برے بھیڑیے کو بھوکا رکھنا تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی


وہ لوگ جو برے بھیڑیے کو بھوکا رکھتے ہیں صرف وہی اپنے تئیں پرسکون ہوتے ہیں اور خالصتاً وہی تاریخ کے رخ کا تعین کرتے ہیں

ایک ایسی دنیا میں جہاں مادی مفادات افراد، گروہوں اور ممالک کے درمیان تعلقات پر حاوی ہوں، کوئی خوشگوار انداز سے حیرت میں پڑ جائیگا جب کوئی ان معیارات کو مسترد کرنے کا فیصلہ کرے اور ایسا ایک راستہ اختیار کرے جسے وہ اپنے تصورِدنیا سے قریب تر سمجھتا ہو اور اس کے نزدیک یہی معیارات چھا جائیں اور غلبہ حاصل کرلیں۔ ایسا راستہ اگرچہ باشرف ہے مگر ایک قیمت کی ادائیگی پر ہی ملتی ہے اور ہر کوئی اسکی ادائیگی کیلئے تیار نہیں، کبھی کبھار یہ قیمت انتہائی ہولناک ہوتی ہے لیکن پھر اسکے فوائد بھی روحانی طور پر متاثر کن ہوتے ہیں ۔ میر تقی میر کا کہنا ہے کہ، ”بے پروائی درویشی کی تھوڑی تھوڑی تب آئی /جب کہ فقیری کے اوپر میں خرچ بڑی سی دولت کی۔“

یہ درحقیقت ایک ایسا معاملہ ہے کہ کوئی زندگی اور اس کے اجر کو کس طرح دیکھتا ہے۔ لوگ عام طور پر ان بہکاووں کا شکار ہوجاتے ہیں جو زندگی انکے سامنے لاتی ہے، جبکہ دوسرے صرف مواقع کی کمی کے سبب بچے رہتے ہیں؛ تاہم کچھ لوگ شعوری طور پر ان بہکاووں کیخلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ دیانتدار، بااصول اور عزم کے پابند لوگ آسانی سے تحریص کیخلاف مزاحمت کرلیتے ہیں۔ ایک چیروکی دیسی امریکی کی کہانی اس کی وضاحت کرے گی۔ ایک نوجوان لڑکے نے اپنے دادا سے پوچھا کہ وہ کس طرح سے ایک اچھا آدمی بن گیا۔ اس کے دادا نے یہ کہتے ہوئے جواب دیا، ”میرے اندر دو بھیڑیے ہیں، اور اسی طرح سے تمہارے اندر بھی۔ ایک بھیڑیا رحمدل، مہربان، فراخدل، بے لوث، اور بہادر ہے، جبکہ دوسرا برا، پرتشدد، خودغرض، تباہ کن اور سنگدل ہے۔ وہ آپس میں لڑرہے ہیں اور دونوں تب تک نہیں رکیں گے جب تک کہ ان میں سے کوئی ایک نیست و نابود نہ ہوجائے۔“ لڑکا سہما ہوا لگتا تھا اور ایک مایوس کن لہجے میں التجاء کی، ” لیکن دادا، ان میں سے کون جیتے گا؟“ دانا شخص نے اپنے پوتے پر گہری نگاہ ڈالی اور کہا، ”وہی جسے میں کھلاوں گا۔“

یہ پوری زندگی کی جدوجہد ہے۔ کچھ مزاحمت کرتے ہیں جبکہ کچھ برے بھیڑیے کا شکار ہوجاتے ہیں، اور وہ لوگ جو شکار ہوجاتے ہیں، گوکہ یہ افسوس کی بات ہے کہ ان کو تاریخ ہمیشہ تعظیم و تکریم دیتی ہے اور ان کے بت تراشتی ہے، جبکہ وہ لوگ جو برے بھیڑیے کیخلاف مزاحمت کرتے ہیں عام طور پر لوگوں کی طرف سے مسترد کردیے جاتے ہیں، اُس گلیمر کی کمی کی وجہ سے جس میں برائی ملبوس ہوتی ہے، اگرچہ یہ سطحی اور دکھاوے کی گلیمر عارضی ہوتی ہے۔ وہ لوگ جو برے بھیڑیے کو بھوکا رکھتے ہیں صرف وہی اپنے تئیں پرسکون ہوتے ہیں اور خالصتاً وہی تاریخ کے رخ کا تعین کرتے ہیں۔

