹا میں نمائش کیلئے رکھا گیا۔ 1881ء تک سیو کی اکثریت نے امریکی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ تاہم، 1890ء میں، امریکی فوج اور سیو کے درمیان آخری بڑے مسلح معرکہ کے دوران ہونیوالے وُونڈڈ نی کے قتل عام نے تمام مو ثر سیو مزاحمت ختم کر دی۔

 

آبادکاروں کی طرف سے انکی زمین اور انکے حقوق غصب کیے جانے کی ناانصافی کیخلاف ڈکوٹائی قبائل کا ردعمل فطری تھا۔ ان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی تھی کہ وہ ان لوگوں کی غلامی کی ذلت کو تسلیم کرلیں جنہیں اول تو وہاں رہنے کا کوئی حق ہی نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے قومی افتخار اور وقار کو احترام کیساتھ بحالی کی خاطر بہادری سے مزاحمت کی۔ جن یورپی آبادکاروں نے مینیسوٹا پر قبضہ کیا، وہ زمین کے حقیقی مالک کیخلاف اپنے جرائم کے دفاع میں انتہائی حد تک بے رحم، سنگدل اور سفاک تھے۔ تمام نوآبادیت کاروں کی رہنمائی ٹیرا نلیئس (غیر مسکونہ زمین) کا اصول کرتا ہے۔ وہ تمام لوگ جو جرائم کا دفاع کرتے ہیں، لامحالہ ان لوگوں پر بے رحمی سے سنگدلانہ اور تباہ کن انتقام کی آفت برپا کردیتے ہیں جو ان کی مخالفت کرنے کی ہمت کرتے ہوں۔

 

لٹل کرو کیلئے واحد راستہ مزاحمت تھا اور یہی بلوچستان کی کہانی رہی ہے۔ نواب نوروز خان نے اسکے خلاف مزاحمت کی۔ آج کی تاریخ تک، 15 جولائی، 1960ء کو سات شہیدوں کی پھانسی، پاکستانی ریاست میں بلوچوں کی سب سے بڑی اجتماعی پھانسیاں ہیں۔ سفر خان زرکزئی، شفیع بنگلزئی، جلات خان مری، سعادت مری، نواب اکبر بگٹی، بالاچ خان اور ان گنت بہادر بلوچ شہداء کہ جنہوں نے اپنی جانیں نچھاور کیں اور کر رہے ہیں، ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا ماسوائے ان ناانصافیوں کیخلاف مزاحمت کے۔

 

کرسمس کے دن سیکورٹی فورسز نے مشکے میں ایک فوجی آپریشن شروع کیا جو ستمبر 1974ء کے چمالنگ آپریشن کی یاد تازہ کرتا ہے جہاں فوج نے بلوچ مزاحمت کو بے اثر کرنے کی کوشش میں نہ صرف جنگجووں کیخلاف بلکہ مری خاندانوں کیخلاف بھی بڑے پیمانے پر آپریشن کیا۔ یہ وہاں ناکام رہی اور یہاں بھی ناکام ہی رہے گی۔ آپریشن کے بارے میں جو رپوٹیں مشکے سے چھن کر آرہی ہیں، اس کی شدت اور مظالم کی بابت بتا رہی ہیں، جہاں ہلاک شدگان میں بڑی تعداد خواتین، بچوں اور بزرگوں کی ہے بشمول املاک کی وحشیانہ تباہی و بربادی کے۔

 

اس آپریشن کا مقصد لوگوں کے سماجی، سیاسی اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا ہے تاکہ ان لوگوں کے اس عزم کو کمزور کیا جائے جو ان سرمچاروں کی حمایت کر رہے ہیں جنکی قیادت نڈر ڈاکٹر اللہ نذر کر رہے ہیں۔ ریاستی منصوبوں کیخلاف مزاحمت کے سبب تباہ کن انتقام والی سوخت کاریءزمین و املاک کی یہ پالیسی، اگرچہ اسکا استعمال لوگوں کو سرمچاروں کی حمایت سے باز رکھنے کیلئے ہے، اسکا نتیجہ فقط نفرت کی شدت میں اضافہ کی صورت نکلتا ہے۔ ثابت قدم بلوچ، فوج کے برعکس، کم سے کم سہولیات پر زندہ رہتے ہوئے اپنے وجود کو قائم رکھ سکتے ہیں، لہٰذا اس طرح کے آپریشن کے سبب ہونیوالی تباہی پر وہ جلد قابو پا لینگے اور اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔ اسکے علاوہ، موویکانٹن جیسے شریکِ کار، کہ جنہوں نے موجودہ آپریشن کی منظوری دی ہے، بلوچ کے درمیان موجود ہیں، لہٰذا یہ امر ناگزیر ہے کہ انکے درمیان ایک مقصد کے تحت حقیقی اتحاد بھی موجود ہے۔ وہ طوق کہ جس نے بلوچ کو پابند سلاسل کر رکھا ہے، اسے توڑنے کا واحد راستہ اتحاد اور مشترکہ اقدامات ہیں جوبلوچ قوم کے وسیع تر مفاد پر مبنی ہوں۔

 

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970ءکی دہائی کے ابتداءسے ایک تعلق ہے

mmatalpur@gmail.com 

بشکریہ: ڈیلی ٹائمز، اتوار، 30 دسمبر، 2012

http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2012%5C12%5C30%5Cstory_30-12-2012_pg3_2

To download/read in PDF click Here

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, News, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s