اچھائی کی طرف قدم؟ تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی


بلوچ کو ان کے حقوق نہ دینے کیلئے ریاست کی طرف سے بہانے تراشنے کی ایک طویل تاریخ ہے، ہر چند کہ بھیڑیے اور بھیڑ کی حکایت کی طرح، آخر کار انہیں کسی بہانے کی ضرورت نہیں

نئے وزیر اعظم کے پاس بطور ان کی اولین ترجیح کے بلوچ آرزوو ں کو ظالمانہ قوت کیساتھ دبانے کا ایک پرانا ایجنڈا ہے اور ان کے بیانات اس متوقع کریک ڈاون کے ارادے کی مکمل تشریح ہیں کہ جنکا بلوچستان کے لوگوں کو جلد ہی تجربہ ہو سکتا ہے۔ اسلام آباد میں فوج کی زیرسرپرستی چلنے والے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این یو ڈی)میں، ’بلوچستان کی صورتحال: تصورات اور حقیقت؛ اچھائی کی طرف قدم‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک دو روزہ قومی ورکشاپ میں، جوکہ پنڈال میں شریک لوگوں اور منتظمین کیلئے مناسب تھا، انہوں نے کہا کہ اگر ’چھوٹے علاقوں میں بدامنی‘ کو فوری طور پر قابو نہ کیا گیا تو یہ دیگر علاقوں تک پھیل سکتی ہے۔ انہوں نے ان ’مٹھی بھر عناصر‘ کو ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا جو بلوچستان کو عدم استحکام کا شکار کر رہے ہیں۔ انکے رسمی اعلانات بلوچ کیخلاف کارروائیوں میں شدت آنے کی منحوس اور بدشگون عندیے ہیں، کہ جن کو 1948 کے بعد سے مسلسل استعمال کیا گیا ہے۔ حسب توقع، این ڈی یو میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے حاضرین زیادہ تر وہی لوگ تھے کہ جنہوں نے ہمیشہ کھلے عام یا خاموشی سے بلوچ کیخلاف مظالم کی طرفداری، حمایت اور تعریف کی ہے۔ این ڈی یو کی یہ اچھائی کی طرف قدم، ایسا لگتا ہے کہ بلوچ کیخلاف ایک بلا روک قوت کے استعمال کا عندیہ ہے۔

گزشتہ چھ دہائیوں میں کی جانیوالی متعدد فوجی کارروائیوں کے باوجود ان مٹھی بھر عناصر کو ختم کرنے کا وعدہ وفا نہ ہوا جو بلوچستان کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔ اور نہ ہی وزیراعظم اشرف کی قیادت میں یہ ثمرآور ہوگا کیونکہ یہ بلوچ عوام کی اکثریت ہے جو غیرمنصفانہ استحصال اور غلبے کیخلاف مزاحمت کر رہی ہے؛ اگر مبینہ طور پر وہ مٹھی بھر ہوتے تو بہت پہلے ان کا خاتمہ ہوچکا ہوتا۔ تاہم اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ کیوں بلوچ نجات کے متلاشیوں کو مٹھی بھر تصور کیا جاتا ہے۔ وہ دسیوں ہزاربہادر اور جوانمرد بلوچ کہ جنہیں صرف گزشتہ 65 سال کے دوران ہلاک اور قید کیا گیا، مٹھی بھر سے بہت زیادہ ہیں، کیونکہ وہ لاکھوں خاندانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

راجہ پرویز نے مذاکرات کرنے کی پیشکش کی لیکن کہا کہ، ”ہم ان لوگوں سے بات نہیں کریں گے جو پاکستان کی خود مختاری کے خلاف ہیں اور جو اس کے پرچم کو جلاتے ہیں۔“ یہ بات ان کو محمد اسلم رئیسانی اور ان جیسوں سے بات کرنے کیلئے چھوڑ دیتا ہے اور اگر وہ کسی صورت بھی اس پوزیشن میں ہوتے کہ وہ بلوچستان کی تقدیر پر اثر انداز ہو سکیں تو نہ صرف یہ بغاوت چار سال پہلے ختم ہوچکی ہوتی بلکہ ماضی کی تمام ریاستی ناانصافیاں بھی اتنی ہی قابل تعریف ہوتیں اور ان کو ایک عمدہ تحفے کے طور پر قبول کیا جاتا۔ وزیر اعلیٰ رئیسانی اینڈ کمپنی بلوچ پر ڈھائے جانیوالے مظالم کے جرم میں برابر کے شریک ہیں اور اس حد تک چاپلوس اور حکم کے غلام ہیں کہ اگر ان سے کہا جائے تو وہ خود ہی اپنی موت کے پروانے پر اپنی مرضی سے دستخط کردیں گے۔ کوئی بھی مذاکرات ان لوگوں کی شرکت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتیں جوکہ گوریلا جدوجہد کی قیادت کررہے ہیں، بشرطیکہ وہ ریاست کیساتھ بات کرنے پرمتفق ہوں۔