کیوبا کے شوقیہ باکسر تیوفیلو اسٹیونسن لارنس (29 مارچ، 1952 تا 11 جون، 2012) ان تین باکسروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے تین اولمپک کھیلوں میں طلائی تمغے جیتے۔ دیگر دو ان کے آشرت ہیں، ایک ہموطن کیوبن فیلکس ساوون اور دوسرا ہنگری کے لاسزلو پاپ۔ اسٹیونسن مشرقی کیوبا کے صوبے لاس توناس میں ایک منکسرالمزج خاندان میں پیدا ہوئے۔ یہ سابق قومی لائٹ ہیوی ویٹ چیمپئن جان ہیریرا کی سرپرستی تھی کہ جس کے تحت نوجوان اسٹیونسن نے اپنے کیریئر کا آغاز کیا، اپنے سے زیادہ تجربہ کار باکسروں سے لڑے، اور ہیریرا کے مطابق اس، ”کے پاس وہ تھا جسکی اس ہنر کو ضرورت تھی۔“ انہوں نے 14 سال کی عمر میں اپنا پہلا میچ میں لڑا؛ دو سال کے بعد، انہوں نے وسطی امریکی اور کیریبین چیمپئن شپ میں اپنا پہلا بین الاقوامی ٹائٹل جیتا۔ کیوبا کی حکومت کے مالی تعاون سے چلنے والی نیشنل باکسنگ کمیشن کے تحت ان کی صلاحیتیں نکھریں جہاں روسی کوچ آندرے چیروونینکو نے انہیں اپنی شاگردی میں لیا اور ان کی قدرتی قابلیت کو مزید نکھارا۔ اپنی قابلیت کے سبب انہوں نے 1970 کے وسطی امریکی چیمپئن شپ کیلئے قومی ٹیم میں جگہ حاصل کی جہاں انہوں نے مخلوط قسمت کے باوجود خود کو کیوبا کے اول درجہ ہیویویٹ کے طور پر منوا لیا۔ برلن میں مشرقی جرمنی کے برنڈ آنڈرن پر آسان فتح سے انہیں ہیوی ویٹ ٹائٹل کیلئے ایک سنگین مدمقابل کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ 20 سال کی عمر میں انہوں نے 1972 کے میونخ اولمپکس میں شرکت کی اور شدید مشکلات کے بعد کوارٹر فائنل میں پسندیدہ امریکی باکسر ڈوین بوبک کو شکست دی۔ سیمی فائنل میں جرمن باکسر پیٹر ہسنگ کو آسانی سے شکست دینے کے بعد، فائنل میں وہ بلا مقابلہ جیت گئے کیونکہ رومانیہ کے آیون ایلیکس چوٹ لگنے کے سبب فائنل میں آنے سے قاصر رہے۔ کیوبا نے وہاں تین سونے تمغوں کے ساتھ ساتھ ایک چاندی اور ایک کانسی کا تمغہ جیتے۔

اسٹیونسن اپنی فتوحات کے بعد 1974 میں ہوانا کیوبا میں منعقد ہونیوالی عالمی چیمپئن شپ کی افتتاحی تقریب میں کیوبا کے ایک قومی ہیرو بن گئے، اور اسکے بعد 1976 میں مونٹریال کی اولمپکس میں بھی۔ ان کی شہرت اب صرف کیوبا تک محدود نہیں تھی اور یہ وہ وقت تھا کہ جب پروموٹروں کو انکے اور افسانوی نوعیت کے حامل محمد علی کے درمیان ایک مکیباز کی تلاش تھی۔ کیوبا میں پیشہ ور کھیل پر پابندی عائد تھی اور اس مکیبازی کو ایک حقیقت بنانے کیلئے، وہ یا تو کیوبا چھوڑ دیتے یا ایک پیشہ ور بن جاتے۔ امریکی باکسنگ پروموٹروں نے انہیں ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئن محمد علی کو چیلنج کرنے کیلئے پانچ ملین ڈالر کی پیشکش کی، لیکن انہوں بڑی رقم کی پیشکش پر لالچ کے بہلاوے میں آنے سے انکار کردیا، ان دنوں میں جب ملینیئر یا بلینیئر کی بھرمار نہیں تھی۔ انہوں نے اس پیشکش سے انکار کر دیا اور سوال کیا کہ، ”اسّی لاکھ کیوبائی عوام کی محبت کے مقابلے میں ایک ملین ڈالر کیا ہے؟“ بنیادی طور پر ایک عظیم انسان اور بھوسے سے بنے ایک شخص کے درمیان یہی فرق ہے۔ ہمارے ہاں موخرالذکر قسم کی بہتات ہے۔

