’پلازہ ڈی مایو ‘ کی مائیں اور پریس کلب تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی


اگرچہ بلوچ کے خلاف متعدد فوجی آپریشن کیے گئے ہیں، لیکن پہلے کبھی بھی بلوچ مائیں سڑکوں پر احتجاج کرنے نہیں نکلیں

آج ماوں کا دن ہے، اور ماوں کے اپنے لاپتہ بچوں کےلئے آنسو اور درد تکلیف دہ انداز سے اس تفریق کو نمایاں طور پر ظاہر کرتی ہے، اِنکے لاپتہ بچے اور وہ آسودہ مائیں اور اُنکے محفوظ بچے۔ اس سے دنیا کو ان غمزدہ ماو ¿ں کیلئے ہمدردی کا آغاز کرنا چاہیے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے یہاں اور دوسری جگہوں میں ’جبری گمشدگیوں‘ کا خاتمہ کرنا چاہیے۔

30 اپریل 1977 کو 14 مائیں، جن کے بیٹے اور بیٹیوں کو ارجنٹائن کے فوجی حکمرانوں نے ’لاپتہ‘ کردیاتھا، بیونس آئرس میں ’پلازہ ڈی مایو‘ میں احتجاج کےلئے جمع ہوئیں۔ ان ماو ¿ں نے فوجی حکومت کی دہشت گردی کی پرواہ نہیں کی کیونکہ اپنے بچوں کےلئے ان کی محبت نے ان کے اندر سے ذاتی تحفظ کا خوف نکال دیا تھا۔ ان کی اعلانیہ سرکشی نے گمشدہ افراد کی بازیابی کیلئے ایک تحریک کا آغاز کردیا۔ آج 35 سال بعدبھی یہ بہادر مائیں ہر جمعرات کو پلازہ ڈی مایو پر جمع ہوتی ہیں اور دنیا کو اپنے لاپتہ بچوں کی یاد دلاتی ہیں۔ وہ سفید سکارف پہنتی ہیں جن پر انکے بچوں کے نام کڑھائی کی ہوئی ہوتی ہیں، جو کہ ان کمبلوں کی علامت ہیںجنہیں انکے بچے استعمال کرتے تھے۔ ان بہادر ماو ¿ں کو قتل کیا گیا، ان پر ظلم و ستم کیے گئے، اور ان پر تشدد کیا گیا، لیکن وہ پھربھی ثابت قدم رہیںاور یہ ثابت کیا کہ ایک ماں کااپنے لاپتہ بچے کےلئے کرب مستقل اور غیر متزلزل ہے۔

ارجنٹائن میں ’غلیظ جنگ‘ (1976-1983) کے دوران، قریب 30000 افراد لاپتہ ہوئے۔ ارجنٹائن کی فوج مانتی ہے کہ صرف 9000 افراد غیر محسوب ہیں، گویا 9000 ایک قابل قبول تعداد ہو۔ اس طریقے سے ایک بھی شخص کی موت انسانیت کےخلاف ایک ناقابل معافی جرم ہے، لیکن یہاں اور لاطینی امریکہ کے وہ ذمہ داران جو کم اعداد و شمار پیش کرتے ہیں کہ گویا وہ ان گھناو ¿نے جرائم سے مبرّیٰ ہیں۔

لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ، پلازہ ڈی مایومیں ماو ¿ں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ۔ 1977 کے آخر میں، فوجی حکام نے تین بانی ماوں، ازوکینا ویلافلور، ایستر کاریاگا اور ماریا یوجینیا بیانکو کو لاپتہ کردیا، دو فرانسیسی راہباوں کو، جن میں ایک کا نام ڈیوکیت لیونے تھا، اور دیگر سرگرم کارکنوں کو بھی لاپتہ کیا گیا۔ انہیں نے ایک ہوائی جہاز سے سمندر میں پھینک دیا گیا، ان کی تشدد زدہ لاشیں ساحل پر پائی گئیں اور انہیں بے نام و نشان قبروں میں دفنایا گیا۔ 2005 میں فارنسک ماہرین نے ان کی نشاندہی کی۔

