ایک دُم چھلّا میڈیا تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی


ایک کلبی، اجیر، اشتعال انگیز پریس کسی بھی ریاست کیلئے ایک قیمتی اثاثہ ہے جو اس بات کو یقینی بنانے پر تلی رہتی ہے کہ وہ اسکے نظریے کو ایک برترحقیقت کے طور پر قبول کروائے

بعض اخبارات (ڈیلی ٹائمزنہیں) نے کوئٹہ میں ایف سی کے زیرانتظام منعقد کیے گئے 14 اگست کے جشن کو برجستہ اور اشتیاق انگیز تقریبات کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ ستم ظریفی کہ وزیر اعلیٰ رئیسانی کی پرچم کشائی سمیت بیشتر تقریبات ایف سی کی منظم کردہ تھیں، لیکن وہ یہ بیان کرنے سے قاصر رہے؛ وہ سیلولر سروسز کی معطلی بھی بتانا بھول گئے جوکہ 23 مارچ کی مشق کا دہرانا تھا۔ اس بامقصد غلط بیانی کا مقصد محض لوگوں کو بیوقوف بنانا تھا تاکہ وہ یہ باور کرلیں کہ صرف چند شرپسند ہیں جو کہ بلوچستان کی صورتحال کیلئے ذمہ دار ہیں اور اس طرح سے وہ ایک سازگار ماحول پیدا کرلیں اور بلوچ کیخلاف زیادتیاں جاری رکھیں جو اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ جوزف پولِٹسر کا اقتباس، ”ایک کلبی، اجیر، اشتعال انگیز پریس وقت گزرنے کیساتھ ساتھ اتنے ہی گھٹیا لوگ پیدا کریگا جتنا کہ وہ خود ہے،“ سچ لگتا ہے۔

ایک حریص، کم ظرف اور کاذب پریس (میڈیا) نے لوگوں کو ’اسٹابلشمنٹ‘ کی خواہشات اور اس کے ’قومی سلامتی کی ریاست‘ کے نظریے کو قبول کرنے کیلئے بے حس اور غلام صفت بننے میں مدد کی ہے۔ آمدنی کیلئے اُتاو لا میڈیا، انسانی حقوق کے مسائل سے نمٹنے کے بجائے غیرسنجیدہ اور فروعی معاملات کو رات دن سات دن کوریج دیتا ہے۔ میڈیا نے ہمیشہ اس پالیسی کے منفی اثرات پر سوال اٹھائے بغیر، ’سیکورٹی ریاست‘ کے آدرشوں کو پُرزور طور سے پروجیکٹ کیا ہے۔ اسکا کریڈٹ صرف چند کالم نگاروں اور اخبارات کو جاتاہے کہ جنہوں نے اسلام اور ’قومی سالمیت‘ کے نام پر کیے جانیوالے اس ڈرامے کو بے نقاب کرنا برقرار رکھا ہوا ہے۔

لوگ اکثر ایسے کرتبی سوال کے جواب میں الجھ جاتے ہیں کہ، ”آسٹریلیا کی دریافت سے پہلے سب سے بڑا جزیرہ کون سا تھا؟“ یہ صرف اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ یہاں تک کہ اگر یہ عوامی علم میں نہ بھی ہو تو تب بھی حقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی ہے۔ اسے انتہائی بداخلاقی سے پیش کیا جاتا ہے، محض اسلئے کہ لوگوں کو یہ پتہ نہیں ہے کہ بلوچستان میں زیادتیوں کا ارتکاب ہو رہا ہے یا آپریشن کیا جا رہا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ یہ سب کچھ وہاں نہیں ہو رہے ہیں۔ ہر جگہ ’مقتدراو ں‘ نے ہمیشہ اس تمہید پر تکیہ کیا ہے کہ اگر معلومات کی اشاعت پر قدغن لگائی جائے تو فرض کیا جاسکتا ہے کہ کچھ بھی نہیں ہوا ہے یا نہیں ہو رہا۔ وہ اکثر ایک کلبی، اجیر میڈیا کی مدد سے کامیاب رہے ہیں، لیکن یہ امر یقینی طور پر ان کے جرائم اور مظالم کی سنگینی کو کم نہیں کرسکتی۔

