بلوچ قومی تحریک اور اعلانء آذادی – شہید علی شیر کرد


ممتاز کالم نگار اور قانون دان شہید ایڈوکیٹ علی شیر کرد جو دس سال بلوچی مزاحمتی تحریک سے وابستہ رئے ، جنہیں ۲۱دسمبر ۲۰۱۲ء کو شالکوٹ سے پاکستانی ریاستی خفیہ اجنسی نے اغواء کیا اور ۲۴ دسمبر۲۰۱۲ء کو خضدارسے ان کی تشدد زدہ نعش ملی، شہید کے چپے مختلف مضامین میں سے ایک قارئیں کیلئے پیشِ خدمت ہے۔

بلوچ تحریک آذادی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے قومی شعور و بیداری میں اھم کردار ادا کی ہے لوگوں کو منظم کرکے تحریک آذادی سے متعلق جو شعور گزشتہ ایک عشرے میں تحریک آذادی نے دی شاید سیاسی پارٹیوں نے دن رات محنت کرکے گذشتہ ساٹھ سالوں میں بھی نہ دے سکے، اصل وجہ پروگرام اور مقصد ہے بنا مقصد سفر کا کوئی منزل نہیں ھوتا، اور اگر منزل ہی نہ ھو تو سفر چاہے کتنا ہی کٹھن اور تھکا دینے والا ھو فضول ہے. گذشتہ 66 سالوں سے بنا مقصد لوگوں کو اصل منزل و مقصد بتائے بغیر سیاسی پارٹیوں نے ہانکنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں تاکہ لوگوں کے جم غفیر کو جواز بنا کر ریاست کوبلیک میل کرکے چند نوکریاں، گاڑی بنگلہ پیسہ، سیٹ،یا پلاٹ پرمٹ لے کر مال بٹورنے کی کوششیں تھیں اس طرح صرف مال بناو پارٹی ہی کامیاب ہوتے رہے اور لوگوں کے بے ترتیب خیالات و نظریات سے نوازنے کی کوشش کرتے رہے

