ملکیت سے محروم حطماً بیدخل ہوتے ہیں تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی


بلوچستان میں زمین، سندھ کی طرح بندر بانٹ کردی گئی ہوتی اگر بلوچ یہ بات سمجھ نہ لیتے کہ ملکیت سے محرومی کا مطلب بیدخلی ہے

Mir Mohammad Ali Talpur

”ایک نوآبادیت کے زیر تسلط لوگوں کیلئے سب سے زیادہ قیمتی، چونکہ یہ سب سے زیادہ ٹھوس سرمایہ ہے، اسی لئے اولاً اور سربرآوردہ شے زمین ہے: زمین جو انہیں روزی دیتی ہے اور، سب سے بڑھ کر، عزت نفس۔“ فرانٹز فانون ، افتادگانِ خاک

مقبوضہ لوگوں پر اپنی گرفت کو محفوظ و مضبوط بنانے کیلئے زمین کا حصول سب سے زیادہ قابل اعتبار طریقہ ہے۔ اس سے پہلے کہ صیہونی اس قدر طاقتور ہوتے کہ وہ فلسطینیوں کو ان کے ملک سے نکلنے پر مجبور کرتے، انہوں نے انکی زمین مالدار یہودیوں کی غلیظ دولت سے خریدی، جن میں بیرن (ٹھاکر) بنیامین (ایڈمنڈ جیمز) ڈی روتھشائلڈ (1845 تا 1934) خاص توجہ کا متقاضی ہے۔ اس نے 1900ء میں 25000 ہیکٹر زمین یہودی نوآبادیت ایسوسی ایشن کو منتقل کی۔ ایک اندازے کیمطابق، صیہونیوں کی طرف سے غیرمنصفانہ طریقے سے ہتھیائی گئی زمین کے نتیجے میں کل 7.43 ارب پاونڈ کا نقصان ہوا۔ 1948ء کی عمومی جنگ بندی تک، اسرائیل نے فلسطینی زمین کا 77 فیصد قبضہ کر لیا تھا۔ سب سے پہلے تو پیسے نے فلسطینیوں کو محروم کیا اور پھر مغربی طاقتوں کے طفیل باقی کام طاقت نے کیا۔

اس وقت فلسطینی غزہ اور مغربی کنارے میں زمین کی ٹکڑیوں میں رہتے ہیں، جو کہ دیواروں، غیر قانونی بستیوں اور ناکہ بندیوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ سکڑتی جارہی ہیں۔ یہ صرف زمین نہیں جو ضبط کی گئی ہے؛ بلکہ اسکے ساتھ تمام حقوق، وسائل، پانی، سمندر تک رسائی، سفری حقوق؛ مختصراً یہ کہ زندہ رہنے کا حق بھی چھن چکا ہے۔ غلبے کو یقینی بنانے کیلئے سب سے زیادہ ضروری تدبیر زمین کا حصول ہے، زمین پر قبضے کے بغیر نوآبادیت کامیاب نہیں ہوسکتی، لوگوں کو بیدخل کرنے کا سب سے آزمودہ طریقہ انہیں ملکیت سے محروم کرنے کا ہے۔ ستمبر 2010ء کے ہیرالڈ کی رپورٹ کیمطابق ”پاکستان نیوی نے، حصولِ زمین ایکٹ کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے، مقامی زمین مالکان کیلئے باعث تکلیف اور بلوچ سیاسی کارکنوں کیلئے باعث غیظ و غضب ہوتے ہوئے، بلوچستان کے مکران ڈویژن کے ضلع کیچ میں تربت اور دشت کے علاقوں میں 13500 ایکڑ زمین حاصل کی۔ تربت کے زمین مالکان نے صوبائی حکومت کو ایک درخواست بھیجی اور کہا کہ حتیٰ کہ زمین کے حصول سے پہلے انہیں اطلاع تک نہیں دی گئی اور بحریہ کے حکام کی طرف سے انہیں کچھ بھی ادا نہیں کیا گیا ہے۔“ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ، ”گوادر، پسنی اور تربت میں سرکاری اور نجی املاک کی دیواروں پر سیکورٹی فورسز کیخلاف تصاویر منقوش کی گئی ہیں اور ڈویژن کے بعض علاقوں میں اس سال یوم آزادی احتجاج کے دن کے طور پر منایا گیا ہے۔ عینی شاہدین کیمطابق 14 اگست کو گوادر، پنجگور اور کیچ کے اضلاع میں کچھ مشتعل مظاہرین نے قومی پرچم جلانے کے ساتھ ساتھ سیکورٹی فورسز کی علامات بھی جلائی ہیں اور قومی پرچم کے بجائے، انہوں نے بجلی اور فون کے کھمبوں پر وہ جھنڈے لگائے ہیں جسے وہ آزاد بلوچستان کا جھنڈا کہتے ہیں۔“ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ مظالم کے شکار بلوچ جب ان ناانصافیوں کیخلاف مزاحمت کریں، تو بہت سے لوگ انکی مذمت اور سرزنش کرتے ہیں۔