اسٹیونسن نے نو تمغے جیتے جن میں سے آٹھ طلائی اور ایک کانسی کا تھا۔ انہوں نے اولمپکس میں تین طلائی تمغے جیتے، آخری تمغہ 1980ء میں ماسکو میں جیتا۔ انہوں نے ورلڈ ایمیچرچیمپئن شپ میں تین طلائی تمغے جیتے، آخری 1986 میں سپر ہیوی ویٹ کلاس میں جیتا۔ انہوں نے ایک کانسی کا تمغہ جیتا، یہ 1971 میں انکا سب سے پہلا تھا، اور پین امریکن گیمز میں دو طلائی تمغے جیتے۔ ان کی زندگی کے دو اساسی اجزاء یہ تھے کہ کیوبا میں ان سے حد سے زیادہ محبت کی جاتی تھی اور انہیں کیوبا سے محبت تھی۔ غیر مشروط محبت کے بغیر، کاوشیں مطلوبہ نتائج کبھی نہیں دیتیں۔ اسٹیونسن کے انتخاب کی رہنمائی ان کے اور کیوبا کے درمیان باہمی محبت نے کی۔ اسٹیونسن 1988ء میں 302 جیت اور 22 ہار کے ایک شاندار ریکارڈ کیساتھ ریٹائر ہوئے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ تاریخ میں جابر، بدمعاش، رنگین مزاج، کمینے اور بددیانت لوگوں کو اکثر نمایاں جگہ مل جاتی ہے جبکہ تیوفیلو اسٹیونسن جیسے ہیرو آخری صفحات کے حوالے کردیے جاتے ہیں۔ پاپا ڈوک ڈوالیئر کو تیوفیلو اسٹیونسن سے بہتر طور جانا جاتا ہے۔ تاریخ کو مسخ کرنیوالے، لوگوں کیلئے ضروری رول ماڈل کے طور پر، چے گویرا اور اسٹیونسن جیسے افراد کو ان ادوار کیلئے جتنا زیادہ غیر اہم گردانتے ہیں، ان کی مطابقت اور پروجیکشن کی کوشش اتنی زیادہ اہم ہو جاتی ہے ۔

مقصد یا تحریک کیلئے وقفیت خالص اور بلاآمیزش ہونی چاہئے؛ یہ کبھی بھی ذاتی مفاد یا ذاتی فوائد سے داغدار یا آلودہ نہیں ہونی چاہئے۔ عام طور پر تحریکوں کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ کچھ افراد نے ان کا استحصال کیا ہے جنکا بنیادی مقصد محض اپنے آشیانے کی تعمیر رہا ہے۔ یہ ایک ناقابل معافی گناہ ہے اور شہداء کے خون سے فائدہ اٹھانے کے مترادف ہے، اسے کبھی برداشت نہیں کرنا چاہئے۔ مقصد کیلئے محبت خالص اور بلامعاوضہ ہونا چاہئے۔ اگر یہ محرکات سے داغدار ہو تو یہ ایک گھناونا جرم ہے۔ شیخ سعدی کا کہنا ہے کہ، ”خلافِ طریقت بود کہ اولیاء/ تمنا کند ازخدا جز خدا (پارسا جو کہ متلاشی ہو خدا کا پارسائی کو پراگندہ کردیتا ہے)۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کی دہائی کے ابتداء سے ایک تعلق ہے
mmatalpur@gmail.com
بشکریہ: ڈیلی ٹائمز، اتوار، 9 ستمبر، 2012

To Download/Read in PDF cleck: Hear

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s