تاکہ دانستہ طور پر قوم راہ راست سے ہٹ جائے اور وہ اپنے منصوبوں میں کامیاب ہو مگر تا دیر یقینن رات نہیں رکھتا سویرا تو ہونا ہی ہے، اسے روکا نہیں جا سکتا آج جو سویرا ہے بلوچ تحریک آذادی کی صورت میں ھمیں دیکھنے کو نصیب ہوا
اسکے پیچھے گمنام شہیدوں کا لہو اور چند ذہین لوگوں بشمول قیادت کی محنت شامل ہے اور ریاستی جبر و استحصال جس نے آج تحریک آذادی کو سرزمین کے کونے کونے تک پہنچایا اس سے پہلے تو لوگ باقاعدہ ریاستی اداروں میں کام کرنے پر فخر کرتے لیکن آذادی کی تحریک نے آج سرکاری مشینری کی حقیقی تصویر بلوچ قوم کے سامنے واضح کر دی، اب بلوچ قوم کے تمام کے تمام قبائل بشمول سیاسی ورکرز اور نواجوان قومی احساس اور باقاعدہ عمل سے ریاست سے نفرت کا اظہار کرنا چاہیے 
زبانی کلامی تو بلوچ سرزمین میں بسنے والے غیر بلوچ بھی نفرت کا اظہار کرتے ہیں مگر اندرونی طور پر بلوچ قوم کے خلاف منصوبے بنا کر انہیں تباہ و برباد کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں _ تاکہ بلوچ قوم نیست و نابود ھو اور غیر بلوچ یا آبادکار اپنے مقاصد میں کامیاب ہو،بلوچ قوم کے قائدین کا قتل بھی انہی سلسلوں کی کڑیاں ہیں جس طرح اسرائیل نے فلسطیینیوں کے یاسر عرفات کو زیر دیکر اور شیخ یاسین کو فضاء سے حملا کرکے شہید کردیا، اسکی بنیادی وجہ قوم سے اس کے ذہین افراد کو چھین کردینا تاکہ تحریک آذادی میں رکاوٹ پیدا ہو یا قوم کو خوف ذدہ کردینا مگر ان تمام مگر ان تمام ریاستی ہتھکنڈوں کے باوجود آج بھی فلسطین کی آزادی کی تحریک رواں ہے بلوچ قوم پر اسرئیلی فارمولے آزما کر ریاست بلوچ قوم کو قیادت سے محروم کردینا چاہتا ہے تاکہ آزادی کی تحریک میں رکاوٹ پیدا ہو اور قوم خوفزدہ ہوکر آزادی سے دستبرادار ہو یہ ناممکن ہیں
کیونکہ ظلم کی رات جتنی طویل ھوگی تو آزادی کا سویرا اتنا ہی حسین ھوگا جس کا تصور صرف آزاد اقوام ہی کرسکتے ہیں آج بلوچ قومی تحریک اکیسویں صدی میں فکر بلوچ ایک نظریہ اور ایک فکر کی شکل اختیار کرچکا ہے اسکا خاتمہ ناممکن ہے کیونکہ فکر جب نظریے کی صورت اختیار کر لیتا ہے تو پھر اس پر اسکے اختیار کرنے والوں کی دسترس ہوتی ہے نہ کہ ایک فرد یا شخصیت کی اور آج کے اس سائنسی دور میں جہاں سائنس انسانی زندگی راج کررہی ہے بلوچ قوم کو شکست دینا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ،
مزاحمت یوں تو بلوچ قوم کے ثقافت کا حصہ ہے مگر آج کے تیز ترین دور میں مزاحمت آزادی بلوچ قوم کے بالخصوص نوجوانوں کی دل کی دھڑکن بن چکا ہے ہر نوجوان کی خواہش ہے کہ وہ مزاحمتکار بنے نواب اکبر خان بگٹی،شہید بالاچ و ڈاکٹر خالد شہید کے نقش قدم پر چل کر جان کی قربانی دے، یا پھر بلوچ آزادی کی تحریک میں اپنا حصہ ڈال کر سرزمین کے قرض کو چکانے کی کوشش کرے، نوجوان اقوام میں زرخیز زمین کی طرح ہوتی ہے جسے جب چاہو موسم کی مناسبت سے کاشت کرو منافع ہی منافع آج کے نوجوان پر جو محنت ہورہا ہے یقینن ماضی کی نسبت باآور ثابت ھوگا
ماضی میں تو صرف ایک دوسرے کیخلاف ذہنوں کو تربیت دی جاتی تھی مگر آج تربیت صرف اور صرف ریاست کے خلاف اور عمل کی ترغیب و تربیت ہے، اتنے کم وقت میں تحریک آزادی آج ہر گھر محلہ اور علاقہ میں بحث کی جاتی ہے صرف اور صرف قربانیوں کے بدولت اور بہتر حکمت عملی کی مرہون منت ہے بلوچ قوم کو چائیے کہ وہ مد مقابل کے تمام سازشوں سے آگاہی رکھتا ہو،اور اسکے دماغ کی بات کو سمجھنے اور حکمت عملیوں اور قوانین کو بغور سوچنے سے ہی دشمن کو شکست فاش دے سکتا ہے ؛
