اسی ساگ کیساتھ وہی روٹی تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی


آئین یا عدالتی منظوری کے لبادے میں کیے گئے غیر قانونی اقدامات نہ تو انہیں اطمینان بخش قرار دے سکتے ہیں اور نہ ہی اخلاقی طور پر قابل قبول

جنرل کیانی کے ذریعے فوج نے بلوچستان کے مسئلے پر اپنی ایک سطری پوزیشن دی ہے کہ، ”فوج کسی بھی سیاسی عمل کی مکمل طور پر حمایت کرتی ہے جب تک یہ آئین کے اندر اندر ہو۔“ یہ بیان بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر اختر مینگل کے حالیہ دورے کے دوران اٹھائے گئے اقدامات اور بیانات اور انکے ردعمل کے جواب میں تھا۔ فوج کے اس مختصر بیان نے ان لوگوں کیلئے حدود مقرر کر دیے ہیں جو بلوچ حقوق کے معاملے کیساتھ نمٹنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں اور بلوچ کیلئے بھی اس کے نتائج واضح کردیے ہیں جو اپنے ناگزیر حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے اس بیان نے یہ بھی خبردار کیا کہ آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی بھی قسم کے اٹھائے گئے اقدامات ان کیلئے ناقابل قبول ہونگی۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ بلوچ کو ریاست کی پالیسیوں میں تبدیلی کیلئے امید تک نہیں کرنی چاہیے۔ 26 مارچ، 1948ء سے لیکر، جب پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح نے فوج کو جیونی اور پسنی جانے کا حکم دیا اور اگلے دن خان آف قلات احمد یار خان کو پاکستان کے ساتھ الحاق پر مجبور کیا گیا، جس نے قلات ریاست کی 227 دن کے مختصر مدت کی آزادی کو ختم کیا، فوج کا پسندیدہ آئین اپنی جگہ موجود تھا۔ ان ناانصافیاں اور اس کے بعد سے جن اقدامات کا ظہور ہوا، وہ تمام پاکستانی ریاست کی طرف سے آئینی تصور کی جاتی ہیں۔ 6 اکتوبر، 1958ء کو قلات پر دوسرا حملہ بھی آئینی تھا کیونکہ عدلیہ نے مارشل لاء کو بالکل اسی طرح قانونی حیثیت عطاء کی تھی جس طرح کہ اس کے بعد اسے نوازی گئیں۔ مارشل لاء کے قوانین اور فوجی حکمرانوں کے عبوری آئینی آرڈر (پی سی او) کو عدلیہ کی طرف سے قانونی حیثیت دی گئی، جس نے انہیں فی الحقیقت آئین بنا دیا۔ بعض نیّر حضرات پرویز مشرف کے پی سی او کی توثیق کرنے پر اب سپریم کورٹ کی تعریفیں کر رہے ہیں۔

اس ملک میں ریاست کی طرف سے منظور شدہ تمام اقدامات، ان کی قانونی حیثیت سے قطع نظر، آئینی تصور کی جاتی ہیں۔ یہ اسی اصول کے تحت تھا کہ جب نواب نوروز خان کے بیٹوں اور رشتہ داروں کو 15 جولائی، 1960ء کو حیدرآباد اور سکھر کی جیلوں میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ 1960ء کے عشرے میں مری اور مینگل کے علاقوں میں کیے گئے فوجی آپریشن یکساں طور پر آئینی تھے۔ 25 مارچ، 1971ء کو عوامی لیگ کو اکثریتی جیت ملنے کے باوجود حکومت کرنے کے حق سے انکار کے بعد بنگالیوں پر فوجی کریک ڈاو ن بھی آئینی تھا۔ یہاں کبھی بھی کوئی کام آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہیں کیا گیا، جو کہ مضحکہ خیز حد تک فوج کی خواہشات اور پالیسیوں کی نمائندگی کرتا ہے اور اسے ہمیشہ تمام ریاستی اداروں کی طرف سے حمایت حاصل رہی ہے۔ جنرل کیانی نے محض اسے دہرایا ہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کوئی بھی سیاست دان اپنے مزاحیہ خیالات کیساتھ ہیرو بننے کی کوشش کرے، انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ مقررہ طریقہءکار سے کوئی انحراف نہ کرے۔

