کوئی امید نہیں تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی


ریاست بلوچ کی خواہشات اور حقوق کیلئے ان کے مطالبے کو محض اپنے اسٹریٹجک اور اقتصادی منصوبوں کیلئے ایک رکاوٹ کے طور پر دیکھتی ہے

لاپتہ افراد یا ان کے رشتہ داروں کی اکثریت کی صعوبتیں کم کیے بغیر، سپریم کورٹ میں بلوچستان کے لاپتہ افراد پر کی جانیوالی سماعتیں غیر متعین طور پر اختتام پذیر ہورہی ہیں۔ مزید برآں، ایسا لگتا ہے کہ یہ سماعتیں بلوچ کیلئے پہلے ہی سے برے حالات کو مزید ابتر کرنے کا باعث بنیں گی کیونکہ چیف جسٹس کے بیان ’بلوچستان میں ایک آئینی بگاڑ آچکا ہے‘ کے سنگین مضمرات ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اس آئینی بگاڑ کیلئے خصوصی اور ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ پہلے ہی سے کسی بیگ راج نامی شخص، پنجاب فورم کے صدر نے، ایک قومی اخبار میں مطالبہ کیا ہے کہ حکومت سنجیدگی سے غور کرے اور تجویز پیش کی ہے کہ بلوچستان میں صورتحال کو معمول پر لانے کیلئے گورنر راج نافذ کرنے کے بعد بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی جائے۔ بلوچ سوچ رہے ہیں کہ آیا ان تمام سماعتوں کا مقصد صرف اس امکانی صورت کو جواز اور بنیاد فراہم کرنے کیلئے تھا۔

یہ سماعتیں فرنٹیئر کور (ایف سی) کی اس خودسر ہٹ دھرمی سے مسترد کرنے میں نمایاں ہوجاتی ہیں جنہیں سپریم کورٹ نے اس کیخلاف ناقابل تردید ثبوت کہا تھا۔ گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کو پیش کرنے کا حکم دیا، لیکن ایف سی نے اپنے پیش کردہ ایک تحریری بیان میں کہا کہ اس نے ”اندرونی طور پر تفتیش کی ہے“ اور پتہ چلا ہے کہ لاپتہ افراد کا گروہ” ایف سی کی تحویل میں نہیں ہیں“، انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے معاملات میں، باغیوں نے ایف سی کی وردیاں پہن کر ”عوام کی توجہ حاصل کرنے والی دہشت گردی اور سنگین جرائم کی بڑی کارروائیاں کی ہیں…. اس طرح سے انہوں نے اس وفاقی ادارے کو بد نام کیا ہے۔“ بالکل۔ کہانی ختم۔ لاپتہ افراد ان کے پاس نہیں ہیں؛ اس کے علاوہ، دغاباز فریبی ایف سی کی یونیفارم میں ملبوس ’مقدس‘ ایف سی کو ایک برا نام دینے کیلئے برے کام کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انہیں پولیس کے اختیارات بھی چاہیئیں تاکہ وہ لاپتہ افراد کیلئے گھر گھر تلاشی لے سکیں کہ گویا انکو حاصل وسیع صوابدیدی اختیارات کافی نہیں تھے۔ تردید کا سہارا انکو مدد دیتا ہے کیونکہ یہاں کسی بھی اتھارٹی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ان کی جعلی تردید کی تصدیق یا اسے غلط ثابت کرسکے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ ایف سی کا یہ دعویٰ کہ باغی ان کی وردیاں پہن کر لوگوں کو اغواء کرتے ہیں، انکے دوسرے دعوے کی نفی ہے کہ باغیوں کا بلوچستان میں کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے، جس سے یہ ظاہرہوجاتا ہے کہ ایف سی اور پولیس دراصل کتنے نااہل ہیں۔ یہ ناقابل قبول بچکانا پریوں کی کہانیاں انسانی فہم و فراصت کی توہین ہیں۔ وہ فقط فوج اور ایف سی کی ظلم اور جبر کیساتھ بلوچ کو محکوم بنانے کی پالیسی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان تمام دعووں اور قانون کے عدم احترام کا مقصد سپریم کورٹ کو اس بات کی ضرورت پر مجبور کرنا ہے کہ وہ کوئی ایسا فیصلہ کرے کہ جس سے اس آئینی بگاڑ سے پیدا شدہ صورتحال کو ٹھیک کیا جاسکے۔ اس بات پر زور دینے کی ضرورت ہے کہ جہاں تک بلوچ کا تعلق ہے، تو ان پر ہنگامی اختیارات کے تحت حکومت کی جا رہی ہے کہ جس سے فوج اور ایف سی استفادہ کررہے ہیں۔ ’آئینی بگاڑ‘ کا فیصلہ محض ہنگامی اختیارات کی رسمی طور پر توثیق تو کر سکتے ہیں لیکن اس سے نہ تو لاپتہ افراد واپس آئیں گے اور نہ ہی وقفوں کیساتھ وقوع پذیر ہونیوالے فرقہ وارانہ حملوں کا خاتمہ ہوسکے گا۔

