فرسودہ سچ کی بطورانصاف چگل سازی تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی


کھوکلی فرسودہ صداقت نہ کبھی ٹھوس مثبت اقدامات کا متبادل ہوئی ہے اور نہ کبھی ہوگی اور یہ بات سب کےلئے سچ ہے، بشمول انکے جو اپنے حقوق کے حصول کیلئے کوشاں ہیں

حال ہی میں کوئٹہ میں سپریم کورٹ کے حکم پر چندلاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے بعض حلقوں میں موجود غلط جنونی بشاشت نے بڑے اور اصل مسئلے کو مبہم کرکے رکھ دیا ہے؛ یعنی، بلوچ کارکنوں کے غیر قانونی اغوا اور قتل کےلئے ذمہ دار ان کا احتساب اور ان کے کئے ہوئے جرائم کیلئے انھیں سزا۔ لگتا ہے کہ یہ نہ ان حالیہ سماعت اورا حکامات کا ارادہ تھا اور نہ ہی ان کا نتیجہ۔ لہٰذا لاپتہ افراد سے متعلق معاملات نہ صرف ہمیشہ کی طرح جوں کے توں ہیں بلکہ اس درندگی میں مزید اضافے کا امکان ہے، جسے خان محمد مری کے جھیلے گئے تشدد سے دیکھا جا سکتا ہے، جنہیں 26 مارچ 2012 کو نیو کاہان سے اغوا کیا گیا تھا اور ان کی لاش 21 اپریل 2012 کو برآمد ہوئی۔

کچھ مزارانی مری قبائلیوں کی بازیابی اور رہائی جن کی آواز ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کے وائس چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے اٹھائی تھی، جیسا کہ میں نے بھی ان کا ذکر اپنے مضمون ’ظالم کے تین مقاصد۔۔‘ ( ڈیلی ٹائمز 11 مارچ 2012) میں کیا تھا، یقینا اسے خوش آئند سمجھتے ہیں لیکن ان کی گمشدگی اور بدحالی کےلئے ذمہ داران میں سے کسی پر بھی فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔ انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ ان کے اغوا کاروں اور ان سے پہلے سینکڑوں افراد کے اغواکاروں اور قاتلوں کو سزا ملے اوروہ اپنے کیے گئے مظالم کےلئے جوابدہ ہوں۔ مگر لگتا تو یہی ہے کہ مستقبل قریب میں ایسا کچھ نہیں ہونے والا کیونکہ انٹیلی جنس ایجنسیاں، فوج اور فرنٹیئر کور کی سرگرمیاں سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔

دلجمعی کے خوش وضع ماحول کو، جسے لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے بعد پیدا کیا گیا تھا ، پانچ مغوی افراد، خان محمد مری، جہانگیر بلوچ، ندیم بلوچ اور غلام نبی بلوچ کی، پشین اور موسیٰ خیل سے، لاشوں برآمدگی نے بکھیر کر رکھ دیا۔ سونا خان بنگلزئی کی لاش کچلاک کے علاقے سے برآمد ہوئی۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے بھی ان کے لرزہ خیز قتل کی مذمت نہیں کی گئی، شاید وہ دوسروں کی نسبت اپنی حدود کو زیادہ بہتر طور سمجھتے ہیں۔

متاثرین اور ان کے رشتہ داروں کی صعوبت، کرب اور روحانی اذیت یہاں ’سب کچھ ٹھیک ہے والے معاشرے‘ کی بصیرت میں واقعی نہیں آتیں جو کہ ریاست کی طرف سے کی جانے والی تشدد کی عادی ہو چکی ہو۔ ریاستی تشدد کے واقعات پر خاموش رضامندی نے سماج کو انسانی خصائل سے محروم کرکے اس سنگدل بنا دیا ہے اور یہ دوسروں کے درد کے احساس سے عاری ہوچکی ہے۔ اب معاشرے کی دردمندی کا دورانیہ صرف سرخیوں کی پیدہ کردہ کھلبلی تک محدود ہے۔ اب شاید ہی کسی کو، بشمول سپریم کورٹ کے، اڈیالہ کے گیارہ یاد ہوں، جن کی حالت زار نے ایک ماں کو موقع پر ہی مار ڈالا۔ وہ جوش وہ ولولہ اپنے آپ مر گیا اور سب نے ان کو فراموش کردیا، بالکل اسی طرح جیساکہ بلوچ لاپتہ افراد کامعاملہ ہے۔ اس کے علاوہ ، یہاں تک کہ غائب یا ہلاک شدگان کے رشتہ داروں سمیت، ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کے جنرل سیکرٹری، ماما قدیر بلوچ، جوکہ پریس کلب کے باہر پر امن طریقے سے احتجاج کررہے ہیں، اب انہیں بھی دھمکی دی جارہی ہے۔