وزیراعظم اشرف نے فوج اور نیم فوجی فرنٹیئر کور (ایف سی) پر تعریف کے پل باندھ دیئے اور انہیں ’بلوچستان میں قومی مفادات کو فروغ دینے اور ان کی حفاظت‘ کرنے کیلئے سراہا۔ قومی مفادات کا تحفظ لوگوں کو اغواء اور ’غائب‘ اور فوجی آپریشن کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ فوج فوجی آپریشن کی تردید کرتی ہے، محض اسلئے کہ اسے ایف سی کر رہی ہے، جو کہ سب سے زیادہ لغو بہانہ ہے۔ حال ہی میں، اسپلنجی اور کابو کے علاقوں میں عبدالنبی بنگلزئی اور دیگر کے گھروں پر حملوں کیلئے ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا گیا؛ سات افراد ہلاک ہوئے اور بہت سے اٹھا لئے گئے۔ اسی طرح، خضدار کے علاقے توتک میں گزشتہ فروری کو، 30 افراد اٹھا لئے گئے، ان میں سے دو مردہ حالت میں پائے گئے، 14 اب بھی لاپتہ ہیں۔ تاہم، لوگوں کو دہشت زدہ کرنے اور ان میں خوف پیدا کرنے کی کوششوں کے تحت کیے جانیوالے اغواء اور گزشتہ 18 ماہ میں 500 سے زائد بلوچوں کا قتل سودمند ثابت نہ ہوا لیکن پھر بھی مقتدرہ اس حقیقت کو دیکھنے سے انکاری ہے۔

مسٹر اشرف نے مسلح افواج کی اقتصادی سرگرمیاں پیدا کرنے اور صوبے کے دور دراز علاقوں میں سرکاری اسکولوں اور کیڈٹ کالجوں کی ایک بڑی تعداد کھولنے پر بھی ان کی بھرپور تعریف کی۔ اگرچہ چمالنگ کوئلہ اور اسی طرح کے دیگر منصوبوں کوبلوچ کیلئے فائدہ مند دکھایا جاتا ہے، اصل میں، یہ صرف انہی لوگوں کو فائدہ دے رہے ہیں جوکہ مکمل طور پر فوج کیساتھ ملے ہوئے ہیں۔ کیڈٹ کالجیں اور بحریہ کی اکیڈمیاں تعلیمی ادارے نہیں ہیں بلکہ یہ سیکورٹی اسٹیٹ کے ہاتھوں کو مزید استحصال کیلئے مضبوط بنانے کے ذرائع ہیں۔ یہ سب کچھ تاہم اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ بلوچستان کا انتظام چلانے میں سویلین لوگوں کا کتنا عمل دخل ہے۔ قطع نظراس کے کہ اسلام آباد اور کوئٹہ میں کون برائے نام قیادت کر رہا ہے، حقیقی فیصلوں کا اختیار فوج کے پاس ہے اور جب تک کے کہ یہ اسی طرح چلتا رہے گا، بلوچ پر جبر کی پالیسی جاری رہے گی۔