مسٹر آئی اے رحمان، انسانی حقوق کے محترم سرگرم کارکن نے، 19 جولائی، 2012 کے اپنے مضمون، ’اقوام متحدہ اور لاپتہ افراد‘ میں لکھا تھا کہ یہ رپورٹ کہ ”جبری اور غیر رضاکارانہ طورپر لاپتہ افراد پر اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی ایک ٹیم ستمبر میں پاکستان کا دورہ کرے گی، اس نے ضرور بلوچستان میں بہت سے دلوں میں امیدیں بڑھا دی ہونگی۔“ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس ورکنگ گروپ کی درخواست کہ وہ اس مسئلہ کا تعین کرنے کیلئے دورہ کرے، جسے پہلے ہی سے 20 ماہ کی تاخیر ہوچکی ہے مزید تاخیر نہیں کی جائے گی، اور بغیر کسی رکاوٹ کے دورہ کرنے کی اجازت دے دی جائیگی تاکہ ”وہ اس بات کو یقینی بنا سکیں کہ اقوام متحدہ کی ٹیم کیساتھ ہونیوالے تبادلے تردید اور تاریکی کی چھتری تلے پناہ لینے کے بجائے سچ، کشادگی اور معاملات کو حل کرنے کی خواہش پر مبنی ہونگی۔“ انکا یہ بھی خیال تھا کہ ”اقوام متحدہ کی ٹیم کیساتھ منصفانہ طور پر نمٹنے میں ہچکچاہٹ سے بلوچستان کے عوام، خاص طور پر بلوچ آبادی میں دوریاں مزید بڑھیں گی۔“

ایسا لگتا ہے کہ مسٹر رحمان مایوسی میں مبتلا ہیں کیونکہ ’اسٹابلشمنٹ‘، پڑھئے فوج، لاپتہ افراد کے بارے میں کسی بھی آزاد تحقیقات کی اجازت دینے کیلئے تیار نہیں ہے کیونکہ لگتا ہے کہ یہ انکی شورش سے نمٹنے کی پالیسی کی بنیاد اور ریڑھ کی ہڈی ہے۔ جولائی 2011 کے ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ، ”ہم تشدد، قتل، یا سالوں تک آپ کو رکھ سکتے ہیں“ کو فوج کی جانب سے بالکل اسی طرح مسترد کیا گیا جیسا کہ انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) کی رپورٹ ”حقائق سے چشم پوشی کرنیوالے افراتفری کی طرف پھسلتے ہیں“ کو کیا گیا تھا؛ ان دونوں رپورٹوں نے فوج، ایف سی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو گمشدگیوں کیلئے مورد الزام ٹھہرایا تھا۔