فروری 1973ء میں بلوچستان میں سردار عطاء ﷲ مینگل کی منتخب حکومت کی برخاستگی اور بعد میں فوجی کارروائی ذوالفقار علی بھٹو کی سویلین حکومت کی طرف سے شروع کی گئی تھی، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ کارروائی ان کی انتہائی حد تک خودنمائی والی آئین کے نفاذ کے بعد کی گئی تھی۔ اس فوجی کارروائی کے دوران، جسے آئین کی طرف سے مکمل طور پر منظوری دی گئی تھی، ہزاروں افراد ہلاک ہو ئے، ان گنت زخمی اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔ یہاں آئینوں نے بلوچ عوام کیخلاف زیادتیوں کو فروغ اور تحفظ دیا ہے، بالکل اسی طرح جیسا کہ انہوں نے بنگلہ دیش کے مسئلے پر دیا۔

آئین یا عدالتی منظوری کے لبادے میں کیے گئے غیر قانونی اقدامات نہ تو انہیں اطمینان بخش قرار دے سکتے ہیں اور نہ ہی اخلاقی طور پر قابل قبول۔ اس بات کا ذکر یقینی طور پر بے جا نہ ہوگا کہ جنوبی افریقہ کی رنگبھیدی روش آئین میں شامل تھی، بالکل اسی طرح جیسا کہ کچھ عرصہ پہلے تک، آسٹریلیا میں ایبوریجینیز اور امریکہ میں افریقی نژاد امریکیوں کیخلاف امتیازی سلوک روا تھا۔ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو ایک قانونی اور آئینی تحفظ حاصل ہے لیکن اس سے فلسطینیوں کی مشکلات حل نہیں ہوسکتیں یا یہ انہیں قابل قبول نہیں بنا سکتیں۔ یوگوسلاویہ میں سرب غلبہ بھی آئینی تھا اگرچہ آخرکار وہ بوسنیا، کروئیشیا، اور دوسروں کو اپنے الگ الگ راستوں پر چلنے سے نہ روک سکی۔ ترکی کا آئین کردوں پر ظلم و جبر کرتا ہے۔ آئین نے کبھی بھی نوآبادیت زدہ لوگوں کیلئے قومی حقوق کی ضمانت نہیں دی ہے۔ حد سے زیادہ پیش بینی کی علامت سمجھی جانیوالی اٹھارویں ترمیم کی رکاوٹ کے باوجود، یہاں پر بھی آئین قوموں کی مسلسل محرومی کو یقینی بنانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔

گزشتہ 65 سالوں میں بلوچ نے پانچ فوجی آپریشنوں کی مار جھیلی ہے، یہ سب منظور شدہ آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے کی گئیں۔ بلوچ کو یہ بات سمجھنے میں انتہائی مشکل پیش آرہی ہے کہ ان کیلئے آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے حکمرانی میں کونسی اچھائی موجود ہے۔ مشرف کی عدالتی طور پر منظورشدہ 1999ء کے آئین کے بعد، اور اس منتخب حکومت کے تحت، ہزاروں بلوچ لاپتہ ہوئے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے، جن میں 600 سے زائد افراد صرف گزشتہ دو سال کے دوران مارے جاچکے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ اندرون ملک بے گھر ہوئے ہیں اور وہ علاقے جہاں کی عوام فوج اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کی آمرانہ تسلط کے تحت رہ رہے ہیں، وہاں کے لوگوں کو خضدار اور قلات کے قریب واقع توتک اور گِدر کی طرز پر ہونیوالی حالیہ ظالمانہ کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