پنجابی اپنے ملک کو چلا رہا ہے جوکہ ناکامی سے دوچار ہے بلوچوں کو اپنے قومی آزادی کااحساس ہوچکا ہے یہ سب سے اچھی بات ہے اب اگر اس خطے میں بسنے والے دیگر اقوام کو بھی اپنی آزادی حاصل کرنے کا احساس ہو تو بہت جلد پنجاب سے گلو خلاصی ہوسکتی ہے اگر دیگر اقوام کو یہ نہ بھی ہو تو بلوچ قوم اپنی آزادی حاصل کر ہی لینگے کیونکہ اب کے بار بلوچ جدوجہد میں خاصی سنجیدگی نظر آتی ہے چاہے وہ فوجی حوالوں سے ہو یا سیاسی پختگی کی جانب بڑھ رہا ہے- بس محنت طلب ہے اگر بلوچ قوم اپنی تمام تر توجہ اپنی محنت اور سوچ اپنی آزادی کے حصول پر دیں جس طرح اگست کے مہینے میں خان آف قلات آغا سلیمان نے اپنے ایک اخباری بیان میں آزادی کی یوم کے مناسبت سے اعلان کرکے بلوچ قوم میں بیداری و شعور کی روح پھونکنے کی کوشش کی اگر بلوچ قوم پر ہر سال اپنی قومی آزادی کی دن کی مناسبت سے پروگرام ترتیب دیں اور 11 اگست کے یوم کو جوش خروش سے منائیں تاکہ نئی نسل کو احساس ہوکہ ہمارے سابقہ آذادی کا یوم 11 اگست تھا، اور آزادی کیلیے جدوجہد تیز کردیں اپنے بہتر حکمت عملیوں، منصوبوں اور پروگراموں سے ہی تحریک آزادی آگے بڑھ سکے گی،
اعلان آزادی ایک اچھی پیش رفت ہے اگر اسی طرح دوسرے رہنماوں کی طرح خان صاحب مستقل مزاجی سے آزادی کے تحریک سے جڑے رہے اور بلوچ قوم کی قیادت کرتا رہے اور عالمی اداروں بطور نمائندہ پیش ہوکر بلوچستان اور بلوچ قوم کے مقدمے کو سنجیدگی سے پیش کرتا رہے امید ہے کہ پیشرفت ہوگی کیونکہ بلوچ ریاست کو زبردستی الحاق کردینے کے بعد شاید یہ پہلا موقع ہے کہ بلوچ قوم پرستی کے دعویدار رہنما نے آزادی کا اعلان کرکے جرات کا مظاہرہ کیا،
حالانکہ اسی قبیلے سے پہلے بھی خان محراب خان شہید نے انگریزوں سے جنگ لڑی اور شہید ہوگئے اور بعد میں آغا عبدالکریم احمد زئی نے پاکستانی فورسز سے نبرد آزما رہے، آغا سلیمان داود انہی کی نقش قدم پر چل کر تاریخ رقم کرینگے تاکہ نئی نسل اسے انقلابی کے طور پر پہچان سکیں
بلوچستان کے چاروں ریاستوں مکران،کوھستان،ساراوان،جہالاوان میں جنگ آزادی اپنے زوروں پر ہے اور بلوچ قوم کے پیر ورنا اپنے قومی سرزمین کے ننگ نامنس کو بچانے کیلیے اپنے سروں سے گزر رہے ہیں تاکہ بلوچ ایک آزاد قوم کی حیثیت سے اور بلوچستان ایک آزاد وطن کی صورت میں دنیا کے نقشے پر نمودار ہو اور بلوچ اپنی پہچان آپ بنائیں- اس مقصد کے لیے زیرزمین بلوچ تنظیموں کی محنت قابل دید ہے انہی تنظیموں کے بدولت ہی بلوچ قوم آج ایک فوج کی صورت اختیار کر رہا ہے اور پورا بلوچستان ایک محاز بنا ہوا ہے . سیاسی محاز پر بھی بلوچ نیشنل فرنٹ کی قرنانیاں قابل ذکر ہے کہ بلوچ قوم کی سیاسی آواز بنی ہوئی ہے اور دشمن نے بلوچ نیشنل فرنٹ کی آواز کو دبانے کے لیے بلوچ قومی ہیرو شہید واجہ غلام محمد،شہید لالہ منیر، شہید شیر محمد بلوچ کو اغوا کرنے کے بعد بے انتہا تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد شہید کردیا،
اور دشمن نے بلوچ قوم کو یہ پیغام دیا کہ جو بھی آزادی کا نام لیگا اس کا انجام شہدا مرغاپ جیسا ھوگا لیکن شہدا کو ھم سے جسمانی طور پر تو جدا کر لیا لیکن فکری طور پر تو ہزاروں غلام محمد،لالہ منیر،اور شیر محمد جیسے نڈر سپوت پیدا کردئیے- موجودہ حالات میں ان شہدا کی قربانیوں نے بلوچ قومی آزادی کو مزید نزدیک کردیا،
ان کی شھادت کے بعد بلوچ نیشنل فرنٹ کے کئی دوسرے رہنماوں کو اغوا نما گرفتاریاں جاری و ساری ہے دشمن اور ان کے حواری آستین کے سانپ جو بلوچ قومی غیرت کا سودا کرکے پارلیمنٹ میں پہنچے ھیں جھالاوان میں ان کو اپنی موت نظر آنے لگی ہے، تو انہوں نے ذاکر مجید،ڈاکٹر دین محمد،کامریڈ رسول بخش مینگل،مشتاق بلوچ اور کئی رہنماوں کو انہی کے وطن کے سوداگروں کی نشاندہی پر اغوا کرکے اور کامریڈ رسول بخش مینگل کو بے انتہا تشدد کے بعد شہید کردیا اور پورے بلوچ قوم کو یہ پیغام دیا کہ خاموشی اختیار کرو ورنہ جو بھی آزادی کا نا لیگا اس کا حال شہید جھالاوان جیسا ھوگا_
یہ ایک حقیقت ہے کہ آزادی کے لیے قربانی کی ضرورت ہوتی ھے اور بلوچ قوم نے اب تہیہ کر لیا ہے کہ اصل مقصد آزادی ہے کیونکہ اس وقت تک ہزاروں لاشیں بلوچ قوم کو مل چکی ہیں اور اس وقت بلوچ قوم کو عمل اور غور و فکر کرنے کی مزید ضرورت ہے اور کہنے اور عمل کرنے میں بڑا فرق ہے اور عمل کے لیے انتھک محنت اور یکسوئی کی ضرورت ہے اور تسلسل سے مزاحمت جاری رکھنا پڑتا ہے تاکہ منزل مقصود کی حصول ممکن ھو 

Leave a comment

Filed under Interviews and Articles

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s