اگرچہ وہاں پہلے ہی سے چار بڑی چھاو نیاں، 59 چھوٹی چھاو نیاں ، تقریباً 600 چیک پوسٹیں، پاک فضائیہ کے چھ اڈے اور چار بحری اڈے بشمول اورماڑہ میں میگا جناح بحری اڈے کے، ریاست بلوچ عوام کی شدید نفرت کو ملحوظ خاطر نہ لاتے ہوئے، بلوچستان میں مزید زمین کے حصول میں لگی ہوئی ہے۔ کلمت میں نئے بحری اڈے کیلئے تقریباً 30000 ایکڑ زمین ہتھیائی گئی ہے، جہاں کلمتی اور سنگُر برادری/ قبائل کے لوگ رہتے ہیں، جن میں سے 95 فیصد ماہی گیری سے وابسطہ ہیں۔ ہور کلمت سمندری جھیل اعلیٰ معیار کے جھینگوں، مختلف اقسام کی مچھلیوں اور کثیر الانواع سمندری حیات سے مالامال ہے اور یہیں انکی افزئش نسل بھی ہوتی ہے، اور اس زرخیز زمین کا احاطہ 10216 ہیکٹر ہے اور بلوچستان کی 21 فی صد ساحلی جنگلات بھی یہیں ہیں۔ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ بحریہ کے اڈے ماحولیات کو تباہ کردینگے اورمقامی لوگوں کو وہاں سے ہٹاکر ان کی زندگی کو بری طرح سے تہہ و بالا کردینگے اور انہیں ماہی گیری کے علاقوں سے محروم کردینگے۔

یہاں تک کہ مئی 2007ء میں چنیدہ بلوچستان اسمبلی نے بھی پرویز مشرف کی حکومت کی منصوبہ بندی کے تحت سونمیانی میں 500000 ایکڑ پر مشتمل ایک عالیشان ساحلی شہر کی تعمیر پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ ملک سراج اکبر نے (ڈیلی ٹائمز، 26 مئی، 2007) کو رپورٹ کیا کہ: ”مولانا عبداواسع نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ بابر غوری، کوئٹہ میں صوبائی حکومت کو بہلاتے پھسلاتے رہے ہیں کہ وہ مذکورہ زمین کے ہر ایکڑ کو محض ایک روپے کے عیوض فروخت کرے۔“ سراج نے مزید کہا، ”یہاں وہی طریقہ کار اپنایا گیا تھا جسکے تحت حال ہی میں گوادر کی اشرافیہ سنگارہاو سنگ اسکیم میں کئی ایکڑ زمین فروخت کی گئی اور گوادر میں بہت بڑی زمین سستے داموں ایک فائیو اسٹار ہوٹل کی تعمیر کیلئے ایک ارب پتی شخص کو فروخت کی گئی تھی۔“ گوادر میں زمینوں کی چھینا جھپٹی اس قدر شیطانی تھی کہ سپریم کورٹ کے ایک بنچ نے تمام فروخت اور الاٹمنٹ پر پابندی لگا دی تھی۔ اس سے قبل اُسی سال مارچ میں، بلوچستان اسمبلی نے کوئٹہ کے قریبی علاقے اغبرگ میں بازئی قبیلے کی ہزاروں ایکڑ زمین کی پاک فضائیہ کے حصول کیخلاف متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی تھی۔

پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کی تقریباً 80000 ایکڑ کی مانگ، بشمول ہنگول نیشنل پارک میں 23000 ایکڑ کی مانگ کے، جسے وہ جے ایف 17 جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو جانچنے کیلئے استعمال کر نیکا ارادہ رکھتے تھے، اس سے نمٹنے کیلئے میں نے مئی 2008ء میں ایک قومی یومیہ میں ’ٹیسٹنگ اوقات‘ کے عنوان سے لکھا تھا۔ اس نے ایک شدید ردعمل پیدا کیا اور پی اے ایف کے ترجمان نے میری دلیلوں پر سوالات اٹھائے، جنکا میں نے دفاع کیا۔ اس طرح کے مسائل پر روشنی ڈالنا ہمیشہ اداروں اور افراد کی بلاکسر خفگی کو مدعوکرتے ہیں، اور اسکے بعد میرے خلاف تنقیدی خطوط آنا شروع ہے۔ بلوچستان میں زمین کے حصول کی ناانصافیوں کی تفصیلات میرے ان مضامین مل سکتی ہیں، ”زمین خریدو، کہ اب وہ انکا استعمال نہیں کررہے“ (ڈیلی ٹائمز، 7 فروری، 2010)، اور ایک قومی روزنامے میں ”میگا حماقتیں“ (31 جنوری، 2008) ۔

بلوچستان کی طرح سندھ کو بھی یہ صعوبتیں جھیلنی پڑی ہیں۔ ایک قومی ہفتہ وار، مو رخہ 19تا 25 اکتوبر 2012ء میں، مسٹر عیسیٰ داو د پوتہ کاخط جس میں شاہد کاردار کے ’خطّوں میں تقطیب:عدم اطمینان کی جڑیں‘ سے اقتباس ہے۔ انہوں نے لکھا: ”غلام محمد بیراج کی قابل کاشت 1.48 ملین ایکڑ زمین میں سے 0.87 ملین ایکڑ دفاع کے اہلکاروں، کوئٹہ اور صوبہ سرحد کے قبائلیوں، اور مشرقی پاکستان سے آئے آبادکاروں کو مختص کیا گیا ہے۔ گڈو بیراج کی 0.64 ملین ایکڑ زمین میں سے 0.32 ملین ایکڑ زمین دفاع کے اہلکاروں، سول بیوروکریٹس اور نئے دارالحکومت اسلام آباد، اور تربیلا اور منگلا ڈیموں کی تعمیر کے سبب بے گھر ہونے والے خاندانوں کو مختص کیا گیا ہے۔ سکھر بیراج کی 0.28 ملین ایکڑمیں سے 0.13 ملین ایکڑ زمین فوجی اہلکاروں کو دی گئی ہے۔ سب سے زیادہ مثالوں میں ’دفاعی اہلکار‘ پنجابیوں کا مترادف ہے۔“ مسٹر داو د پوتہ نے تکلیف دہ انداز میں مزید کہا کہ ”سادہ ریاضی سے پتہ چلتا ہے کہ 2.4 ملین ایکڑ سیراب زمین کا 55 فیصد (یعنی 1.32 ملین ایکڑ) غیر سندھیوں کے پاس جا چکا ہے۔“ اس کے باوجود لوگوں کو شکایت ہے کہ سندھی غیرضروری طور پر نالہ کناں ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کا ذوالفقار آباد منصوبہ، اس کے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کی طرح، سندھ اور سندھیوں کیلئے ایک سیاہ وارنٹ ہے۔

بلوچستان میں زمین، سندھ کی طرح بندر بانٹ کردی گئی ہوتی اگر بلوچ یہ بات سمجھ نہ لیتے کہ ملکیت سے محرومی کا مطلب بیدخلی ہے۔ کسی کو بھی کسی بھی بہانے سے کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ بلوچ قوم کو ’ان کی سب سے زیادہ ضروری قدر‘ اور ان کے وقار کی بنیادی وجہ: انکی زمین سے، عاق کردے۔ انہوں نے اس حق سے محروم کرنیکی تمام کوششوں کیخلاف مزاحمت کی ہے، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ انکا انجام فلسطینیوں کی طرح محرومی، بیدخلی اور مفلسی کی صورت میں ہو جن کیلئے اسرائیلی ریاست نے زمین کی ٹکڑیاں مختص کر رکھی ہیں۔ ان کا مستقبل اور ان کا وقار ان کی زمین پر انکے حق اور کنٹرول پر منحصر ہے۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970ءکی دہائی کے ابتداءسے ایک تعلق ہے
mmatalpur@gmail.com
بشکریہ: ڈیلی ٹائمز، اتوار، 23 دسمبر، 2012
http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2012%5C12%5C23%5Cstory_23-12-2012_pg3_2

To read/download in PDF clich : HERE

Advertisements

1 Comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up

One response to “ملکیت سے محروم حطماً بیدخل ہوتے ہیں تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی

  1. Reblogged this on balochrightscouncil and commented:
    Long Live Balochistan & Sindh Liberation movement

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s