چیک پوسٹوں پر معمول کی ذلت آمیز تلاشی اور گھروں پر چھاپے بھی آئینی بالادستی کا حصہ ہیں جو کہ یہاں غالب ہے۔ بلوچ کیلئے کوئی چیز تبدیل نہیں ہوگی؛ وہ فوج اور سویلین حکمرانوں کے تحت یکساں طور پرمصائب کا شکار ہیں؛ وہ رئیسانی کی بدنظم حکومت سے مصائب کاشکار ہیں اور ان کی حالت اختر مینگل کی حکمرانی کیساتھ بھی تبدیل نہیں ہوگی۔ سندھی میں ایک کہاوت ہے کہ، ”ساگی مانی ساگ ساں“، جس کا مطلب ہے کہ، ’ہمیشہ اسی ساگ کیساتھ وہی روٹی ۔‘ بلوچ عوام مینگل سے سخت چوکنا ہیں کیونکہ وہ اسے اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ اختر مینگل اسی آئینی حدود کے جمود کی مدد کر رہے ہیں جو کہ ان کیلئے زہر قاتل رہی ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ موجودہ وزیر اعلیٰ رئیسانی نے کئی بار یہ بات ریکارڈ پر کہی ہے کہ ایف سی ایک متوازی حکومت چلا رہی ہے، اور پھر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بلوچستان میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہورہا ہے بلکہ ایف سی کو ایک محدود مدت کیلئے پولیس کے اختیارات دیئے گئے ہیں۔ اتفاق سے، کوریا کی جنگ اقوام متحدہ کی طرف سے 1950ء میں ایک پولیس کارروائی کے طور پر شروع کی گئی تھی اور صدر ہیری ایس ٹرومین نے شمالی کوریا پر جارحانہ امریکی کارروائی کے جواب میں اس کا حوالہ اقوام متحدہ کے زیر سرپرستی ایک ’پولیس کارروائی‘ کے طور پر دیا تھا۔ پولیس کارروائی فوجی / سیکورٹی کی تعلیمات اور بین الاقوامی تعلقات کیمطابق اس فوجی کارروائی کیلئے ایک تعبیری لفظ ہے جس میں جنگ کے رسمی اعلان کے بغیر فوجی کارروائی کی جائے۔ لہٰذا پولیس کارروائی کی آڑ میں بلوچ کیخلاف ایک جنگ جا رہی ہے۔ تمام لاپتہ اور ہلاک اور پھینک دی گئی لاشیں اسی پولیس کارروائی کا نتیجہ ہیں۔

بلوچ کیلئے المیہ اور درد صرف لاپتہ اور ہلاک شدگان کی بابت نہیں ہے؛ تین نسلوں کی صلاحیتوں اور مواقع سے مکمل محرومی کا سانحہ بھی یکساں طور پر شدید تکلیف دہ ہے۔ بلوچ کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا کہ وہ مزید اس بات پر یقین کریں کہ انتخابات اور آئین ان کے مسائل کا حل ہیں کیونکہ اگرچہ اسلام آباد اور کوئٹہ میں منتخب حکومتیں تو موجود ہیں، لیکن ان کیخلاف مظالم مشرف کے ’آئینی‘ حکومت کے دورسے بھی زیادہ بھیانک روپ کیساتھ جاری و ساری ہیں۔ اگر کم سے کم کہا جائے تو یہ توقع رکھنا انتہائی احمقانہ ہوگا کہ بلوچ خالی خولی یقین دہانیوں پر اعتماد کریں گے یا دھمکیوں سے ڈر جائیں گے۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کی دہائی کے ابتداءسے ایک تعلق ہے
mmatalpur@gmail.com
بشکریہ: ڈیلی ٹائمز، اتوار، 7 اکتوبر، 2012

To Download/Read in PDF cleck: Hear

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s