آگ لگانا تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی


بلوچستان میں ریاست کی زیادتیاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ حکمران جماعت کے کچھ ارکان بھی گمشدگیوں اور قتل میں ریاست کے ملوث ہونے کی مذمت کر رہے ہیں

شام آج ایک خانہ جنگی میں مبتلا ہے، اور رابرٹ فِسک کا کہنا ہے کہ یہ سب دیرا میں اس طرح شروع ہوا: ”بغاوت کی ایک تاریخی جگہ، کچھ نوجوانوں نے ایک دیوار پر اسد مخالف تصویر منقوش کی تھی۔ شام کی سیکورٹی پولیس معمول کے مطابق نوجوان مردوں کو گھسیٹ کر اپنے اسٹیشن لے گئی اور ان پر تشدد کیا۔ لیکن بعد میں ان کی مائیں ان کے رہائی کا مطالبہ کرنے کیلئے وہاں پہنچیں تو پولیس نے ان سے بدکلامی کی۔ اس کے بعد، زیادہ سنجیدگی سے، قبائلی عمائدین کا ایک گروہ پولیس کے رویے کی وضاحت طلب کرنے کیلئے دیرا کے گورنر سے ملنے گیا۔ ہر ایک نے اپنی پگڑی گورنر کی میز پر رکھ دی، جوکہ مذاکرات کا ایک روایتی عندیہ ہے؛ وہ اپنی پگڑیاں فقط اسی وقت دوبارہ پہنیں گے جب معاملہ طے پاجائے۔ لیکن گورنر نے، جوکہ ایک بدمزاج پرانا کھڑوش باتھسٹ اور حکومت کا وفادار تھا، سب سے زیادہ معزز شیخ کی پگڑی کو اٹھایا، اپنے دفتر کی فرش پر پھینکا اور اس پر اپنا پیر رکھ دیا۔ دیرا کے لوگ ہزاروں کی تعداد میں احتجاج کیلئے باہر آ گئے، فائرنگ شروع ہوگئی اور بشر نے عجلت میں اس گورنر کو برخواست کرکے اس کی جگہ دوسرے کو بٹھادیا۔ بہت دیر ہو چکی تھی۔ آگ لگ چکی تھی۔ تیونس میں، ایک بے روزگار نوجوان، جس نے اپنے آپ کو آگ لگادی۔ شام میں، ایک پگڑی نے۔“

بلوچستان میں آگ مارچ 1948 میں اسکے جبری الحاق سے لگی اور اس کے بعد فوجی آپریشن، اغوا، قتل، معزز شخصیات کو دھمکیاں اور اشتعال انگیز بیانات نے اس آگ کو ایندھن فراہم کیا، اور اُس وقت تک اسکے بجھنے کا کوئی امکان نہیں جب تک کہ بلوچ اپنے حقوق کو حاصل نہ کرلیں۔ ریاست نے 1948 کے بعد سے بلوچستان میں فقط طاقت پر انحصار کیا ہے، اور یہ اُن تمام چنڈوبازوں کے طرح اسکے عادی ہوچکے ہیں جو تشفی کی امید لیے مسلسل اسکی خوراک میں اضافہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایک تنسیخی بیان میں، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، کہ جس نے یہاں تک کہ حال ہی میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کو بلوچستان کے مسائل کا ذمہ دار ٹھہرایا، منگل کے روز کہا ہے کہ اگر ایف سی چاہتی تو بلوچستان کی بگڑتی امن و امان کی صورتحال ایک ہفتے میں ٹھیک ہوسکتی تھی اور وہ یہ گوہرِ نایاب بھی اپنے ساتھ لائے کہ ”یہ میرا یقین ہے کہ صورتحال کو ٹھنڈا کیا جا سکتا ہے اور وہ (ایف سی) مسئلے کو سات دنوں میں حل کر سکتے ہیں۔“ کوئی یہ نہیں جانتا کہ آیا اس سادگی پر ہنسا جائے یا رویا جائے، لیکن پھر یہ لگتا ہے کہ شاید یہ سادگی نہیں ہے بلکہ بلوچوں کی اپنی حقوق کیلئے جاری جدوجہد کو کچلنے کی خاطر ایف سی کی طرف سے بروئے کار لائی جانیوالی حکمت عملی سے چشم پوشی کیلئے ایک سوچا سمجھا بیان ہے۔