بلوچ نے 31 جولائی کو سپریم کورٹ سے فیصلہ آنے کی امید میں اپنی سانسیں نہیں روک رکھی ہیں اور نہ ہی انکی لاپتہ افراد پر اقوام متحدہ کی ٹیم سے کوئی توقعات وابستہ ہیں۔ انہوں نے یہ آس لگانا ترک دیا ہے کہ کوئی انہیں انصاف فراہم کرے گا اور اسی سبب وہ طاقت کو طاقت کیساتھ روکنے کیلئے اپنی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ اطاعت گزاری عمومی طور پر بلوچ کیلئے صرف اور صرف مزید تکالیف لائے گی۔ ریاست بلوچ کی خواہشات اور حقوق کیلئے ان کے مطالبے کو محض اپنے اسٹریٹجک اور اقتصادی منصوبوں کیلئے ایک رکاوٹ کے طور پر دیکھتی ہے اور وہ اسی بنیاد پر ان کیساتھ نمٹنا جاری رکھے گی۔

یہاں حقوق اور انصاف کا انحصار اس بات پر ہے کہ کوئی پارٹی، گروہ، ادارہ یا فرد کتنی قوت رکھتا ہے۔ اسٹالن کے مترجم ویلینٹن بیریژخوف 1944 کی اپنی یادداشتوں میں کہتے ہیں کہ جب چرچل نے اسٹالن کو اس بات پر قائل کرنا چاہا کہ وہ کیتھولک پولینڈ کے روحانی اقدار کو غالب ہونے کی اجازت دے تا کہ پوپ کی مخالفت سے بچا جاسکے تو اس نے اس بات کے جواب میں منہ پھٹ طور سے سوال کیا ”روم کے پوپ کے پاس کتنی ڈویژن فوجیں ہیں؟“ حقوق اور انصاف کو ڈویژنوں کے حمایت کی ضرورت ہے اور بلوچستان میں لاپتہ افراد کے معاملے پر سپریم کورٹ کے پیچھے ایک پلاٹون بھی کھڑی نہیں، تاہم اس آئینی بگاڑ کی درستگی کے فیصلے میں جو کچھ بھی یہ کہتے ہیں، اس کیلئے ہو سکتا ہے کہ اس ’پاک سر زمین‘ کی پوری مسلح طاقت انکے پیچھے کھڑی ہوجائے۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ اسٹابلشمنٹ کے اعصاب کو ذرہ برابر بھی نہیں چھوتی جو کہ انتہائی حد تک سخت گیر ہے کیونکہ یہ بلوچ جدوجہد کو ایک واضح اور موجود خطرے کے طور پر دیکھتی ہے اور اسکا خیال ہے کہ بے دریغ طاقت کے استعمال کیساتھ وہ بلوچ خواہشات کو اس حد تک دبا سکتے ہیں کہ وہ اپنی جدوجہد چھوڑدینے پر مجبور ہوجائیں گے۔ جو کہ تاہم مستقبل قریب میں ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ بلوچ نے ا ب تک اپنے خون کا اتنا زیادہ سرمایہ اس میں لگا دیا ہے اور اتنی ساری زندگیاں اپنی جدوجہد میں صرف کردی ہیں کہ انکے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

شیخ سعدی گلستان میں منگولوں کیساتھ جنگ کرتے ہوئے ایک شدید زخمی خوددارشخص کی کہانی بیان کرتے ہیں کہ جسے یہ بتایا جاتا ہے کہ ایک قریبی گاوں میں ایک لالچی اور بدمزاج شخص کے پاس دوا ہے جوکہ شاید اس کا علاج کر سکے۔ اس نے جواب دیا کہ یہ حریص شاید اس سے نہ مانے اور اگر وہ مان بھی جائے، تو کوئی بھروسہ نہیں ہے کہ یہ اس کا علاج کرلے گا، بہتر یہی ہے کہ وقار کے ساتھ مرا جائے۔ خود دار بلوچ کسی بخیل کی دوائی کا انتظار نہیں کر رہے بلکہ بہادری سے اپنے حقوق کیلئے لڑرہے ہیں۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کی دہائی کے ابتداء سے ایک تعلق ہے
mmatalpur@gmail.com
بشکریہ: ڈیلی ٹائمز، اتوار، 29 جولائی، 2012

To Download/Read in PDF cleck: Hear

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s