ابتدائی طور پر، احتجاجی ماوں کی تعداد میں کمی آ گئی۔ پلازہ ڈی مایو کی ماوں کی صدر اور شریک بانی، ہیبی ڈی بونافینی کا کہنا ہے کہ وہ ثابت قدم رہیں اور متاثرہ ماوں کو احتجاج میں دوبارہ شامل ہونے کیلئے قائل کیا۔ پولیس اکثر ان خواتین کو حراست میں لے کر ان پر تشدد کرتی لیکن تحریک جاری رہی۔ بونافینی کے دوسرے بیٹے اور ایک بہو کو بھی اغوا کر لیا گیالیکن اس نے تسلسل کیساتھ احتجاج جاری رکھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان ماوں کو پتہ ہے کہ ان کے بچے مر چکے ہیں لیکن ان کیلئے اب بھی وہ ’لاپتہ قیدی‘ ہیں۔ جب تک کہ قصوروار ان کو یہ نہ بتادیں کہ انہوں نے ان کے ساتھ کیا کیا، ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔

ان گمشدگیوں کا ایک اور المناک باب یہ ہے کہ فوج سے تعلق رکھنے والے خاندانوں نے 500 کے قریب بچوں کو گود لیا جوکہ دوران حراست قیدیوں کے ہاں پیدا ہوئے۔ نیت یہ تھی کہ ان کی شناخت کو ختم کیا جائے اور اسکی جگہ وفادارتخلیق کیے جائیں۔ ماو ¿ں نے ان گود لیے بچوں میں سے 256 کی نشاندہی کی۔ ان میں سے غیر قانونی طور پرگود لیے گئے کچھ بچوں نے، ماکارینا گیلمان سمیت، جوکہ ارجنٹائن کے معروف شاعر یوان گیلمان کی پوتی تھیں، کامیابی سے اپنے رضاعی والدین کو چیلنج کیا۔

ماوں کی ایسوسی ایشن کی جدوجہد پلازہ ڈی ما یو پر حاضری کے ہفتہ وار رسم کے ادا کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ اپنے گمشدہ بچوں کی یادمیں انہوں نے ایک آزاد یونیورسٹی، کتابوں کی دکان، لائبریری اور ثقافتی مرکز کے قیام کے ذریعے انکی یادوں اور روحوں کو زندہ رکھنے کی کوشش کی۔ ان منصوبوں سے، سبسڈی اور مفت تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات عوام اور طالب علموں کو مہیا کیں تاکہ ان کے ذریعے وہ اپنے لاپتہ بچوں کے انقلابی آدرشوں کو فروغ دینے کا کام جاری رکھ سکیں۔ یہ مائیں خود کو اپنے بچوں کے خوابوں اور آرزوو ¿ںکاوارث سمجھتی ہیں اورچاہتی ہیں کہ ان کے بچوں کے خواب زندہ رہیں،جن کی زندگیاں سفاک فوجی حکومت نے کاٹ کر مختصر کردیں۔ یہ مائیں، اپنے بچوں کے آدرشوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے، ایک سوشلسٹ ارجنٹائن دیکھنا چاہتی ہیں، جوکہ خصوصی مفادات کے غلبے سے آزاد ہو۔ ان بہادر اور باوقار ماو ¿ں نے اپنے لاپتہ بچوں کیلئے کسی بھی طرح کا معاوضہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ نہیں چاہتی ہیں کہ ان کے بچوں کی محبوب اور اعلیٰ یادیں خون بہا کی رقم کے ساتھ آلودہ ہوں۔

بلوچ کی ماوں اور بہنوں کا بھی پلازہ ڈی مایو ہے لیکن جیسا کہ بے بنیاد حیلوں اور بہانوں کے ذریعے انہیں شاہراہ دستور سے دور رکھا جاتا ہے، وہ ملک بھر میں مختلف پریس کلبوں کے باہر اپنے پیاروں کے اغوا اور قتل کے خلاف احتجاج کرنے کیلئے کیمپ لگاتے ہیں۔ یہ واقعی اہم ہے، اگرچہ بلوچ کے خلاف متعدد فوجی آپریشن کیے گئے ہیں، لیکن پہلے کبھی بھی بلوچ مائیں سڑکوں پر احتجاج کرنے نہیں نکلیں۔ موجودہ باقاعدہ اور منظم ’غلیظ جنگ‘ جسے بلوچ کے خلاف مسلط کیا گیا ہے،ا س نے انہیں اپنے لاپتہ پیاروں کی حمایت میں باہر آ نے پر مجبور کردیا ہے۔

