بندوق کے سائے تلے (دوسرا حصہ) تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی


جو سردارترقیاتی مقاصد کے لئے مختص رقم کا غبن کرتے ہیں، حکومت کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ ریاست کی زیر سرپرستی دہشت گردی اور بدعنوانی کے درمیان موجود شیطانی گٹھ جوڑ بلوچ عوام کو ان کے وسائل اور حقوق سے محروم کرنے کےلئے استعمال کیا جاتا ہے

اکرام سہگل ”بابتِ سلطنت اور فوج“ میں کہتے ہیں، ” وہاں ایک بلوچ صدر ہیں اور ایک بلوچ وزیر اعظم رہے ہیں۔ اس دفتر میں اپنے ادوار کے دوران، بلوچ نوابوں اور سرداروں میں سے کسی نے بھی اپنے لوگوں کی حالت میں بہتری لانے کی کوشش نہیں کی ہے۔“ وہ بھول جاتے ہیں کہ اسٹابلشمنٹ صرف ان ہی بلوچوں کو ’جگہ‘ دیتی ہے جو بلوچ عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کی خاطر چشم پوشی کیلئے تیار ہوں۔ ’اسٹابلشمنٹ‘ بطور ادل بدل زیادتیوں اور کرپشن پر آنکھیں موند لیتی ہے۔ اب تو وہ ان لوگوں کی قوم پرستوں کیخلاف ’غلیظ جنگ‘ کو لڑنے کےلئے حوصلہ افزائی بھی کررہی ہے۔ عام بلوچ دونوں یعنی مرکز اور اس کے مقامی ایجنٹوں کی طرف سے کی جانے والی نا انصافیوں کا شکار ہے؛ اس سے غیر بلوچ سیادت کے تاثر کو تقویت ملی ہے۔ صرف سردار عطاءاﷲ مینگل کی واحد نمائندہ حکومت، جس نے 8 جولائی 1972 کو سرداری نظام کے خاتمے کا بل پیش کیا، اور بلوچ حقوق کے لئے کام کیا، نو ماہ کے بعد اسے برطرف کردیا گیا تھا۔ حالات میں بہتری کو برداشت نہیں کیا گیا۔

سہگل کا کہنا ہے کہ ’ بلوچوں کے ’تین‘ نواب جو ’آزادی‘ کیلئے جدوجہد کررہے ہیں، انھوں نے کسی ایک یا دیگر اوقات میں ’پاکستان سے وفاداری کا حلف لیا‘ ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس سے وہ وفاق کی تابعداری کرنے کے پابند ہیں۔ مسٹر جناح نے مئی 1946 ءمیں کابینہ مشن کے سامنے قلات کی یادداشت اسکی آزادی کی حمایت میںپیش کی تھی، لیکن انہیں اعلیٰ اقدار کا پابند رہنے کا احساس نہیں ہوا جب مارچ 1948 میں انھوں نے فوجوں کو قلات پر چڑھائی کا حکم دیا۔ اتفاق سے، سردار خیر بخش مری نہ تو کسی دفتر میں رہے اور نہ ہی 1973 ءکے آئین پر دستخط کئے، ان کے بیٹے میر بالاچ خان نے بلوچی میں صوبائی اسمبلی میں بلوچستان سے وفاداری کا حلف لیا تھا۔

”سب سے بڑی ناموافقت یہ ہے کہ فوج بلوچ عوام کےلئے جمہوریت چاہتی ہے، لیکن وہ کبھی بھی اپنے ان مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے قابل نہیں ہوئی۔ اس مقصد کا حصول صرف ایک جمہوری نظام کے تحت ممکن ہے، جوکہ پہلے بلوچ کو ان کے اخلاق باختہ ظالم حکمرانوں سے آزادی دلائے، جن کی طاقت کی گرفت میں ان زندگی اور موت اور ان کے بچے ہیں۔“سہگل یہ رائے دیتے ہیں۔ وہ تاریخ سے غافل لگتے ہیں، اگر افواج جمہوریت کے لئے راستہ دیتے تو انہوں نے 1960، 1970 اور 1980 کے عشروں میں لاطینی امریکہ میں دیا ہوتا۔ پہلے بنگلہ دیش اور اب بلوچستان میں ان مظالم کا ارتکاب کبھی نہیں ہوا ہوتا۔ اس وقت ریاست کے اداروں کی طرف سے بلوچوں کو قتل کرکے پھینکا جارہا ہے اور مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور یہ یہی ادارے ہی ہیں جوکہ غیر قانونی طور پر ان کی ’زندگی اور موت پر اپنی طاقت‘ آزمائی کررہے ہیں اور یہ وہی ہیں کہ جن سے بلوچ آزادی حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اب بلوچ بندوق کے سائے تلے رہنے سے تنگ آچکے ہیں۔