چیف جسٹس کے بیان کے بعد، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے غنڈوں نے معروف بلوچ شاعرہ، سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کی لیکچرر اور مشہور بلوچ دانشور مرحوم پروفیسر نادر قمبرانی کی بیٹی نوشین قمبرانی کو دھمکی دی۔ انہوں نے انکے گھریلو ملازم کو مارا پیٹا کہ اگر اس نے بلوچوں کیلئے آواز اٹھانا جاری رکھا تو اسکے لئے اسے سنگین نتائج بھگتنے کا انتباہ دیا، اس کیساتھ یہ پیغام بھی دیا کہ، ”ہم جانتے ہیں کہ اسکا ایک چھوٹا سا بچہ ہے، اسلئے اس سے کہو کہ ماں بنو باغی مت بنو۔“

ایک معزز بلوچ خاتون سے ادب آداب سے ناآشنا اس طرح کی بدسلوکی کے مظاہرے پر چیف جسٹس، سیاستدانوں، یہاں تک کہ عام طور پر پُرجوش سول سوسائٹی سمیت کسی کا بھی اس طرف دھیان نہیں گیا اور نہ ہی اسکی مذمت کی گئی۔ بلوچ کو اپنا دفاع خود کرنے کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے، اگرچہ یہ سب کے سب انتہائی مضطرب ہوجاتے ہیں اور پرزور مذمت کرتے ہیں جب بلوچ، جسے پاکستان سے کسی بھی قسم کے انصاف کی توقع نہیں، اپنی آزادی کے بابت اور اپنے رستے پر چلنے کی بات کرتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ان کیلئے یہ رئیل اسٹیٹ جوکہ بلوچستان واقعتا ہے، قابل دلچسپی ہے جبکہ اسکے لوگ نہیں۔ بلوچ عوام، ہمیشہ سے مشرقی پاکستان کے عوام کی طرح یہاں کے لوگوں کی اکثریت کیلئے ثانوی اہمیت کا حامل رہے ہیں۔ 1971 میں بنگالیوں کیخلاف نا انصافیوں پر لوگوں کی مجرمانہ اور ناقابل معافی خاموشی ایک غیرنادمانہ ملی بھگت تھی اور اسکا نیتجہ بنگلہ دیش کی صورت میں نکلا۔

مزید برآں، عدالت کے بیان کے جواب میں ایف سی کے سربراہ نے کہا کہ، ”وہ وقت اب آچکا ہے کہ اس نظرانداز شدہ صوبے میں رہنے والے لوگوں کے دل و دماغ کو جیت لیا جانا چاہئے۔“ انہوں نے مزید کہا: ”بلوچستان میں ہر فوجی اور وسائل کو صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے استعمال کیا جائے گا،“ مگر افسوس کا اظہار کیا کہ”صوبے میں واقعات کا جواب دینے کیلئے ایف سی بندھے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ صرف پانچ فیصد علاقے میں موجود ہے۔“ ایسا لگتا ہے کہ افسوس ناک حدود کے باوجود وہ اس پُراندوہ بات کا ذکر کرنے سے چوک گئے کہ گزشتہ اٹھارہ ماہ میں 500 سے زائد بلوچ اغواء اور قتل ہوئے، حتیٰ کہ سپریم کورٹ کا بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ ان میں سے بیشتر کیلئے ایف سی ذمہ دار ہے۔

