۔لیاری کے بلوچوں کا خون بہتا ہے تو پورے بلوچستان کو دکھ ہوتا ہے – حیربیارمری


لیاری کے بلوچوں کے خلاف ریاستی فوج اور پی پی پی نے ایک سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت فوجی آپریشن کا آغاز کیا ہے
اس آپریشن کا مقصد لیاری اور دیگر علاقوں سے بلوچوں کو بے دخل کرکے مہاجرین کی آبادکاری کو یقینی بنانا ہے۔
بلوچ رہنما حیربیارمری

بلوچ قوم پرست رہنما حیربیارمری نے لندن سے جاری ایک بیان میں کہا کہ بلوچ سرزمین ہمیشہ دشمن قبضہ گیر کے نرغے میں رہی ہے بلوچ قومی وسائل لوٹنے اور قومی شناخت کو مٹانے کی غرض سے گذشتہ64سالوں سے بلوچ نہتے آبادی پرپاکستانی قابض فوج اپنی پوری ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال کررہی ہے۔ بلوچ قومی سا لمیت اور سرزمین کی آزادی کی خاطر بات کرنے والے عوام پرجیٹ طیاروں ، توپوں سے لے کر کیمیاﺅی اور مہلک ہتھیاروں کا وافر مقدارمیں استعمال کرنے کے باوجود بھی دشمن بلوچ قومی آزادی کی چاہت اور تڑپ کو مٹانے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ پاکستان نے بلوچ آزادی کی تحریک کو کمزور کرنے کی غرض سے اپنے لے پالک اور تنخواہ خوررضاکاروں کواسلحہ اور اختیارات دے دئیے ہیں۔ جن کی سرپرستی آئی ایس آئی کے اعلیٰ افسران خودکررہے ہیں۔ اور وہ بلوچ فرزندوں کو اغواءکرکے شدید جسمانی تشدد کے بعد شہید کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک رہے ہیں۔ آج بھی کوہلو ،کاہان،چمالنگ، ڈیرہ بگٹی، مند، مشکے اور تربت میں ریاستی قابض فوج بلوچ چادروچاردیواری کی تقدس کو پائمال کرتے ہوئے وہاں نہتے بلوچوں کو اپنے جبرواستبداد کا نشانہ بنا رہی ہے تو دوسری طرف بلوچ تاریخی شہر کراچی(مائی کلاچی) میں لیاری کے بلوچوں کے خلاف ایک بڑے خونی اور ظالمانہ آپریشن زور وشور سے جاری ہے۔ لیاری میں بلوچ آبادی کو محاصرے میں لے کر خواتین اور بچوں کو زدوکوب کیا جارہا ہے ۔ نوجوانوں کو اغواءکرکے بعدمیں ان کی بوری بند لاشیں پھینکی جارہی ہیں۔

بلوچ رہنما نے کہا کہ لیاری کے بلوچوں کے خلاف ریاستی فوج اور پی پی پی نے ایک سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت فوجی آپریشن کا آغاز کیا ہے۔ جس کی تیاری بڑے عرصے سے کی جارہی تھی۔ رحمان ملک(شیطان ملک) نے کچھ عرصے پہلے لیاری میں آپریشن کی راہ ہموار کرنے کے لئے میڈیا کے ذریعے جھوٹا الزام لگایا تھا کہ لیاری میں بلوچ عسکری تنظیمیں مقیم ہیں۔ اس آپریشن کا مقصد لیاری اور دیگر علاقوں سے بلوچ آبادی کو بے دخل کرکے مہاجرین کی آبادی کو یقینی بنایاجاسکے۔ ریاستی اداروں نے مہاجروں کے بھتہ خوروں ، لینڈمافیا اور دیگر دہشت گردوں کو یہ کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور وہ بلوچ نوجوانوں کو اغواءکرکے شہید کررہے ہیں۔ کراچی کے تمام بلوچ آبادی کو چن چن کرمارنے کے لئے انہیں منشیات فروش، گینگ وار اور جرائم پیشہ افراد کا نام دیا جاتا ہے تاکہ عالمی سطح پربلوچ قتل عام پرآوازنہ اٹھ سکے ۔بلوچ قوم کی شعوری جدوجہد ِ آزادی نے ثابت کردیا ہے کہ اب قابض ریاست کے لئے اپنے گھناﺅنی اعمال پر سے پردہ ڈالنا ممکن نہیں رہا۔ بلوچ رہنما نے کہا کہ لیاری کے بلوچوں کو بھی یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ پی پی پی نے ہمیشہ انہیں اپنی سیاسی ووٹ بینک کے لئے استعمال کرنے کے بعد ان پرفوجی آپریشن کئے۔میں اپنے موقف کو پھرسے دہراتا ہوں کہ لیاری کے بلوچ تعلیمی اور شعوری اعتبار سے کسی سے کم نہیں وہ خود ایک طاقت ہیں انہیں پی پی پی یا کسی اور کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں انہیں اپنی اس بلوچ اتحاد اور یکجہتی کی طاقت کو مادرِوطن بلوچستان کی خاطر استعمال میں لانا ہے ۔لیاری کے بلوچوں کا خون بہتا ہے تو پورے بلوچستان کو دکھ ہوتا ہے لیکن اس سے زیادہ دکھ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ آج تک دشمنوں کے لئے استعمال ہوتے آرہے ہیں۔لیکن آج اس مصیبت اور جنگ کی حالت میں تمام بلوچوں سے اپیل ہے کہ وہ اس مشکل گھڑی میں لیاری کے بلوچ عوام کی بھرپور مدد کریں۔

Source : Baloch Warna

Translation: Borhaan Arifee


Leave a comment

Filed under News

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s