ایک اور الزام یہ ہے کہ، ”جو ’جمہوریت‘ یہ جاگیردارانہ آقا اپنانا چاہتے ہیں ان کی اپنی جابرانہ حکمرانی کے نسخے تک محدود ہے،“ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہی بات اور اس سے زیادہ اُس جمہوریت کےلئے سچ ہے جسے فوج بلوچ پرتھوپنا چاہتی ہے۔ وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ ’اخلاق باختہ اور جابر حکمران‘ محض ’تین‘ نواب‘ نہیں ہیںبلکہ وہ چاپلوس سردار ہیں جو اسٹابلشمنٹ کو کورنش بجالانے والے اور ان کے حکم کے غلام ہیں، جو بلوچ عوام کے خلاف اس کی غلیظ جنگ میں اس کی مدد کر رہے ہیں۔ جو سردارترقیاتی مقاصد کے لئے مختص رقم کا غبن کرتے ہیں، حکومت کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ ریاست کی زیر سرپرستی دہشت گردی اور بدعنوانی کے درمیان موجود شیطانی گٹھ جوڑ بلوچ عوام کو ان کے وسائل اور حقوق سے محروم کرنے کےلئے استعمال کیا جاتا ہے۔

ہمدردی کا اظہار کرتے اور جاگیرداری کو مورود الزام ٹھہراتے ہوئے ، مصنف کا کہنا ہے کہ، ”بلوچ کی زندگی کو محرومی اور چاہ سے باہر نکال لیا جانا چاہیے،“لیکن وہ بہ آسانی یہ بھول جاتے ہیں کہ اس صوبے میں تو زیادہ تر فوج ہی اقتدار میں رہی ہے۔ موجودہ صورتحال پرویز مشرف کا پیدہ کردہ ہے، جس نے حال ہی میں، بڑی بے حیائی سے بلوچ پر اور زیادہ جبر کرنے کی وکالت کی تھی۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ جو تھوڑی سی بیش بہا رقم پاکستان کو امداد کے طور پر ملتی ہے اسے فوج کےلئے وقف کیا جاتا ہے۔ دو سال قبل، فخرالدین جی ابراہیم نے کہا تھا کہ، ” گزشتہ 30 سالوں کے دوران 178.3 ارب روپے تعلیم پر خرچ ہوئے اور 98 ارب روپے صحت پر جبکہ، دوسری طرف، 2835 ارب روپے کے قریب رقم صرف دفاع پر جھونک دیئے گئے۔“ دلچسپ بات یہ ہے کہ تین دہائیوں میں صحت اور تعلیم کے مجموعی اخراجات صرف 2010 تا 2011 کے دفاعی اخراجات کا نصف ان سے کچھ زیادہ ہے۔ باقی ماندہ کو تو سیاستدان اور بیوروکریٹس ہڑپ کر جاتے ہیں۔ فوج کے لئے بھیک مانگنے اور خرچ کرنے کی اس پالیسی کو یہاں پسماندگی کی اصل وجہ کے طور پر پیش کرنے کے بجائے نظر انداز کیا جاتا ہے۔

مضمون کا دعویٰ ہے کہ، ”خود ساختہ جلاوطنی میں رہنے والے قبائلی سردار جو کہ ذرائع ابلاغ میں ریاست کے خلاف آگ تو پھونکتے ہیں لیکن نہ تو وہ نسلاً بلوچ اکثریت کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ ہی اُس غیر بلوچ وسیع اکثریت کی، جو آج بلوچستان میں آباد ہے۔“ وہ بالکل غلط کہتے ہیں، اگر بلوچ کی اکثریت 1947 ءسے لیکر اب تک ان ’آگ پھونکنے والے سرداروں‘کی حمایت نہ کرتے تو آزادی کا مطالبہ بہت پہلے ہی دم توڑ چکا ہوتا۔ اس کے علاوہ، مکران کے غیر قبائلی علاقے جدوجہد کی بھٹی نہ ہوتے جوکہ آج ہیں۔