بلوچستان میں بلوچ کو حراساں کرنے پر مطمئن نہ ہوتے ہوئے، پنجاب حکومت نے حال ہی میں راجن پور کے پہاڑوں میں فراری (باغی) کیمپوں کی موجودگی کے بارے میں ایک من گھڑت خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر، کہ جہاں باغیوں کو راکٹ لانچر اور دستی بم سمیت بھاری ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت دی جاتی ہے، مری اور بگٹی کے علاقوں کی سرحد سے ملحق اندرون ملک بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) کیخلاف آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہاں حال ہی میں کیے گئے ایک آپریشن میں دو افراد، موالی بگٹی ولد قیصر بگٹی اور گھنڑا بگٹی ولد کرغی بگٹی کو ہلاک اور بہت سوں کو زخمی اور گرفتار کیا گیا تھا۔ ان آپریشنوں کو بالکل اسی طرح سراہا جارہا ہے جیسا کہ بولان، کوئٹہ، مستونگ اور کچھی کے اضلاع میں کیے گئے آپریشنوں کو سراہا گیا تھا۔

بلوچ کو ان کے حقوق نہ دینے کیلئے ریاست کی طرف سے بہانے تراشنے کی ایک طویل تاریخ ہے، ہر چند کہ بھیڑیے اور بھیڑ کی حکایت کی طرح، آخر کار انہیں کسی بہانے کی ضرورت نہیں؛ مارچ 1948 میں، مسلم قوم کے مفادات کے بہانے کو استعمال کرتے ہوئے بلوچستان کا الحاق کیا گیا۔ اکتوبر 1958 ء میں خان آف قلات کی تصور کردہ بغاوت کا خوف مفید ثابت ہوئی۔ 1973 میں، ان کی نظر میں سردار عطاءاﷲ خان کی حکومت کیساتھ صورتحال تباہی اور انتشار کا منظر نامہ پیش کررہی ہے کہ جس نے اسکی برخاستگی کا جواز فرہم کیا۔ اسکے ساتھ ساتھ پیٹ فیڈر میں آبادکاروں کی زمینوں پر فرضی قبضہ، کہ جنہیں اول تو اس زمین پر ملکیت کا کوئی حق ہی نہیں تھا اور لسبیلہ کے جام یوسف کے بھاڑے کی ٹٹووں کی طرف سے حکومت مخالف مظاہرے شامل ہیں۔ اس وقت ان کی نظر کسی شخص یا حکومت پر نہیں ہے، بلکہ اس وقت، انہوں نے اپنی نظریں پوری بلوچ عوام پرجمادی ہیں؛ یقینا، انکے حلیف اس سے مستثنیٰ ہیں۔

بلوچ کے درمیان موجود بیگانگی صرف ریاستی مظالم کی وجہ سے نہیں ہے، اگرچہ یہ بلوچ جدوجہد کی حقیقی وجوہات کو برقرار رکھتی اور مضبوط بناتی ہیں یعنی کہ اپنی اس خود مختاری کو دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش کہ جسے انہوں نے مارچ 1948 میں کھودیا تھا۔ ریاست اور اس کی مشینری اس ماضی سے غافل ہیں اور وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مظالم کبھی بھی تاریخ کی لہر کا رخ نہیں موڑ سکتیں۔ جتنی زیاد قوت بنیادی پالیسی کے طور پر استعمال کی جائے گی، لوگوں میں اتنی ہی زیادہ بیگانگی آئے گی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ طاقت کا استعمال ان مفادات کے تحفظ کی کوششوں کے خلاف جاتی ہیں کہ جنکے تحفظ کیلئے اسے استعمال کیا جارہا ہوتا ہے۔ ہاورڈ زِنّ کا ایک اقتباس اس کی وضاحت کرتا ہے: ”ایک طاقت ہے کہ جس سے اظہار نہ ہونیوالی وجوہات کے سبب غیظ و غضب، ہمت، اور ایک مشترکہ مقصد کیلئے تشویق پیدا ہوسکتی ہے، اور یہ کہ اگر کافی زیادہ لوگ اس میں اپنا ذہن اور جسم صرف کردیں تو وہ جیت سکتے ہیں۔ یہ وہ رجحان ہے کہ جسے تاریخ میں بار بار پوری دنیا میں نا انصافی کیخلاف مقبول تحریکوں کے حوالے سے ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔“ ریاست کے طیش دلانے والے عمل کے سبب، اب کافی زیادہ لوگوں نے اپنے ذہن اور جسم بلوچستان کے کاز میں ڈال دیے ہیں۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کی دہائی کے ابتداءسے ایک تعلق ہے
mmatalpur@gmail.com
بشکریہ: ڈیلی ٹائمز، اتوار، 22 جولائی، 2012

To Download/Read in PDF: Hear

 

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s