مظالم کو بے نقاب کرنے میں میڈیا کے کردار کی نفی نہیں کی جا سکتی ۔ دی ایم؟ لائی قتل عام کہ جس میں خواتین، بچے اور بزرگ افراد سمیت تقریباً 500 غیر مسلح جنوبی ویتنامی شہری ہلاک ہوئے، جوکہ 16 مارچ، 1968 کو ویتنام جنگ کے دوران ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی فوج کے فرسٹ بٹالین کی چارلی کمپنی کے سپاہیوں کی جانب سے کیا گیا تھا۔ اس پر کسی کا دھیان نہیں گیا لیکن دی انڈیپینڈینٹ کے تحقیقاتی صحافی سیمور ہرش، جنہوں نے 12 نومبر، 1969 کو دی ایم؟ لائی کی کہانی شائع کی، گوکہ دکھ کی بات ہے کہ قصورواروں سزا نہیں ملی۔ اس کہانی کو بے نقاب کرنا ممکن تھا کیونکہ ایسا کرنے سے اسکی زندگی کو کسی خطرے کا سامنا نہیں تھا۔ یہاں ان تمام لوگوں کا خاتمہ کیا گیا جنہوں نے حساس راستوں پر چلنے کی ہمت کی۔

بلوچستان میں صحافیوں اور میڈیا نے اپنے آدرشوں پر رہنے کی جدوجہد کی ہے اور اس کیلئے انہیں بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ہے؛ گزشتہ چار سالوں میں 22 صحافی قتل کیے گئے۔ اس کے علاوہ، چند سال قبل روزنامہ آساپ کو بند ہونے پر مجبور کیا گیا جب نیم فوجی دستوں نے اس کے دفاتر پر قبضہ کرلیا تھا۔ روزنامہ بلوچستان ایکسپریس اور روزنامہ آزادی کے دفاتر کو بھی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے پرنیم فوجی دستوں کی طرف سے قبضہ کیا گیا۔ اخبارات کی ویب سائٹس پر پابندی لگائی گئی۔ یکساں طور پر دوسرا مو ثر طریقہ ایف سی کے سربراہ اور وزیراعلیٰ کا میڈیا پر الزام لگانا ہے کہ وہ جھوٹ پھیلارہے ہیں اور ان کے اچھے نام اور انتظامیہ کو بدنام کررہے ہیں۔ یہ مو ثر طریقے سے صحافیوں کی لگن پر قدغن لگانا ہے کیونکہ زبانی انتباہ کے بعد جسمانی تخویف اور خاتمہ آتے ہیں۔ حال ہی میں وش ٹی وی کے اینکرپرسن رزاق سربازی کے بھائی جلیل سربازی اور ان کے دوست عبدالصبور کو اغواء کر لیا گیا تھا۔ بلوچستان میں میڈیا کی آزادی کو ختم کرنے کیلئے ایک انتھک ریاستی کوشش جاری ہے۔

اس صورتحال میں فوج، ایف سی یا ان کے پٹھو جو کچھ کررہے ہیں، ان کی بابت رپورٹیں یا تحقیقات انتہائی محدود ہیں۔ دبا ہوا ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا کے برعکس، ایئر فورس یا فوج کی غیرمعمولی سرگرمیوں کو رپورٹ کرنے سے ہچکچاتی ہیں کہ جن سے یہ ظاہر ہوتا ہو اور اس بات کو بے نقاب کیا جا سکے کہ بلوچستان میں آپریشن کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ ڈیرہ بگٹی، مری علاقے، اور مکران میں کچھ علاقے صحافیوں کی پہنچ سے باہر ہیں اور فوج کے ملوث ہونے کی اصل حدود اور زیادتیاں رپورٹ نہیں ہورہی ہیں۔