سہگل کہتے ہیں کہ، ”مار ڈالو اور پھینک دو، یقینی طور پر بلوچستان کے مسئلے کا جواب نہیں ہے۔ بے شک، اس طرح کی کارروائیوں کی واضح طور پرمذمت کرنی چاہئے۔“ اور پھر اسی سانس میںوہ اس کی تائید میں دلائل پیش کرتے ہیں ©: ”لیکن فرنٹیئر کور (ایف سی)، جنھیں گیس پائپ لائنوں اور بجلی ٹرانسمیشن ٹاوروں جیسی سماجی و اقتصادی اہم تنصیبات کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جن کو باقاعدگی سے اڑا دیا جائے، جب ان پر پرتشدد پر حملے کیے جائیں، تو ان سے کیا توقع کی جائے کہ وہ کیا کریں؟“ اور وہ ایک بہادر اور پروقار قوم سے ان کیخلاف کیسی کارروائی کی توقع کرتے ہیںجنھیں وہ بطور حملہ آور اور اپنی حالت زار کی بنیادی وجہ کے طور پر دیکھتے ہوں؟یقینا وہ ایف سی کے فوجیوں اور تنصیبات کو پھولوں کے ہار تو نہیں پہنائیں گے۔

مذاکرات سے سرداروں کے اخراج کا مطالبہ کرتے ہوئے اکرام کا کہنا ہے کہ، ”موروثی حکمرانوں اور ان کی زرخرید بندوقوں سے، جو آبادی کی صرف ایک اقلیت کی نمائندگی کرتے ہیں، مذاکرات کرنا، لوگوں کو مسلسل غلامی میں جکڑ دینے کے مترادف ہے۔ بندوق کی نوک پر معاشرے کے بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ وفاق کے لئے مہلک ثابت ہوگا۔“ وہ بلوچ عوام کے مقابلے میں وفاق کے بارے میں زیادہ فکر مند ہے، جو کہ ہر طرح سے ان کی اسکیم کی ہوئی متعلقہ چیزوں میں ضمنی اور ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہیں کیونکر یہ امید کرنی چاہئے کہ بلوچ اپنے استحصال پر اور بندوق کی نوک پر مذاکرات کرنے کے لئے راضی ہوجائیں؟ بلوچ بھی بندوق کے سائے تلے مذاکرات نہیں کریں گے اور اس کے علاوہ ”موروثی حکمرانوں اور ان کی زرخرید بندوقوں“ کے بغیر، کسی بھی قسم کی کوئی بات چیت کارآمد ثابت نہیں ہونے جا رہی۔

اکرام سہگل کو یہ سمجھنا چاہئے کہ بلوچ جدوجہد عوام کی سیاسی مرضی کی نمائندگی کرتا ہے اور نہ کہ خفیہ ہاتھوں کی طرف سے اسے ایندھن فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی ظالمانہ جبرو استبداد کے باوجود جاری رہے گی کیونکہ بلوچ سمجھ چکے ہیں کہ ان کیخلاف ہونے والا جبر اور استحصال بددیانت عناصر کی طرف سے نہیں ہے بلکہ ریاست کی ایک سوچی سمجھی پالیسی کے تحت انہیں مستقل طور پر ان کے حقوق سے محروم کرنے کیلئے ہے، جوکہ ’قومی مفادات‘ جیسے لولے لنگڑے توجیحات پر مبنی ہے۔ یقینی طور پر بلوچ کی بندوق کی حاکمیت کو ختم کرنے کی جدوجہد محض اسلئے ختم نہیں ہوگی چونکہ مسٹر سہگل یا حکومت اسے پسند نہیں کرتے۔

(منتج)
مسٹر سہگل کا مضمون :

Of Empire and Army: A Historical Understanding of Balochistan

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کی دہائی کے ابتداءسے ایک تعلق ہے
mmatalpur@gmail.com
بشکریہ: ڈیلی ٹائمز ، اتوار ، 23 اپریل 2012

To Download/Read in PDF:Banduq.ke.Saey.Tale_Part2_Mir Mohammad Ali Talpur

Leave a comment

Filed under Mir Mohammad Ali Talpur, Write-up

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s