عورتیں، بچے، بوڑھے اور نوجوان لوگ پریس کلب کے باہرسارا دن بیٹھے رہتے ہیں، لیکن ان کی موجودگی کو نظر انداز کردیا جاتا ہے اور اکثر انکے پیارے مردہ حالت میں پائے جاتے ہیں۔ کبھی کبھی، ایک آدھ ’کاسمیٹک‘ رہائی ہوتی ہے تاکہ یہ دکھایا جائے کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کیا جارہا ہے، لیکن لاپتہ اور جاں بحق افراد کیلئے ذمہ دار کسی ایک شخص کو بھی سزا نہیں ہوئی ہے۔ یہ ایک دکھاوا ہے تاکہ لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ نتائج حاصل کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کو روکنے کیلئے بھی مسائل پیدا کیے جارہے ہیں، حتیٰ کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے نائب چیئرمین، قدیر بلوچ کو، جن کے بیٹے جلیل ریکی اغواءاور قتل ہوئے تھے، انہیں بھی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب میں ایک حالیہ احتجاج میں قدیر ریکی نے کہا کہ انہیں اب احتجاج کرتے ہوئے 767 دن ہوچکے ہیںاور دو سال کے دواران وہ اسلام آباد کے تین چکر لگا چکے ہیں لیکن کسی نے کوئی توجہ نہیں دی۔ برمش، اصغر بنگلزئی کی دس سالہ بیٹی، جوکہ اپنے والد کے اغواءکے بعد پیدا ہوئی، اس نے 14400 لاپتہ اور ہلاک شدہ افراد کے نام پڑھے۔ BSO کے لاپتہ وائس چیئرمین، ذاکر مجید کی بہن فرزانہ مجید بھی وہاں موجود تھیں۔

اگرچہ پلازہ ڈی مایو کی ماوں کے کرب کاخاتمہ تو نہیں ہوا ہے، لیکن کم از کم ارجنٹائن کے سابق فوجی حکمران جارج وڈیلا سمیت سینکڑوںفوجی افسران کو، ان کے اغوا اور قتل میں کردار ادا کرنے پر سزا سنائی جاچکی ہے۔ یہاں ایسا ہونا ناقابل تصور ہے کیونکہ سپریم کورٹ سمیت سب کے سب لاپتہ افراد کیلئے ذمہ داروں کے پنجوںپر پیر رکھنے سے محتاط ہیں۔ اس میں کوئی تعجب نہیں ہے کہ بلوچ نے یہاںانصاف کے حصول کی تمام امیدیں ترک کردی ہیں اور اب باآواز بلند ایک آزاد بلوچستان کی خواہش کا اعلان کر چکے ہیں۔

بلوچستان کے لاپتہ افراد، میرے لئے ایک انسانی اور قومی معنی رکھنے کے علاوہ ایک اضافی ذاتی تعلق بھی رکھتے ہیں، کیونکہ ان لاپتہ اور ہلاک شدہ افراد میں بہت سے افغانستان میں ہماری پناہ گزین زندگی کا حصہ تھے۔ ڈاکٹر اکبر مری جو 2010 میں لاپتہ ہوگئے تھے، فیض محمد مری، جن کی لاش مارچ میں ملی، زمان خان مری، جن کیلئے میں نے ایک تعزیت نامہ، http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=201099\story_9-9-2010_pg7_19 بھی لکھا تھا، اور انکے کزن علی احمد، یہ سب میرے شاگردتھے۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کی دہائی کے ابتداءسے ایک تعلق ہے
mmatalpur@gmail.com
بشکریہ: ڈیلی ٹائمز ، اتوار ،13 مئی 2012

To Download/Read in PDF:Plaza.Mayo.Kee.Maan.or.Press.Club_Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s