بلوچستان کو ٹھیک کرنے کیلئے ایف سی کو کہنا اور پھر اس سے سات دنوں میں پایہء تکمیل تک پہنچانے کی توقع رکھنا بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک عامل کو کسی سنگین مسئلہ کو حل کرنے کیلئے کہا جائے۔ عامل تمام عارضوں کے علاج کیلئے ایک مخصوص طریقہ ہی استعمال کرتے ہیں؛ بالکل اسی طرح، ایف سی اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے صرف طاقت کا استعمال جانتی ہے۔ بلوچستان مسئلے کی بنیاد بلوچ کیخلاف غیرمنصفانہ اور اندھادھند طاقت کا استعمال ہے اور ریاست کے تمام ڈاکٹر اسے زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کا نسخہ دینا برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ طاقت نے اب تک مسئلہ حل نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس سے یہ کبھی حل ہونے جا رہی ہے۔

بلوچستان میں ریاست کی زیادتیاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ حکمران جماعت کے کچھ ارکان بھی گمشدگیوں اور قتل میں ریاست کے ملوث ہونے کی مذمت کر رہے ہیں۔ فرحت اللہ بابر نے سینیٹ میں کسی لفظ کا بھرتہ بنائے بغیر کہا کہ بلوچ عوام کو درپیش سب سے بڑا خطرہ سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے ان کی جبری گمشدگیاں ہے۔ ایک وفاقی وزیر، میر چنگیز جمالی نے بی بی سی کے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ سیکورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں بلوچ کارکنوں کے اغواء اور قتل کیلئے ذمہ دار ہیں اور یہ کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے مشرف دور کی پالیسی جاری رکھی ہوئی ہے۔ انہوں نے بلوچستان کی صورتحال کیلئے حکومت، فوج اور سیاسی جماعتوں کو مورد الزام ٹھہرایا اور کہا کہ ایف سی کا ایک کرنل بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہے۔

گویا کہ چیف جسٹس کے سات دن کے علاج والی تجویز کافی نہیں تھی کہ سینیٹر رحمن ملک نے، جوکہ بلوچستان میں ہرچیز کو ایک سازش کے طور پر دیکھتے ہیں اور بلوچ کیخلاف دروغ گوئیاں جاری رکھنے پر جمے ہوئے ہیں، سینیٹ کی ایک تقریر میں، اس وضاحت کے بغیر کہ بلوچوں کو قتل کون کر رہا ہے، انہوں نے اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والے بلوچوں کیخلاف زہر افشانی کی، معمول کے الزامات اور اشاروں کنایوں میں بھارتی اور افغان حکومتوں کے ملوث ہونے کا الزام لگایا اور بلوچوں کو قصوروار ٹھہرایا۔ یہاں تک کہ انہوں نے بلوچستان میں ہونیوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر امریکہ اور اقوام متحدہ کی دلچسپی پر بھی تنقید کی۔ اسے روکنے کیلئے، جسے وہ ایک سازش کے طور پر دیکھتے ہیں، مزید طاقت کے استعمال کی وکالت کی۔ تاہم، وہ یہ سمجھنے میں ناکام ہیں کہ اگر طاقت سے عوام کی خواہشات کو دبایا جاسکتا ہے تو اس دنیا پر اُس برادری کا راج ہوتا کہ جس نے سب سے پہلے خود کو ایک مسلح گروہ کے طور پر منظم کیا تھا۔ فطری طور پر، انہوں نے باقی تمام لوگوں کو پیش قدمی سے روک لیا ہوتا لیکن سماجی قوانین گروہوں اور افراد کے طاقت کی پابند نہیں ہیں۔ لوگ تواتر کیساتھ اس طوق کو توڑنے میں کامیاب رہتے ہیں جوکہ ان لوگوں کو امید بخشتی ہے جو ظلم اور ناانصافی کیخلاف مزاحمت کرتے ہیں۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کی دہائی کے ابتداءسے ایک تعلق ہے
mmatalpur@gmail.com
بشکریہ: ڈیلی ٹائمز، اتوار، 5 اگست، 2012

To Download/Read in PDF cleck: Hear

1 Comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up

One response to “آگ لگانا تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی

  1. Reblogged this on balochrightscouncil and commented:
    PAKISTAN KA JO YAR HAE,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,, BALOCH QOUM KA GHDDAR HAE,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s