بلوچستان میں صحافیوں کو دھمکیاں، معلومات کی آزادی اور میڈیا پر قدغن یقینی طور اتفاقی نہیں ہیں بلکہ اسکے پیچھے ایک بدطینت محرک ہے تاکہ عوام کو حقائق پر مبنی معلومات سے محروم رکھا جائے اور اسکے ساتھ ساتھ امید سے بھی۔ کسی ایک شخص پر بھی ان 22 صحافیوں کے قتل کا مقدمہ نہیں بنایا گیا جو صرف اور صرف اپنا کام کر رہے تھے۔ بلوچستان میں میڈیا کے افراد کے سر پر لٹکتے موت کے مسلسل خطرے کا مقصد جسمانی طور پر معلومات کے آزاد بہاو کو روکنا ہے۔ ایک پریس (میڈیا) جو کہ ریاست کی مرضی اور نظریے پر سرخم تسلیم نہیں کرتی خطرے میں رہے گی جبکہ ایک کلبی، اجیر، اشتعال انگیز پریس جو اپنی ہی طرح کے لوگ پیدا کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے، اسے ترقی کی منازل طے کی اجازت ہے ۔

ایک دُم چھلّا میڈیا عوام کی آزادیوں اور حقوق کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے کیونکہ یہ ایک غیرگُریزی اور فرقہ واریت پر مبنی ماحول پیدا کرنے میں ریاست کی مدد کرتا ہے، جوکہ مسلسل ان لوگوں کے حقوق اور آزادیوں کو غیراہم بنادیتا جو ریاست کے غلط نظریات سے ہم آہنگ نہ ہوں۔ اس وقت بلوچوں اور سندھیوں، ان سے پہلے بنگالیوں اور یہاں کے مذہبی اقلیتوں کی طرح ’قومی سلامتی ریاست‘ نے میڈیا کی ملی بھگت کے ساتھ ان کے حقوق اور آزادیوں پر تجاوز کرلیا ہے، جو کہ بڑھتی ہوئی آمدنی کے عوض اخلاقیات اور سچ کو فروخت کرنے کا مجرم ہے۔ سپریم کورٹ نے، جو کہ اس وقت میڈیا میں فحاشی کے معاملے پرمصروف ہے، اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ معلومات تک لوگوں کی رسائی کے حق کی توہین میڈیا میں کسی بھی گستاخانہ اشتہارکے مقابلے میں زیادہ بیہودہ ہے، لیکن پھر آپ کو لوگوں کے حقوق کی اس خلاف ورزی کو سمجھنے کیلئے زندہ ہونا پڑے گا۔ ایک کلبی، اجیر، اشتعال انگیز پریس کسی بھی ریاست کیلئے ایک قیمتی اثاثہ ہے جو اس بات کو یقینی بنانے پر تلی رہتی ہے کہ وہ اسکے نظریے کو ایک برترحقیقت کے طور پر قبول کر وائے۔

پاکستانی میڈیا نے نہ صرف نسلی یا مذہبی اقلیتوں کے حقوق کیلئے کھڑے ہونے کی اپنی اخلاقی ذمہ داری پوری نہیں کی ہے بلکہ کئی صورتوں میں ان کیخلاف زیادتیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ سوشل میڈیا فرمانبردار میڈیا کی طرف سے پیدا کردہ خلا کو پُرکرنے کی کوشش تو کر رہی ہے لیکن اس میں اُس ساکھ اور اثر کمی ہے جوکہ مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ کو حاصل ہے۔ سوشل میڈیا واقعی طاقتور بن جائے گی جب کارکنان سچائی اور تحقیقات کے بنیادی اصولوں پر عمل کریںگے۔ سوشل میڈیا ریاست کیلئے ایک کانٹا ہے لیکن اسے اعلیٰ معیار سے ہم آہنگ ہوکر ایک ایسا خنجر بننا ہوگا جو جھوٹ اور میڈیا پر عائد پابندیوں کو مار سکے۔ یہ ضروری ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والے کارکن غلط رپورٹنگ کے نتائج سے آگاہ ہوں۔ سہولت کی خاطر ساکھ پر کبھی بھی سمجھوتا نہیں کیا جانا چاہئے۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کی دہائی کے ابتداءسے ایک تعلق ہے
mmatalpur@gmail.com
بشکریہ: ڈیلی ٹائمز، اتوار، 19 اگست، 2012

To Download/Read in PDF cleck: Hear

Advertisements

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s