پولیس کے انسپکٹر جنرل کو ڈانٹنا اور کہناکہ ، ”بلوچستان میں ایک انسان اور جانور کے درمیان کوئی فرق باقی نہیں رہا، جہاں روزانہ کی بنیاد پر مسخ شدہ لاشیں ملتی ہوں“؛ یہ ایک اچھی صوتی سرسراہٹ ہے مگر یہ ان متاثرین اور ان کے رشتہ داروں کو انصاف مہیا نہیں کرتی جنھیں ان مظالم نے تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ فضول اور بے معنی باتیں کبھی بھی انصاف کا متبادل نہیں ہوسکتیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سپریم کورٹ اس بات نوٹس ہی نہیں لے رہی ہے کہ پولیس ان کے نام کا ذکر کرنے تک سے گھبرا رہی ہے جو لوگ بلوچ کےخلاف اس ’غلیظ جنگ‘ کے ذمہ دار ہیں۔ لاپتہ افراد آسانی سے کہیں پر ظاہر ہوجاتے ہیں کہ گویا کسی خیراندیش فرشتے نے ، جسے اپنے کیے پر افسوس ہوا ہو ، اور اس نے ان کو وہاں پہنچا دیا ہو۔ یہ ایک دکھاوا ہے جسے ہمیشہ ریاست کی زیرسرپرستی دہشت گردی کے اصل مسئلے کو دھندلانے اور اصل مجرموں، یعنی ایجنسیوں کی حفاظت کیلئے بروئے کار لایا جاتا ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ اسے بطور انصاف مان لیا جاتا ہے اور یہاں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے کیونکہ جب تک سزا سے مستثنیٰ اداروں کے پاس لوگوں کو اٹھانے اور ماردینے کا اختیارہوگا، وہ لوگ جو ان سے اختلاف رائے رکھتے ہوں، وہ اغوا اور لاپتہ ہوتے رہیں گے، اور ان افراد کا اختتام بطور شماریات، اغوا اور ہلاک شدگان کی اُس بڑھتی ہوئی فہرست پر ہوگا۔ انصاف کا تقاضہ ہے کہ غائب کیے گئے افراد کے کون، کیا، کیوں، کہاں اور کب کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جائے۔ بدقسمتی سے، ادارے ہر جگہ ، لیکن زیادہ تر یہاں پر، گناہگار اداروں کی پشت پناہی کرتے ہیں کیونکہ بالآخر وہ اسی نظام کی بقا سے مستفید ہوتے ہیں جو انکو پالتا ہے۔ جب تک کہ بلا امتیاز احتساب ایک مستند معیار نہیں بن جاتا، فرسودہ سچ کی بطور انصاف چگل سازی جاری رہے گی۔کھوکلی فرسودہ صداقت نہ کبھی ٹھوس مثبت اقدامات کا متبادل ہوئی ہے اور نہ کبھی ہوگی اور یہ بات سب کےلئے سچ ہے، بشمول انکے جو اپنے حقوق کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔

غیرجوابدہ،غیرجوابدہ ہی رہیں گے اور احتساب صرف ایک خواب ہی رہے گا؛ اگر بنگلہ دیش کے مظالم کے مجرموں کو سزا ملتی تو بلوچستان یا سوات میں کوئی مظالم نہ ہوئے ہوتے۔ شاید ایک حکایت اسکی وضاحت کر سکے۔ ”ایک بلی گاو ¿ں کے کنویں میں گری اور مر گئی۔ دیہاتیوں نے ایک بزرگ سے مشورہ کیا۔ انہوں پانی کو حلال (صاف) کرنے کی خاطر ایک سو بھری بالٹیاں نکالنے کا مشورہ دیا؛ تاہم، بدبو برقرار رہی۔ دو مرتبہ انہوں نے یہی مشورہ دیا لیکن پانی اب بھی ساتویں آسمان تک بدبودار تھی۔ حیرانی سے انہوں نے پوچھا کہ آیا مردہ بلی کو باہر نکال لیاگیا ہے، تو جواب نفی میں ملا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ تمام نکاسی بیکار رہی جب تک کہ بنیادی سبب کو ختم نہ کردیا گیاہو۔ “ یہاں ادارہ جاتی طور پر اداروں کو مظالم کا ارتکاب کرنے کیلئے سزا سے استثنیٰ ہی مردہ بلی ہے اور تب تک حالت یہی رہے گی، مزید بلوچ غائب ہونگے، یہاں تک کہ اگر سپریم کورٹ مستقل طور پر کوئٹہ میں اپنا کیمپ ہی کیوں نہ قائم کرلے۔

ریاست اور اس کے ادارے جان بوجھ کر مظالم ڈھارہے ہیں، بالکل اسی طرح جیسا کہ ان کے پٹھو ڈھا رہے ہیں۔ روزنامہ اُمّت نے بلوچ قومپرست مخالف زہر افشاں مضامین کا ایک سلسلہ شائع کیا ہے اور 23 اپریل کے ایک مضمون میں شفیق مینگل نے قومپرستوں کے قتل کرنے کو تسلیم کیا ہے اور بالاچ خان اور حیربیار مری کے گھروں پر حملے اور لوٹ مار کے بارے میں لمبی چوڑی ہانکی ہے۔ وزیر اعلی کے ترجمان نے گھروں کے لوٹ مار کی خبر کی تردید کی تھی۔

قدرتی طور پر، ریاست جتنی زیادہ مایوس ہوتی ہے اتنی زیادہ فاسق بن جاتی ہے؛ وہ اپنے ظلم کے ذریعے لوگوں کو ڈرانے کی کوشش کرتی ہے، جیسا کہ خان محمد مری اور دیگر کی لاشوں کی حالت سے ظاہر ہے، لیکن یہ ایک بات پر بالکل غلط فہمی کا شکار ہے۔ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر بلوچوں کو سینکڑوں تشدد زدہ لاشوں اور ہزاروں کا اغوائ، ان کے لڑنے کی روح کو نہیں مار سکی ہے تو کچھ بھی ختم نہیں کرسکے گی۔ رپورٹ کیمطابق اسلم بلوچ سمیت چار افراد جمعہ کے روز تربت میں ایک آپریشن میں مارے گئے۔ ہر نئے ظلم کے ساتھ، عوام کا یہ عزم اور زیادہ مضبوط ہوجاتا ہے اور بلوچ جہد کیلئے نئے رنگروٹ شامل ہوجاتے ہیں۔

بلوچ بھی، اگر وہ جدوجہد کی روانی پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں تو انہیں خالی بیان بازی اور نعروں سے بالاتر ہوکر اٹھنا ہوگا ، اور اپنا وقت تاریخ اور دنیا بھر کی جدوجہد کے مختلف پہلوو ¿ں کے بارے علم حاصل کرنے کیلئے وقف کرنا ہوگا تاکہ وہ اپنی جدوجہد کو بہتر طریقے سے منظم کرکے اس کی رہنمائی کرسکیں۔ صرف نیک ارادے کبھی بھی ایک طاقتور آلے کا کام نہیں کرسکتیں جب تک کہ انہیں علم سے نتھی نہ کیا جائے اور اس علم کو بروئے کار نہ لایا جائے۔ سیکھنا اور سکھانا بلوچ کارکنوں کی زندگی میں ضم ہوجانا چاہیے اگر وہ ایک خاص مقام اور کامیاب جدوجہد کی وقائع تاریخ میں اپنا ذکر چاہتے ہیں۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کی دہائی کے ابتداءسے ایک تعلق ہے
 mmatalpur@gmail.com
بشکریہ: ڈیلی ٹائمز ، اتوار ، 29 اپریل 2012

To Download/Read in PDF: Farsooda.Sach.Ki.Bator.Insaf.Chagal.Sazi_Mir Mohammad Ali Talpur

Advertisements

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s